Now India has usurped Kashmir through the August 5, 2019 initiative
17 دسمبر 2020 (11:04) 2020-12-17

سقوط ڈھاکہ کو انچاس برس گزر چکے… نصف صدی کا قصہ ہے جب پاکستان دولخت ہوا تھا… ہمیں بھارت جیسے کمینے دشمن کے مقابلے میں بدترین فوجی شکست ہوئی تھی… نوّے ہزار پاکستانی جنگی قیدی بن گئے… اتنا بڑا المیہ جس کے کاری زخم اب تک مندمل نہیں ہوئے… خون ہے کہ آج بھی ہمارے جسد قومی سے رسک رہا ہے… مگر قومی معاملات خاص طورنظم مملکت کے حوالے سے جس غفلت شعاری کا شکار ہم 16 دسمبر 1971 کے المیے کے وقت تھے اسی کا اب ہیں… تب مشرقی پاکستان کھو دیا… اب بھارت نے 5 اگست 2019 کے اقدام کے ذریعے کشمیر ہڑپ کر لیا ہے… تب ہماری دفاعی پالیسی کے علاوہ خارجہ پالیسی اتنی ناکام تھی کہ کوئی ملک ہمارا ساتھ دینے کے لئے تیار نہ تھا… اب کشمیر پر کہیں شنوائی نہیں ہو رہی… بھارت کا آرمی چیف ابھی ابھی 14 دسمبر کو متحدہ عرب امارات کا چار روزہ اور پہلی مرتبہ ہمارے قریب ترین دوست سعودی عرب کا دو روزہ دورہ کر کے واپس آیا ہے… وہاں دفاعی تعاون کے لئے مذاکرات ہوئے جس کا ماضی قریب تک تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ہے… جبکہ ہم سے مطالبہ کیا گیا ہے جو ایک ارب ڈالر عمران خان نے وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی کوششوں کے بعد لیا تھا اسے بھی واپس کرو… یہ سب کچھ اس عالم میں ہو رہا ہے ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے پاس اسلام آباد میں بیٹھ کر پریس کانفرنس کے ذریعے اپوزیشن پر تابڑ توڑ حملے کرنے کے علاوہ کوئی کام نہیں… حمود الرحمن کمیشن نے 1971 کے سانحہ عظیم کے اسباب کا تعین کرتے ہوئے لکھا سب سے بڑی وجہ پاکستان کا سرزمین بے آئین ہونا تھا… 1956کے متفق علیہ آئین کو بوٹوں تلے روند ڈالا گیا تھا… آج کی صورت حال یہ ہے آئین تو موجود ہے لیکن اسے غیرمؤثر بنا دیا گیا ہے… تب ملک میں براہ راست مارشل لا نافذ تھا… آج انہی قوتوں کی پس پردہ حکمرانی ہے جن کے قدوم میمنت لزوم کی بدولت مارشل لائوں کو ہمارے سروں پر مسلط کیا جاتا تھا… تب آئین کے ساتھ پارلیمنٹ کو بھی اڑا کر رکھ دیا گیا تھا… اب آئین اور پارلیمنٹ دونوں موجود ہیں لیکن عملاً بے اثر بنا کر رکھ دیئے گئے ہیں… مریم نواز نے گزشتہ اتوار 13 اگست کو لاہور کے جلسہ عام میں برملا الزام لگایا کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کو پیچھے بیٹھ کر مقتدر قوتوں کے نمائندہ چلا رہے ہیں مگر بحث اس پر کی جا رہی ہے جلسہ توقعات کے مطابق بڑا تھا یا نہیں، اتنے سنگین الزام کا کوئی جواب نہیں دے رہا…

