ڈھیل، بوکاٹا اور بلیک میلنگ
17 فروری 2019 2019-02-17

ڈیل کا تو پتا نہیں، ڈھیل دی جانے لگی ہے، کون بوکاٹا ہونے والا ہے، اللہ جانے گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ ڈھیل عدالت کی طرف سے دی جاسکتی ہے، سو گزشتہ دنوں شہباز شریف کی ضمانت منظور کرلی گئی۔کسی طرف سے تو ٹھنڈی ہَوا کا جھونکا آیا۔ ممکن ہے چار پانچ دن بعد بڑے بھائی بھی بیگم کلثوم نواز جنت مکانی کی قبر پر حاضری دیں، اتنے دنوں کی غیر حاضری پر معذرت کریں کہ آنا اپنے اختیار میں نہیں تھا، خاموشی کا مطلب سمجھے، چیخنے، چلانے اور دھاڑنے سے غصہ جبکہ مسلسل خاموشی سے رحم کے جذبات پیدا ہونے لگتے ہیں، ویسے بھی طبیعت خراب ہے، اسپتال میں رکھنے کی سفارش کی گئی، جہاں 24 گھنٹے دل کی دھڑکنوں کو شمار کیا جائے، ڈوبتے دل کی نگرانی کی جائے، خرابی بسیار کے بعد اسپتال منتقل کیا گیا، اس پر بھی کتنی باتیں سننے کو ملیں، دل کو سنبھالیں یا دل گھائل کرنے والوں کو، باہر بیٹھے لوگوں نے این آر او کے تناظر میں سعد الحریری تک کا ذکر کردیا، ایسی باتیں منظر عام پر نہیں لائی جاتیں، پتا نہیں کیوں آگئیں ،کیا ضروری ہے کہ روز نئی بات کی جائے اور لوگ باگ اس کی تردید کردیں، سینئر صحافی نصرت جاوید نے تو اس پر پورا کالم لکھ دیا، بتایا کہ مشرف دور میں صدر کلنٹن کے کہنے پر جاں بخشی ہوئی تھی اسے این آر او کا نام دے دیا گیا حالانکہ اس میں این آر او والی کوئی بات نہ تھی، ڈیل کے تحت ڈھیل دے دی گئی، امریکا کو اپنا مہرہ فٹ کرنا تھا، نواز شریف پیچھے ہٹ گئے اس سارے معاملہ میں سعد الحریری نے صرف ہر کارے کا کردار ادا کیا ،کیسے وعدے کون سے وعدے، سعودی عرب چلے گئے سورج ڈھلا تپش کم ہوئی تو واپس آگئے، بیرونی شخصیتوں اور دوستوں کو باہمی جھگڑوں میں ملوث کرنا دانش مند ی نہیں، سفارتی پروٹوکول کے بھی خلاف ہے مگر سوال یہ ہے کہ ان ڈھیر ساری باتوں سے ہمیں کیا، رموز مملکت خویش خسرواں دانند، پنجاب کے ایک وزیر پنجابی کا ایک محاورہ کثرت سے استعمال کرتے ہیں، جس میں گاجروں اور پیٹ درد کا ذکر ہوتا ہے۔ بقول زندہ دلان لاہور ’’تے فیر سانوں کی‘‘ ڈھیل دے دی گئی، اچھی ابتدا ہے انتہا کی خبر خدا جانے، ویسے بھی شہزادوں کا آنا جانا لگا رہے گا قیدی کی حیثیت سے قائد حزب اختلاف کا ملنا جلنا اچھی بات نہیں، بڑے بھائی بھی آزادہوگئے تو ملنے ملانے میں لطف آئے گا، شہزادے کا تعلق ارض مقدس سے ہے، زیارت دل کی ٹھنڈک آنکھوں کا سرور، ملنے والے بھی اسی پاک سر زمین سے جڑے ہوئے ہیں یہاں سے دھتکارے گئے تو وہیں پہنچے تھے 8 سال گزار کر آئے ہر سال رمضان المبارک کا آخری عشرہ اسی خاک پاک کو بوسے دیتے گزرتا تھا، بقول غالب۔

