The series of PDM meetings that started in Gujranwala ended on December 13 in Lahore.
17 دسمبر 2020 (11:19) 2020-12-17

پی ڈی ایم کے جلسوں کی جس سیریز کا آغاز گوجرانوالہ سے ہوا تھا اختتام اس کا 13دسمبر کو لاہور میں ہوا۔ جلسے کے بعد و ہی ہر بار کی طرح حکومت اور اپوزیشن میں روایتی طنزیہ جملے سننے اور دیکھنے کو ملے۔ جن کابنیادی نکتہ ایک مشہور بھارتی فلم کا مکالمہ ’’کتنے آدمی تھے ؟ ‘‘رہا۔ حکومت جلسے کو ناکام ترین کہتی رہی اور پی ڈی ایم کامیاب ترین۔حکومت کی جانب سے وزیر اعظم پاکستان سے لے کر ترجمانوں اور مشیروں کی فوج ِ ظفر موج نے اپنی اپنی ذہنی استطاعت کے مطابق جملے کسے اور امیدقوی ہے کہ ان تبصروں کے کلپ وہاں جمع بھی کرائے ہوں کہ جہاں سے اس قبیل کے افراد کو د اد اور انعام عطا کیے جاتے ہیں۔ حکومت نے اخبارات میں ’’ناکام جلسے‘‘ کی کوریج کو روکنے کے لیے زیادہ سرکولیشن والے تمام قومی اخبارات کے صفحہ اول اور بیک پیج پر وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب، جن کے نام کے ساتھ اب سرکاری اشتہارات میں سردار بھی لکھا جانے لگا ہے، کی تصاویر کے ساتھ نیا لاہور ڈویلپمنٹ کے بڑے بڑے اشتہارات شائع کرائے اور ثابت کیا کہ فکرِ میکائولی کے چیلے آج بھی ہر جگہ موجود ہیں۔ اشتہارت کے حوالے سے یاد آیا کہ مارچ 2018ء میں اس وقت کے چیف جسٹس سپریم کورٹ نے شہباز شریف کو 55 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کرانے کا حکم دیا تھا کہ انہوں نے پنجاب حکومت کی پانچ سالہ کارکردگی کے اشتہارات اپنی تصاویرکے ساتھ شائع کئے تھے۔ اس پر عمران خان نے شہباز شریف کے عمل کو بے شرمی اور ڈھٹائی سے تشبیہ دیتے ہوئے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا تھا۔ لیکن آج وہ اور ان کے وسیم اکرم پلس، شیر شاہ سوری سوئم اورآگے نہ جانے کیا کیا القابات سمیٹنے والے عثمان بزدار نے بھی وہی روش اختیار کررکھی ہے۔

اس سارے عمل کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جو اخبار ات خود کو آزادی صحافت، جمہوریت اور آزادی افکار کے سُر خیل سمجھتے ہیں انہوں نے حکومتی اشتہارات شائع کرنے اور جلسے کی خبر اندرونی صفحات کے بھی کونے میںلگانے میں کسی تامل کا مظاہرہ نہ کیا۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ جلسے سے پہلے جن بیرونی خطرات کے اندیشوں کو حتمی انداز میں پیش کیا جارہا تھا وہ جلسے کے ساتھ ہی ختم بھی ہوگئے اور دشمن بھی دُم دبا کر اپنے بِل میں چھپ گیا۔مسلم لیگ ن کے گزشتہ دورِ حکومت میں عمران خان بھی ایسی ہی اطلاعات اور خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ جب بھی ہم حکومت کے خلاف تحریک چلانے لگتے ہیں تو سرحدوں پر بیرونی خطرات منڈلانے لگتے ہیںاور وہ نواز شریف کو بھارتی وزیراعظم مودی کا یار کہا کرتے تھے ، اسی مودی کا جس کی اگلے بھارتی انتخابات میں کامیابی کے لیے وہ خود بھی دعا گو تھے ۔  

جہاں تک پی ڈی ایم کے جلسوں میں کی جانے والی تقاریر کا تعلق ہے، حکومت پر الزام تراشی اور اسے ہر صورت گھر بھیجنے کے کوئی اور بات سننے کو نہیں ملی۔ سوائے اسمبلیوں سے مستعفی ہونے اور اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کرنے کے کسی ایسے لائحہ عمل کا اعلان نہیں کیا گیا جس سے عوام کوئی امید باندھ سکیں کہ ان پر بھی آسودگی کا سایہ کبھی ممکن ہوسکے گا۔ 

