”لاہور کا جلسہ “
17 دسمبر 2020 2020-12-17

 ” جلسہ“ کے لغوی معنی اس استراحت کے ہیں جو نمازی کو دوسجدوں کے درمیان لمحوں کے لیے نصیب ہوتا ہے.... کیا فضیلت اور احترام اور کیا مقام ہے جسے نعرہ بازوں، شعبدہ بازوں اور مفاد پرستوں نے اپنے ”دولئے ریلے“ کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا ۔

وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے

 ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات

مزید برآں ہرعاقل وبالغ ونابالغ ” جلسہ“ کو کامیاب وناکام گرداننا شروع کردیتا ہے محض اپنے مفادات کے ترازو میں تول کر جھوٹ سچ بول کربندوں کے ”سروں“ کی گنتی کی جاتی ہے سوچ اور فکر کا کوئی مقام ہی نہیں ہرسو آواز آتی ہے ”بندے کتنے تھے“ اور فلمی کرنا ہوتو کہہ سکتے ہیں ”کتنے آدمی تھے؟“ وہ آدمی کیسے تھے کہاں سے آئے تھے انہیں کون بھیڑ بکریوں کی طرح ”ڈھو“ کر لایا تھا کوئی ذکر نہیں اقبال نے پھر جمہوریت کو ”سروں“ کی گنتی کہا تھا رہ گیا ”وژن“ تو اس کا بھی اس ملک میں اس درجہ مذاق اُڑچکا ہے کہ خدا کی پناہ.... جتنی خوشامد اور جھوٹی تعریفیں ان لوگوں کی ہوتی ہیں اگر ہماری ہوں تو ہم خوف کھاجائیں سوچتے ہی رہ جاتے ہیں کیا کبھی ایسا ممکن ہے کہ کوئی واقعتاً ”وژن“ والا آدمی میسر آجائے اور جس کی فکر اور تخیل کی وژن مگرمگر نظر آئے ایسے بڑے خواب اور تخلیقی جو ہرجوبیرونی تسلط میں دبی برصغیر کے عوام کا رُخ بدل سکے جیسا کہ ماضی میں ہوا محض ایک دبلے پتلے شخص کی NOپورے برصغیر کے لیڈروں کو ”نُکرے“ کھڑا کر گئی جب صدیوں سے تسلط شدہ ملک میں بیسیوں اقوام کے ساتھ رہتے ہیں تویہ خیال کیسے آسکتا ہے کہ ہم الگ ہیں ہمیں جداگانہ حق خود ارادیت ملنا چاہیے حتیٰ کہ ہماری الگ سرحدیں ہونی چاہئیں ہماری حکومت اور ہمارا مذہب ہماری شناخت ایک نئی مملکت خدادادکی صورت میں دنیا کے نقشے پر ابھرنی چاہیے یہ اقبال یہ قائد کون لوگ تھے جو اتنا الگ اتنا منفرد سوچتے تھے ہم تو دہائیوں سے جنہیں دیکھ رہے ہیں انہیں تو صوبائی تاریخ کا بھی پتہ نہیں اتنا بھی نہیں معلوم کہ دُلا بھٹی، بھگت سنگھ، احمد رائے کھرل، گنگارام وبے شمار علاقائی سطح پر جارحیت کو جواب دینے والے اورملک میں فلاح کرنے والے پیدا ہوئے بہت سے ماﺅں کے بیٹے دھرتی پر قربان ہوئے، اچکزئی نے زبان کا وار کرکے اپنے علاقے پر تنقید کی دعوت دی ہے مگر میں سمجھتی ہوں کہ بلوچوں اور افغانیوں کو ”ایسے“ جواب دے کر مطلوبہ نتائج نہیں حاصل کرنے چاہئیں ایسا نہیں کہ جواب نہیں آتے مگر بعض مرتبہ واحدانیت پر لسانیت وصوبائیت کو قربان کرنا پڑتا ہے زندگی زبان روک کر ہی گزرتی ہے ذاتی موڑ پر بھی ہربات کے جواب نوک زبان پر دھرے رہے اور زندگی کی چند بڑی مسرتوں میں یہ مسرت ہمیشہ موجود رہتی ہے کہ بہت کچھ تھا کہنے کو جو نہیں کہا آج یہی سب اثاثہ ہے قلم کے ہمراہ ہے وہ جو ہربات کا انتقام لیتے ہیں بات کو منہ پر مارکر آتے ہیں ہمیشہ تہی دست وتہی داماں رہتے ہیں....

ہمارے سیاسی اکابرین تو اتنے ہلکے ہیں فوری گولہ باری کرکے مرے جارہے ہوتے ہیں کہ ہمارا لیڈر دیکھ لے اور ہم کسی وزارت کے امیدوار بن جائیں.... سرزمین پاک عرصہ دراز سے ترس رہی ہے کہ کوئی ایسا شخص آئے جس کے وژن سے بشارتوں کا موسم شروع ہو جس کی نیت کے ثمر میں نعمتوں کا نزول ہو اور جس کی حکمت سے وطن کے آزاءختم ہوں موجودہ لاٹ پہلے سے بھی زیادہ مایوس کن ہے ہم تو پڑھتے ہیں اور کہتے ہیں.... 

