My 25-year-old husband, Mark Andrell, was shot three times and seriously injured.
17 دسمبر 2020 (11:15) 2020-12-17

’’باتیں کرتی رہو ماں، مجھے تم سے بات کرنا پسند ہے۔‘‘ یہ آخری الفاظ تھے جو مجھ سے میرے اکلوتے بچے ڈینیئل نے بولے، جب ہم نے اس کی سالگرہ منانے کے بعد تہہ خانہ صاف کیا تھا۔ وہ اب بھی اپنے والدین اور دوستوں کے ساتھ گھر میں منائی جانے والی چھٹیوں کی میں چہک رہا تھا۔ پھر دروازے کی گھنٹی بجی۔ ڈینیئل سیڑھیاں سیڑھیاں چڑھ کر باہر گیا۔ چند سیکنڈز بعد، ابھی میں تہہ خانے میں ہی کھڑی تھی، میرے پیارے بیٹے کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ میرے 25 سالہ شوہر مارک اینڈرل کو تین گولیاں لگی تھیں اور وہ شدید زخمی حالت میں تھا۔

اس سانحہ، جو ہر ماں کے سب سے ڈراؤنا خواب ہو سکتا ہے، کا میرے بیٹے یا شوہر سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ صرف اس وجہ سے ہوا کہ میں ریاستہائے متحدہ امریکہ کی ضلعی عدالت کی جج ہوں۔ ایک وکیل جو میرے سامنے پیش ہوا تھا اس نے میری عدالت میں دائر مقدمہ کی رفتار پر ناراضگی کا اظہار کیا اور وہ اسی کا بدلہ لینے کے لئے میرے گھر آیا تھا۔ حملہ آور نے مجھے تکلیف پہنچائی لیکن اس کی ناراضگی انوکھی یا نئی بات نہیں، دیگر جج بھی اس طرح کے حادثات کا شکار ہو سکتے ہیں۔

سخت سکیورٹی ججوں اور ان کے اہل خانہ کے لئے زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔ قوم کے مفاد کے لئے عدلیہ کا تحفظ ضروری ہے۔ ججوں کو بغیر کسی نقصان کے خوف کے فیصلے کرنے کے لئے آزاد ہونا چاہئے، چاہے وہ کتنے ہی غیر مقبول ہوں۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام ججوں کی حفاظت کرے کیونکہ ہماری حفاظت ہماری عظیم جمہوریت کی بنیاد ہے۔

ڈینیئل کی موت کے بعد، میں نے عہد کیا ہے کہ ایسے سانحات کو کم کرنے کے لئے میں ہر ممکن کوشش کروں گی۔ پچھلے مہینے نیو جرسی نے ’’ڈینیئل لا‘‘ کے نام سے قانون کی منظوری دی ہے جس کے بعد ججوں، استغاثہ اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے گھر کے پتے اور فون نمبر سمیت ذاتی معلومات کی تشہیر پر پابندی ہے۔

ڈینیئل کی موت کے بعد، میں نے F.B.I ایجنٹ سے سیکھا کہ انٹرنیٹ پر ججوں کی ذاتی معلومات تلاش کرنا کتنا آسان ہے۔ ججوں کے پتے صرف کچھ ڈالر میں آن لائن خریدے جا سکتے ہیں، جس میں ہمارے گھروں کی تصاویر اور ہماری گاڑیوں پر لائسنس پلیٹ شامل ہیں۔ میرے معاملے میں، اس بندوق بردار شخص نے میری 

زندگی کے معمولات کا مکمل چارٹ تیار کیا: اس نے میرے پڑوس میں چھپ کر میرے کام پر جانے کے راستوں کی نقشہ سازی کی، یہاں تک کہ میرے بہترین دوست کا نام اور چرچ جہاں میں جاتی ہوں، بھی جان لیا۔ یہ سب مکمل قانونی تھا۔ اس طرح کی ذاتی معلومات تک رسائی نے اس شخص کو اس قابل بنا دیا کہ اس نے میرے اکلوتے بچے کو مجھ سے چھین لیا۔

اب ریاستہائے متحدہ امریکہ کے سینیٹ کو ڈینیئل اینڈرل جوڈیشل سکیورٹی اینڈ پرائیویسی ایکٹ منظور کرنا چاہئے تاکہ ججوں کو مزید تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ ایوان میں یہ قانون سازی ہو چکی ہے۔ یہ بل ججوں کی ذاتی طور پر قابل شناخت معلومات کو ڈیٹا بروکرز کے ذریعہ فروخت سے بچائے گا۔ اس کے تحت ججوں کو وفاقی حکومت کی انٹرنیٹ سائٹوں پر دکھائی جانے والی ذاتی معلومات ظاہر کرنے اور دوسرے کاروباری یا دیگر افراد کے ذریعہ ذاتی معلومات کی اشاعت کو روکا جائے گا، جہاں کوئی جائز نیوز میڈیا دلچسپی یا عوامی تشویش کا معاملہ نہیں ہے۔ اس سے ریاستوں کو ذاتی معلومات کی حفاظت کرنے، خطرات کی نشاندہی کرنے اور ججوں کے ہوم سکیورٹی سسٹم اپ گریڈ کی اجازت دینے کے لئے ریاستہائے متحدہ امریکہ کے مارشل سروس نظام کو بہتر بنایا جا سکے گا۔

