زرداری کے پوشیدہ پیغامات
17 دسمبر 2018 2018-12-17

سابق صدر و پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے دورہ سندھ اور ان کے لب و لہجے کو بڑی اہمیت دی جارہی ہے۔ ان کا یہ دورہ سیاسی بھی تھا اور کاروباری بھی۔ انہوں نے نواب شاہ، بدین، ٹنڈو الہیار اور حیدرآباد کا دورہ کیا۔ نواب شاہ، بدین اور ٹنڈو الہیار میں ان کی زمینیں اور یگر جائیدادیں و کاروبار ہیں۔ ملکی فضا، حکومتی عہدیداران کے بیانات سے لگتا ہے کہ ان کی گرفتاری جلد متوقع ہے۔سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا بڑا لیڈر گرفتار ہونے والا ہے، انہیں سندھ کی بجائے پنجاب کی جیلوں میں رکھا جائے گا۔ پیپلزپارٹی کے سپریمو ممکنہ گرفتاری سے قبل اپنے کاروبار اور سیاسی حوالے سے تیاری کر رہے ہیں۔ آئندہ سال کسی بھی وقت بلدیاتی انتخابات بھی ممکن ہیں۔

زرداری ابھی منی لانڈرنگ کیس میں قبل از گرفتاری ضمانت پر ہیں اور سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ جے آئی ٹی کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایف آئی اے نے حسین لوائی سمیت 3 اہم بینکرز کو منی لانڈرنگ کے الزامات میں حراست میں لیا ہوا ہے۔ حسین لوائی اور دیگر کے خلاف درج ایف آئی آر میں اہم انکشاف سامنے آیا تھا جس کے مطابق اس کیس میں بڑی سیاسی اور کاروباری شخصیات کے نام شامل تھے۔ایف آئی آر کے مندرجات میں منی لانڈرنگ سے فائدہ اٹھانے والی آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی کمپنی اور زرداری گروپ کی ڈیڑھ کروڑ کی منی لانڈرنگ کی رقم وصولی کا ذکر بھی تھا۔عدالت نے آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپورکی ضمانت قبل از گرفتاری لے لی تھی جس کی مدت 21 دسمبر کو ختم ہوجائے گی۔

زرداری ذہنی طور پر گرفتاری کے لئے تیار ہیں کہتے ہیں کہ ’جیل ہمارا دوسرا گھر ہے، ہماری گرفتاری سے کیا ہوگا‘؟ بلکہ وہ اسٹبلشمنٹ کو ڈرا رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی کیخلاف جب بھی کارروائی کی جاتی ہے اس کی وجہ سے یہ اور بھی مضبوط ہوجاتی ہے۔

سابق صدر زرداری جو عموماً کم تقاریر کرتے ہیں انہوں نے جلسہ سے بھی خطاب کیا اور پریس کانفرنس بھی کی۔ آصف علی زرداری کے حالیہ بیانیہ میں پانچ نکات بہت ہی واضح ہیں۔ حکومت اٹھارہویں ترمیم واپس کرنا چاہتی ہے۔ بینظیر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام ختم کیا جا رہا ہے۔ تحریک انصاف سے جان چھڑا کر جلد پیپلزپارٹی حکومت بنائے گی۔ انہوں نے اپنی تقریر کا آغاز ہی اس جملے سے کیا کہ وہ اس جلسے کے ذریعے اسلام آباد میں بیٹھے، بہرے، اور انہیں سے مخاطب ہیں۔ بہت ہی پوشیدہ ا لفاظ میں انہوں نے عسکری اسٹبلشمنٹ اور وہ جو تین سال کی معینہ مدت پر آتے ہیں کہا ہے کہ انہیں اس ملک کے مستقبل کا فیصلہ کا حق نہیں پہنچتا۔ یہ صرف پارلیمنٹ کا حق ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان لوگوں کو تکلیف صرف 18ویں ترمیم کی ہے جس کی وجہ سے مجھ پر دباؤ ڈالا جارہا ہے۔

سابق صدر کی حیدرآباد اور ٹنڈو الہیار کی تقریر نے 16جون 2015 کو اسلام آباد میں کی تقریر کی یاد تازہ کردی۔ جس میں انہوں نے عسکری اسٹبلشمنٹ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ان کی پارٹی کی کردار کشی کی جاتی رہی تو وہ قیام پاکستان سے لیکر آج تک کے تمام جنرلز کے کرتوت ظاہر کر دیں گے۔ انہوں نے تب بھی تین سال کی معینہ مدت کا حوالہ دیا تھا ’’ میں جانتا ہوں کہ یہ ہماری فوج ہے۔ لیکن آپ صرف تین سال

کے لئے آتے ہیں۔ ہمیں لمبا عرصہ رہنا ہوتا ہے۔ لہٰذا ہمارے لئے مسائل پیدا نہ کریں‘‘۔ اگر ہمیں تنگ کیا گیا ، ہم اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔

حالیہ تقریر میں کسی کا نام لئے بغیر لیکن بظاہر لگ رہا تھا کہ ان کی مراد چیف جسٹس سے ہے۔ آپ کیوں مختلف مقامات کا دورہ کر رہے ہیں اور سوالات کر رہے ہیں؟ بھائی آپ کا واسطہ کیا ہےَ 9 لاکھ مقدمات التوا میں پڑے ہوئے ہیں آپ ان کو دیکھیں نا۔ آپ کی باقی عمر بھی نہیں آپ کا کوئی فیوچر بھی نہیں، آپ یہ کیسے نمٹائیں گے۔ ان کا اشارہ چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کی طرف تھا۔انہوں نے اسٹبلشمنٹ سے کہا کہ وہ پہلے نواز شریف کو لے آئے اب عمران خان کو لے آئے ہیں۔ اگر تحریک انصاف میں عقل نہیں تھی تو اس کو کیوں الیکشن کے ذریعے اقتدار میں لے آئے؟

