یہ اعمالِ بدکی ہے پاداش
17 فروری 2020 2020-02-17

ٹرمپ نے سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں اپنے وعدے کا اعادہ کیا کہ افغانستان میں طویل ترین امریکی جنگ سے وہ اپنی فوج کو نکال لائیں گے۔ نیز یہ بھی کہا کہ ہمیں دوسرے ممالک میں قانون لاگو کرنے والی ایجنسی کا کردار ادا کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہائے اس زودپشیماں کا پشیماں ہونا! طالبان کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کی حمایت کی۔ ادھر طالبان ترجمان نے امریکہ کو مذاکرات میں رکاوٹ کا ذمہ دارٹھہرایا۔ ’’ہمارا مؤقف مبنی براصول ہے ہم باہم متحدد متفق ہیں، اپنے مخالفوں کی طرح لڑکھڑاہٹ کا شکار نہیں ہیں‘‘۔ اگرچہ ٹرمپ بار بار کہہ چکاہے کہ خون اور خزانہ دونو ں اس جنگ میں لٹ، برباد ہو رہے ہیں۔ لیکن اس جنگ کی چھچھو ندر ایسی امریکہ کے حلق میں پھنسی پڑی ہے کہ نہ اگلے بن پڑے نہ نگلے! اگرچہ حق وباطل کی دشمنی اصلاًتو اتنی ہی اٹل ہے جتنی چوہے اور بلی کی یا سانپ اور نیولے کی!چوہے بلی کو مذاکرات کی میز پر بٹھاکر صلح صفائی کروانے کی کوشش ہو تو فوراً ہی مذاکرات کی میز، کھانے کی میز میں تبدیل ہو جائے۔ امریکہ افغانستان مذاکرات کابھی یہی حال ہے۔ گیارہ ادوار ہوچکے لیکن حالیہ واقعات کی طرح پس منظر میں طالبان کے حملے چل رہے ہیں۔ 2امریکی ہلاک 6 زخمی نوعیت کے!برسر زمین حقائق یہی ہیں۔ ادھر امریکی فضائیہ میں بڑی تعداد میں اہلکار مسلسل خودکشیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ 2019ء میں 84نے خودکشی کی ہے۔9/11کے بعد دنیا میں بھڑ کائی سپر پاوری دہشت گردانہ جنگوں میں ہر مسلمان ملک میں نہتے شہریوں پر فضائیہ کا بے رحمانہ استعمال کیاگیاہے۔ بالحضوص افغانستان، عراق،شام اور یمن۔ انسانی ضمیر اللہ نے بہت قوی بنایاہے۔ درندگی کا ارتکاب اسے کسی پل چین نہیں لینے دیتا یہاں تک کہ وہ ضمیر کا گلا گھونٹتے بالاآخر خود پھندے پر چڑھ جاتاہے۔ فاعتبروایااولی الابصار۔ امریکہ کی شروع کی گئی جنگوں نے ان ممالک کی جس طرح اینٹ سے اینٹ بجائی اس کی بدترین مثال شام کی ہے۔ جہاں وہ اب روس کے حوالے کرکے نکل گیا۔ امریکی پائلٹ سکون کی زندگی کیونکر پاسکتے ہیں لاکھوں انسانوں مردوں عورتوںبچوں کی زندگی چھین کر، لاکھو ں کی زندگی کے ہر لمحے میں دردوغم بھوک افلاس دربدری، ٹوٹے بکھرے خاندان برباد اور قبرستان آباد کرکے!یہ تودنیامیں مکافات عمل ہے۔ ہمارے حقیقی بدلے تو اس دن اتریں گے جب ایک طرف لامنتہا شہداء عالی مقام ہوں گے اور دوسری طرف دنیابھر کے فراعنہ و نمارود۔ ہم اس دن کا انتظار صبر سے کر رہے ہیں! بقول ملا عمرؒ… تمہارے پاس گھڑی ہے (جس کے سیل ختم ہونے کو ہیں)،ہمارے پاس وقت ہے جو لامنتہا ہے!شام پر مسلم دنیاکی خاموشی بھی سفاکی کی انتہاہے!منہ موڑے بیٹھے ہیں۔