میرے بیٹے مجھ سے چھیننے اور میرے شوہر کو شدید زخمی کرنے والا یہ حملہ اپنی نوعیت کا پہلا حملہ نہیں ہے۔ 2005 میں، شکاگو کی ڈسٹرکٹ جج جون لیفکو اپنے گھر واپس آئیں تو اپنی ماں اور شوہر مرا ہوا پایا، جن کو ایک مقدمہ کے مجرم نے قتل کر دیا تھا۔ 1979 کے بعد سے چار ججوں کو قتل کیا جا چکا ہے۔ ججوں کے لئے خطرات شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ امریکی مارشل سروس کے مطابق 2019 میں ججوں دیگر اہم اہلکاروں کو دھمکیوں کے واقعات 4449 تک بڑھ چکے ہیں جو 2015 میں 926 تھے۔ 31 اکتوبر کو ہیوسٹن کے ایک جج کو اس کے سابق کلرک نے بتایا کہ اس کے گھر کا پتہ ٹویٹر پر پوسٹ کیا گیا ہے۔ 25 نومبر کو ایک شخص جنوبی کیلیفورنیا میں جج کے چیمبر میں داخل ہوا، جس نے جج کو جان سے مارنے کی دھمکی دی اور اس کی میز کو لوہے کے راڈ سے نقصان پہنچایا اس کے پاس بلیڈ بھی تھا۔ حملہ آور نے بھاگتے ہوئے جج کا پیچھا بھی کیا۔

میرے معاملے میں، نیویارک کے ایک وکیل رائے ڈین ہالینڈر، جس نے میل۔اونلی فوجی قانون کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا، نے مہلک رنج کا مظاہرہ کیا۔ 11 جولائی 2020 کو اس نے کیلیفورنیا میں ایک وکیل کو ہلاک کیا۔ آٹھ دن بعد، وہ ہمارے دروازے پر آیا اور ڈینیئل کو مار ڈالا۔ بہت دیر بعد مجھے معلوم ہوا کہ وہ اکثر خود کو ’’اینٹی فیمنسٹ‘‘ کہتا ہے۔ اپنی ایک یادداشت میں اس نے مجھے ’’ اوباما کی مقرر کردہ ایک سست اور نااہل لیٹینا جج‘‘ کہا ہے۔

ایک پختہ کار قاتل کو روکنا ہمیشہ سے ہی مشکل ہے لیکن ہم نے ججوں کا پتہ لگانا بہت آسان بنا دیتے ہیں۔ انٹرنیٹ سے ہماری ذاتی طور پر قابل شناخت معلومات کو ہٹانا ایک اولین دفاع ہے۔ ججوں کے گھروں کو محفوظ تر بنانا بھی ضروری ہے۔ 2005 میں، جج لیفکو کے اہل خانہ پر حملے کے بعد، کانگریس نے ججوں کے گھروں کے لئے سکیورٹی سسٹم لگانے میں مالی اعانت فراہم کی تھی۔ تجارتی طور پر دستیاب گھریلو تحفظ کے عام نظام میں بیرونی ویڈیو اور دیگر حفاظتی آلات کو اپ ڈیٹ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

میرے گھر میں، یہ دیکھنے کی واحد جگہ کہ دروازے پر کون آیا ہے، ایک کھڑکی سے جھانکنا ہے۔ جولائی کے وسط میں، چار مہینے کوویڈ 19 پابندیوں کے بعد، گھروں میں اشیا کی فراہمی تقریباً روزانہ ہوتی تھی۔ ڈینیئل کے قاتل نے اس معمول کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمارے دروازے پر آ کر فیڈ ایکس ڈلیوری کوریئر کا سا انداز اختیار کیا۔

تفتیش کاروں نے مجھے بتایا کہ انہیں یقین ہے کہ ڈینیئل نے بندوق بردار کی طرف بڑھتے ہوئے مجھ پر حملے کو ناکام بنا دیا۔ میرے شوہر نے تین گولیوں کا نشانہ بننے کے بعد بھی پیروں پر کھڑا رہ کر حملہ آور کو ناکام بنایا۔ جب میں صدر دروازے تک پہنچی، حملہ آور فرار ہو چکا تھا۔

ڈینیئل کی موت سے ہمارے ملک کو اگر کچھ سیکھنا چاہئے تو وہ یہ ہے کہ ججوں کو ملنے والی دھمکیاں کس قدر سنگین اور ان کے نتائج کس حد تک خوفناک ہو سکتے ہیں۔ میرے 20سالہ بیٹے نے ہمیشہ دوسروں کی بہتر طور پر دیکھ بھال کی اور بے لوث بہادری سے ان لوگوں کی حفاظت کی جن کو وہ پسند کرتا تھا۔ ہمیں بھی بہادر ہونا چاہئے اور یقینی بنانا ہو گا کہ جج اس خوف کے بغیر اپنے فرائض انجام دے سکیں کہ وہ یا ان کے اہل خانہ کو گولی مار کر ہلاک کر دیا جائے گا، کہ وہ سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ہیں۔

ڈینیئل کی موت ہم کو کہہ رہی ہے لیکن کیا ہم سنیں گے؟ بینچ پر موجود میرے بہن بھائیوں کی خاطر کانگریس کو اب عملی اقدام اٹھانا ہو گا۔ ہر دن جو اس سلسلہ میں کسی بہتری کے بغیر گزرتا ہے، ہمارے نظام عدل اور جمہوریت کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

(بشکریہ: واشنگٹن پوسٹ۔11-12-2020)


ای پیپر