کیا ہوا تیرا وعدہ
17 فروری 2020 2020-02-17

ایک بھارتی فلم کے ہیرو انیل کپور نے بطور چیلنج صرف ایک دن کے لیے صوبے کی وزارتِ اعلیٰ قبول کی اور اِس مختصر ترین عرصے میں صوبے کی کایا پلٹ دی۔ ہمارے کپتان نے شاید یہ فلم دیکھ رکھی تھی اِسی لیے اُنہوں نے شیخ چلی جیسے منصوبے باندھتے ہوئے اقتدار ملنے کی صورت میں 100 دنوں میں ملک کی تقدیر بدلنے کا دعویٰ کر دیا۔ کسی صحافی نے سوال کیا کہ کیا 100 دنوں میں 22 کروڑ عوام کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے؟۔ کپتان کا جواب تھا کہ 100 دن تو کیا وہ 50 دنوں میں کایا کلپ کر سکتے ہیں۔ شایدہمارے کپتان نہیں جانتے تھے کہ فلمی دنیا تلخ حقائق سے کوسوں دور ہوتی ہے۔ اِسی لیے اُنہوں نے نہ صرف 100 دنوں کی بات کی بلکہ ایک کروڑ نوکریاں اور 50 لاکھ گھر بنانے کا دعویٰ بھی کر دیا۔ صائب الرائے اور عقیل و فہیم اصحاب نے تو اِس لاف زنی پر اعتبار نہیں کیا کیونکہ پاکستان کے تمام شہروں کے مکانات ملا کر بھی 50 لاکھ نہیں بنتے پھر بھلا یہ کیسے ممکن تھا کہ کپتان اپنے دَورِ اقتدار میں ایک اور پاکستان بسا کر دکھا دیتے۔ ایک کروڑ نوکریاں بھی ناممکن کہ پاکستان کے معاشی اشاریے اِس کی تصدیق نہیں کر رہے تھے البتہ تحریکیے کپتان کی باتوں پر ایمان لے آئے۔

اُدھراسٹیبلشمنٹ ’’مائنس ٹو‘‘ پر تُلی بیٹھی تھی۔ اُس نے کپتان کی پیٹھ ٹھونکی اور شاید پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار عامیوں کو بھی علم ہو گیا کہ کپتان کی پُشت پر کس کا ہاتھ ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ہی کے حکم پر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کپتان کی حمایت میں لنگوٹ کَس کر میدان میں اُتر آیا۔ 2012 ء سے 2018 ء تک میڈیا کے کیمرے کپتان کے تعاقب میں رہے۔ ہر روز گھنٹوں بلکہ پہروں اُن کی سرگرمیوں کی ’’لائیو کوریج‘‘ ہوتی رہی۔ یہی نہیں بلکہ اُن کے ’’پُش اَپس‘‘ کو بھی براہِ راست دکھایا جاتا رہا۔ جلسوں میں میڈیا کے کئی اینکرز کپتان کے پہلو میں جلوہ گر ہوتے رہے۔ ڈی چوک اسلام آباد کے 126 روزہ دھرنے کے ایک ایک لمحے کی کوریج آج بھی میڈیا کے پاس محفوظ ہے۔ پھر وہ وقت بھی آن پہنچا جس کے لیے یہ ساری تگ ودَو کی گئی۔ جب 2018ء کے عام انتخابات میں زورآوروں کی سرپرستی اور میڈیا کی بھرپور کاوشوں کے باوجود منزل دور ہوتی نظر آئی تو نتائج کا اعلان روک دیا گیا، لاتعداد پولنگ ایجنٹس کو پولنگ سٹیشنوں سے باہر نکال کر گنتی ہوئی اور مرضی کے نتائج مرتب کیے گئے۔ نتائج سامنے آنے پر مائنس ٹو ہو چکا تھا۔ کپتان کو ’’جتوایا‘‘ ضرور گیا لیکن اِس احتیاط کے ساتھ کہ وہ قطعی اکثریت حاصل نہ کرنے پائیں کیونکہ زورآوروں کو میاں نوازشریف اور بینظیر بھٹو کی طرزِ حکمرانی کا تلخ تجربہ ہو چکا تھا۔ یقیناََ کپتان کا اپنا بھی ووٹ بینک تھا لیکن اُتنا نہیں جتنا اُن کی جھولی میں ڈال دیا گیا۔ اُنہیں چھ سات چھوٹی جماعتوں کے اتحاد سے شیروانی پہنا دی گئی اور وہ ایٹمی پاکستان کے وزیرِاعظم بن گئے۔

