اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
17 فروری 2019 2019-02-17

میں بور ہو گیا ہوں۔ زندگی میں نہ تو رنگ رہے ہیں اور نہ ہی رنگ رلیاں باقی ہیں۔ نہ ہی ابھرتے طوفان ہیں اور نہ ہی پچھلے طوفانوں کو بھلانے کے لیے کوئی نیا طوفان ہے۔ نہ ہی کسی بھی وقت کچھ بھی ہو جانے کے خوف کی تلوار ہے اور نہ ہی سوؤ موٹو نوٹس لے کر توہین عدالت لگا کر وزیراعظم کو گھر بھیجنے کی کوئی اطلاع ہے۔ نہ ہی ڈی پی او پاکپتن کے تبادلہ جیسے معاملات ملکی مسئلہ بنتے نظر آ رہے ہیں اور نہ ہی وزیراعلی پنجاب کو نااہل قرار دے کر عہدے سے ہٹانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔نہ ہی اعظم سواتی کو عبرت کا نشان بنانے کے دعوے سامنے آ رہے ہیں اور نہ ہی سی ڈی اے کو اعظم سواتی کا فارم ہاوس غیر قانونی ہونے پر سزا نہ دینا ملکی مسئلہ بن کر ابھر رہا ہے۔

نہ ہی سکول مالکان کی راتوں کی نیند اڑ جانے کی کوئی خبر ہے اور نہ ہی پچاسی لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ لینے والی استانی کو عدالت میں ذلیل ہونے کا خوف ہے۔ نہ ہی میڈیکل کالجز کے اندر عدالت لگانے کا کوئی ٹکر چل رہا ہے اور نہ ہی چور کو چھوڑ کر چوکیداری کرنے والے کی فوراً گرفتاری کے آرڈر کی بریکنگ نیوز چل رہی ہے۔نہ ہی کسی کو ملک میں دو سے زیادہ بچے پیدا ہونے کی فکر ہے اور نہ کوئی کم بچے پیدا کرنے کے لیے مہم چلانے اور گھر گھر جانے کا اعلان کر رہا ہے۔ نہ ہی کسی کو ملک پاکستان کے پاگلوں کی فکر کھائے جا رہی ہے اور نہ ہی برتن اٹھا اٹھا کر پھینکنے کی آوازیں میڈیا کی سکرینوں پر گونجتی سنائی دے رہی ہیں۔نہ ہی ڈان کی کالے شیشوں والی عینک لگا کر سول جج کی بھری عدالت میں پچھلے دروازے سے داخل ہونے کی کسی کی جرات ہو رہی ہے اور نہ ہی بھری عدالت میں سول جج کو دوران ڈیوٹی ذلیل کرنے اور اس کا موبائل سر عام میز پر پٹخنے کا خیال کسی کے ذہن میں آرہا ہے۔ نہ ہی کیمرے کو دکھا دکھا کر سندھ کے علاقے کا گندا پانی پینے کا عملی مظاہرہ کیا جا رہا ہے اور نہ ہی وزیراعلی سندھ کو گندا پانی نہ پینے پر طعنے مارنے کا شور مچتا دکھائی دے رہا ہے۔

نہ ہی کوئی چیف جسٹس کسی صحافی کو اپنے چیمبر میں بلا کر ایک گھنٹے کا انٹرویو دے رہا ہے اور نہ ہی ملک کا سب سے بڑا قاضی صحافی کو چیمبر میں بلا کر پوچھ رہا ہے کہ آپ کو میں کیسا لگتا ہوں۔ نہ ہی کسی جج کو دلہنوں کے گوٹے والے کپڑے پہن کر شادی ہال تک دیر سے پہنچنے کی فکر کھائے جا رہی ہے اور نہ ہی کوئی شادی ہالوں کی ٹائمنگ گیارہ بجے تک کرنے کا آرڈر دینے میں دلچسپی رکھتا ہے۔نہ ہی سرکاری زمینوں پر لگے ہوئے اور حکومت پاکستان کو اربوں روپے کا فائدہ دینے والے بل بورڈز تیسری دنیا کے غریب ملک پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ بن کر سامنے آ رہے ہیں اور نہ ہی کوئی ایک ہی جھٹکے میں اربوں روپوں کی اس انڈسٹری کو تباہی کے دہانے پر لے کر آ رہا ہے۔

