Source : Naibaat Mag

اقبال ؒ، خودی اور عشق رسولﷺ
17 دسمبر 2018 (23:59) 2018-12-17

خواجہ آصف جاوید:

یہ ایک حقیت ہے کہ خودی تک رسائی صرف اور صرف ہادی برحق حضرت محمد مصطفی کی ذات اقدس سے وابستہ ہوئے بغیرممکن نہیں۔ نبی کریم کی ذات اقدس سے شریعت وطریقت کی راہیں ملتی ہیں اور علامہ اقبال ؒ طریقت کے اسی شجر سے جو پھل حاصل ہوگا اس سے مستفید ہونے کا فرماتے ہیں۔ کیوں کہ شریعت عوام کے لیے ہے جبکہ خواص شریعت کے بعد طریقت کے میدان میں قدم رکھتے ہیں، جواس مقام کو پا لیتا ہے، وہی خدا کا نائب اور منصب انسانیت پر فائز ہے۔

محرم خودی سے جس دم ہوا فقر

تو بھی شہنشاہ میں بھی شہنشاہ!

اسی لیے علامہ اقبال ؒ فقر حجازی کی بات کرتے ہیں۔

ہمت ہواگر تو ڈھونڈ وہ فقر

جس فقر کی اصل ہے حجازی

اس فقر سے آدمی پیدا

اللہ کی شان بے نیازی!

کنجشک و حمام کے لیے موت

ہے اس کا مقام شاہبازی!

روشن اس سے خرد کی آنکھیں

ہے سرمہ بو علی و رازی

علامہ اقبال ؒفقر حجازی کے ساتھ فقر شبیری ؓ کا ذکر بھی کرتے ہیں ۔ کیونکہ ہادی برحق حضر ت محمد مصطفی اور حضرت امام عالی مقام حضرت امام حسین ؓ کے فقر کا مقصد انسانیت کو باطل قوتوں کے شکنجوں سے آزاد کرا کے‘ افرادِ معاشرہ میں اخلاق و کردار کا بیچ بوکر مثالی معاشرہ قائم کرنا اور انسان کو مقصد انسانیت کے مقام پر فائز کرنا ہے۔

علامہ محمد اقبال ؒ فرماتے ہیں:

چڑھتی ہے جب فقر کی سان پہ تیغ خودی

ایک سپاہی کی ضرب کرتی ہے کارِ سپاہ!

زمانے میں جھوٹا ہے اس کا نگیں

جو اپنی خودی کو پرکھتا نہیں

............

غافل نہ ہو خودی سے کر اپنی پاسبانی

شائد کسی حرم کا تو بھی ہے آستانہ!

غیرمسلم افراد خودی کی منزل پر گامنزن نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ وہ سچائی کی روشنی سے بہت دور ہیں ۔ آج کے دور کی سچائی دین اسلام ہے۔ لہذا خودی کی منزل پر گامزن ہونے کے لیے مسلمان ہونا ضروری ہے۔

کوئی جتنی مرضی عبادت کر لے اگر اس میں تقویٰ پیدا نہیں ہو رہا ہے تو پھر وہ کیونکر منصب انسانیت کے درجہ پر فائز ہوسکتا ہے ۔ کیوں کہ یہ مقام فرشتوں سے اونچا ہے۔ فرشتے پاکیزہ ہیں اور انسان جب تک اس منزل کو عبور نہ کرے وہ خودی کے مقام کو نہیں پا سکتا۔

