Military coup in Tehran, Shah of Iran on leave
17 دسمبر 2020 (22:53) 2020-12-17

اس پورے عرصے کے دوران ہم دعا کرتے رہے کہ کاش ہمارے مخالفین نیک نیتی سے کام لیں۔ آخر وہ کیا چاہتے ہیں؟ بہرصورت ہم نے عزم کررکھا تھا کہ طاقت کا سہارا نہیں لیں گے۔ خواہ کچھ بھی ہو جائے۔ ہمیں اُمید تھی کہ جس بحران سے ہم گزر رہیں وہ بھائی چارے اور مصالحت کی فضائیں آئینی طور پر حل ہو جائے گا اور کوئی بہتری کی سبیل پیدا ہو جائے گی۔ ہمارا خیال تھا کہ ایک ایسی سول حکومت جس میں حزب اختلاف بھی شامل ہو۔ مظاہروں پر قابو پالے گی اور ملک پھر امن وامان اور کام کاج کی راہ پر چل پڑے گا۔ چنانچہ سب سے پہلے ہم نے ڈاکٹر صادقی سے رجوع کیا۔ وہ نیشنل فرنٹ کے رکن تھے اور بڑے مخلص اور محبت وطن ،وہ بغیر کسی شرط، مخلوط حکومت بنانے پر رضامند ہو گئے، لیکن غوروفکر کے لیے ایک ہفتے کی مہلت چاہی، لیکن ان پر ان کی پارٹی کا دبائو پڑا تو وہ مخلوط حکومت بنانے سے تو مخرف ہو گئے، البتہ ہم سے مطالبہ کیا کہ ہم ایران ہی میں رہیں اور ایک ریجنسی کونسل بنا دیں۔ یہ ہمارے لیے قابل قبول نہ تھا کیونکہ اس کو قبول کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم حکمران بادشاہ کے فرائض انجام دینے کے نااہل ہیں۔  ڈاکٹر موصوف واحد سیاستدان تھے جنہوں نے ازراہ خلوص ہم سے کہا تھا کہ کسی قیمت پر بھی ایران نہ چھوڑیں۔

مسٹرسنجابی اور مسٹر بازرگان نے تہران واپس آکر حکومت کے خلاف ایسی شدید اور زبردست مہم چلائی تھی اور ایسے غیرآئینی بیانات دیئے تھے کہ انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ مسٹر سبخانی نے قیدخانے سے ہم ملاقات کا پیغام بھیجا۔ پیغام رسانی کے لیے انہوں نے خود ساواک کے سربراہ کو استعمال کیا یعنی اس جنرل مقدم کو جوآموزگار کے زمانہ حکومت میں ایک مذہبی رہنما کا پیغام ہمارے نام لائے تھے اور جن کو انقلاب کے فوراً  بعد شاید انہی خدمات کے عوض گولی سے اڑایا گیا تھا۔ ہم پہلے ہی ہر قیمت پر مصالحت کے لیے تیار تھے۔ اس لیے ہم نے مسٹر سبخانی کی رہائی کا حکم دیا اور انہیں باقاعدہ ملاقات کے لیے مدعو کیا۔ بوقت ملاقات انہوں نے ہمارے ہاتھ چومے، ہماری ذات سے وفاداری کا پُرجوش اظہار کیا اور کہا کہ وہ حکومت بنانے کے لیے تیار ہیں، مگر ایک شرط پر کہ ہم تعطیلات کے بہانے ایران سے چلے جائیں۔  انہوں نے نہ  تو یہ کہا کہ ہماری روانگی سے پہلے کسی نوعیت کی ریجنسی کونسل بنائی جائے جس کی تشکیل آئینی لحاظ سے ضروری تھی۔ نہ یہ کہا کہ پارلیمنٹ سے اس اقدام کی منظوری لے لینی چاہیے۔ ہم نے یہ غیرآئینی رستہ اختیار کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ سلسلہ مذاکرات جاری رہنا چاہیے۔ تاوقتیکہ کوئی نتیجہ خیز حل برآمد نہ ہوجائے لیکن صورتحال بد سے بدتر ہوتی چلی گئی۔

