عمران خان کو ’خطرہ‘
17 فروری 2020 2020-02-17

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے فوج کرپٹ نہ ہونے کی وجہ سے ان کے ساتھ ہے لہٰذا ان کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں…کیا محمد خان جونیجو کم ایماندار تھے… موصوف نے پاکستانی سیاست کی بہت بڑی حقیقت کا انکشاف کیا ہے… اگر فوج آپ کی پشت پر کھڑی ہے ان کو کاہے کی پریشانی مدت پوری کیجیے… عوام کی بھاری اکثریت چاہے آپ سے بیزار ہو… فلک شگاف مہنگائی سے تنگ آئی کھڑی ہو… بے روزگاری عام ہو… عام آدمی کا جینا اجیرن بن گیا ہو… ملک کا خزانہ خالی نظر آتا ہو… معاشی مستقبل دگرگوں نظر آتا ہو… کاروبار ختم ہو رہا ہو… اندرونی اور بیرونی سرمایہ کاری کا برا حال ہو… بیوروکریسی تنگ آئی کھڑی ہو حکومت کی پارلیمانی طاقت چند اتحادیوں کی حمایت کی محتاج ہو جو صبح و شام اپنا بھائو بڑھانے کے لیے بلیک میل کرتی ہو… یہ اور دوسرے عوامل ان حالات میں بھی حکومت اپنی جگہ پرقائم و دائم ہے کیونکہ اسے فوج کی پشت پناہی حاصل ہے… فوج بلاشبہ ہمارے ملک کا سب سے طاقتور، منظم ترین اور باوسائل ادارہ ہے (ہر زندہ اور توانا ملک کا ہوتا ہے)… لیکن پاکستان کی فوج اپنی تمام تر حب الوطنی ملک کی آن پر لڑنے مرنے والی عظیم سپاہ کی مالک ہونے اور بے شمار قربانیاں دینے کے باوجود بہرصورت آئینی لحاظ سے ایک ماتحت ادارہ ہے۔ حکومتیں بنانا اور بگاڑنا اس کے فرائض میں شامل نہیں… اس کا فرض منصبی ہر آن اور بہرصورت سرحدوں کی حفاظت کے لئے لڑ مرنا ہے… اسی میں اس کی شان، آن اور وقار پوشیدہ ہے… خاص طور پر پاکستان کو جس طرح کے کمینے دشمن کا سامنا ہے جس کی چوبیس گھنٹے سٹرٹیجی یہ ہے ہماری مضبوط دفاعی دیواروں کو مار گرائے… کشمیر پر اپنا ناجائز قبضہ جما رکھا ہے… ایک مرتبہ ہمیں شکست سے دوچار کر کے ملک کو دولخت کر چکا ہے… باقی کے در پے آزار ہے… اس عالم میں فوج کی بنیادی اور چوبیس گھنٹے کی ذمہ داری جیسا کہ میں نے عرض کیا ہر حالت میں ہمیں دشمن کے عزائم پر نگاہ رکھنا یا اس کے جنگی عزائم کا توڑ پیدا کرنا اور جب بھی جس عالم میں وہ ہماری جانب بری نگاہوں سے دیکھے مقدور بھر حد تک اس کے چھکے چھڑا کر رکھ دینا… سیاست میں مداخلت کاردگر ہے… جو دنیا کے کسی جمہوری ملک کی فوج کا کام نہیں… اس ذمہ داری اور اس کی ہر قوم کے منتخب نمائندہ کرتے ہیں… فوج ان کے ماتحت رہتے ہوئے اپنے کام سرانجام دیتی ہے… اسی میں قوموں کی کامیابی کا راز پنہاں ہے… ہر کامیاب جمہوری ملک کی فوج نے اس اصول کو حرز جاں بنا رکھا ہے… وہ سٹرٹیجک امور پر فوجی قیادت سے مشاورت ضرور کرتے ہیں… ان کی رائے کو اہمیت بھی دیتے ہیں لیکن آخری فیصلہ منتخب قیادت ہی کرتی ہے… فوج ہر حال اور ہر صورت میں اس کے فیصلوں کی پابندی کرتی ہے… اس کی لاتعداد مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں… یہاں اس کا موقع اور محل نہیں لیکن بدقسمتی سے اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا… پاکستان کی تاریخ کے روز اوّل سے لے کر آج تک فوج نے سیاسیات پاکستان میں مداخلت کو ضروری خیال کیا… یہ کام بار بار کیا گیا… ہماری تاریخ کے ہر موڑ پر کیا گیاجس کی بنا پر ہماری تاریخ دھندلا کر رہ گئی… آئینی عمل محتاجی کا شکار ہوا اور فوج تیزی کے ساتھ فیصلہ کن حیثیت اختیار کرتی گئی… لہٰذا