سوال یہ ہے کہ آخریہ سارا کھیل رچایا کیوں گیا؟۔ حقیقت یہی کہ زورآوروں نے کبھی سیاستدانوں پر اعتبار نہیں کیا ۔ اُن کے خیال میں پاکستان کا سیاسی ٹولہ نااہل اور نالائق ہے اِس لیے اُس کے ہاتھ میں بلاشرکتِ غیرے ایٹمی پاکستان کی ڈور نہیں تھمائی جا سکتی۔ یہ دھرتی ماں کی کم نصیبی کہ ہمارے سیاستدانوں نے بھی یہ ثابت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی کہ اُن کا اہلِ سیاست کا سا چلن کبھی تھا، ہے، نہ ہوگا۔ گزشتہ تین عشروں سے

ہمارے سیاستدانوں نے سیاست کو تجارت اور دولت پیدا کرنے کا ذریعہ بنا یا ہوا ہے۔ وہ انتخابات میں بے دریغ خرچ کرتے ہیںاور انتخاب جیتنے کے بعد مع سود وصول بھی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کے خلاف فضا اور ماحول کو سازگار بنانا انتہائی آسان ہوتا ہے۔ زورآوروں کے ہاں اُن کی کرپشن کی فائلیں ’’موٹی‘‘ ہوتی جاتی ہیں جو بوقتِ ضرورت کام آتی ہیں۔ ہمارے سیاستدانوں کی اکثریت ایسے اصحاب پر مشتمل ہے جو چڑھتے سورج کے پجاری۔ سیاسی جماعتیں بدلنا اُن کے بائیں ہاتھ کا کھیل اور ایسا کرتے ہوئے اُنہیں شرم آتی ہے نہ حیا۔ یہی وجہ ہے کہ حقِ حکمرانی خواہ کسی بھی سیاسی جماعت کے حصے میں آئے، چہرے وہی رہتے ہیں۔ 2002ء کے عام انتخابات میں (جب میاں نوازشریف جلاوطن ہو چکے تھے) 140 ارکانِ اسمبلی نون لیگ کو چھوڑ کر پرویزمشرف کی اشیرباد سے بنائی گئی قاف لیگ میں شامل ہوئے۔ 2008ء کے عام انتخابات میں 89 ارکانِ اسمبلی قاف لیگ کو داغِ مفارقت دے کر پیپلزپارٹی میں شامل ہوئے۔ 2013ء کے عام انتخابات میں 121 ارکانِ اسمبلی نے پیپلزپارٹی کو ’’ٹاٹا، بائی بائی‘‘ کہا اور نون لیگ کا حصّہ بنے۔ 2018ء کے انتخابات میں یہ سبھی پی ٹی آئی میں جلوہ گر ہیں۔ جب یہ صورتِ حال ہو تو پھر اِن ’’لوٹوں‘‘ کے ہاتھوں ملک وقوم کی بہتری کا سوچنے والا احمقوں کی جنت میں بستا ہے۔

