French court,sentenced,Muslims,prison,Charlie Hebdo,magazine
17 دسمبر 2020 (21:44) 2020-12-17

پیرس:فرانس کی عدالت نے توہین آمیز خاکے بنانے والے بدنام زمانہ میگزین ’’چارلی ہیبڈو‘‘ پر حملہ کرنے والے 14 مسلمانوں کو سزائیں سنا دی ہیں جبکہ ان میں سے 3 مسلمان اس وقت فرانس سے فرار ہو کر شام میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق فرانس کے بدنام زمانہ میگزین ’’چارلی ہیبڈو‘‘  جو متواتر توہین آمیز خاکے بنانے میں مصروف ہے اور اس نے اس سال اکتوبر میں بھی توہین آمیز خاکے شائع کئے تھے اس پر حملہ کرنے والے 14 مسلمانوں کو سزائیں سنا دی ہیں۔ اس حملہ کے مرکزی ملزم علی رضا اور ایک مقتول کی بیوہ سمیت تین افراد اس وقت شام میں پناہ لئے ہوئے ہیں جن کو فرانس کی عدالت نے تیس ٗ تیس سال قید کی سزائیں دی ہیں جبکہ فرانس میں موجود 11 مسلمانوں کو اس حملہ میں مختلف سزائیں دی گئی ہیں۔

عدالت نے ان تمام مسلمانوں کو جنوری 2015 کے حملوں کے نتیجہ میں سزائیں دی ہیں۔ ان حملوں میں چارلی ہیبڈو کا دفتر ٗ خاتون پولیس اہلکار اور یہودیوں کی ایک سپر مارکیٹ پر حملہ کرنا شامل ہے۔ ان تمام واقعات میں 17 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ان مسلمانوں کو جرائم پیشہ نیٹ ورک سے رابطہ رکھنے پر سزائیں دی گئی ہیں جبکہ عدالت میں موجود 11 میں سے 6 مسلمانوں پر دہشت گردی کی دفعہ نہیں لگائی گئی اور انہیں دیگر جرائم میں سزا دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ فرانس کی بدنام زمانہ میگزین ’’چارلی ہیبڈو‘‘ نے 2015 میں بھی توہین آمیز خاکے شائع کئے تھے جس کے ردعمل میں مسلمانوں نے میگزین کے دفتر پر حملہ کر کے ایڈیٹر اور کارٹونسٹ سمیت 12 افراد کو ہلاک کر دیا تھا جس کے بعد ایک خاتون پولیس اہلکار اور یہودیوں کی سپر مارکیٹ پر بھی حملہ کیا گیا تھا جس میں 5 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس میگزین نے اس سال اکتوبر میں بھی توہین آمیز خاکے شائع کئے ہیں جس کے بعد سے ابھی تک فرانس میں مسلمان مسلسل احتجاج کرنے میں مصروف ہیں۔


ای پیپر