لال مسجد، بلاول، مہنگائی اور ویلنٹائن
17 فروری 2020 2020-02-17

دو ہزار سات کے بعد ایک مرتبہ پھر لال مسجد خبروں میں ہے۔ تاریخ دہرائی جا رہی ہے۔ مولانا عبدالعزیز کے لال مسجد میں داخل ہونے کے بعد حکومتی ٹیم کے مذاکرات ہوئے۔ پہلے خبر آئی کہ مذاکرات میں ڈیڈ لاک ہے۔ کچھ دن بعد خبر آئی کہ مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں۔ مولانا صاحب جامعہ حفصہ کے لیے دس مرلے پلاٹ لینے پر مان گئے ہیں۔ راستے کھول دیے گئے اور اسلام آباد میں حالات نارمل ہونا شروع ہو گئے۔ دارا لحکومت میں چہ میگوئیاں چل رہی تھیں کہ اچانک مولانا عبد العزیز کے داماد اور مولانا عبدلرشید مرحوم کے بیٹے مولانا ہارون رشید نے بیان دیا کہ حکومتی ٹیم کے ساتھ مذاکرات کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔ ڈیڈ لاک ابھی تک برقرار ہے۔ حکومت نے مسجد کے چاروں اطراف خاردار تاریں لگا کر اندر داخل ہونے کا راستہ بند کر دیا ہے۔ خوراک کی کمی ہو رہی ہے۔ مولانا عبدالرشید کی بیوی کے خلاف حکومت مخالف تقاریر کرنے اور مسجد کی طالبات کو حکومت کے خلاف اکسانے کا مقدمہ درج کروا دیا گیا ہے۔

اصل مدعا سیکٹر ایچ میں بیس کنال کا پلاٹ ہے۔ بیس کنال کا پلاٹ لال مسجد آپریشن کے بعد حکومت پاکستان نے مولانا عبدالعزیز کو جامع حفصہ کی تعمیر کے لیے دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے سرکاری اراضی منتقلی پر حکومت سے جواب طلب کیا۔ انتظامیہ نے دبائو میں آکر بیس کنال پلاٹ کی الاٹمنٹ منسوخ کر دی۔ جیسے ہی پلاٹ کی الاٹمنٹ منسوخ ہوئی مولانا نے حکومت سے دو ارب روپے مانگ لیے۔ حکومت نے انکار کیا تو مولانا نے پہلے لال مسجد خطیب کے گھر پر، پھر لال مسجد پر اور پھر سیکٹر ایچ کے بیس کنال پلاٹ پر قبضہ کر لیا ہے۔ خطیب کے گھر پر قبضہ مولانا عبدالرشید کے بیٹے ہارون سے کروایا گیا۔ مسجد اور پلاٹ پر قبضہ طالبات نے کیا ہے۔ لال مسجد پر قبضے کے لیے مولانا عبدالعزیز کے بھائی غازی عبدالرشید سمیت سینکڑوں طلبا و طالبات کی جان گئی۔حکومت کو یہ معاملہ سنجیدگی سے حل کرنا ہو گا۔ ذرا سی جلد بازی اور

بیوقوفی پاکستان کا نام دنیا میں خراب کر سکتی ہے۔

آئیے ایک نظر بلاول کے بیان پر ڈالتے ہیں۔بلاول بھٹو نے عمران خان کے متعلق کہا ہے کہ جس کی ساری سیاست آئی ایس آئی چیف کی مہربانی ہے وہ بینظیر کی تصویر یا نام کیسے برداشت کر سکتا ہے۔ بلاول صاحب یہ بیان دینے سے پہلے آپ کو یاد رکھنا چاہیے کہ آپ کی والدہ بے نظیر بھٹو مشرف کے ساتھ این آر او کر کے پاکستان آئی تھیں۔ آپ کے والد آصف زرداری نے جنرل کیانی کو ایکسٹنشن دی تھی۔ جہاں تک آپ کی بات ہے تو آرمی چیف کی حالیہ ایکسٹنشن کے قانون کی منظوری آپ کی پارٹی کے ووٹ سے ہی ہوئی ہے۔اب آپ بھی اسٹبلشمنٹ کی آنکھوں کا تارا بننے کے خواہش مند ہیں لیکن وہ موقع نہیں دے رہے۔آپ کی والدہ کے دور میں کرپشن کی جو داستانیں موجود ہیں۔ ان کا نام کسی فلاحی اداروں ہسپتالوں، یونیورسٹیوں اور کالجوں کے ساتھ جوڑنا مناسب دکھائی نہیں دیتا۔آپ نے تو سندھ میں سرکاری یونیورسٹیوں اور کالجوں کا نام بختاور اور آصفہ کے ناموں سے رکھ دیے ہیں۔ آپ بتائیں کہ ان کا اس ملک کے لیے کیا کنٹربیوشن ہے۔ انھوں نے ایسا کونسا کام کیا ہے جو عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے بننے والے اداروں کو آصفہ اور بختاور کے نام سے منسوب کر دیا گیا ہے۔