یہ ذکر نیم شبی، یہ مراقبہ، یہ سرور

تری خودی کے نگہبان نہیں تو کچھ بھی نہیں

فرشتے خدا کے قریب اس لیے ہیں کہ اللہ نے ان میں گناہ کرنے کی طاقت نہیں رکھی ہے۔انسان علم و حکمت، پاکیزگی اور سچائی کی تڑپ کے بغیر خدا تک رسائی کیوں کر حاصل کر سکے گا۔گناہ کی طاقت کے باوجود گناہ نہ کرنا پیغمروںؑ کی صفت ہے۔ یہی چیز منصب انسانیت کا باعث ہے ۔کسی کو اپنی ذات پر کتنا کنڑول ہے۔ ایسے میں گناہ گار لوگ کیونکر خودی کے مسافر اور خدائی کے راز داں ہو سکتے ہیں۔ اس کے لیے پہلے انمول ہونا ضروری ہے ۔ یہ نہیں کہ کبھی رحمان اور کبھی شیطان کی پیروی کرے بلکہ سچائی کے ساتھ یک رنگ ہونا چاہیے۔

ہادی برحق حضرت محمد مصطفی کی ذات سے عشق کرنا اورآپ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا خودی کے حصول کا اہم ترین زینہ ہے۔

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

نگاہ عشق و مستی میں وہی اوّل، وہی آخر

وہی قرآن، وہی فرقان، وہی یٰسین، وہی طٰحٰہ !

اگر ہو عشق ، تو ہے کفر بھی مسلمانی

نہ ہو، تو مرد مسلماں بھی کافر و زندیق!

یہاں اشارہ حضرت سلمان فارسیؒ کی طرف ہے جنہوں نے سچائی کی تڑپ اور حضرت محمد مصطفی کا عشق ہونے کی وجہ سے کفر چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا ، جب کہ آج کا مسلمان دنیاوی حریص و لالچ کا شکار ہے اور اپنے مفادات کی تلاش میں اپنا دین و ایمان بیچ کھا رہا ہے۔ ایسا شخص کیسے عشق مصطفی کا دعوی کر سکتا ہے جو باطل کے سامنے سینہ سپر نہیں ہوتا اور حق کا پرچار نہیں کرتا۔ مطلب آج کا مسلمان اخلاق وکردار ہی نہیں بلکہ میدان عمل مطلب معاشرتی ظلم و ستم کے خلاف آواز اٹھانے سے بھی ڈرتا ہے، کیونکہ اس نے دنیا سے دل لگا لیا ہے۔

جس شخص کے دل میں ہادی برحق حضرت محمد مصطفی کی ذات اقدس، آپ کی صفات اور تعلیمات سے عشق نہیں ۔ وہ کیونکر اس مقام کا مسافر بن سکے گا۔ نکتہ چین اور دل میں آپ کی ذات کے متعلق وسوسہ رکھنے والے ابھی عشق کے رموز سے ناواقف ہیں۔ ابھی وہ ناقص عقل کی وجہ سے عشق کی منزل طرف رودواں ہونے سے قاصر ہیں۔ ایسے میں کسی مرد حق سے اپنے قلب و نظر کی صفائی کروا کر اور اس سے عشق کی تڑپ لے کر ہی میدان عمل میں قدم رکھا جا سکتا ہے

چاہے معاشرہ میں ظلم و زیادتیاں عروج پر ہوں۔ معاشرہ میں سچائی دم توڑ چکی ہو۔ معاشرہ کے اثرات قبول نہ کرنا اور سچائی پر کار بند رہنا ہی اصل جوہر زندگی ہے، ایسا شخص کیونکر خودی کا مسافر ہو سکتا ہے جس کے دل میں حق کی تڑپ ہی نہیں اور معاشرہ کی غلط رسم و رواج میں گم ہے ۔ خودی کا مسافر معاشرہ کی مخالفت کرتے ہوئے، خود کو حق پر کار بند رکھتا ہے ۔ وہ معاشرہ کی تقلید نہیں کرتا بلکہ ظالم کا ساتھ دینے کی بجائے حق پر قائم رہتاہے۔ اور اس کی مدد ایسے لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے جو حق اور سچائی پر ہوں۔ معاشرتی برائیوں سے نفرت اور خودی کی منزل کی طرف سفر کرنا ہی اس کی زندگی کا حاصل ہوتا خودی کی پرورش و تربیت

مرشد کامل کے ہاتھ پر بیعت کرنا اور اس سے اپنی اصلاح کرواتے ہوئے خود کو اعلی مقامات کی طرف گامزن کرنا خودی کی پرورش اور تربیت کا بہترین طریقہ ہے۔ اقبال ؒ فرماتے ہیں:

مہرو مہ و انجم کا محاسب ہے قلندر

ایام کا مرکب نہیں، راکب ہے قلندر!