کیا ان سیاستدانوں کو یہ معلوم نہیں تھا کہ ملک تباہی کے کنارے پر پہنچ گیا ہے؟ کیا انہیں امر کا ذرا بھی احساس نہ تھا کہ اب مسئلہ مراعات، اجارہ داری یا کسی سیاسی پارٹی کی برتری کا نہیں رہ گیا تھا بلکہ اب ملک کی بقا کا مسئلہ بن گیا تھا۔ بازاروں اور گلیوں میں یونیورسٹیوں میں جو مظاہرے ہورہے تھے وہ یقینا بہت زیادہ تشویشناک اور پریشان کن تھے لیکن ان سے بھی زیادہ تشویش اور پریشانی اس بات کی تھی کہ اقتصادی بے چینی اور بدامنی ملک کے چپے چپے میں پھیلی ہوئی تھی، ملک دیوالیہ ہورہا تھا۔ ہڑتال پہ ہڑتال ہورہی تھی۔ کوئی دن نہ جاتا جب ہڑتال نہ ہوتی۔ تیل کی پیداوار جو  اٹھاون لاکھ بیرل تک پہنچ گئی تھی۔ وہ گھٹ کر 25دسمبر کو فقط سترہ لاکھ بیرل رہ گئی تھی جس کا مطلب یہ تھا کہ اقتصادی لحاظ سے ملک تباہ حال ہورہا تھا۔ سوویت روس کو گیس کی فراہمی کا سلسلہ منقطع ہوگیا تھا ایسی بُری صورتحال کو مزید ایک دن کے لیے بھی برقرار نہیں رکھا جاسکتا تھا۔ یہ وقت تھا کہ نیشنل فرنٹ کے ایک سرکردہ لیڈر ڈاکٹر شاہ پور بختار نے۔ ساواک کے سربراہ ہی کی وساطت سے ہم سے رابطہ قائم کیا اور ملاقات چاہی۔ ان سے ہمارا پہلے بھی اگست سے مسٹر آموزگار کے ذریعے رابط رہ چکا تھا۔ آموزگار اس وقت وزیراعظم تو نہ رہے تھے لیکن بڑی حکمت اور دانائی سے ہمیں اپنے قیمتی مشوروں سے نوازتے تھے۔ ہم اس وقت ہی سے مخلوط حکومت بنانے کی خواہش رکھتے تھے لیکن حزب اختلاف کے بعض رہنمائوں کی شدت پسندی کے باعث یہ خواہش شرمندہ تکمیل نہ ہورہی تھی۔ نیشنل فرنٹ کے مسٹر سنجابی تو اشتعال انگیز تقریروں پر اُتر آئے تھے لیکن ڈاکٹر بختیار کا طرزعمل بڑا محتاط اور مدبرانہ تھا۔

چنانچہ ایک شب وہ جنرل مقدم کی ہمراہی میں ہم سے ملاقات کے لیے محل پر تشریف لے آئے۔ بڑی دیر تک مسائل حاضرہ پر گفتگو ہوتی رہی۔ ڈاکٹر بختیار نے ایک طرف تو ہمیں اپنی غیرمعمولی وفاداری کا یقین دلایا اور دوسری طرف یہ بھی دلائل سے ثابت کیا کہ وہ واحد شخص ہیں جو موجودہ بحران میں حکومت بنا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر بختیار نے تجویز کیا کہ ’’تعطیلات‘‘ پر ایران سے چلے جایئے، پہلے آئین کا تقاضا پورا کرنے کے لیے ریجنسی کونسل بنائی جائے اور پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے اس اقدام کی منظوری لی جائے۔ ہمارے لیے یہ بات قابل قبول تھی چنانچہ ڈاکٹر بختیار نے بغیر کسی مشکل یا رکاوٹ کے ایک سول کابینہ بنائی جس کی منظوری ایوان زیریں نے 43 کے مقابلے میں 149 ووٹوں سے دی۔ ایوان بالا یعنی سینٹ میں کابینہ کی منظوری اور بھی زیادہ اکثریت اور سہولت سے حاصل ہو گئی لیکن بدقسمتی سے انہوں نے جو پروگرام بنایا تھا وہ اسے عملی جامہ نہ پہنا سکے۔ اپنا پروگرام انہوں نے قوم کو اعتماد میں لینے کے لیے ٹیلی ویژن پر آکر بتایا۔ دُنیا بھر سے تہران میں جو خصوصی سفارتی نمائندہ جمع ہوئے تھے ان کو تفصیل سے بتایا مگر ہوا یہ کہ نیشنل فرنٹ میں ان کے ساتھی ان کے نادید دشمن بن گئے اور انہوں نے ڈاکٹر صاحب کا پتہ صاف کرنے کا ارادہ کرلیا۔ یہ عجیب بات ہے کہ اس وقت ملک کے رہنمائوں کو نہ تو امن وبحال کرنے سے کوئی غرض تھی، نہ اقتصادیات کا پہیہ چلانے سے کوئی دلچسپی تھی۔ انہیں صرف شاہ کا سر چاہیے تھا اور کچھ نہیں۔ ہمارے اکثر دوستوں نے مشورہ دیا کہ چند ہفتوں کے لیے ہم ایران سے چلے جائیں تاکہ یہ وقتی جوش ٹھنڈا پڑ جائے لیکن اس کے برعکس فوجی جنرل اس حل کے سخت خلاف تھے۔ وہ کہتے تھے کہ اگر آپ چلے گئے تو ہر چیز ختم ہو جائے گی۔ ایران کے واقعات وحالات دُنیا بھر کے اخباروں کی شہ سرخیاں بنے ہوئے تھے۔ کئی ہفتے مسلسل ہم سوچتے رہیں، نتیجہ یہی نکلا کہ دن بیت چکے ہیں اور نوشتہ تقدیر سامنے ہے۔