خاںصاحب کو ’’شیروانی‘‘ پہنانے والے یقیناََ سوچ رہے ہوں گے کہ اُن کی نگاہِ انتخاب ایسے شخص پر کیوں پڑی جو سیاست کی ابجد سے بھی ناواقف، جسے کچھ نہیں آتا سوائے ’’اَنہے وا‘‘ بَلّا گھمانے یا بال پھینکنے کے۔ جسے فی البدیہہ تقریریں کرنے کا شوق، جو کبھی جرمنی اور جاپان کی سرحدیں ملا دیتا ہے، کبھی سائنسدان بن کر یہ کہہ دیتا ہے کہ درخت رات کو آکسیجن چھوڑتے ہیں اور کبھی کہتا ہے کہ سکون صرف قبر میں ملتا ہے۔ جو وزارتِ عظمیٰ پر جلوہ افروز ہونے کے باوجود ابھی تک اپوزیشن کے کنٹینر سے نہیں اُتر پایا۔ جو بڑے فخر سے کہتا ہے کہ عظیم لیڈر یوٹرن لیتے رہتے ہیںاور اُسے یوٹرنوں نے ہی وزیرِاعظم بنایا۔ جس نے پوری دنیا میں یہ پرچار کیا کہ پاکستان چوروں، ڈاکوؤں اور کرپشن کے مگرمچھوں کا گھر ہے۔ جس کے پہلے 100 دن گزرے پھر 200 اور 300 دن بھی گزر گئے لیکن نئے پاکستان کی ایک اینٹ بھی نہ رکھی جا سکی۔ بالآخر 400 دنوں کے بعد کہہ دیا ’’عوام میں صبر نہیں، ابھی تو صرف 13 ماہ ہی گزرے ہیں‘‘۔ ڈیڑھ سال تمام ہونے کو ہے لیکن ایک کروڑ نوکریاں دینا تو کجا، ایسی ’’حکمت عملی‘‘ اختیار کی گئی کہ کئی لاکھ بے روزگار ہوگئے۔ اب فرماتے ہیں کہ نوجوان تنخواہ اور پنشن کے لالچ میں سرکاری نوکری کی تلاش میں اپنے آپ کو تباہ نہ کریں، پرائیویٹ ملازمتیں ڈھونڈیں جس میں ترقی کے زیادہ چانسز ہیں۔ 50 لاکھ گھروں کی بجائے پناہ گاہیں اور لنگرخانے کھول دیئے تاکہ پوری قوم کو بھکاری بنایا جا سکے۔ مفلسوں کے لیے گھروں کی جو سکیم تیار کی گئی، اُس کی قیمت اتنی کہ مفلس تو کجا سفید پوش طبقے کی استعداد سے بھی باہر۔

وزیرِاعظم فرماتے ہیںکہ 2 لاکھ ماہانہ تنخواہ میں اُن کا گزارہ نہیں ہوتا۔ حیرت ہے کہ 300 کنال کے محل میں رہنے والے وزیرِاعظم کا گھرانہ صرف 2 افراد پر مشتمل، تمامتر حکومتی سفری سہولتیں اُنہیں میسر، گھر ذاتی، پھر بھی اگر 2 افراد کا گزارہ نہیں ہوتا تو 20 ہزار تنخواہ پانے والا کرائے کے گھر میں 70 روپے کلو آٹا اور 85 روپے چینی کیسے خرید سکتا ہے؟۔ مشیرِ خزانہ حفیظ شیخ کے مطابق تو ٹماٹر 17 روپے کلو ہیں جبکہ عوام نے 400 روپے کلو تک خریدے۔ باقی سبزیوں اور دالوں کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرتی ہوئیں۔ رَبّ ِ کائینات نے زمین کے اِس ٹکڑے کو ہر قسم کی دولت سے مالامال کر رکھا ہے۔ یہ وہ خطّہ ہے جہاں محنتی اور جفاکش کسان بستے ہیں، جہاں زرخیز ترین سونا اگلتی زمینیں ہیں، جہاں ہرقسم کی سبزیاں اور پھل دار درخت اُگائے جا سکتے ہیں، جہاں فلک بوس پہاڑ، گنگناتی ندیاں اور گیت گاتے جھرنے ہیں۔ یہ وہ دھرتی ہے جو دنیا میں چنے کی پیداوار میں تیسرے نمبر ، چاول میں دسویں اور گندم میں آٹھویں نمبر پر ہے۔ پھر بھی لوگ نانِ جویں کے محتاج، چہار سو قحط کا سا سماں۔ حکمران صبر اور ’’گھبرانا نہیں‘‘ کا ورد کرتے ہوئے لیکن بھوکے پیٹ صبر ناممکن اور گھبراہٹ لازم۔ اب اونٹ کے مُنہ میں زیرہ کے مترادف یوٹیلٹی سٹورز پرپانچ ماہ میں 15 ارب سب سڈی کا اعلان کرکے حاتم طائی کی قبر پر لات ماری جا رہی ہے۔ جہاں ہر نئے سورج بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھ رہی ہوں، وہاں 22 کروڑ عوام کے لیے 5 ماہ میں 15 ارب روپے کی حیثیت ہی کیا ہے۔ اب حکمرانوں کو کون سمجھائے کہ یوٹیلٹی سٹورز سے مہنگائی کم ہو گی نہ پناہ گاہیں اور لنگرخانے کھولنے سے۔ مہنگائی کا یہ عفریت تب تک سروں پر سوار رہے گا جب تک بہترین منصوبہ بندی کے تحت معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں ہو جاتی۔ وزیرِاعظم لاکھ کہیں کہ 2020ء ترقی وخوشحالی کا سال ہے اب کوئی اِس جھانسے میں نہیں آنے والا۔

