There is no doubt that the PDM meeting in Lahore was full and enthusiastic in terms of the number of participants.
17 دسمبر 2020 (11:13) 2020-12-17

اس میں کوئی شک نہیں کہ پی ڈی ایم کا لاہور کا جلسہ شرکا کی تعداد کے حوالے سے بھرپور اور پُرجوش تھا۔ پی ڈی ایم نے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جو بیانیہ اپنایا تھا اسے عوام میں پذیرائی ملی اور یہی اس جلسے کی کامیابی کی وجہ تھی۔ البتہ لیڈران کی تقاریر سے اس جلسے کے حوالے سے وہ تاثر قائم نہ ہو سکا جس کی توقع تھی۔ اس جلسے میں اسٹیبلشمنٹ پر اس طرح تنقید نہیں کی گئی جو پی ڈی ایم کے ماضی کے جلسوں کا خاصا تھا۔ جس پر عوام کو تھوڑی مایوسی ہوئی اور میڈیا نے بھی اس حوالے سے تنقید کی۔ اب اس نرمی کی کیا وجوہات تھیں اس بارے میں مکمل خاموشی ہے۔

 لاہور سے شرکا کی تعداد کے حوالے سے سارا کریڈٹ مریم نواز شریف کو جاتا ہے جنہوں نے لاہور کے ہر حلقہ کا طوفانی دورہ کر کے اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو ثابت کر دیا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ لاہور کے تمام اراکین اسمبلی اس جلسے کے حوالے سے قیادت کی توقعات پر پورا نہیں اترے۔ البتہ یہ بات خوش آئند ہے کہ ایسے اراکین اسمبلی کو سزا و جزا کی وارننگ بھی دی گئی ہے۔

اصل میں لاہور کے جلسے کی اہمیت یہ تھی کہ پی ڈی ایم کی اسلام آباد یلغار سے پہلے آخری جلسہ تھا اور مریم نواز کی مختلف تقاریر کے حوالے سے جن میں آر یا پار اور مولانا کی طرف سے اس جلسے میں اہم ترین اعلانات کے حوالے سے میڈیا اور عوام نے کچھ زیادہ ہی توقعات وابستہ کر لی تھیں۔ لیکن توقع کے برعکس تمام تقاریر بشمول میاں نواز شریف کے ایک ایسے فریم ورک میں ہوئیں جس کی اسٹیبلشمنٹ شدت سے خواہش مند تھی۔ پی ڈی ایم کی قیادت نے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جو سخت رویہ اپنایا اسے عوام کی پذیرائی ملی۔ گو کہ ہر جلسے میں پہلے سے زیادہ سخت رویہ اپنایا گیا لیکن لاہور کا جلسہ اس حوالے سے وہ تاثر نہ چھوڑ سکا۔ کیا یہ حکمت عملی تھی یا مذاکرات کی جو بازگشت سن رہے ہیں اس کا اثر ابھی تک پی ڈی ایم کی طرف سے اس حوالے سے وضاحت نہیں آئی۔ اعلان لاہور کے حوالے سے بھی جلسہ گاہ ہی موزوں پلیٹ فارم تھا اور اس کا اعلان بھی وہیں سے ہونا چاہیے تھا۔ کچھ حلقوں کا تو یہ تک کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ پی ڈی ایم کے حکومت کے خلاف بنے اچھے بھلے momentum کو قدرے کمزور کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ اب اسلام آباد مارچ بھی جنوری سے فروری تک چلا گیا ہے۔ جس تیزی سے تاریخ پر تاریخ دی جا رہی ہے اس حوالے سے فروری بھی حتمی تاریخ نہیں لگ رہی۔ اس سست روی سے آگے کے معاملات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اونٹ کسی کروٹ بیٹھے گا یا جامد ہی رہے۔

پی ڈی ایم کے اعلان لاہور میں کہا گیا ہے کہ حکومت 31 جنوری 2021 تک مستعفی ہو ورنہ حکومت کے خلاف یکم فروری 2021 کو فیصلہ کن لانگ مارچ کا اعلان کر دیا جائیگا۔ جبکہ پی ڈی ایم نے 31 دسمبر تک ارکان قومی و صوبائی اسمبلی استعفے اپنی اپنی قیادت کو جمع کرانے کا بھی کہہ دیا ہے۔حکومت سے کسی قسم کے مذاکرات کو رد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہم ان سے کوئی بات کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ البتہ استعفوں اور اسمبلی تحلیل کے اعلان کے بعد کوئی تجویز آئے تو اس پر پی ڈی ایم فیصلہ کرے گی۔ یہ اعلانات مینار پاکستان کے جلسے سے بھی کیے جا سکتے تھے بظاہر اس میں کوئی مضائقہ نہ تھا۔

دوسری طرف حکومت نے اپوزیشن کے الٹی میٹم کا جواب اس طرح سے دیا کہ سینیٹ انتخابات قبل از وقت یعنی فروری میں کرانے کا عندیہ دے دیا اور سونے پر سہاگہ یہ کہ ان انتخابات کے لیے بھی خفیہ رائے شماری کے بجائے شو آف ہینڈ کا طریقہ کار اپنانے کا فیصلہ کر لیا۔ اس مقصد کے لیے پارلیمنٹ سے قانون سازی کے بجائے سپریم کورٹ سے رجوع کرنا چاہتی ہے۔ آخر ہمارے سیاستدان سیاسی معاملات میں سپریم کورٹ کو کیوں الجھانا چاہتے ہیں؟ پی ٹی آئی کے ایک ذمہ دار کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں اس حوالے سے ریفرنس دائر کرنا ان کا آئینی حق ہے تو کیا سپریم کورٹ چاہے گی کہ جس سیاسی مسئلے کا حل پارلیمنٹ کی صورت میں موجود ہے اس میں ہاتھ ڈالے؟