1971 میں بھارت نے پوری دنیا میں پراپیگنڈے کا جال بچھا رکھا تھا ہمیں بدنام کرنے میں کوئی کسر روا نہ رکھی تھی… تب عالمی سطح پر کوئی ہمارا مؤقف سننے کے لئے تیار نہ تھا… ایک چین جیسا ہمیشہ مشکل وقت میں کام آنے والا دوست ملک رہ گیا تھا… اس کی جانب سے بھی جنرل یحییٰ کی حکومت کو مشورہ دیا گیا مشرقی پاکستان کے منتخب نمائندوں کے ساتھ بات چیت کر کے معاملات طے کروہم نے اس کی بھی نہ سنی… اندرون مشرقی پاکستان 1970 کے انتخابات سے پہلے اتنی مضبوط لابی بنا رکھی تھی جو پہلے انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے اورپھر مکتی باہنی بنانے میں اس کے کام آئی… تب ویب سائٹس نہیں ہوتی تھی… Hybrid war کا کسی نے نام نہیں سن رکھا تھا نہ کہیں Fifth generation کا تذکرہ ہوتا تھا… مگر ان سب ہتھکنڈوں کے بغیر بھارت نے ہمارے خلاف روایتی پروپیگنڈے کا اس مؤثر طریقے سے استعمال کیا کہ مشرقی پاکستان کو چھین لئے جانے کے بعد ہمیں احساس ہوا کہ ہمارے ساتھ کیا ہاتھ ہو گیا… آج جبکہ ہمارے یہاں ویب سائٹس بھی موجود ہیں… ہائی برڈ اور ففتھ جنریشن واروں کے تصورات سے بھی بخوبی واقف ہیں ہمارے اصلی اور نقلی حکمران ان کا چرچا بھی بہت کرتے ہیں… اس سب کے باوجود غفلت شعاری کا یہ عالم ہے کہ ’ای یوڈس انفولیب‘ کے ذریعے ہم پر یہ راز منکشف ہوا ہے کہ بھارت نے ویب سائٹسوں سے پوری طرح کام لے کر اور ففتھ جنریشن وار وغیرہ کے ہتھکنڈوں کو نہایت مکاری کے ساتھ بروئے کار لا کر جدید دنیا ہمیں نکّو بنا کر رکھ دینے کے لئے جھوٹے الزامات کو بڑی فنکاری کے ساتھ پھیلایا ہے… 750 فرضی ادارے قائم کر کے 65 ملکوں کے اندر زیادہ نہیں تو 265 ویب سائٹوں کے ذریعے پاکستان کو بدنام کرنے کی انڈسٹری چلا رکھی ہے… ہم نے کشمیر پر اس کے غاصبانہ قبضے اور وہاں آخری حد تک انسانی حقوق کی پامالی کا پردہ چاک کرنے کے لئے ماسوائے چند بیانات کے جو 1971 میں بھی بہت جاری کئے جاتے تھے کیا کچھ کر رکھا ہے کسی کو علم نہیں… کشمیر اقوام متحدہ کے سب سے مؤثر ادارے سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت بھی متنازع علاقہ ہے… مشرقی پاکستان کو ہر جگہ مملکت پاکستان کاحصہ قرار دیا جاتا تھا… بین الاقوامی قانون اس کی اس حیثیت کو تسلیم کرتا تھا… اس کی سرحدوں کے بارے میں کوئی تنازع نہ تھا… یہ ہمارا اکثریتی یعنی پاکستان کا آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ تھا… اس کے باوجود بھارت نے چھین کر اسے نام نہاد آزادی دلا دی… کشمیر سو فیصد متنازع علاقہ ہے… عالمی قوانین اور سلامتی کونسل سمیت کئی ایک عالمی اداروں کی نگاہ میں بھی اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کی بھاری اکثریت موجودہ کڑے حالات میں جبکہ بھارتی فوج اور پولیس نے ان پر جینا حرام کر رکھا ہے… انہیں ان پراپنی آزادی کے حق میں جدوجہد جاری رکھنے کی پاداش میں نہایت درجہ ریاستی ظلم و ستم روا رکھا ہے انہیں سرزمین وطن کی آزادی اپنی جانوں سے عزیز ہے مگر ہم جو اس قضیے میں باقاعدہ شریک کی حیثیت رکھتے ہیں… مقبوضہ وادی کو بھارت کے پنجہ استبداد سے چھڑانے میں سخت ناکام ہیں… بھارت نے مشرقی پاکستان کو ناجائز جنگی جارحیت کا ارتکاب کر کے ہم سے علیحدہ کیا… ہم 5 اگست 2019 سے لے کر آج تک دنیا کو باور کراتے تھک نہیں رہے کہ مقبوضہ کشمیر پر جنگ چھیڑنے کا ہرگز کوئی ارادہ نہیں رکھتے… صرف آزاد کشمیر کا دفاع کرنے میں دلچسپی ہے… بھارت بلوچستان سمیت اسے بھی چھین لینے کے در پے آزار ہے اور اپنے مذموم ارادوں کو کسی سے چھپا کر نہیں رکھتا… لمحہ موجودہ میں ہماری کشمیر پالیسی کیا ہے خود ہمیں بھی اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں…