گوواں نہیں پہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیں

کعبے سے ان ’’بتوں‘‘ کو بھی نسبت ہے دور کی

ڈھیل دی گئی ہے اللہ خیر کرے کوئی ڈیل کا پہلو بھی ہوگا، سچ پوچھیے ہمیں تو تبدیلی سرکار اتحادیوں کے رویوں سے تشویش ہونے لگی ہے ہر گز نہ ہوتی اگر عام حالات میں اس قسم کے رویوں کا مظاہرہ کیاجاتا، کسی طرف سے بھی ناراضی ہوئی تو سمجھیں بو کاٹا، دو تہائی اکثریت کا فائدہ یہی ہوتا ہے کہ اِدھر اُدھر سے آنے والے دو چار ناراض ہو کر اِدھر اُدھر چلے بھی جائیں تو فرق نہیں پڑتا لیکن جہاں دو چار ہی کی اکثریت ہو وہاں دو چار ہی کو سینے سے لگا کر رکھنا پڑتا ہے، ایک آدھ بندہ بھی منہ بگاڑ لے تو صورت حال بگڑنے لگتی ہے اور بگاڑ کا خطرہ پیدا ہونے لگتا ہے، موجودہ حکومت میں تو تین چار اتحادی ہیں جس دن ان کے کندھے تھک گئے اسی دن زلزلے کی پیشگوئیاں ہونے لگیں گی، ہو بھی رہی ہیں، چند دن پہلے ایم کیو ایم والے ملے گلے شکوے کیے، بنیادی مطالبات لے کر گئے تھے، زبانی کلامی اتحاد ہوا ہے چھ سات ارکان کم نہیں ہوتے ہمارے بنیادی مطالبات پورے کرتے ہوئے تحریری اتحاد کا معاہدہ کیا جائے، کچھ طے ہوا کچھ نہیں ہوا، ایم کیو ایم والے غیر مطمئن سے واپس لوٹے ان پر ’’کرم نوازی‘‘ دونوں جانب سے ہے یہی کہنے گئے تھے ایک وزارت پر مطمئن دوسری وزارت سمجھ میں نہیں آرہی، خالد مقبول اچھے بھلے ڈاکٹر انہیں ٹیکنالوجی میں الجھا دیا، کیا کریں کیا نہ کریں، بالائے ستم وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ان کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار، وزارت بچانا مشکل ہوگئی، سینے سے لگایا ہے تو کوئی ڈھنگ کی وزارت دیں، دفاتر کا بھی مسئلہ ہے وہ کس کے اختیار میں ہے؟ پتا نہیں، چوہدری برادری سیاست کے پا رس جس سے مل گئے اسے سونا بنا دیا ،خود نہیں ملتے حکم کے تابع ہیں، دو تین سیٹوں سے زیادہ نہیں لیکن حکومت کی ناک کا بال، روز ناراض، صبح ناراض شام ناراض، رات کو خوش، حکومت سنبھالتے سنبھالتے ہانپ گئی وزیر اعظم روٹھنے منانے کے طور طریقوں سے بے نیاز بذات خود انداز دلبری کے مالک ،کیسے کہہ دیں کہ ’’تم روٹھو اور ہم نہ منائیں ایسے تو حالات نہیں، ایک ذرا سا دل ٹوٹا ہے اور تو کوئی بات نہیں‘‘ ایسے ڈائیلاگ کے سرے سے قائل نہیں، پھر مجبوری کیسی؟ تین چار سیٹوں پر پرویز الٰہی اسپیکر پنجاب اسمبلی، راجہ بشارت وزیر قانون، بلدیات کا محکمہ بھی حضرت والا کے سپرد، حالانکہ ’’غالب خستہ کے بغیر کون سے کام بند تھے‘‘ ان کی موجودگی ہی میں سانحہ ساہیوال رونما ہوگیا، وہ اب تک یہ بھی صحیح وہ بھی غلط کے چکروں میں الجھے ہوئے ہیں، مگر بڑے چوہدری اب بھی ناراض، ملاقات میں گلہ کیا کہ مونس الٰہی کو بھی کہیں کھپایا جائے، وڈے چوہدری صاحب سیاست کا نگینہ ،عمران خان، نواز شریف، پرویز مشرف، آصف زرداری، سمیت سب کی آنکھوں کا نور دل کا سرور ’’آ سینے نال لگ جا ٹھاہ کر کے‘‘ قسم کے اتحاد کے قائل، ہر وزیر اعظم کی انگوٹھی میں نگینے کی طرح چمکتے ہیں نگینہ کے بغیر انگوٹھی خالی، اسی لیے ہر حکومت میں فٹ، مشرف سے کہہ کر ایک مہینے کے لیے وزیر اعظم بھی بن گئے تھے نواز شریف کے مستقل وزیر داخلہ، زرداری حکومت میں سب سے آگے پرویز الٰہی کو نائب وزیر اعظم بنوا دیا ،کرنا کرانا کیا ہے مسائل پر مٹی پاؤ روٹی ٹکر اسی طرح چلتا رہنا چاہیے۔ سب سے بچے ہوئے، سایہ عاطفت میں پل رہے ہیں، نیب سے محفوظ، شاید’’ حکم حاکم ہے انہیں کچھ نہ کہو‘‘ وہ بھی کچھ نہیں کہتے، جو کہتے ہیں وہ کسی کی سمجھ میں نہیں آتا، حکومت چو مکھی لڑ رہی ہے اختر مینگل اپنے مطالبات لیے بیٹھے ہیں ان لیڈروں میں سے ہیں جو وزارت اعلیٰ سے کم پر راضی نہیں ہوتے، کیا کریں، اپنوں کو راضی رکھنا آسان نہیں، منصب پر فائز ہوں گے تو سب کو راضی رکھ سکیں گے اسی لیے ’’روٹھے روٹھے میری سرکار نظر آتے ہیں‘‘ حکومت کو ہر وقت ان کی فکر بھی ستائے رہتی ہے بقول شخصے۔