ہمارے ہاں سرکاری ترجمان فردوس عاشق بی بی ادھوری بات کرتی ہیں۔کہتی ہیں :نئے پاکستان میں کوئی کسی کی جیب پر ڈاکا نہیں ڈال سکتا۔ مکمل بات اول تو یہ کہ سارے ڈاکا حقوق آئی ایم ایف کے نام محفوظ ہیں۔ دوئم یہ کہ ساری جیبیں پھٹ چکی ہیں ٹکا نہیں بچا، ڈاکا

کہاں پڑے گا! کہتی ہیں کہ تبدیلی کے لیے سخت فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ تبدیلی میں یہ تو ہم دیکھ چکے کہ اس دور میں سبھی نے عوام کو مؤنث لکھنا شروع کر دیا… کیونکہ اور کچھ بدلے نہ بدلے عوام اس تبدیلی کی زد میں آ گئے ہیں۔ مشرقی روایتی خاتون کی طرح خاموش سب سہے جاتی ہے! اسی دوران بچوں سے زیادتی و قتل پر برسرِ عام پھانسی کی قرار داد قومی اسمبلی میں کثرت رائے سے منظور ہو گئی۔ دیر آید درست آید۔ تاہم حسب دستور اور حسب توقع فواد چوہدری تڑپ اٹھے۔ فرمایا: ’ایسے قوانین تشدد پسند معاشروں میں بنتے ہیں‘۔ اور رواداری میں گندھے نرم طبیعت مغربی معاشروں میں ؟ وہاں یہ جرم ڈٹ کر پھلتا پھولتا پنپتا ہے ۔ یہ جرم نہ صرف ان معاشروں کا ناسور ہے بلکہ ان جرائم پرمبنی ویب سائٹس اربوں ڈالر کا کاروبار کرتی ہیں جن میں بچوں کی پورنوگرافی نوعیت کے شرمناک اور گھناؤنے جرائم شامل ہیں۔ وزیر صاحب وزارت کا بارِ گراں ایسے ’تشدد پسند معاشرے‘ میں کیوں اٹھائے پھر رہے ہیں۔ وہیں چلے جائیں جا بسیں، وہ آپ کی روشن خیالی پر آپ کے محب و مربی مشرف کی مانند آپ کی اچھی میزبانی کریں گے۔ فرق یہی ہے کہ اسلام مجرم کو طاعون کے چوہے کی طرح معاشرے میں کھلا پھرنے اور بیماری پھیلانے کی اجازت نہیں دیتا۔ معاشرے کے تحفظ کے لیے کڑی سزا دیتا اور باقی کا نفسیاتی آپریشن اور سدباب کر دیتا ہے۔ شریعت عوام الناس کو تحفظ دیتی ہے۔ قانون اسلام عوام کے لیے امن و سلامتی لے کر آتا ہے۔ شریعت کا خوف ہماری حکومتوں اور مجرموں کو ہوتا ہے۔ و لکم فی القصاص حیٰوۃً یا اولی الالباباے ہوش مندو، خرد مندو تمہارے لیے (قاتل سے) قصاص میں زندگی ہے! قبل از 9/11 اسلامی امارات افغانستان امن و عافیت کا گہوارہ ان قوانین کے بے لاگ اطلاق کی بنا پر تھا۔ اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ افغانوں نے اپنے ہتھیار حکومت کے پاس جمع کروا دیئے تھے کیونکہ امن و امان مثالی تھا۔ شرعی قوانین کی پابندی نے جرائم کا مٹھ مار دیا تھا۔ یہ وزراء کی دیدہ دلیری کی انتہا ہے کہ قرآن کے احکام سے تجاوز کر کے زبان ان کے خلاف کھولنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ پکے رنجیت سنگھ کے مرید ہیں۔ آئین اور پاکستان کے قائدین کے تمام تر فرمودات (بسلسلہ نفاذ شریعت) کے علیٰ الرغم اس قرار داد پر بھی متوحش ہیں۔ ایسوں کے ہوتے قرارداد، قانون میں کیونکر ڈھلے گی! دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے یہ گہر ہونے تک۔ لیکن یہ ضرور غور فرمائیے گا کہ تجاوزات اگر دنیاوی، تعمیراتی ہوں تو آپ کی حکومت آؤ دیکھے نہ تاؤ۔ بلڈوزروں سے لوگوں کے کاروبار بھی ڈھا دے اپنی حقیر سی قوت حکمرانی استعمال کر کے۔ اللہ کے دین سے تجاوزات کا قہر آپ نے برپا کر رکھا ہے۔ فما ظنکم برب العالمین۔ (آخر تمہارا تمام جہانوں کے پروردگار بارے گمان کیا ہے؟) سمجھ کیا رکھا ہے؟ (بہ زبان ابراہیم علیہ السلام، جو انہوں نے اپنی جاہل قوم سے کہا تھا۔) شریعت سے معاشی تجاوزات میں سود اور ناجائز محصولات سے عوام کو نچوڑ ڈالنا۔ معاشرتی، ابلاغی، تجاوزات میں پورے ملک میں روشن خیالی کے نام پر بے حیائی، فحاشی، فنون لطیفہ کے پردے میں طوفان بدتمیزی کھڑا کر دینا۔ تعلیمی تجاوزات میں یکساں تعلیمی نظام کے نام پر اسلام اور نظریۂ پاکستان کی جگہ دجالی ہیومنزم (انسانیت پرستی) لا رائج کرنا۔ اپنی کشکول بھری رکھنے کو مغربی آقاؤں کے دباؤ میں آ کر سرتا پا سارے نصاب بدلے۔ نسلوں کے دل و دماغ ، سیرت و کردار سے اسلام نکال پھینکنے اور گلوبل ولیج کے فدوی غلام بن کر رہنے کا سامان کر رہے ہیں۔ موم بتی مارکہ محدود سول سوسائٹی تھی اب پورا پاکستان ہی، مدارس سمیت اسی بھینٹ چڑھائے جانے کو ہے۔ ’امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی‘ کے زیر حکم قرآنی احکام و تصورات اور طرز حیات سے (بالخصوص جہاد،عقیدۂ رسالت بسلسلہ شان رسالتؐ و ختم نبوت) غزوات سے نصابوں کو تہی دامن کر دیا جائے گا۔ قادیانی اور گستاخان پھلیں پھولیں گے۔ مسلمانوں کے رگ و پے میں قوت اور بجلی بھر دینے والے خلفائے راشدین اور جرنیل صحابہؓ و طارق بن زیاد، صلاح الدین ایوبی جیسے زعماء کی جگہ نچئے گوئیے یا حد سے حد کھلاڑی نمونۂ عمل بنا پیش کیے جائیں گے۔ مختصراً یہ کہ … روح محمدؐ اس کے بدن سے نکال دو، کا اہتمام ہے۔ مسلمان نسلیں سراپا تحمل و رواداری ہوں اور تم خونخوار درندگی سے ہمارے ملک اجاڑتے رہو ہم پر کٹھ پتلیاں بٹھا کر؟ مدارس کو قومی دھارے میں لانے کا جو پہاڑہ یہ دن رات پڑھتے ہیں تو وہ قومی دھارا ہے کیا؟ ناچ رنگ، لسانی تنظیمیں جامعات میں باہم سر پھٹول پر کمربستہ۔ معیار تعلیم کو اختلاط نے عشق عاشقی میں غرق کر کے تباہ کر دیا۔ پرچے آؤٹ ہونا، نقل، بوٹی مافیا۔ سرکاری جامعات سے 2019ء میں ہزاروں طالبات کی ہراسانی کی شکایات اساتذہ کے خلاف آئی ہیں۔ انگریزی کے شوق میں اردو بھی کھو گئی۔ نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم۔ چتکبری زبان والی نئی نسل جو دونوں زبانوں سے فارغ ہو چکی ہے۔ صرف موبائیلی، سوشل میڈیائی زبان جانتی ہے۔ یہ ہے عصری تعلیم کا قومی دھارا۔ جبکہ مدارس میں محنت، لگن، اساتذہ کا احترام، زبان و ادب (اردو ۔ عربی) پر عبور، قرآن حدیث حرز جان! (جس نے دنیا پر حکمرانی کا اہل بنایا، 3براعظموں پر حکمرانی دی) ۔ ضرورت تو یہ تھی کہ نظریۂ پاکستان اور آئین سے مطابقت رکھنے والے اس نظام کو (معدودے چند اصلاحات کے ساتھ) قومی دھارا قرار دے کر عصری تعلیم کو زندہ کرنے اور آزاد خود مختار ایٹمی پاکستان کے شایاں بنایا جاتا۔ تعلیم نری معلومات نہ ہوتیں بے روح بے ضمیر۔ بلکہ تربیت ہمراہ ہوتی سیرت و اخلاق سنوارنے کو!

یہ اعمال بد کی ہے پاداش ورنہ

کہیں شیر بھی جوتے جاتے ہیں ہل میں


ای پیپر