ایک عرصے تک یعنی کوئی دو سال تک ہمیں بعض امریکی دوستوں کا رویہ بہت پریشان کرتا رہا ہمیں خوب معلوم تھا کہ وہ ہمارے فوجی پروگرام کے سخت خلاف ہیں۔ وہ تو اعلی الاعلان کہا کرتے تھے کہ جو امریکی ماہرین ایران میں ہمارے فوجیوں کو نئے اسلحے کی تربیت دے رہے ہیں۔ ایک روز سوویت روس ان کو اپنا یرغمالی بنالے گا۔ ان کا مطلب اور نقطہ نظر یہ تھاکہ ایران اور امریکہ کے مابین جو دوطرفہ فوجی معاہدہ ہے اسے منسوخ کردینا چاہیے۔ اس معاہدے کی ایک شق یہ تھی کہ اگر ایران پر کسی اشتراکی ملک نے حملہ یا قبضہ کیا تو امریکہ ہماری مدد کو پہنچے گا۔ امریکی مخالفین کی نکتہ چینی سن سن کر ہم عاجز آگئے اور بالآخر ہم نے امریکی حکومت سے کہا کہ وہ موجودہ معاہدوں کے بارے میں اپنے رویے کی صراحت کرے۔ امریکی حکومت نے جواب دیا۔ امریکہ اپنے معاہدوں کی ہمیشہ پاسداری کرتا ہے۔ چند ماہ کے بعد اتفاق سے ہماری ملاقات ہمارے دوست نیلس راک فیلر سے ہوئی۔ ہم نے ویسے ہی بے تکلفانہ انداز ان سے پوچھ لیا۔ کیا امریکہ اور روس نے دُنیا کو آپس میں بانٹ لیا ہے؟

ہرگز نہیں، انہوں نے جواب دیا۔ ساتھ ہی یہ جملہ بھی کہا۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے ستمبر 1978ء میں جب ایران میں صورتحال بد سے بدتر ہوئی چلی جارہی تھی، امریکہ اور برطانیہ کے سفیر مل کر ہمارے پاس تشریف لائے اور اپنی تائید وحمایت کا یقین دلایا۔ گرمیاں شروع ہونے سے پہلے روسی سفیر سے بھی ہماری متعدد ملاقاتیں ہوئیں۔ انہوں نے بھی ہر بار روس کی دوستی اور تعاون کا یقین دلایا۔ پھر وہ چھٹی پر چلے گئے اور چھٹی گزار کر واپس تہران آئے تو پھر کبھی ان سے ہماری ملاقات نہیں ہوئی۔ بہرصورت روس ایران میں پیدا ہونے والی نئی صورتحال سے گہری دلچسپی لے رہا تھا۔ ہمیں ثبوت کی ضرورت تھی وہ ایک مضمون سے مل گیا جو نومبر کے آخر میں اخبار ’’پراودا‘‘ میں شائع ہوا تھا۔ یہ مضمون ہمیں خبردار کر دینے کے لیے کافی تھا۔ مضمون میں لکھا تھا روس جو ایران سے اچھے پڑوسیوں کے سے تعلقات رکھتا ہے، پرزور الفاظ میں اعلان کرتا ہے کہ وہ ایران کے اندرونی معاملات میں کسی کی بھی مداخلت کے سخت خلاف ہے خواہ وہ کسی بھی شکل میں ہو اور کسی بھی دلیل کی اساس پر ہو۔ ایران میں امن وامان کے اندرونی مسائل پیدا ہو چکے ہیں اور ان کو خود ایرانیوں ہی کو حل کرنے چاہئیں۔ تمام ممالک کو اقوام متحدہ کے منشور اور اصولوں اور دوسری بنیادی بین الاقوامی دستاویزات کی پاسداری کرنی چاہیے۔ تمام ممالک کو ایران اور اس کی آزادی خودمختاری اور اقتداراعلیٰ کی تکریم کرنی چاہیے۔ واضح رہے کہ ایران کے معاملات میں کسی قسم کی فوجی یا دوسری مداخلت جس کی سرحدیں سوویت روس سے ملتی ہیں، روس کے مفادات اور سلامتی پر حملہ تصور کی جائے گی۔ 7دسمبر کو امریکہ نے سرکاری اعلان کے ذریعے وضاحت کی کہ امریکہ کسی بھی حالت میں ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی۔ اس کے باوجود امریکہ اور برطانیہ کے سفیر ہم سے جب بھی ملے انہوں نے ہم سے یہی کہا ہم آپ کی حمایت کرتے ہیں۔