جلسے کی متنازع بات سینئر سیاستدان کی تقریر کا بے محل ترنم اور نغمہ بے موسم وہ حصہ تھا جس میں انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں لاہور کے شہریوں نے کسی حد تک ہندوں اور سکھوں کے ساتھ مل کر انگریز کا ساتھ دیا۔ لیکن یہاں نے انہوں نے دانستہ یا نادانستہ ان پٹھان اور بلوچ سرداروں کا ذکر نہیں کیا جنہوں نے انگریز سرکار سے خطابات، مراعات، جاگیریںاور تمغے لیے تھے۔ اگر کالم کا دامن اجازت دیتاتو پنجاب ،سرحد (موجودہ کے پی کے) اور بلوچستان کے اشرافیہ کے انگریز حمایت کے کردار اور آج بھی اس طبقے کے اقتدار ، اختیار اور وسائل پر قائم اجارہ داری کو تفصیل سے بیان کرتا۔ 

تاریخ میں 1857ء کو ایک غیر معمولی حیثیت حاصل ہے۔اس حوالے سے پنجاب کے کردار پر بہت کچھ لکھا گیا اور مختلف نقطہ ہائے نظر سامنے آچکے ہیں اور مزید بھی آتے رہتے ہیں ۔ ایک سوچ وہ ہے جسے عبداللہ ملک مرحوم نے پاکستان ٹائمز میں ’’ پنجاب نے برطانیہ کا ساتھ کیوں دیا؟ کے عنوان سے مضامین لکھ کر پیش کیا۔جس کا بنیادی استدلال پنجابیوں کی فوج میں بھرتیوں کو بنایا جو 1857 ء سے دوسری جنگ عظیم تک ہوئیں۔ لیکن اس حقیقت سے دانستہ چشم پوشی کی گئی کہ یہ تمام بھرتیاں جاگیرداروں کے اس طبقے سے عمل میں آئیں جسے برطانوی حکمرانوں نے جنم دیا ۔ یہی جاگیر دار طبقہ یونینسٹ پارٹی میں شامل ہوکر آزادی ہند کی تحریک کا سخت مخالف رہا ۔جس کی بنیاد پر حکومت ِبرطانیہ کا سرکار نواز طبقہ وجود میںآیا۔ اس طبقے کو خطابات سے نوازا گیا اور حکومت میں بھی نمائندگی دی گئی۔ مسلمانوں میں خان بہادر، ہندئووں میں رائے بہادر اور سکھوں میں سردار بہادر کے خطابات حاصل کرنے والوں نے جنگ عظیم میں وار فنڈ اکٹھا کرنے، فوج میں بھرتیاں کرنے اور تحریک آزادی کو سبوتاژ کرنے کا خوب کام کیا۔ 

 1857ء ہو یا کو ئی اور دور، سرکاری اور غیرسرکاری نقطہ نظر ، ریکارڈ اوراس وقت کی خفیہ رپورٹس کو پڑھااور دیکھا جائے اور لوک داستانوں اور لوک گیتوں جن میں استعمار کے کردار اور احمد خان کھرل ایسے مجاہدین کے کارناموں کو بیان کیا گیا ہے، کی مدد ہی سے پنجاب کے حقیقی کردار کو سامنے لایا جاسکتا ہے ۔ مثال کے طور پر ’’پنجاب بغاوت رپورٹ ‘‘ جسے انگریز نے 1857ء کے کچھ عرصے بعد مرتب کیا اور ساتھ ہی اپنے ایجنٹوں کے کارنامے اور شجرے ’’پنجاب چیفس‘‘ میں لکھے اور محفوظ کیے۔پنجاب کے عوام نے انگریزوں کو نکالنے کے لیے شہروں، قصبوں اور دیہات میں بغاوتیں برپا کیں جسے انگریز کے ان غلاموں نے جو آج بھی پنجاب کی سیاست پر قابض ہیں ، تاریخ کے صفحات سے مٹانے کی کوششیں کیں اور یہ تاثر پھیلایا کہ انگریز کی وفاداری میں پنجاب کے عوام بھی ان کے ساتھ شامل تھے۔ مشہور مفکر کارل مارکس نے 1857 ء کی جنگ آزادی پر جو دوسو صفحات لکھے تھے ان میں کئی جگہ اہل پنجاب کے کارناموں کا ذکر کیا ہے۔   

پہلی بات تو یہ ہے کہ محمود اچکزئی کو اس حوالے سے بات کرنی ہی نہیں چاہیے تھی اور اگر کرنی بھی تھی تو صرف پنجاب تک محدود نہ رکھتے اور دیگر علاقوں کے سرداروں، خانوں اور نوابوں کی بھی انگریز دوستی اور وفاداری کو بیان کرتے۔


ای پیپر