17 فروری 2019 2019-02-17

سب کچھ اگر ویسا ہی ہوجاتا جیسا پلان کیا گیا تھا تو پھر ایک نیاسبق اور ایک نیا مزا کہاں سے ملتا، مجھے سپیرئیر یونیورسٹی کے سپورٹس اینڈ کلچرل فیسٹیول میں جانا تھا اوراس کے لئے دن بھی چودہ فروری کا رکھاگیا تھا یعنی ویلنٹائن ڈے، یونیورسٹی کے کچھ بڑوں کے نام پر تیرہ ہاو¿س یعنی ٹیمیں بنا دی گئی تھیں جن کا آپس میں مقابلہ تھا، یہ ہاو¿سز کشمیر سمیت پاکستان کے تمام ثقافتی ورثوں کی بھی نمائندگی کر رہے تھے، میلے کے موقعے پر انٹرپرینﺅر شپ کو عملی طور پر سکھاتے ہوئے سٹالز بھی لگائے گئے تھے اور کہا جا رہا تھا کہ روایتی تعلیم تو تمام تعلیمی ادارے ہی دیتے ہیں مگر یہاں سیلف مینجمنٹ اورسیلف ڈسکوری یعنی اپنی کھوج بھی سکھائی جاتی ہے۔میں اکثر جب تعلیمی اداروں میں نوجوانوں کونصابی کتب رٹ لینے کے بعد ننانوے فیصد تک نمبر لیتے ہوئے دیکھتا ہوں توسوچتا ہوں کہ وہ اس کے بعد ایک اچھے بیوروکریٹ، جج، جرنیل، صحافی، ڈاکٹر اور تاجر سمیت کچھ بھی بن سکتے ہیں مگر کیا وہ ایک اچھے انسان بھی بنیں گے، وہ زندگی سے لڑنا اور مزاحمت کرنا بھی جانیں گے تو مجھے اس کا واضح جواب نہیں ملتا۔ آپ اس وقت تک ایک اچھے بیوروکریٹ، ایک اچھے جج، ایک اچھے جرنیل، ایک اچھے صحافی، ایک اچھے ڈاکٹر اور ایک اچھے تاجر نہیں ہوسکتے جب تک آپ ایک اچھے، سچے اور جرا¿ت مند انسان نہیں بنتے، جب تک آپ کی کردار سازی نہیں ہوتی ورنہ یہاں ایم بی بی ایس کرنے والے ہڑتال کر کے آپریشن تھیٹر تک بند کر دیتے ہیں اور یوں بھی ہوتا ہے کہ پولیس والے عوام کے محافظ ہونے کے بجائے ان کے قاتل بن جاتے ہیں۔

مجھے میرٹ اور سنیارٹی کے ساتھ ساتھ ایک لفظ اور بھی ملتا ہے اور وہ suitability ہے،یہ کیا شے ہے اور کہاں سے آتی ہے کہ ہمیں زندگی میں ترقی کے دو ہی راستے بتائے اور دکھائے جاتے ہیں، پہلا میرٹ ہے کہ آپ کے نمبر اتنے ہونے چاہئیں کہ دوسرے پیچھے رہ جائیں اور دوسرا سنیارٹی ہے جس کا احترام کیا جانا چاہئے۔ ہمارے ارد گردکرپشن کا اتنا شور مچ گیا ہے کہ جب میں اس لفظ کو بیان کرنے لگتا ہوں تو بہت ساری سرگوشیاں سنائی دینے لگتی ہیں، یہ میرٹ اور سنیارٹی کو نظر انداز کر کے کسی کو نوازنے لگا ہے، یہ چور دروازہ کھولا جا رہا ہے حالا نکہ تمام امپورٹنٹ، پریکٹیکل اور ایڈمنسٹریٹو پوسٹس پر میرٹ اور سنیارٹی کے برابرہی موزوں ہونابھی اہم ہے بلکہ میری نظر میں موزونیت، میرٹ اور سنیارٹی سے کہیں زیادہ اہم ہے کہ یہ ان دونوں کو اپنے اندر سموتی ہے۔ ضرورت بھی یہی ہے کہ ہم اپنی نوجوان نسل میں یہی موزونیت پیدا کریں جو انسانوں اور حالات سے ڈیل کرنے کی صلاحیت کے بغیر ممکن نہیں۔سپرئیر گروپ کے چیئرمین چودھری عبدالرحمان کی ڈاکٹریٹ ہیومن ریسورس میں ہے اور وہ کہتے ہیں کہ زندگی کی کامیابی میں روایتی تعلیم صرف بیس فیصد اور آئی کیو چالیس فیصد تک اپنا کردارادا کرتے ہیں مگر ای کیو کا کردار اسی فیصد ہے۔ میں نے جانا کہ واقعی زندگی ہمار ی سوچ اور عمل سے کم اور ہمارے ری ایکشن سے زیادہ بنتی ہے کہ ہم کسی بھی چیلنج کا ردعمل کیا اور کیسے دیتے ہیں، ٹیم ورک کے ساتھ فائٹنگ سپرٹ اورای آئی کیو یعنی ایموشنل انٹیلی جنس کوشنٹ کا کرداربہت اہم ہے۔ درست ہے کہ ہمارے بہت سارے تعلیمی ادارے کتابیں پڑھا کے اپنے طالب علموں کو رٹو طوطے بنا رہے ہیں مگر نوے فیصد سے زائد نمبر ز اور اے سٹار لینے والوں نے زندگی کی مشکلات کا سامنا کیسے کرنا ہے اس کے بارے میں کچھ نہیں بتایا جاتااور یوں بہت سارے ٹاپرز عملی زندگی میں ناکام ہوجاتے ہیں، ایسے روایتی تعلیمی ادارے اچھے نمبروں کے ساتھ ڈگریاں مہیا کر دیتے ہیں مگر سپورٹس مین اور فائٹنگ سپرٹ نہیں دے پاتے۔ میں ڈگری کا انکار نہیں کرتا کہ کسی بھی جگہ پر سب سے پہلے آپ کی سی وی اور اس میں درج نمبر ہی جاتے ہیں مگر یہ تو اسی صورت میں ہوگا جب آپ ملازمت کے لئے اپلائی کریں گے اور اگر آپ کو تعلیمی ادارے میں انٹر پرینیور شپ سکھائی جا رہے ہوتو کیا یہ بڑی بات نہیں ہے کہ آپ کو ملازمت لینے کے بجائے ملازمتیں دینے والوں کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔

میں نے کہا، سپیرئیر کے سپورٹس اینڈکلچرل فیسیٹول میں سب کچھ ویسا ہی ہوجاتا جیسا پلان کیا گیا تھا تو پھر ایک نیا سبق اور ایک نیا مزا کہاں سے ملتا۔ ہوا یوں کہ سٹال بھی لگے اور مارچ پاسٹ بھی ہوئے مگر چودہ فروری کو وقفے وقفے کے ساتھ موسلادھار ہوتی رہی۔ وہ گراو¿نڈ جہاں یہ فیسٹیول منعقد ہونا تھا وہ صبح سویرے ہی پانی اور کیچڑ سے بھر گیا اور یوں ایونٹ کے لئے ایک روز پہلے سے شروع محنت ضائع ہوتی ہوئی نظر آنے لگی لیکن اگر فائٹنگ سپرٹ نہ ہوتی تو بہت ہی آرام کے ساتھ ایک پیغام جاری کر دیا جاتا کہ غیر متوقع طور پر ہونے والی شدید بارش کی وجہ سے یہ ایونٹ منسوخ کیا جاتا ہے کیونکہ ایسے موسمی حالات میں سپورٹس اور کلچرل ایکٹی ویٹیز کا ہونا ممکن نہیں رہا مگر ہوا یوں کہ سب کچھ پروگرا م کے مطابق ہوا۔ میں نے اس سے ایک روز قبل ٹاون شپ کے کرکٹ گراونڈ میں ہونے والے مقابلے بھی دیکھے تھے اور نوجوان کہہ رہے تھے کہ وہ ویلنٹائن ڈے پر غلط قسم کی سرگرمیوں سے پارک نہیں بلکہ کھیلوں کی مثبت سرگرمیوں سے گراو¿نڈز کو آباد کررہے ہیں، ویلنٹائن ڈے پر پارکوں کے بجائے میدان آباد کرنے میں فرق کی اہمیت کو محسوس کرنے کی ضرورت ہے۔ میں نے دیکھا کہ شدید بارش کے باوجود سٹالز اپنی جگہ پر لگے ہوئے ہیں، طالب علم مکمل طور پر بھیگ جانے کے باوجود اپنی اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں بلکہ سٹیج کے قریب تو یوں لگ رہا تھا کہ تیزی سے برستی ہوئی بارش کسی پٹرول کا کام کر رہی اور شرکا میں جوش اور جذبے کی آگ بھڑکا رہی ہے۔ اسی بارش میں پنجاب، کشمیر، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور سندھ سمیت ملک بھرکی ثقافت کو پیش کیا جاتا رہا۔یہاں ہی میں نے یہ بھی دیکھا کہ اگر آپ کا لیڈر ڈٹ کر کھڑا ہے تو پوری ٹیم اور پوری قوم ڈٹ کر کھڑی ہو گی۔مجھے کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اگر چوہدری عبدالرحمان اس موقع پر بارش کی وجہ سے سٹیڈیم میں نہ آتے تو طالب علم، کھلاڑی اور نوجوان بھی اس جوش اور جذبے کا مظاہرہ نہ کرتے اور سب کچھ بہت آسانی کے ساتھ لپیٹ دیا جاتا۔ انہوں نے دیکھاکہ ان کے استاد اور سربراہ بار بار برستی بارش میں سرگرمیوں کے باقاعدہ اختتام تک جم کر اور ڈٹ کر کھڑے ہیں، ان کے ساتھ بارش میں بھیگ رہے ہیں، خود پاکستان زندہ باد کے نعرے لگوا رہے ہیں تو ماحول ہی بدل گیا۔ میرے خیال میں یہ ملکی قیادت کے لئے ایک بہت ہی اہم اور عملی پیغام ہے کہ اگر وہ چاہتے ہیں کہ پاکستانی بھی مشکل ترین حالات میں ڈٹ کر کھڑے ہوں، قربانیاں دیں اور اپنی منزل حاصل کر لیں تو انہیں اپنے عوام کے ساتھ ان کی مشکلات اور ان کے ماحول میں ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔میں نے سیکھا اور جانا کہ کامیابی خوش اور ناکامی افسردہ کردینے والی نہیں، اس سے کہیں اہم جدوجہد اور مزاحمت کا جذبہ ہے اور اگر ہمیں اس میں مزا آنے لگے تو اس کا لطف اور مزا کامیابی کے نشے سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ میں نے اسی لطف اور مزے کو بہت قریب سے دیکھا۔


ای پیپر