1978-79ء کے موسم خزاں وموسم سرما کے دوران میں دونوں سفیر ہم سے یہی کہتے رہے کہ زیادہ سے زیادہ شہری آزادیاں بحال کی جائیں۔ ہم خود اس کے حق میں تھے لیکن اس بحرانی کیفیت میں جب کہ ہمارے پاس تربیت یافتہ لوگ بھی نہ تھے ایک دم سے شہری آزادیاں کی بے محایا بحالی سے خطرناک نتائج برآمد ہونے کا احتمال تھا۔ اس کے علاوہ امریکہ کے بہت سے سیاستدان اور خصوصی  نمائندے جو وقتاً فوقتاً ہم سے ملتے تھے۔ وہ ہمیں سختی اور ثابت قدمی سے ڈٹے رہنے کا بھی مشورہ دیتے تھے۔  جب ہم نے امریکہ کے سفیر سے ایک مرتبہ پوچھا کہ اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے تو انہوں نے جواب دیا اس سلسلے میں مجھے اپنی حکومت سے کوئی ہدایت نہیں ملی۔ اس سے چند ہفتے قبل سی آئی اے کا ایک نیا نمائندہ ہم سے ملاقات کے لیے تہران آیا تھا۔ اس کی گفتگو کے لب ولہجے سے معلوم ہوتا تھا کہ اس معاملے کی نزاکت واہمیت کا احساس تک نہیں اسے، دوران گفتگو جب شہری آزادیوں کا ذکر چھیڑا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس مسئلے سے یا مشرق وسطیٰ کی سلامتی سے کوئی دلچسپی نہ تھی اور نہ اسے ہدایت تھی کہ وہ اس مسئلے پر ہم سے مذاکرات کرے۔ جب تخریب کاروں نے برطانوی سفارت خانے کو آگ لگائی تو ہمارا ایک جنرل معذرت خواہی کے لیے برطانیہ کے فوجی اتاشی سے ملا۔ وہ ناراضی سے چیخا اس مسئلے کا واحد حل سیاسی ہے۔ دسمبر کے آخر میں سینیٹر محمد علی مسعودی نے ہمیں بتایا کہ امریکی سفارت خانے کے فرسٹ سیکرٹری مسٹرجارج لیمبارکس نے انہیں رازداری میں بتایا تھا کہ ایران میں عنقریب ایک نیا عہد شروع ہونے والا ہے۔ بہرحال برسوں سے جو لوگ ہمارے دوست بنے ہوئے تھے ان کے ترکش میں ابھی ہمارے لیے اور کئی تیر تھے۔ جنوری 1979ء کے آغاز میں ہم یہ سن کر حیران رہ گئے کہ جنرل ہوسار کئی دن سے تہران میں خفیہ طور پر موجود ہیں۔ گزشت کئی ہفتوں میں ہونے والے واقعات سے ہم نے یہ سبق سیکھا تھا کہ ہر چیز ممکن ہے اور کسی بات پر حیران ہونے کی ضرورت نہیں مگر پھر بھی ہمیں حیرت ہوئی۔ جنرل ہوسار معمولی آدمی نہ تھے۔ وہ نیٹو کے ڈپٹی ڈائریکٹر کی حیثیت میں کئی بار تہران آچکے تھے اور جب بھی آتے تھے وقت مقرر کر کے ہم سے ملاقات کرتے تھے۔ یہ ملاقاتیں محض رسمی نہ ہوتی تھیں بلکہ اہم ہوتی تھیں کیونکہ ہم ایران کی مسلح افواج کے سربراہ تھے اور ایران سنٹو کا باضابطہ مستقل رکن تھا۔ جنرل ہوسار کی سرگرمیوں کا منصوبہ ہمیشہ بہت پہلے سے مرتب کیا جاتا تھا لیکن اب کے ان کی آمد خفیہ رکھی گئی تھی اور ویسے بھی پُراسرار تھی۔ امریکی جنرل اپنے جہازوں میں آتے جاتے ہیں اور جب وہ اپنے فوجی اڈوں پر آتے ہیں تو کسی قسم کے آداب وضوابط اور رکھ رکھائو کی ضرورت پیش نہیں آتی۔