نہ ہی ڈیم کی افتتاحی تقریب میں چیف جسٹس صاحب کو نہ بلانا ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بن رہا ہے اور نہ ہی ڈیم کی افتتاحی تقریب کی تاریخ آگے بڑھانا ملک کو پانچ سو سال پیچھے لے کر جا رہا ہے۔نہ ہی ڈیم پر پہرا دینا انصاف دینے سے زیادہ اہمیت اختیار کر رہا ہے اور نہ ہی پانی کا مسئلہ کشمیر کے مسئلے سے بڑا محسوس ہو رہا ہے۔

نہ ہی آنکھوں دیکھی اور ہاتھوں پکڑی شراب کی بوتلیں قاضی وقت کا منہ چڑا رہی ہیں اور نہ ہی پوری دنیا میں پاکستانی نظام عدل تماشا بن رہا ہے۔ نہ ہی کوئی جج بھری عدالت میں ملک ریاض سے یہ کہ بھتہ مانگ رہا ہے کہ تم دس ارب ڈالر دے دو اور ملک سے باہر چلے جاؤ میں عملدرآمد بنچ میں بیٹھ کر خود تمھارے کیس ختم کر دوں گا اور نہ ہی کوئی جج سیاستدانوں کی الیکشن کمپین کے دنوں میں ان کے حلقے میں جا کر سیاستدانوں کی تعریفیں کر رہا ہے۔

نہ ہی کوئی جج زبردستی کا بابا بننے کا خواہش مند ہے اور نہ ہی کوئی بابا رحمتے بننے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔ نہ ہی کوئی جج انصاف کی کرسی سے اٹھ کر سڑک پر آ رہا ہے اور نہ ہی کوئی قاضی انصاف دینے کی بجائے سڑکوں پر آستینیں چڑھا کر سیاستدانوں کی مانند بازو ہوا میں لہرا کر اور شہباز شریف کی طرح انگلی کو ہلا ہلا کر عوام سے یہ کہتا پھر رہا ہے کہ ہم عوام کے بجلی، پانی اور غربت کے مسائل حل کریں گے۔ نہ ہی کوئی جج ایک طرف ہندوستانی فلم ہچکی دیکھنے کا مشورہ دے رہا ہے اور نہ ہی دوسری طرف ہندوستانی چینلوں پر پابندی لگا رہا ہے ۔

میں اگر دل کی بات لکھوں تو یہی لکھوں گا کہ مجھے اس رونق کی عادت پڑ گئی ہے۔ میرے قہقہے ایسے ہی کسی واقعے کے محتاج ہو گئے ہیں۔ میری مسکراہٹ کسی غیر سنجیدہ ریمارکس کی راہ تکتی رہتی ہے۔ میری آنکھیں چمکنے کے لیے نیوز چینلز کی سکرین پر چیف جسٹس صاحب کی کسی چبھتی ہوئی بریکنگ نیوز کی متلاشی رہتی ہیں۔ میرے کان ہنسا دینے والے فیصلوں اور رلا دینے والے ریمارکس کو سننے کے لیے بے چین رہتے ہیں لیکن افسوس کہ میں اب یہ خوشیاں حاصل نہیں کر سکتا۔ یہ سب خوشیاں مجھ سے چھن گئی ہیں اور اس کے ذمہ دار کوئی اور نہیں بلکہ صرف اور صرف سابق چیف جسٹس پاکستان جناب میاں ثاقب نثار صاحب ہیں۔بقول خالد شریف صاحب

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رُت ہی بدل گئی

اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا


ای پیپر