جہاں تک فروری میں سینیٹ انتخابات کرانے کی بات ہے تو بظاہر اس جلدبازی کی وجہ پی ڈی ایم کا اسلام آباد مارچ اور استعفوں کا اعلان ہی سمجھ آتا ہے۔ حسب توقع پی ڈی ایم نے سینیٹ کے قبل از وقت انتخابات کی حکومتی تجویز کو رد کر دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اپوزیشن کی تمام جماعتیں استعفوں کے معاملے پر ایک پیج پر ہیں اور کیا پی ڈی ایم کے تمام منتخب اراکین بھی اس پر تیار ہیں یا نہیں؟ بظاہر لگ رہا ہے کہ اپوزیشن مارچ میں سینیٹ انتخابات رکوانے میں کامیاب نہ ہو سکے گی۔

جہاں تک سینیٹ انتخابات میں شو آف ہینڈ کرانے کی بات ہے تو اس کی وجہ قومی اور پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے ناراض اراکین ہیں جو اپنے ووٹ کا غلط استعمال کر سکتے ہیں یا اسے ضائع کر کے اپوزیشن کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ حکومت کو جو رپورٹ پیش کی گئی ہے اس کے مطابق پنجاب اسمبلی کے 50 سے 60 اراکین اور مرکز میں 15 کے قریب اراکین قومی اسمبلی سینیٹ الیکشن میں پارٹی پالیسی سے ہٹ کر اپنا ووٹ استعمال کر سکتے ہیں۔ ان ناراض اراکین کی اکثریت پنجاب سے ہے۔ اس سے ملتی جلتی صورتحال سندھ اور خیبر پختون خوا میں بھی ہے۔ جبکہ ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ بلوچستان میں سینیٹ انتخابات کے لیے ووٹ کے حصول کے لیے باقاعدہ بولیاں لگتی رہی ہیں۔ اسی خطرے کے پیش نظر خفیہ ووٹنگ کے بجائے شو آف ہینڈ کی بات کی گئی ہے۔ اپوزیشن بھی چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا حشر دیکھ چکی ہے کہ کس طرح پارٹی پالیسی کے خلاف معزز سینیٹرز نے ضمیر کا سودا کیا۔ اس تمام صورتحال سے بچنے کے لیے شو آف ہینڈ کا طریقہ مناسب ہے لیکن اس نیک عمل کے لیے اپوزیشن کو اعتماد میں لے کر آگے بڑھنا چاہیے۔پی ٹی آئی کے اتحادی بھی سینیٹ کی زیادہ سے زیادہ نشستوں کے حصول کے لیے کسی سے بھی اتحاد کر سکتے ہیں اس بات کا زیادہ امکان سندھ، بلوچستان اور پنجاب میں ہے۔

جہاں تک اپوزیشن کا قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے استعفوں کا تعلق ہے تو یقینا جب 400 سے زائد استعفے آئیں گے تو ضمنی نہیں بلکہ عام انتخابات کا سا ماحول ہو گا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ 425 اراکین استعفے دینے پر راضی بھی ہیں کہ نہیں؟ شنید ہے کہ اپوزیشن کے کچھ اراکین استعفوں کے حوالے سے پارٹی پالیسی کے خلاف جا سکتے ہیں۔ جس کا لا محالہ فائدہ حکومت اور نقصان اپوزیشن کو ہو گا۔ ایک سینئر پارلیمینٹیرین کا کہنا تھا کہ اجتماعی استعفوں کے لیے اپوزیشن کے تمام اراکین اسمبلی کو ہاؤس میں کھڑے ہو کر یک زبان استعفے دینا ہوں گے ورنہ حکومت استعفے قبول کرنے کے حوالے سے تاخیری حربے آزما سکتی ہے۔

دوسری طرف اگلے سال مارچ میں سینیٹ کے 103 کے ایوان میں سے 52 سینیٹرز ریٹائرڈ ہو جائیں گے۔ ریٹائر ہونے والے 52 اراکین میں نواز لیگ کے سب سے زیادہ سترہ، پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے سات سات سینیٹر ریٹائر ہو رہے ہیں۔ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) اور خیبر پختون خوا کی عوامی نیشنل پارٹی کی سینیٹ میں نمائندگی ختم ہو جائے گی۔ حکمران جماعت کے سینیٹرز کی موجودہ تعداد14اور ریٹائر ہونے والے تمام سینیٹرز کا تعلق خیبر پختو نخوا سے ہے لیکن اس بار انہیں پنجاب سے اضافی نشستیں ملیں گی۔ایم کیو ایم پاکستان کے 5 میں سے 4 سینیٹرز اور جمعیت علمائے اسلام کے 4 میں سے دو سینیٹر جماعت اسلامی کے دو میں سے ایک، بی اے پی کے 9 میں سے تین سینیٹرز، بی این پی مینگل اور اے این پی کے اکلوتے سینیٹرز بھی ریٹائر ہو جائیں گے۔ شنید ہے کہ 2022 کی سینیٹ میں اکثریت نئے چہروں کی ہو گی اور ان میں سے اکثریت کا تعلق حکمران جماعت سے ہو گا۔ سینیٹ انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف اکثریتی جماعت بن جائے گی اور قانون سازی میں سینیٹ کی رکاوٹ بھی دور ہو جائے گی۔

قارئین اپنی رائے کا اظہار اس 03004741474 وٹس ایپ پر کریں۔


ای پیپر