تین سال پہلے اس طرح کا بیانہ اختیار کر کے وہ بیرون ملک چلے گئے تھے۔ لیکن اس مرتبہ لگتا ہے کہ وہ ڈٹ گئے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ ہم اداروں کو کمزور کرنا نہیں چاہتے۔ ہم نے انہیں جگہ دی وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ڈرتے ہیں ۔ ہم ان سے غیر جانبداری چاہتے ہیں ۔ اقتدار ہم اپنے زور پر لے لیں گے۔

آصف علی زرداری کی حکومت پر تنقید کا جواب یہ دیا جارہا ہے کہ دیا بجھنے سے پہلے ٹمٹماتا ہے اور آصف علی زرداری کے بیانات ایسے ہی ہیں۔آصف زرداری ایک تیر سے 3 شکار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،ان کا مقصد عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کو بلیک میل کر کے خود کو احتساب سے بچانا ہے۔پنجاب کے وزیرِ اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ آصف علی زرداری اور ان کے خاندان کے خلاف گھیرا تنگ ہونے والا ہے۔وفاقی وزراء کا کہنا ہے کہ زرداری اپنے فائدے کے لئے اداروں کو بلیک میل کر رہے ہیں۔

زرداری نے گزشتہ جولائی میں منعقدہ انتخابات کی شفافیت پر بھی سوالات اٹھائے ہیں کہ رواں برس ہونے والے انتخابات اگر شفاف ہوتے تو کپتان وزیرِ اعظم نہ ہوتے۔ سیاست میں کوئی فیصلہ لینے سے قبل یہ سوچنا پڑتا ہے کہ 100 سال بعد اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔آصف علی زرداری نے ملک کو موجودہ معاشی بحران سے نکالنے کا بھی نسخہ دیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں موقع دیں باہر کے بزنس مین کی ضرورت نہیں پڑیگی، انہوں نے اسٹبلشمنٹ کو پیغا م دیاکہ روز روزپاکستان کے ساتھ مذاق کرنا چھوڑ دیں کافی مذاق ہوچکا ہے، ملک3 سال آگے جاتاہے آپ ایک لکڑی اٹھاتے ہیں پھر ملک 15سال پیچھے چلاجاتا ہے،آپ سمجھتے کیوں نہیں ہیں؟

رواں سال 23 اکتوبر کو زرداری نے کہا تھا کہ مشترکہ اپوزیشن پارلیمنٹ میں تحریک انصاف حکومت کے خلاف قرارداد پاس کرے اور اس کے خاتمے کا مطالبہ کرے۔ زرداری کو پتہ ہے کہ وہ عمران خان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک نہیں لا سکتے۔ کیونکہ متحدہ اپوزیشن کے پاس مطلوبہ اراکین اسمبلی کی تعداد نہیں۔ ضمنی انتخابات کے بعد پہلے سے کمزور حکومت کی جان مزید عذاب ہو گئی ہے۔ جو پہلے ہی مخلوط ہے۔ وہ حکومت کا خاتمہ نہیں چاہتی لیکن اس کو غیر مستحکم رکھنا چاہتی ہے۔ نوے کے عشرے کی طرح کی سیاسی قوتوں کے درمیان کشیدگی نے منتخب حکومتوں کو اپنی آئینی مدت پوری نہیں کرنے دی۔ زرداری تحریک انصاف کی حکومت کے ساتھ ابتدائی طور اس طرح کا رویہ رکھ کر یہ برائی اپنے کھاتے میں نہیں ڈالنا چاہتے تھے کہ حکومت اور اسمبلی کو چلنے نہیں دیا گیا۔ وہ چاہتے تھے کہ حکومت اور اسٹبلشمنٹ حالات کے گرداب میں خود پھنسے گی تو ان کا رول نکل آئے گا۔ پاکستان کے معاشی بحران کا کوئی پختہ حل نہ نکلنے کی وجہ سے ایک نئی صورتحال سامنے آئی ہے۔

گزشتہ ہفتے خورشید شاہ نے بھی اشارہ دیا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت چھ ووٹوں پر کھڑی ہے۔ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے حیدرآباد کے حالیہ دورے سے قبل اختر مینگل سے ملاقات کی تھی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی میں عمران خان کی اکثریت بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے چار ووٹوں پر قائم ہے۔ بی این پی (مینگل) نے وزارت عظمیٰ کا ووٹ عمران خان کو دیا لیکن کابینہ میں شمولیت دونوں جماعتوں کے درمیان تحریری معاہدے پر عمل درآمد سے مشروط کر کے معذرت کر لی تھی ۔ معاہدے کا بڑا نقطہ گمشدہ افراد کی بازیابی کا تھا جس پر اب اختر مینگل زیادہ زور دے رہے ہیں۔

اپوزیشن کی حالیہ پیش رفت بھی سامنے آئی ہے ۔ اس گیم کی وجہ سے شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی مل گئی۔جب اپوزیشن نے دباؤ بڑھایا تو وزیر اعظم نے آرڈیننسوں کے ذریعے قانون سازی کی دھمکی دی۔ لگتا ہے کہ زرداری اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے تحریک انصاف حکومت کی کمزوری کو پہچان لیا ہے۔ اس کے جواب میں وہ سابق حکمرانوں پر ہی الزام تراشی میں مصروف ہے۔ تحریک انصاف تبدیلی اور اصلاحات کے نعرے کے ساتھ آئی تھی۔ لیکن وہ ماضی کو ہی کرید رہی ہے اور پیچھے کی طرف ہی دیکھ رہی ہے ۔


ای پیپر