مد ر آ ف ڈیمو کر یسی کا اصلی چہر ہ
17 فروری 2019 2019-02-17

ا نگلینڈ کو مد ر آ ف ڈیمو کر یسی یا مد ر آ ف پا ر لیمنٹ بھی کہا جا تا ہے۔اسے یہ نا م بر منگھم میں جا ن بر ا ئیٹ نے دس جو لائی 1865کو اپنی ایک تقر یر کے دو را ن دیا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ جمہو ری قد رو ں کے حوا لے سے ا نگلینڈ دنیا بھر میں اپنا کو ئی ثا نی نہیں ر کھتا۔ و ہا ں جمہو ر یت کو مضبو ط بنا نے کی غر ض سے ایک ذ کر و ہا ں کی پو لیس کا ضر ور آ تا ہے۔ یہ پو لیس سکاٹ لینڈ کے نا م سے پہچا نی جا تی ہے۔ سکا ٹ لینڈ یا رڈ کی ہمر اہی میں مد ر آ ف ڈیمو کر یسی انگلینڈ کا دعو یٰ ہے کہ وہاں بسنے وا لے سب لو گو ں کے حقو ق بر ا بر ہیں۔ یعنی کسی انگر یز کو اپنے ا نگر یز ہو نے کی بنا ء پر کسی تا ر کِ و طن پر کسی قسم کی کو فو قیت حا صل نہیں،اور نا ہی کسی گو رے کو کسی کا لے پر کو ئی فو قیت حا صل ہے۔ مگر ہم د یکھتے ہیں کہ وہا ں ایک پا کستا نی نژ ا د ڈا کٹر عمرا ن فا رو ق کو ستمبر 2010میں سفا کی سے قتل کر دیا جا تا ہے۔ پو رے پا کستا ن کو ا مید تھی کہ سکا ٹ لییڈ یا رڈ کی مو جو دگی کی بناء پر مد ر آ ف ڈیمو کر یسی میں یہ قتل کچھ ز یا دہ عر صہ پر دے کے پیچھے چھپا نہیں رہ سکے گا۔ زیا دہ سے زیا دہ تین ما ہ میں یہ معا ملہ اپنے انجا م کو پہنچ جا ئے گا۔ مگر آ ج آ ٹھ بر س سے ز یا دہ عر صہ گذ ر نے کے با وجو د ڈا کٹر عمر ا ن فا ر و ق کے لوا حقین کو کو ئی ا نصا ف نہیں مل سکا۔ اس معا ملے سے ہٹ کر آ جکل بین الاقوامی، بالخصوص برطانوی اخبارات میں ایک عجیب خبر گردش کر رہی ہے۔ خبر پڑھ کر بعض اقوام، جن میں اکثر سفید فام اور چند زرد فام بھی ہیں، کے حماقت کی حد تک سادہ اور پسماندہ ہونے پر کبھی تعجب ہوتا ہے اور کبھی بے ساختہ ہنسی آتی ہے۔ لاکھ جھٹک کر پرے کریں، پھر بھی ذہن کے کسی گوشے میں یہ خیال سرک آتا ہے ک ہم لوگ ان اقوام سے کتنے زیادہ ذہین اور دانشمند ہیں۔ ہم اور ہمارے نظام ان سے اور ان کے ہاں رائج نظاموں سے کتنے بہتر ہیں، کتنے آگے ہیں۔توو اقعہ کچھ یوں ہے کہ برطانوی پارلیمینٹ کی ایک رکن جو اتفاق سے سیاہ فام ہیں اور لیبر پارٹی سے تعلق رکھتی ہیں، جولائی 2017ء میں 30 میل فی گھنٹہ کی بجائے مبینہ طور پر 41 میل فی گھنٹہ کی رفتار پر گاڑی چلاتی پائی گئیں۔ اس کے علاوہ یہ الزام تھا کہ تیز رفتاری کے ساتھ ساتھ وہ اپنے موبائل فون پر پیغام بھی بھیج رہی تھیں۔ یہ دونوں عمل برطانیہ میں جرم ہیں۔ پاکستان میں ہم پٹرول کے بغیر گاڑی اور بعض اوقات موٹر سائیکل بھی چلاسکتے ہیں، لیکن موبائل فون استعال کیے بغیر یہ دونوں سواریاں کیسے چلائی جاسکتی ہیں؟ یہ ہم نہیں جانتے۔ بہرحال مذکورہ رکن پارلیمنٹ نے بجا طور پر یہ قدرتی اور منطقی مؤقف اختیار کیا کہ وہ نہ صر ف گاڑی چلا نہیں رہی تھیں بلکہ گاڑی میں موجود بھی نہیں تھیں۔ ہم ان کے انکار کو ایک لمحے کے توقف کے بغیر سمجھ سکتے ہیں اور اس سے مکمل اتفاق بھی کریں گے۔ انہیں بالکل یہی کرنا چاہیے تھا۔ انسان صرف اس لیے اعتراف نہیں کر لیتا کہ الزام درست ہے۔ یہ کیا بات ہوئی۔ اس طرح تو انسان کما حقہ زندگی نہیں جی سکتا۔ مذکورہ رکن پارلیمنٹ نے وہی کیا جو کسی بھی ذی ہوش اور دانش مند فرد، خاص طور پر ایک رہنما کو کرنا چاہیے تھا۔ اس طرح معاملہ رفع دفع ہوگیا۔