مزاج اپنا اچانک بدل رہے ہیں چراغ

جو مصلحت کی حدوں سے نکل رہے ہیں چراغ

نہلے پہ دھلا اپنے شیخ رشید 342ارکان کی اسمبلی میں اپنی پارٹی عوامی مسلم لیگ کے اکلوتے رکن لیکن سب پر بھاری، مسئلہ کیا ہے؟ سیاست میں کیاکردار ہے؟ سب کو برا بھلا کہو مخالفین کو لتاڑو اور اپنی جگہ بنا لو، ایک جگہ ایک صاحب کے بارے میں بحث چل رہی تھی ایک صاحب نے کہا بندہ فطرت سے مجبور ہے دوسرے نے کہا پڑھا لکھا نہیں لکھا ہی لکھا ہے تیسرے نے ہانک لگائی تربیت کی کمی ہے ’’روئے سخن کسی کی طرف ہو تو روسیاہ‘‘ لیکن مسئلہ اپنی جگہ گمبھیر، اکلوتا بندہ عمران حکومت کے لیے ناگزیر، گلشن کا کاروبار چلانا تھا، ڈھول کے بغیر لوگ اکٹھے ہوجاتے تھے، جلاؤ گھیراؤ کے نعرے کتنے دلکش لگتے تھے، گلشن کا کاروبار چل پڑا، بچپن کی عادتیں پچپنمیں بھی نہیں گئیں اب کیا جائیں گی ایک وزارت مل گئی مگر مطمئن نہیں ہم تو چاند لیں گے پی اے سی کا چیئرمین بنا دو، 40 آدمیوں کو جیل بجھوائیں گے، وفاقی وزیر ہیں چیئرمین پی اے سی کیسے بنیں گے، جیسے بھی بناؤ نہ بنایا تو سپریم کورٹ جائیں گے، اسپیکر نے انکار کردیا تو ان کے مخالف، نہیں چھوڑیں گے، کیا ضد ہے کس کی ضد ہے جس پر اتنا گھمنڈ اور اس قدر ناز ہے ،کیسے بنا دیں روایت نہیں، ہم تو ویسے بھی روایت شکن ہیں بس ہمیں چیئرمین پی اے سی بنا دیں، حکومت کس کس کی بلیک میلنگ سے کیسے کیسے اور کب کب بچے گی۔


ای پیپر