بیاجاناں تماشہ کن کہ درانبوہ جانبازاں

 بصد سامان رسوائی سرِبازارمی رقصم 

(ترجمہ: اے محبوب پلٹ، نظر سے تماشہ کر کہ جانبازوں کے انبوہ میں ہزار سامان رسوائی لیے سرِ بازار رقصاں ہوں)

یہ وہ بازار نہیں یہ وہ رقص نہیں اور نہ ہی وہ رسوائی ہے جسے دید سے محروم عام آنکھ دیکھتی ہے، یہ وہی متوالی آنکھ ہے جس کے لیے شاعر کہتا ہے 

 ”دیکھا ہے جوکچھ میں نے اوروں کو دکھلا دے“

اب کون ہے جو سروروراگ ورنگ کی محفلوں کو چھوڑ کر بادبیابانی کو پکارتا ہے سیالکوٹ کا ایک متخیل مجسم متغزل شخص کاندھے پر کمبل دھرے زندگی کا فارمولا دیتا ہے

اے باد بیابانی مجھ کو بھی عنایت ہو 

خاموشی و دلسوزی سرمستی و رعنائی

اور جس رانجھے کی خبر وارث شاہ اور بابا بلھے شاہ دیتے ہیں وہ یہی معمار ہیں ”ہتھ اچ کھونٹی موڈھے کمبل“

ترجمہ: ہاتھ میں صراط مستقیم والا عصا اور مونڈھے تخیل کی سچی ردا....

یہ تو سب خیال ہوا اب تو جلسہ کو کبھی جلسی کبھی اکٹھ اور کبھی چھوٹا بڑا اجتماع کہا جاتا ہے موجاں ای موجاں.... عقل نہیں تو خیر گزری اوپر سے دوسری مصیبت”انے واہ “ پیسہ ”خالی پانڈے“ کھڑکیں نہ تو کیا کریں....

اچک زی نے جس طرح تاریخ کو میان میں سے اُچک کر بول دیا اینکروں کے ”ہتھ“ تیلی آگئی.... حالانکہ سارے ہی Inuadersانویڈرز ہیں ہم مسلمان انویڈرزکو ہیرو بنادیتے ہیں فاتحین گردانتے ہیں اور مقامی لوگوں کی جدوجہد کو نظرانداز کرتے ہیں مگر تاریخ کے نقش اور مقامی مٹی کی ایسی گہری تاثیر ہے کہ لیڈر سکھ ہو مسلم اس کی مٹی کی جانب محبوبیت دیکھتی ہے آج بھی بھگت سنگھ کی حویلی کی مٹی کو چھوکر دیکھتی ہوں تو لہو کی خوشبو اور وطن سے محبت کا پرفیوم بن کر مہک اٹھتی ہوں یہ جانوں کی قربانیاں ایسی بے قیمت نہ تھیں آج بھی تاریخ کے ماتھے پر وہ پھانسی کے پھندے جھومر بن کر دمک رہے ہیں۔ اب رہ گیا جلسہ تومیں نے بھی عرصہ دراز کے بعد سنگیت سے سجا ہوا جلسہ دیکھا جہاں تک تقلید کی بات ہے تو خوش کن ہے کہ مسلم لیگ ن کے مقررین اور پی ڈی ایم کی باقی جماعتوں نے بھی PTIکو Followکرتے ہوئے دوسرے الفاظ میں یہ اعتراف کیا ہے کہ ہم بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں....

بہت بچپن میں بھٹوصاحب کا جلسہ دیکھا تھا ایک شخص کی دیوانگی میں غریب سے محبت نظر آئی تھی ہم بھی کم سن تھے دل دھوکہ کھانے کے لیے تیار ہی ہوتا ہے اب تو ایسا کمبخت سیاہ پتھر بن گیا سچے حقیقی لوگ بھی قسمیں اُٹھا اُٹھا کر اپنی وفا کی دہائی دیں مان کر ہی نہیں دیتا جب کہ یہاں تو وہی پاور شو اور بعدازاں وہی اینکر جو پنتیس دفعہ معاملات سیٹ کرتے ہوئے ویڈیوزلیک ہوجانے کے باعث انتہائی رسوا ہوچکے ہیں اپنی نوکری پکی کررہے تھے حقیقت میں سوچا جائے تو رسوائی سے زیادہ رسوائی کا خوف کارآمد ہوتا ہے جو مزید کے ہزارہابرائیوں سے بچاتا ہے مگر چپڑچپڑ بولتے جبڑوں تلے شرمندگی یا پچھتاوے کا ایک لمحہ بھی نہیں ٹھہرتا.... لوگ پہلے مرحلے میں خود اپنی برائی کو بھولتے ہیں اُس کے بعد چاہتے ہیں کہ دوسروں کے بھی برین واش ہوجائیں ....ایسی خود کار یادداشت جو مفاہمت کے وقت ہی بیدار ہوتی ہے وگرنہ اطراف کے وقت میں برف بنی سوئی رہتی ہے .... 


ای پیپر