لیکن حقیقتاً رفع دفع نہیں ہوا۔ کچھ عرصے کے بعد پولیس اور استغاثہ کو سوجھی کہ رکن پارلیمنٹ نے غلط بیانی کی تھی، عدالت کو گمراہ کیا تھا۔ انصاف کے تقاضوں کو سبوتاژ کیا تھا۔ اندازہ لگائیں کہ ایک معمولی سے معاملے، جو ختم بھی ہوچکا تھا، کا اتنا بڑا بتنگڑ بنادیا گیا۔ آخر ہوا کیا تھا؟ معمولی سی رفتار زیادہ تھی۔ کیا اس سے آسمان گر پڑتا ہے؟ موبائل فون استعمال کیا تھا۔ پھر کیا ہوگیا؟ بعض اوقات استعمال کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ انسان سفر ختم ہونے کا انتظار نہیں کرسکتا۔ رہ گئی یہ بات کہ الزام تسلیم نہ کیا گیا تھا، تو اور کیا کیا جاتا؟ دنیا میں ہر جگہ دفاع کی پہلی سیڑھی صحت الزام سے انکار ہی تو ہوتا ہے۔ الزام صرف اس لیے تسلیم نہیں کیا جاتا کہ وہ درست ہے۔ انسان کو بیسیوں اور باتیں دیکھنا ہوتی ہیں۔ ہم سمجھ سکتے ہیں کہ کیا ہوا ہوگا۔ ایک تو مذکورہ رکن سیاہ فام ہیں۔ دنیا جانتی ہے کہ مغربی اقوام رنگ کے معاملے میں کتنی متعصب ہیں۔ پھر ان دنوں برطانیہ میں ایک دوسری جماعت کی حکومت ہے۔ سب جانتے ہیں کہ جب سیاسی مخالفین حکومت میں ہوں تو کیا کچھ نہیں ہوتا؛ چنانچہ اچھا خاص داخل دفتر معاملہ پھر سے عدالت میں پہنچ گیا۔

برطانوی نظام کی فرسودگی کا اندازہ فرمائیں، جولائی 2018ء میں عدالتی کارروائی دوسری مرتبہ شروع ہوئی۔ پانچ ماہ کے اندر موصوفہ کو غلط بیانی اور عدالت کو گمراہ کرنے کے الزام میں 3 ماہ قید کی سزا سنا دی گئی، صرف 5 ماہ میں۔زیادتی کی انتہا ملاحظہ کریں۔ ملزمہ کو اپنے دفاع کا مناسب موقعہ کہاں دیا گیا ہوگا؟ ظاہر ہے عدالت نے پہلے سے سزا دینے کا ذہن بنا رکھا ہوگا؟ بات یہیں ختم نہیں ہوجاتی۔ سزا کے دو دن بعد لیبر پارٹی نے موصوفہ کو پارٹی سے خارج کردیا؛ حالانکہ پارٹی آسانی سے چند منٹوں میں اپنے دستور میں ترمیم کرسکتی تھی۔ انہیں نہ صرف جماعت کا رکن رکھا جاسکتا تھا بلکہ ان کے ساتھ ہونے والی زیادتی اور ظلم کو سامنے رکھتے ہوئے انہیں پارٹی کا تاحیات سربراہ بھی بنایا جاسکتا تھا۔ ایسی ’’اچھی‘‘ مثالیں موجود ہیں، لیکن ظاہر ہے برطانیہ ایک عظیم قوم نہیں ہے، اس لیے وہاں ایسا نہیں ہوا۔ تیسرا ظلم یہ ہوا کہ موصوفہ کینسر کی مریضہ ہیں۔ عدالتی کارروائی کے دوران بھی ان کا علاج جاری تھا، لیکن برطانوی نظام کی بے حسی دیکھیں کہ اس دردناک بیماری کو بھی سفاکی سے نظر انداز کردیا۔ چوتھا ظلم یہ ہے کہ موصوفہ جیل میں ہیں اور برطانیہ میں سب یہ فیصلے کیے بیٹھے ہیں کہ جب اپیل کا حق استعمال ہوچکا ہوگا، اور اگر سزا برقرار رہی تو ایک تو موصوفہ کا وکالت کا لائسنس منسوخ کردیا جائے گا، دوسرا ان کی سابقہ جماعت ان کی پارلیمانی نشست کی منسوخی یقینی بنائے گی تاکہ ووٹر اس حلقے سے کسی اور کو اپنا نمائندہ منتخب کرلیں۔ یہاں سرِ راہے ایک اور ذکر بھی کردیں۔ برطانیہ پرانی جمہوریت ہونے کادعویدار ہے اور پارلیمان کی بے توقیری کا یہ عالم ہے کہ مذکورہ رکن جھوٹ بولنے کے الزام میں پابندِ سلاسل ہے، محض جھوٹ بولنے پر، اور پارلیمینٹ کے اجلاس میں شرکت نہیں کر رہی۔ کیسا مذاق ہے جمہوریت کے ساتھ؟ پارلیمینٹ کا وقار یہ ہوتا ہے؟ ایسے ظلم اور زیادتیاں ایسے معاشروں میں ہوتی ہیں، زوال جن کا مقدر بن چکا ہوتا ہے۔

مگر اب ذرا ٹھہر یئے گا۔ افسو س تو یہی ہے کہ زوا ل کے مقد ر بننے کی با ت بھی صر ف کمز ور ملکو ں ہی پہ صا دق آ تی ہے۔ مد ر آ ف ڈ یمو کر یسی ا نگلیڈ میں ز وا ل کی ضر ب ا لمثل بھی صا د ق آ تی دکھا ئی نہیں دیتی۔


ای پیپر