’’گھبرانا نہیں‘‘ کی تلقین کرنے والے وزیرِاعظم صاحب نے فرمایا کہ ریکوڈک کے سونے کے ذخائر پر تیزی سے کام جاری ہے جس سے سارے دلدر دور ہو جائیں گے لیکن عوام کو اب پی ٹی آئی کے سبز باغوں پر اعتبار نہیں رہا۔ ویسے بھی یہ قوم ایسے ڈرامے پہلے بھی دیکھ چکی۔ ذوالفقارعلی بھٹو بھی ایک بار پارلیمنٹ میں پٹرول کی بوتل لے کر آئے اور کہا کہ پاکستان تیل کی دولت سے مالامال ہے اور عنقریب ہم دنیا کو تیل سپلائی کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ پانچ عشرے گزر چکے پاکستان آج بھی مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی بھیک مانگتا رہتا ہے۔ میاں شہبازشریف نے بھی چنیوٹ کے معدنی ذخائر کا اعلان کرکے بہت ’’نمبرٹانکے‘‘ لیکن وہ ڈرامہ حقیقت کا روپ نہ دھار سکا۔ تحریکِ انصاف تو ہر روز یوٹرن لیتی رہتی ہے، اُس پر بھلا کون اعتبار کرے گا۔ وزیرِباتدبیر مراد سعید نے کہا کہ جونہی تحریکِ انصاف کی حکومت آئے گی، اگلے ہی دن بیرونی ممالک میں کرپشن مافیا کے پڑے 200 ارب ڈالر واپس آجائیں گے۔ کہاں گئی وہ لوٹے ہوئے اربوں، کھربوں کی واپسی؟۔ یہ بھی کہا گیا کہ جونہی عمران خاں کی حکومت آئے گی، بیرونی ممالک میں مقیم پاکستانی، ڈالروں کی بارش کر دیں گے۔ کہاں ہے وہ ڈالروں کی بارش؟۔ اب اگر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے تو وزیرِاعظم کا ’’گالم گلوچ بریگیڈ‘‘ ڈالروں کی بجائے گالیوں کی بارش کر دیتا ہے۔ کہے دیتے ہیں کہ تحریکِ انصاف کی حکومت اتحادیوں سے ’’مُک مکا‘‘ کرکے مذید چند ماہ گزار لے گی لیکن اُس نفرت کا کیا علاج جو مہنگائی سے پسے ہوئے عوام میں بڑھتی چلی جا رہی ہے۔


ای پیپر