17 فروری 2019 2019-02-17

”خود کو میں پہچانتا ہوں“یہ اہم ہے

”میں سبھی کچھ جانتا ہوں“یہ وہم ہے

اہم اور وہم کو جس طرح شاعر زبیر صدیقی نے اپنے اشعار میں استعمال کیا ہے اس کا کوئی جواب نہیں۔ یہ کلام شاعر نے کب لکھا ہو گا نہیں معلوم لیکن پاکستان کے ماضی اور حال کے ایوانوں، عدلیہ، اداروں اور از خود چوتھے ستون سے دن رات یہی راگنی الاپی جاتی رہی ہے۔ میرے بعد پاکستان کا اوراداروں کا کیا ہو گا۔ سابق صدر پرویز مشرف کو جب اقتدار چھوڑنے پر مجبورکیا گیا تو جاتے ہوئے انہوں نے نہ جانے کس زعم میں کہا تھا کہ "پاکستان کاتو خدا ہی حافظ ہے"۔ شکر ہے خدا کا پاکستان اب بھی قائم و دائم ہے اورکسی کے جانے یا آنے سے اس پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ وطن عزیز رہتی دنیاتک کرہ عرض پر نیچے اوپر چمکتا دمکتا رہے گا۔ خود کو پہچاننے اور خود ہی کو سبھی کچھ کہنے سمجھنے میں زمین اور آسمان جیسا فرق ہے۔انسان طاقت کے نشہ میں سب کچھ بھول جاتا ہے۔ اختیار ملنے پرخود کو نجات دہندہ کہلانے لگتا ہے۔ تکبر اور غرور اسے اپنوں سے بھی دور کر دیتا ہے۔

کچھ لوگ وقتی فائدہ لینے کے لیے بظاہر تو ساتھ کھڑے ہوتے ہیں لیکن دل ایسے لوگوں کے ساتھ نہیں دھڑکتا۔ تحریک انصاف حکومت میں آنے سے پہلے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ حکومت کی کمزوریوں پر بیان بازیاں، پریس کانفرنسیں، احتجاج اور دھرنے دیتی رہی۔ کرپشن کے مقبول عام نعرہ کی احتجاجی سیاست نے عمران خان کی سیاسی جماعت کو عوام باالخصوص نوجوانوںمیں مقبول کردیا۔ مہنگائی ہو یا لوڈشیڈنگ انہیں بس کوئی نہ کوئی مسئلہ چاہیے ہوتا تھا۔ بالآخر عوام نے انہیں 2018 کے انتخابات میں اقتدار کے ایوانوں تک پہنچادیا۔ حکومت بھی بن گئی اور مضبوط ترین اپوزیشن منتشررہی۔ پارلیمنٹ کے اندر باہر تحریک انصاف کو مزاحمت کا سامنا بھی نہیں رہا جیسا کہ ماضی میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کو رہا۔ اس کے باوجودمسائل کم ہونے کے بجائے بڑھتے ہی چلے گئے۔ اب اپنی مہنگائی اور سہولتوںکی عدم فراہمی بھی تحریک انصاف عوام کے مفاد میں ہی ٹھہررہی ہے۔ اس پر بھی کہا جاتا ہے کہ ہم سب جانتے ہیں لیکن دراصل یہ ان کا وہم ہے۔

سیاستدانوں کی طرح سبھی کو یہ وہم ہوتا ہے کہ ان کے بغیر ادارے نہیں چل سکتے۔ وہ اداروں کی ترقی اور ملکی سلامتی کے لیے ناگزیر ہیں۔ انہیں ہمیشہ جوانی جیسی صحت کے ساتھ زندہ رہنا ہے اور وہی ادارے چلاتے رہیں گے۔ کام کے بارے میں سطحی معلومات پلے ہوتی ہیں لیکن ظاہر کیا جاتا ہے کہ اوپر سے لے کر نیچے تک انہیں سب کچھ پتا ہے۔ پاکستان میں ان جیسا کوئی کام نہیںکر سکتا۔ ان کی عدم موجودگی میں ادارے تباہ ہو جائیں گے۔ حقیقت میں ان کی موجودگی ہی میں ادارے تباہ ہو جاتے ہیں۔ پاکستان اسٹیل، پی آئی اے، کے ای ایس سی اور ایسے ہی اداروں کی لمبی فہرست وہم کے شکار لوگوں کی وجہ سے تباہ و برباد ہو چکے ہیں۔ جیسا کہ آئی جی پنجاب، آئی جی خیبرپختونخواہ ،چیف سیکرٹری خیبرپختونخواہ اور اقتصادی مشاورتی کونسل کا حشر اس کی مزیدمثالیں ہیں۔ موقع کی مناسبت یہاں الیکٹرانک میڈیا انڈسٹری کے بڑے نام اظہر عباس صاحب کے ٹوئیٹ کا ذکر بھی ضروری ہے۔ "اداروں کی بری انتظامیہ کی وجہ سے اچھے ملازمین ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔

یہ باتیں تھیں وہم کے شکار افراد کی جو شور شرابے اور ڈرم بیٹنگ کے ذریعے سب کو مرعوب اور زیر کرنے میں سارا وقت صرف کر دیتے ہیں۔ جیسا کہ خالی ڈبے میں پتھر ڈال کر اسے ہلایا جائے تو اس کی آواز گونجتی رہے گی۔ خالی ڈبے کے شور میں کام کرنے والوں کی آواز دب جاتی ہے اور پھر وہ اس پر کہتے رہتے ہیں دیکھا کیسا سیدھا کر دیا ہے میں نے۔ اس کے برخلاف بھرے ہوئے ڈبے کی آواز نہیں آئے گی کیونکہ وہ خالی نہیں ہے۔ آپ سمجھ تو گئے ہوں گے اگر نہیں سمجھ آئی تو تصوریر کا دوسرا رخ بھی دیکھ لیں۔ مثلا ڈاکٹر ادیب رضوی، مرحوم ایدھی صاحب اورکئی نامعلوم خاموش رضاکار جنہوں نے انتہائی خاموشی کے ساتھ ملک و قوم کی دن رات محنت کی۔ شور شرابے سے اجتناب کیا۔خاموشی کی بنیادی وجہ احساس ذمہ داری اور کسی پر احسان کا ٹوکرا مسلط کرنا مقصود نہ تھا۔ ایسے لوگوں کا مطمح نظر صرف اور صرف انسانیت کی خدمت کرنا اور ادارے بنانا ہوتا ہے پوائنٹ اسکورنگ سے انہیں کوئی غرض نہیں ہوتی۔ خاموشی سے بڑا بڑا کام کر جاتے ہیں اور لوگوں کو پتہ بھی نہیں چلتاکہ اس کام کے پیچھے کون ہے۔ حقیقی لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں۔ اپنے شعبوں پرعبور رکھنے والے لوگوں کو اپنی اور دوسروں کی عزت و زلت کا بھی احساس سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ اسے لیے کہا جاتا ہے کہ پھل دار اور سایہ داردرخت ہمیشہ جھکا رہتا ہے۔ بے مصرف اور غیرلچکدار درخت جلد جھڑ جاتاہے۔

”ہے ضروت مجھ کو سب کی“یہ اہم ہے

”ہوں ضرورت میں تو سب کی“ یہ وہم ہے


ای پیپر