فائل فوٹو

اسلامی ممالک کے نئے اتحاد کا مستقبل مخدوش ہوگیا
17 دسمبر 2019 (15:10) 2019-12-17

اسلام آباد: تبدیلی سرکار کا ایک اور بڑا یوٹرن سامنے آگیا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی ملائیشیا سمٹ میں شرکت نہیں کریں گے۔

اسلامی ممالک کے نئے اتحاد کا مستقبل مخدوش ہوگیا، ملائیشیا میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں پاکستان شرکت نہیں کرے گا۔ وزیراعظم عمران خان کے بعد وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی بھی ملائیشیا سمٹ میں نہیں جائیں گے۔

اہم بات یہ ہے کہ رواں سال اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران ڈاکٹر مہاتیر محمد نے ترک صدر طیب اردوان اور وزیراعظم عمران خان سے مشاورت کے بعد ملائیشیا سمٹ کا اعلان کیا لیکن اب پاکستان نے اس سمٹ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 19 سے 21 دسمبر تک جاری رہنے والے ملائیشیا سمٹ میں ترکی، انڈونیشیا اور قطر کے سربراہان شرکت کر رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے دباؤ پر حکومت نے ملائیشیا جانے کا فیصلہ تبدیل کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے سعودی حکمرانوں کو منانے کی پوری کوشش کی لیکن قطر تنازع اور او آئی سی کے مقابلے میں نئی تنظیم کے قیام پر سعودی حکام راضی نہ ہوئے۔ جس پر وزیراعظم نے اپنے دیرینہ دوستوں مہاتیر محمد اور طیب اردوان کی ناراضی مول لی اور اپنی جگہ وزیرخارجہ کو سمٹ میں بھجوانے کا فیصلہ کیا لیکن پھر یہ فیصلہ بھی اب واپس لے لیا گیا ہے۔

ملائیشیا اور ترکی وہ دوست ممالک ہیں جنہوں نے مقبوضہ کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنے کے اقدام کی مخالفت کی، ملائیشیا کو بھارت کی جانب سے تجارتی پابندیاں بھی بھگتنا پڑیں لیکن اس کے باوجود مہاتیر محمد اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔ جبکہ سعودی عرب نے مقبوضہ کشمیر پر خاموشی اختیار کیے رکھی۔

تبدیلی سرکار کے یوٹرن کے بعد پاکستان کی خارجہ پالیسی سے متعلق سوال اٹھنے لگے ہیں کہ کیا پاکستان کی خارجہ پالیسی آزاد ہے ؟ کیا ایسے فیصلے پاکستان کو اپنے مشکل وقت کے دیرینہ دوستوں سے دور نہیں کرنے دیں گے ؟


ای پیپر