یہ جو عمران خان نے فرمایا ہے فوج اس کے ساتھ کھڑی ہے جس بنا پر بھی کھڑی ہے لہٰذا سردست انہیں کوئی خطرہ لاحق نہیں… انہوں نے غلط نہیں کہا فوج جب تک ساتھ دیتی رہے گی کھلاڑی کی حکومت چلتی رہے گی جیسے بھی کارہائے نمایاں سرانجام دے… انجام کار چاہے کچھ ہو… بچے بچے کی زبان پر یہ فقرہ رواںہے عمران کو لانے والی ہماری طاقت ور فوج ہے… جب تک اس کی اشیرآباد حاصل رہے گی وہ کار حکومت چلاتا رہے گا… جب ناراضی مول لی… عمارت اس حکومت کی نیچے آن گرے گی… عوام ساتھ دیں یا نہ دیں … کبھی اس کی پرواہ نہ ہو گی…

لیکن یہ ہماری تاریخ کے تناظر میں نئی بات ہرگز نہیں ہے… پہلی مرتبہ ایسا نہیں ہو رہا… فوج مرضی کی حکومت لائی ہو… پھر جب تک اسے منظور خاطر ہوا ہر حکومت چلتی رہی… فوج نے مناسب خیال کیا اب اسے چلتا کرنا ضروری ہو گیا ہے تو ایسے حالات پیدا کر دیئے گئے… لالچی سیاستدان بھی آن ملے… اپنی باری کا انتظار کرنے لگ گئے… دوسری قوتیں بھی ہوشیار ہو گئیں… باہر کی طاقتوں سے بھی اشیرباد مل گئی… بیرونی قوتوں کو چونکہ پاکستان کے جغرافیائی محل وقوع سے کام لینا ہوتا ہے لہٰذا ان کی تھپکی ملنے میں دیر نہ لگتی تھی… اگر نام نہاد آئینی حکومت برسراقتدار ہوتی تھی اسے بدنام کر کے رکھ دیا جاتا تھا… کرپشن سکہ رائج الوقت تھا اس کے نعرے کی ایسی گونج سنائی دیتی تھی کہ کانوں پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی… دوسرے سکینڈل بھی عام کیے جاتے تھے… حکومت لڑکھڑا جاتی تھی… نئے انتخابات کا غلغلہ بلند ہوتا تھا… تازہ حکومت وجود میں آ جاتی تھی… اس سے دواڑھائی برس کام لیا جاتا تھا… پھر اسی پرانی کہانی کو دہرا دیا جاتا تھا… نیا سٹیج، نیا ڈرامہ اور نئے کردار… لیکن یہ حکومتیں جوں توں کر کے دو اڑھائی برس کا عرصہ گزار لیتی تھیں… ان میں سے ہر کوئی بڑے اعتماد سے کہتا تھا اس کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں… لیکن اوپر سے اشارہ ملتا تو وہ تحریک جنم لیتی تھی کہ بندہ لے اور خدا دے… بھٹو نے کہا اس کی کرسی مضبوط ہے… ایک تحریک کی مار نہ نکلا… بے نظیر کا دعویٰ وہ فوج کے ساتھ پکا معاہدہ کر کے آئی ہے… کون اسے نکال سکتا ہے… عالمی قوتیں بھی اس کے ساتھ ہیں…جاتے دیر نہ لگی… نوازشریف پہلی وزارت عظمیٰ پر نعرہ بلند کیا وہ کسی کی ڈکٹیشن قبول نہیں کرے گا پھر کیا ہوا سب جانتے ہیں… دوسری مرتبہ منتخب ہوا… تو ایٹمی دھماکہ کرنے کا بڑا زعم تھا… جنرل مشرف کے ایک شب خون نے اڑا کر رکھ دیا… چوتھی بار چار سال نکال پایا لیکن آخر شب آئینی ترمیمی بل پر دستخط کر کے لندن جا بیٹھا… یا قیدی کم مذکورہ کیا… اب عمران خان دعویدار ہیں انہیں کوئی ہلا نہیں سکتا… ارے صاحب آپ کو مسند اقتدار سنبھالے جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے پورے ملک کے اندر چیخ و پکار پڑی ہوئی… یار لوگوں کو متبادل کی تلاش ہے جس روز مل گیا آپ کہیں نظر نہیں آئیں گے… آپ کس باغ کی مولی ہیں…