علاج آتش رومی ؒ کے سوز میں ہے تیرا

تری خرد پہ ہے غالب فرنگیوں کا فسوں!

خودی کے مقامات کو عبور کرنے لیے پہلے ایسے شخص کی پیروی لازم ہے جو اس کی منازل طے کر چکا ہو۔ اگر تو تن تنہا اس میدان میں قدم رکھے گیا تو کامیابی تیرا مقدر نہیں ہو سکتی۔ یہی نہیں بلکہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ تُو کسی شیطانی قوت کے زیر اثر نہ چلاجائے اور اس کی پیروی میں لگ جائے۔

خودی کی پرورش و تربیت پہ ہے موقوف

کہ مشت ِ خاک میںپیدا ہو آتش ہمہ سوز!

تیری خودی میں اگر انقلاب ہو پیدا

عجب نہیں ہے کہ یہ چار سو بدل جائے!

آج کل کے نمود و نمائش اور وقتی فائدہ اٹھانے والے دور میں کیونکر کوئی خودی کا مسافر ہو سکتا ہے۔ ہر کسی میں ریاکاری کا عنصر پایا جاتا ہے ۔اسی لیے علامہ ؒ نے درویشی بھی عیاری اور سلطانی بھی عیاری کہا ہے۔ جہاں تک عوام کا تعلق ہے تو وہ روٹی کے لیے جیتے اور اس کے لیے مرتے ہیں ۔ان کی نظر میں بھی کوئی بلند مقصد نہیں۔ خودی کا درجہ کمال یہ ہے کہ تو خدائی کا راز دان ہو جائے ۔ اقبال ؒ فرماتے ہیں:

خودی کی موت سے مشرق کی سر زمینوں میں!

ہوا نہ کوئی خدائی کا راز داں پیدا!

اگر گوشہ نشینی اخیتار کرنے سے تو خدائی کا راز دان نہیں ہوتا اور خدا کی رحمت تجھ پر نہیں برستی، تجھ کو سمجھ لینا چاہیے کہ کوئی غلطی تجھ سے سر زد ہو رہی ہے۔ اپنے مرشد سے رجوع کر کے اور اس کی جلد از جلد اصطلاح کرنی چاہیے۔

ہادی برحق حضرت محمد مصطفی کی ذات اقدس کا دیدار نصیب کرنا اور آپ کی ذات سے فیوض و برکات حاصل کرنا مرد حق یعنی خودی کے مسافر کی اوّلین خواہش ہوتی ہے۔

عالم ہے فقط مومن جانباز کی میراث

مومن نہیں جو صاحب ِ لولاک نہیںہے!

تو اے مولا یثرب آپ مری چارہ سازی کر

مری دانش ہے افرنگی مرا ایمان ہے زناری!

