نقشہ بنا کر فلسطینی عوام کی جدوجہد کو دبایا نہیں جا سکتا، حماس
17 فروری 2020 (16:51) 2020-02-17

غزہ: حماس کی تحریک نے کہا ہے کہ اسرائیل کا اپنے زیرِ حاکمیت علاقوں کے نقشے کی تیاری کے لئے امریکہ۔اسرائیل کمیشن بنانا فلسطینی عوام پر حملے کی حیثیت رکھتا ہے۔ حماس کے ترجمان حازم قاسم نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کے زیرِ کنٹرول علاقوں کے نقشے کی تیاری فلسطینی قوم کے اجزائے ترکیبی کو للکارنے کے مترادف ہے۔

قاسم نے کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ کی حوصلہ افزائی سےقابض قوتیں تمام بین الاقوامی آداب و قوانین کے خلاف بغاوت کر رہی ہیں۔ لیکن یہ حرکتیں ، دریائے اردن کو آزاد کروانے اور یہودی آبادکاروں کی واپسی کے لئے جاری ، فلسطینی عوام کی جدوجہد کو ہرگز روک نہیں سکیں گی۔

واضح رہے کہ اسرائیل کے بعض ذرائع ابلاغ نے شائع کردہ خبروں میں کہا تھا کہ امریکہ۔اسرائیل کمیشن نے نقشے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ اس نقشے کا مقصد اغوار اور دریائے اردن کے مغربی کنارے جیسے متعدد علاقوں میں موجود غیر مشروع یہودی آبادکاری علاقوں کا اسرائیل کے ساتھ الحاق کرنا ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 28 جنوری کو اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتان یاہو کے ساتھ وائٹ ہاوس میں منعقدہ پریس کانفرنس میں یک طرفہ طور پر نام نہاد سو سالہ امن پلان کا اعلان کر دیا تھا۔


ای پیپر