ہم نے اپنے نمائندوں سے پوچھا کہ یہ کیا قصہ ہے۔ سوسار کی آمد خفیہ اور پراسرار کیوں ہے؟ وہ بھی ہماری طرح کچھ نہیں جانتے تھے۔ آخر یہ شخص ایسے حالات میں یہاں کس مقصد سے آیا ہے؟ یقینا کوئی خاص وجہ ہے۔ عام طور پر اگر کوئی شخص کسی خاص اور سنجیدہ ڈیوٹی پر مامور ہو تو وہ بلاوجہ اپنی حرکات وسکنات کو خفیہ نہیں رکھتا۔ جونہی ایران میں اس کی موجودگی کی خبریں شائع ہوئیں، روس نے اپنے ردعمل کا اظہار کردیا۔ جنرل ہوسار تہران میں فوجی بغاوت کرانے کے لیے بیٹھا ہوا ہے گویا یہ روس کی جانب سے ایک غیرسرکاری وارننگ تھی۔ پیرس سے ’’نیویارک ہیرلڈ ٹریبون‘‘ کے نمائندے نے معاملے کو پلتے ہوئے لکھا۔ جنرل ہوسار ایران میں فوجی بغاوت روکنے کے لیے گئے ہوئے ہیں تو گویا امریکہ کے رہنما ایران میں فوجی بغاوت روکنے کی فکر میں تھے، انہیں اس کا خیال آیا ہی کیوں؟۔ ہمارے تمام فوجی جنرل عہدہ دار باضابطہ حلف وفاداری اُٹھاکر تاج اور آئین کے تابعدار تھے۔ جب تک آئین اور اس سے وفا کا جذبہ قائم ہے بغاوت جیسی چیز بے معنی ہے، لیکن غالباً امریکہ کے دوسرے اطلاعاتی ذرائع یہ شواہد رکھتے تھے کہ آئین کو خطرہ لاحق ہے اور وہ ٹوٹنے والا ہے۔ پس ایران کی فوج کو غیرجانبدار ہو جانا چاہیے اور یہی بات فوجیوں کو سمجھانے کے لیے جنرل ہوسار ایران گئے ہوئے ہیں۔ جنرل سے ہماری ملاقات صرف ایک بار ہوئی اور اس وقت ہوئی جب امریکہ کے سفیر مسٹر سلیوان بھی ہمارے پاس موجود تھے۔ ان دونوں کو کسی بات سے کوئی دلچسپی نہ تھی، سوائے اس دن اور وقت کے جب ہم ایران کو الوداع کہیں گے۔ جنرل ہوسار نے ہمارے چیف آف اسٹاف جنرل باقی سے ایک عجیب بات کہی، وہ یہ کہ مسٹر بازرگان سے ان کی ملاقات کرائی جائے۔ جنرل باقی نے ہمیں بتا دیا، ملاقات ہوئی۔ ہمیں نہیں معلوم کہ کیا فیصلے کیے گئے؟ صرف اتنا معلوم ہے کہ جنرل باقی نے اپنے زیرکمان افسروں پر اپنا اختیار استعمال کیا اور انہیں کوئی حرکت نہ کرنے دی۔ انقلاب کے آنے کے بعد ایک ایک جنرل کو باری باری گولی سے اڑا دیا گیا۔ صرف ایک جنرل باقی بچ گئے۔ کیوں؟ جنرل ہوسار نے جس شخص کا انتخاب کیا تھا یعنی مہدی بازرگان، اس نے جنرل باقی کو بچالیا۔

جنرل ہوسار تہران سے ہمارے روانگی کے کئی روز بعد تک تہران میں ٹھہرا رہا، کیا ہوا، کیا کرتا رہا۔ نہیں معلوم۔ صرف اتنا معلوم ہے کہ ایرانی فضائیہ کے کمانڈر انچیف پر مضحکہ خیز مقدمہ چلایا گیا۔ عدالت نے سماعت کے ایک دن کے اندر اندر انہیں موت کی سزا دے دی تھی۔ کمانڈر انچیف نے عدالت کو بیان دیتے ہوئے کہا تھا ’’جنرل ہوسار نے شاہ کو مرے ہوئے چوہے کی طرح ملک سے نکال باہر پھینکا‘‘۔

٭…٭…٭


ای پیپر