تعلیمی آگہی حکومت کی منتظر
17 فروری 2019 2019-02-17

ساؤتھ افریقہ میں ایک یونیورسٹی کے دروازے پریہ فکر انگیز جملے درج ہیں:

’’کسی قوم کو تباہ کرنے کے لیے ایٹم بم اور دور تک مار کرنے والے میزائلز کی ضرورت نہیں، بلکہ اس کے نظام تعلیم کا معیار گر ا دو اور طلباء و طالبات کو امتحانات میں نقل لگانے کی اجازت دے دو، وہ قوم خود تباہ ہو جائے گی‘‘۔

اس ناکارہ نظام تعلیم سے نکلنے والے ڈاکٹرز کے ہاتھوں مریض مرتے رہیں گے۔

انجینئرز کے ہاتھوں عمارات تباہ ہوجائیں گی۔

معیشت دانوں کے ہاتھوں دولت ضائع ہو جائے گی۔

مذہبی رہنماؤں کے ہاتھوں انسانیت تباہ ہو جائے گی۔

ججز کے ہاتھوں انصاف کا قتل ہو جائے گا۔

نظام تعلیم کی تباہی، قوم کی تباہی ہوتی ہے۔

آگہی نوٹ

کامیاب انسان وہی ہوتا ہے جو لمحہ بہ لمحہ حقیقت کی روش پر مثبت حکمت عملی کی مشعل تھامے زندگی کی منازل طے کرے نہ کہ منزل و راہ منزل کا تعین کیے بغیر دوسروں کے دیکھا دیکھی بنا سوچے سمجھے بھیڑ چال میں ایک اور بھیڑ کا اضافہ کر دے۔

ہم آپ کی توجہ پاکستان میں رائج مختلف نظام ہائے تعلیم کی طرف دلانا چاہتے ہیں، ہمیں اپنی زندگی و قوم کے قیمتی اثاثے، ہماری آنے والی نسل کی تعلیم و تربیت کے لیے اس نظام اور نصاب کا انتخاب کرنا چاہیے جس کا مستقبل روشن اور کثیر الجہتی ہو۔ جیسا کہ ہمارے ملک کے اعلیٰ تعلیمی (انجینئرنگ، طب، لٹریچر) و

افواج کے ادارے جب انتخاب کرتے ہیں تو ان کا طریق کار میٹرک، ایف اے، ایف ایس سی کے نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے طلباء کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ یہ ہمارے ملک میں رائج کردہ طریقہ و گورنمنٹ آف پاکستان سے منظور شدہ نظام ہے جو والدین اپنے بچوں کو اس طریق کار کے تحت تیاری کرواتے ہیں یا ان کی تربیت ایسے سکولوں میں کرواتے ہیں جہاں یہی طریق کار رائج ہو تو ان کے بچے بنا کسی رکاوٹ کے تعلیمی میدان و آگے آنے والی عملی زندگی کے میدان میں آسانی سے خود کو ایڈجسٹس کر لیتے ہیں۔

والدین کے ذہن میں یہ بات گھر کر گئی ہے کہ او، اے لیولز کو ہی انگلش میڈیم کہا جاتا ہے جبکہ انگلش میڈیم اور او، اے لیولز دونوں الگ چیزیں ہیں۔

اس کے برعکس جو والدین اسٹیٹس، نام نہاد برانڈز اور دوسروں کو محض دکھانے کے لیے اور مستقبل کا سوچے بغیر اپنے بچوں کو او لیول یا اے لیول نظام کا حصہ بناتے ہیں اور بھاری بھر کم فیسیں ادا کرتے ہیں ’سہولیات کم اور فیسیں زیادہ‘وہ اس بات سے یکسر بے خبر ہوتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو بظاہر چکا چوند مگر آگے سے بند گلی میں دھکیل رہے ہیں۔ کیوں کہ اس نظام تعلیم کا پاکستان میں کوئی مستقبل ہے ہی نہیں۔ اگر آپ اپنے بچے کو او لیول کروا کر کسی اچھے کالج میں داخلے کے لیے لے کر جاتے ہیں تو آگے سے صاف انکار ہو گا پھر طالب علم کو کسی بھی کالج میں داخلے کے لیے مزید کچھ امتحانات کی تیاری کر کے انہیں پاس کرنا ہو گا اس دوران اس کا ایک سال ضائع ہو گا کیونکہ اچھے کالجز کی داخلہ تاریخ گزر چکی ہو گی۔ یہی حال اے لیول کرنے کے بعد کسی یونیورسٹی یا میڈیکل کالج میں داخلے کے وقت ہو گا۔ مزید امتحانات اور ایک سال ضائع۔

ماں باپ آٹھویں اور نہم جیسی اہم جماعتوں میں جا کر یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ اب ہمارے بچے یہاں نہیں پڑھ سکتے اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے اب انہیں سکول بدلنا چاہیے لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے اور بچے اپنی قومی زبان اردو اور باقی چیزوں میں اتنا پیچھے جا چکے ہوتے ہیں کہ وہ نظام کے ساتھ قدم سے قدم ملا ہی نہیں پاتے۔ لہٰذا ماں باپ سے التماس ہے کہ اتنی دیر بعد یہ فیصلہ کرنے سے اچھا ہے کہ پہلے دن سے ہی صحیح فیصلہ کریں۔

جب اتنی محنت اور مہنگے نظام تعلیم کو اختیار کرنے کے بعد پھر آپ کو اپنی اصل کی جانب لوٹنا ہے تو پھر ابتدا سے ہی کیوں نہ ہمارے ملک میں چل سکے، پنپ سکے، ثمر آور ہو سکے۔ لہٰذا دکھاوے کے اسٹیٹس کو اپنا کر بچوں کے مستقبل کو داؤ پر لگانا ہے یا اپنی مذہبی و ثقافتی روایات کی عکاسی کرنے والے نظام کاحصہ بننا ہے۔

جو نظام آپ کی آنے والی نسل کو ہماری قومی زبان ، ہماری ثقافت، ہماری روایات سے دور کرے اس نظام سے ہمیں اپنا مستقبل بچانا ہے۔

اپنے آپ کو اپنے بچوں کی جدید دور و جدید تقاضوں سے ضرور آشنا کریں مگر اپنی روایات اور ثقافت کو نظر انداز نہ ہونے دیں۔ نظام تعلیم وہی اختیار کریں جس کا مستقبل روشن اور پاکستان کے نظام کے مطابق ہو مگر سہولیات آپ بچوں کو تمام نام نہاد سکولوں سے بڑھ کر بھی دے سکتے ہیں۔ ایسے سکول کا انتخاب کیجیے جو سہولیات میں ٹیکنالوجی میں جدت میں کسی بین الاقوامی ادارے سے کم نہ ہو مگر نظام تعلیم پاکستان کا ہو جو مذہبی، ثقافتی، تہذیبی اعتبار سے ہماری قوم کی عکاسی کرتا ہو۔


ای پیپر