پی ٹی آئی طرز حکمرانی: ایک جھلک
17 دسمبر 2020 (11:10) 2020-12-17

تحریک انصاف کے طرز حکمرانی کی جھلکیاں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گہری ہوتی جا رہی ہیں۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے گورنر خیبر پختونخوا کو پشاور BRT منصوبے پر جو رپورٹ پیش کی ہے اس میں بتا یا گیا ہے کہ 2018ء میں جلد بازی کر کے چائنہ سے جو 51 بسیں منگوائی گئیں ۔2 سال تک کھڑے رہنے کی وجہ سے ان کا بیٹری سسٹم ناکارہ ہو گیا۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ آئے دن وہ بسیں جل رہی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بسیں فروخت کرنے والی کمپنی نے کہا تھا کہ بیٹری کو ہر تین دن بعد چارج کرنا پڑتا ہے مگر 2 سال تک ان کو بے کار کھڑا کر دیا گیا جس سے سسٹم فلاپ ہوا۔ یاد رہے کہ ایک بس کی بیٹری کی قیمت 33000 ڈالر یعنی 50 لاکھ روپے سے زیادہ ہے جو کہ بس کی قیمت کا ایک چوتھائی ہے یہ سارا نقصان محض نا اہلی کی وجہ سے ہوا ہے۔ 

حال ہی میں سپریم کورٹ میں بلین ٹری سونامی پراجیکٹ پر بڑے سنجیدہ سوالات اٹھائے گئے ہیں جس میں بدعنوانی کی بازگشت سنائی دے رہی ہے فاضل جج نے سوال کیا تھا کہ ایک ارب کے درخت کیا بنی گالہ میں لگائے گئے ہیں۔ اس سے پہلے نیب نے بھی اس پراجیکٹ پر نوٹس لیا تھا مگر پتہ نہیں اس کا کیا انجام ہوا۔ 

خبریں آ رہی ہیں کہ جنوری کے مہینے میں ملک میں گیس کا شدید بحران آنے کا خدشہ ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ قطر اور دیگر بین الاقوامی کمپنیوں سے بروقت LNG گیس نہیں خریدی گئی۔ اس وقت پاکستان 70 فیصد مہنگے نرخوں پر گیس خرید رہا ہے جس سے ملک کو 15 بلین ڈالر کے نقصان کا سامنا ہے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں کہ اڑھائی سال میں 4 وزراء کی تبدیلی کے باوجود وزارت توانائی کے معالات درست نہیں ہو سکے۔ عباسی صاحب نے گیس کی خریداری میں اپنے دور میںبدعنوانی کے الزامات پر قیدو بند کا سامنا کیا ہے مگر ان پر ابھی تک الزامات ثابت نہیں ہوئے اور وہ ضمانت پر ہیں۔ مگر ان کے خدشات کافی ہو شربا ہیں کیونکہ وہ LNG گیس کی درآمد میں بطور وزیر کام کر چکے ہیں لہٰذا انہیں کافی معلومات ہیں بہتر ہوتا کہ 15 بلین ڈالر کا نقصان اٹھانے والے معاملے کو وہ پریس کانفرنس کے بجائے عدالت میں لے جاتے یا نیب کے علم میں لاتے۔ 

تحریک انصاف کی حکمرانی کی سب سے چشم کشا بات اس سال کے وسط میں ملک میں پٹرول کا بحران تھا جس کی رپورٹ وزیراعظم کے پاس ہے مگر وہ اسے افشا کرنے یعنی پبلک کرنے پر آمادہ نہیں جس پر سپر یم کورٹ نے رپورٹ کو شائعکرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس سکینڈل میں حکومتی نا اہلی یا بد نیتی کی بنا پر پٹرول امپورٹ کرنے والی کمپنیوں نے ملک کو 5 ڈالر کا نقصان پہنچایا۔ یہ وہ دور تھا جب عوام گلی گلی پٹرول کے لیے دھکے کھا رہے تھے بلیک مارکیٹ میں پٹرول 200 روپے لیٹر خریدنے پر مجبور تھے۔ یہ بات تاریخ میں لکھے جانے کے قابل ہے کہ جب کرونا کی وجہ سے پٹرول کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل سے محض 7 ڈالر بیرل پر آ گئی تو دانشمند ممالک نے پٹرول خرید کر ذخیرہ کرنا شروع کر دیا جبکہ پاکستان میں اس کی درآمد پر پابندی لگا دی گئی۔ جب پی ٹی آئی حکومت نہیں رہے گی اور اس سکینڈل کی انکوائری کی جائے گی تو اس میں بڑے بڑے نام شرمندہ ہو جائیں گے۔ 

