مقبوضہ کشمیر کے صحافی فاقوں پر مجبور ہوگئے
17 فروری 2020 (14:44) 2020-02-17

سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پابندیوں کے باعث صحافی بے روزگار ہوگئے اور روزی روٹی کے حصول کے لیے مزدوری کرنے پر مجبور ہوگئے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق کشمیر میں 29سالہ صحافی منیب الاسلام 5سال سے فوٹو جرنلسٹ کے طور پر کام کررہے تھے۔ان کی کھینچی گئی تصاویر نہ صرف بھارت کے اخبارات بلکہ غیر ملکی میڈیا کی بھی زینت بنتی رہیں۔ لیکن اگست 2019میں مودی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اسے بھارت میں ضم کرلیا گیا اور احتجاجی مظاہروں کو کچلنے کے لیے کرفیو سمیت سخت پابندیاں عائد کردی گئیں جن میں انٹرنیٹ اور ٹیلی فون کی بندش بھی شامل ہے۔۔

ایک صحافی منیب نے بتایا کہ کہ میں نے شعبہ صحافت اس لیے اختیار کیا کہ کیونکہ میں اپنے لوگوں کے لیے کچھ کرنا چاہتا تھا، میں نے پوری لگن کے ساتھ کشمیر کے تنازع کی کوریج کی لیکن 5 اگست کے اقدام سے میرا یہ سفر رک گیا۔منیب کی اہلیہ بیمار ہیں اور وہ خاندان کی روزی روٹی کا بندوبست کرنے کے لیے 500 روپے دیہاڑی کے عوض زیر تعمیر عمارت پر اینٹیں ڈھونے کا کام کرتے ہیں۔


ای پیپر