البتہ جو فوجی حکمران ہمارے ملک میں برسراقتدار آئے ہیں… وہ چونکہ فوج کے اندر کے آدمی تھے لہٰذا انہیں خوب خوب موقع دیا گیا… فیلڈ مارشل ایوب خان نے دس سال تک راج کیا… جنرل یحییٰ اگر ملک ڈبو نہ دیتے اور فوج ہماری شکست فاش سے دوچار نہ ہو… اسے نکال پھینکنے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہ تھا… جنرل ضیاء الحق نے گیارہ برس تک وہ حکمرانی کی کہ رہے نام خدا کا… پھر جنرل مشرف کی فوجی حکومت کے آٹھ برس لیں…حکومتیں ان سب کی غیرآئینی اور حکومتی جبر پر مبنی تھیں… لیکن مسئلہ بیچ میں یہ آن پڑا ہے کہ فوجی جرنیل جب تک حکومت کرتے رہے ان کی حکومتوں کے جائز ہونے کا معاملہ درپیش رہا… ان کے مقابلے میں سول پہ سول یا نام نہاد منتخب لوگ برسراقتدار آئے تو انہیں صبح و شام یہ فکر دامن گیر رہتی تھی اپنی حکومتوں کو بیرونی اور اندرونی چیلنجوں سے کس طرح سنبھال کر رکھیں… آخری تجزیے میں دونوں ناکام رہے جرنیل ہی چھائے رہے سیدھے سبھائو عالمی طاقتوں کی آلہ کاری اندرون ملک فوج کے ہتھیار کو استعمال کرتے رہے… بیرونی امداد حاصل کی… گئے تو ملک کھوکھلے کا کھوکھلا رہا… ان کے مقابلے میں سول حکمرانوں نے کچھ اپنی نالائقی کی وجہ سے اور کچھ ہر وقت کے ڈر اور خوف کے مارے اپنے اپنے انداز میں فوج کی کاسہ لیسی کی… ملک کا ستیاناس کیا… اب جو عمران خان کہتے ہیں ان کے اقتدار کو کوئی خطرہ نہیں… ارے بھئی کچھ دن تو گزار کر دیکھ لو پھر دیکھو تمہارے ساتھ کیا حشر ہوتا ہے… یار لوگوں کو تمہارے علاوہ اور بھی کئی کام پڑے ہیں… البتہ اس سارے کھیل تماشے سے ملک کو نقصان یہ ہوا ہے کہ کوئی سول حکمران دلجمعی کے ساتھ اپنے ایجنڈے پر عمل نہیں کر سکا… عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو آگے نہیں بڑھا سکا… اسے اپنی فکر پڑی ہوئی ہے … وہ مخالفوں کو جواب دینے کے علاوہ کیا کیا کرے ہر دم ان کے ساتھ سرپھٹول میں مبتلا رہتا ہے…


ای پیپر