آپ فرماتے ہیں کہ بینظیر بھٹو نے اس ملک کی خاطر جان دے دی۔ جبکہ عوام کی ایک بڑی تعداد اس بات سے متفق نہیں ہے۔ جہاں تک بات رہ گئی ذالفقار علی بھٹو کی تو یہ سچ عوام کو بتائیے کہ پاکستان کے دو ٹکرے کرنے میں ذالفقار علی بھٹو کا کلیدی کردار تھا۔اگر بھٹو صاحب اپنی شکست اور مجیب الرحمان کی جیت کو تسلیم کر کے الیکشن نتائج مان لیتے تو آج پاکستان دو لخت نہ ہوتا۔یہ عوامی رائے بھی موجود ہے کہ ذالفقار علی بھٹو نے جمہوریت کی خاطر پھانسی قبول نہیں کی تھی۔ بلکہ انھیں آخری لمحے تک یقین تھا کہ ضیا الحق پھانسی نہیں دے گا۔ میرے دوست مجھے بچا لیں گے۔لہذا ذہن نشین رکھیں کہ آپ کی اور آپ کے خاندان کی مبینہ طور پر ملک توڑنے اور ملک لوٹنے کی تاریخ بھی موجود ہے۔

آئیے حکومت کی مبینہ پچاس ہزار دکانوں پر نظر ڈالتے ہیں۔سستا راشن خریدنے کے لیے حکومت کا پچاس ہزار دکانیں بنانے کا اعلان دراصل دیوار کے اوپر ایک اور دیوار ہے۔ اگر دروازہ کھلا ہو تو دیواروں پر دیواریں بنانے سے چوری نہیں رک سکتی۔ چوری روکنے کے لیے دروازہ مضبوطی سے بند کرنے کی ضرورت ہے۔ سوال یہ ہے کہ یوٹیلٹی سٹورز پاکستان کے ہر شہر میں موجود ہیں۔ان دکانوں اور یوٹیلٹی سٹورز میں کیا فرق ہے؟ جو سہولت آپ نے ان دکانوں پر دینی ہے، وہ آپ یوٹیلٹی سٹورز پر دے دیں۔اگر یوٹیلٹی سٹورز پر کرپشن ہوتی ہے تو کیا گارنٹی ہے کہ نئی دکانوں پر وہ کرپشن نہیں ہو گی۔ ان دکانوں میں ایسا کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا کہ جو مسائل یوٹیلٹی سٹورز پر ہیں وہ ان دکانوں میں نہیں ہوں گے۔جو کرپٹ مافیاز یوٹیلٹی سٹورز کو چلنے نہیں دیتے وہی مافیاز ان دکانوں کو چلنے نہیں دیں گے۔ بلکہ نئی دکانیں بنانے کے نام سے کرپشن اور لوٹ مار کا نیا بازار گرم ہو گا۔ لہذا خان صاحب اگر کچھ کرنا ہے تو پہلے ان مافیاز کے خلاف کوئی ایکشن لیں جو مہنگائی کے اصل ذمہ دار ہیں۔ تاکہ کرپشن کا دروازہ بند ہو۔ آپ سے گزارش ہے کہ دیواریں بلند اور مضبوط بنانے سے پہلے دروازہ بند کریں۔

آئیے ویلنٹائن ڈے پر تھوڑی بات کر لیں۔مختار احمد اور شاہین اختر کا تعلق ملتان سے ہے۔دونوں میاں بیوی ہیں۔ بیوی کے نو حمل ضائع ہوئے۔ وہ ماں نہیں بن سکی اور ذہنی توازن کھو بیٹی۔ مختار نے بیوی کو نہیں چھوڑا۔ کاروبار، خاندان چھوڑا اور رکشہ چلانا شروع کر دیا۔ بیوی کو رکشے میں ساتھ لے کر جاتا ہے۔ سارا دن اس کی دیکھ بھال کرتا ہے اور خود کو خوش قسمت سمجھتا ہے کہ اس کی ذہنی معذور بیوی اس کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ مختار سب کو کہتا ہے کہ‘‘اللہ نے لاکھوں میں ایک دی ہے میری بیوی’’یہ اصل محبت ہے۔ آج کی نسل کو ان سے سبق سیکھنا چاہیے۔

’’ہیپی ویلنٹائین ڈے‘‘


ای پیپر