اگر تو خودی کا مسافر ہے اور نبی کریم کا دیدار نصیب نہیں ہوا تو پھر سمجھ لیناکہ تیری خودی ناتمام ہے ابھی اور جب تک تو یہ مرحلہ طے نہیںلیتا، تُو خودی کی باقی کی منازل کیونکر طے کر سکے گا۔ دیدار کا نا ہونا تیری تڑپ میں کمی یا پھر ہادی برحق ﷺ کی ذات سے عشق میںحدت کا نہ ہونا ہے۔ پھر مرشد سے اس کو حاصل کر۔ جس طرح چاندی کے اوپر سونے کا رنگ چڑھ جاتا ہے اگر مرشد کامل تیرے اندر عشق کو سماد ے تو پھر تُو آہستہ آہستہ عشق کے مقامات کو خوب جان جائے گا۔ اور پھر ہر چیز سے بیگانہ ہو کر صرف اپنے محبوب کو ہی دیکھے گا یہاں تک کہ ہر جگہ تجھے اپنے آس پاس اور اپنے قلب میں اپنا محبوب ہی نظر آئے گا اور ایک وقت آئے گا کہ وہ محبوب جس کی آمد کا تُو منتظر تھا اور اس کی موجودگی کا احساس اپنے آس پاس محسوس کرتا ہے، آج وہ تیرے سامنے ہو گا۔ پس تیرے لئے لازم ہے کہ ادب اخیتار کر اور آپ سے فیوض و برکات حاصل کر۔ محبوب کے سامنے زبان درازی مت کر کہ یہ بھی بے ادبی ہے۔

اپنے ضمیر کا خاتمہ نہ کرنا اور معاشرہ میں اپنی شخصیت کو مثبت انداز میں پروان چٹرھانا اور معاشرتی برائیوں سے کنارہ کشی کرتے ہوئے‘ اس کے اثرات قبول نہ کرنا ۔ بلکہ اس کی اصلاح کی اپنے تئیں کوشش کرتے رہنا۔ اپنے جواہر کو پہچانا اور اس کی حفاظت کرنا جو خالق کائنات نے اس میں رکھے ہیں، مطلب کسی سے اپنی تربیت کروانا اور اس میں درجہ کمال حاصل کرنا اور اس قدر آگے چلا جانا کہ خود کو معاشرے کی قیادت کرتے ہوئے محسوس کرنا۔ ایسے شخص کو خدا کی ذات کیونکر ناکامی سے دوچار کرے گی جو قوموں کی تقدیر ہو ۔ حقیقی معاشرت قائم کرنا چاہتا ہو بلکہ وہ خود بارگاہ خدا کا مقبول بندہ ہے۔

اپنی قیمت وصول کرنا، دنیادار لوگوں کی طرح دنیاوی جاہ جلال کے پیچھے بھاگنا ، طاقت اور دولت کے نشے میں گم ہونا مرد قلندر کو زیب نہیں دیتا ہے، وہ دنیا کی کوئی ایسی خواہش پوری نہیں کرنا چاہتا جس سے اس کی خودی داو¿ پر لگنے کا خدشہ ہو۔ اقبال ؒ فرماتے ہیں:

مرا طریق امیری نہیں، فقیری ہے

خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر!

کسے نہیںتمنائے سروری لیکن

خودی کی موت ہو جس میں وہ سروری کیا ہے؟

تاثیر غلامی سے خودی جس کی ہوئی نرم

اچھی نہیں اس قوم کے حق میں عجمی لے!

تو ابھی رہگزر میں ہے قید مقام سے گزر!

مصر و حجاز سے گزر‘ پارس و شام سے گزر!

آج کا مسلمان اسلام کی حقیقی رو ح سے نا آشنا ہے اسی لیے وہ اپنے اخلاق و کردار کو بھی داﺅ پر لگانے سے گریز نہیں کرتا۔ جس کی وجہ سے مسلمان کی شان موجودہ دور میں نظر نہیں آتی ہے۔ وہ عہدہ، دولت اور طاقت کے سامنے سر جھکاتا نظر آتا ہے۔ جس کی وجہ سے معاشرہ میںبُرے اور شیطان صفت افراد کا تسلط قائم ہوگیا اور وہ افرادِ معاشرہ پراجارہ داریاں کرنے لگے۔ جس کی وجہ سے بے شمار برائیوں نے جنم لیا۔ آئیے! پھر سے ہادی بر حق حضرت محمد مصطفی کی ذات اقدس سے حق کی روشنی لے کر ہم اپنے کردار کی تشکیل نوکریں اور برائیوں کا خاتمہ کریں۔

٭٭٭


ای پیپر