اس کے برعکس ہمارے یہاں یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ اسرائیل کی ناجائز ترین ریاست کو تسلیم کرنا ہے یا نہیں… شاید کوئی بیرونی دبائو ہے جس کی تاب نہیں لا پا رہے یا کوئی اور سبب ہے لیکن بدلتے ہوئے حالات میں کشمیر پالیسی کیا ہونی چاہئے اس کا کہیں جائزہ نہیں لیا جا رہا… پارلیمنٹ کے ایوانوں میں نہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے… آج 16 دسمبر کی دوپہر کو جبکہ یہ سطور قلمبند کی جا رہی ہیں وزیراعظم عمران خان نے پشاور پہنچ کر ہسپتال کی ایک تقریب میں 2015 کے اے پی ایس سانحہ کے بارے میں تو کہا ہے اس پر ان کا دل ابھی تک افسردہ ہے لیکن یہ ہرگز نہیں بتایا اس کے سرغنہ اور اتنی زیادہ معصوم جانوں کے دہشت گردانہ قتل کا ارتکاب کرنے والے احسان اللہ احسان کو کن حالات میں اور کن داخلی طاقتور عناصر کے زیرسایہ قید سے نکل کر بیرون ملک جانے کے لئے سہولت فراہم کی نہ انہوں نے اور حقیقی معنی میں کسی مقتدر شخصیت نے سانحہ مشرقی پاکستان پرایک لفظ کہنے کی زحمت گوارا کی بلکہ ’’انہیں‘‘ تو اس کا ذکر زبانوں پر لانا منظور نہیں… پس پردہ سوال کیا جاتا ہے اسے بھول کیوں نہیں جاتے… 1971 میں اندرا گاندھی ہمارے جرنیلی حکمرانوں سے بات کرنے پر آمادہ نہیں تھی… آج مودی باوجود اس کے ہم نے اس کا ابھینندن لمحہ کی تاخیر کئے بغیر ’اوپر‘ والوں کی اس امید پر کہ مودی مذاکرات کے لئے تیار ہو جائے گا مگر بھارتی وزیراعظم نے غیرمشروط طور پر اپنا قیدی حاصل کرنے کے بعد وزیراعظم خان بہادر کے تین ٹیلیفونوں کا جواب نہ دیا پھر ہم امید لگا بیٹھے 2019 کا چنائو جیت لے گا تو ہمارے ساتھ گفتگو کے دروازے کھول دے گا ایسا بھی نہ ہوا… 1971 میں ہمارا فوجی حکمران جنرل یحییٰ امریکہ کے ساتویں بحری بیڑے سے توقعات وابستہ کئے ہوئے تھا وہ آئے گا اور بھارت بھاگنے پر مجبور ہو جائے گا کیونکہ پاکستانی حکمران نے امریکہ کو خوش کر رکھا تھا… بحری بیڑا آیا نہ ہم نے جم کر جنگ لڑی… 2018 میں عمران خان پہلے دورے پر واشنگٹن گئے تو وہائٹ ہائوس کی ملاقات میں صدر ٹرمپ نے چکمہ دیا کشمیر پر ثالثی کے لئے تیار ہیں… خان بہادر نے واپسی پر اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر اترتے ہی بیان داغ دیا… ایک مرتبہ پھر ورلڈکپ جیت کر آیا ہوں… اسی دوران امریکہ افغانستان پر ہمارا تعاون حاصل کر کے اپنا الّو سیدھا کرتا رہا… 1971 میں پلٹن میدان کے واقعے کے بعد اندراگاندھی نے مغربی پاکستان پر حملہ کرنے کی بھی ٹھان لی تھی… مگر صدر نکسن کی ٹیلیفون کال نے باز رکھا… اس مرتبہ ایسا ہوا تو اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت کرے گا… ہمارے بہادر اور جانفروش سپاہی 65ء کی مانند سرحدوں پر جانوں کا نذرانہ پیش کریں گے، اپنے وطن کا دفاع کریں گے… امور ریاست پر براجمان چند لوگ سارا کریڈٹ اپنی جھولی میں ڈالیں گے…


ای پیپر