اس وقت حکومت بہت زیادہ ذاتی قصیدہ گوئی میں مصروف ہے کہ انہوں نے شوگر کی قیمتیں کم کر دی ہیں۔ 2018ء میں حکومت کے برسراقتدار آنے کے وقت چینی 55 روپے کلو تھی جو 115 روپے کلو تک گئی ہے حکومتی کارنامہ سادہ لفظوں میں یہ ہے کہ انہوں نے 55 روپے ریٹ کو پہلے 115 پر پہنچایا جواب بھی 90 روپے کلو ہے حالانکہ حکومت 80 روپے کا دعویٰ کرتی ہے یہ وہ ریٹ ہے جو کہیں بھی نہیں ہے عوام نہیں جانتے کہ چینی کی ایکس مل ریٹ اب بھی 72 روپے کلو ہے۔ اس میں آپ ٹرانسپورٹ کے 2 روپے لگائیں تو پھر بھی ریٹ 74-75 سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے مگر عام دکانوں پر لاہور میں بھی اس وقت چینی 90 روپے فروخت ہو رہی ہے۔ 

تحریک انصاف نے اپنا قیمتی وقت اپوزیشن پر مقدمات بنانے اور محاذ آرائی میں صرف کر دیا ہے اس وقت جو اشیائے خوراک کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے دیکھنے میں آیا ہے اس کے پیچھے ضلعی حکومتوں کے نظام کی خرابی ہے بیورو کریسی پر ہاتھ نہیں ڈالا جا سکا کہ حکومت اپنے دیگر ایجنڈوں میں مصروف ہے ضلع میں ڈپٹی کمشنر ذمہ دار ہوتا ہے کہ وہ اجناس اور روز مرہ اشیاء کی قیمتوں میں چور بازاری کو روکے مگر یہ سسٹم ناکام ہو چکا ہے ضلعی حکومتوں کے پاس ٹائم ہی نہیں ہے کہ وہ اس مسئلہ کو حل کریں اس سلسلے میں حکومتی نا اہلی یا چشم پوشی کی وجہ سے معاملات کنٹرول سے باہر ہو چکے ہیں۔

حکومت کا آدھے سے زیادہ Tenure گزر چکا ہے مگر ملک میں تبدیلی کے آثار ناپید ہیں جو تبدیلی نظر آتی ہے وہ اچھی نہیں بلکہ پہلے سے زیادہ بحرانی تبدیلی ہے ۔ 2018ء سے پہلے آٹے کی فی کلو قیمت 35 روپے ہوا کرتی تھی جو اس وقت 75 روپے ہے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ کاشتکار کو اپنی گندم کی وہی قیمت ملی ہے جو تین سال پہلے کی سرکاری پرائس تھی یہ سارا منافع مڈل مین اور بلیک مافیا کی جیبوں میں گیا ہے جو کہ پھر ضلعی حکومت کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ جب بھی کوئی نیا بحران کھڑا ہوتا ہے تو وزیراعظم فوراً ٹائیگر فورس کو حرکت میں آنے کا حکم جاری کرتے ہیں مگر اس فورس کا وجود صرف کاغذوں میں پایا جاتا ہے کسی سیاسی جماعت کے ونگ کو حکمرانی میں داخل کرنا ویسے ہی ایک متنازع فیصلہ ہے۔ ٹائیگر فورس عوام کی نظر میں ایک مذاق بن کر رہ گئی ہے جسے وزیراعظم کی پالتو فورس سے تعبیر کیا جاتا ہے وزیراعظم کو کتے پالنے کا شوق ہے اور ان کے ایک کتے کا نام ٹائیگر ہے ناقدین کہتے ہیں کہ رضا کار فورس کا نام ٹائیگر فورس انہوں نے اپنے اسی ٹائیگر کے نام پر رکھا ہے۔ آپ اس کی تردید کر سکتے ہیں مگر PDM کے 13 دسمبر کے جلسے کے دن وزیراعظم نے جس اہتمام کے ساتھ اپنے ٹویٹ میں اپنے پالتو کتوں شیرو اور ٹائیگر کے ساتھ فوٹو بنوا کر سوشل میڈیا پر لگائی ہے وہ صاف پیغام تھا کہ میرے لیے عوام کی اہمیت شیرو اور ٹائیگر کے بعد دوسرے نمبر پر آتی ہے۔ یہ فوٹو اگر انہوں نے اپوزیشن کو نیچا دکھانے کے لیے لگائی ہے تو بھی اس میں تکبر اور غرور کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے کہ اپوزیشن کو پیغام دیا جائے کہ ان کی اہمیت وزیراعظم کے نزدیک کچھ نہیں ہے۔ اس سے زیادہ تو وہ اپنے Pets کو اہمیت دیتے ہیں۔ جب نیلسن منڈیلا ساؤتھ افریقہ کی آزادی کے لیے 28 سال جیل کاٹ کر باہر آئے تھے تو انہوں نے سفید فام انگریز حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ سیاہ فاموں کے ساتھ کم از کم اپنے کتوں جیسا ہی سلوک کریں۔ اس تناظر میں پاکستان کے بھوکے عوام بھی اپنی حکومت سے یہی توقع رکھے ہوئے ہیں۔


ای پیپر