افغانستان کا مسئلہ
17 دسمبر 2018 2018-12-17

کابل میں افغانستان ،پاکستان اور چین کے بڑوں کی بیٹھک ہو ئی ہے۔تینوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کی اس ملاقات کا مقصد سرجوڑ کر اس مسئلہ کا حل تلاش کرنا تھا کہ افغانستان میں امن کا قیام کس طرح ممکن ہو سکے گا؟ملاقات میں شریک تینوں ملکوں کے رہنماوں نے بعد میں مشترکہ پر یس کانفرنس کی۔انھوں نے سوالوں کے جوابات بھی دئے۔بعد میں مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا۔جاری شدہ اعلامیہ میں وہی سب کچھ لکھا ہوا موجود تھا جو اس سے پہلے بھی اسی طرح کے مجلسوں کی بعد جاری کیے گئے بیانات میں لکھا ہوتا تھا۔خاص کر گز شتہ چند بر سوں میں افغانستان کے بارے میں جتنی بھی اندورنی یا بیرونی ملاقاتیں ہو ئی ہیں ان سب میں یہی کچھ لکھا ہوتا ہے۔

ویسے تو افغانستان کے بارے میں ہر کانفرنس ہی اہم ہو تی ہے ،اس لئے کہ نہ صرف اسلام آبادبلکہ پوری دنیا کا امن بھی کابل سے منسلک ہے ،لیکن ماسکو اور اب کابل میں یہ ملاقات اہم اس لئے ہے کہ چند مہینے بعد وہاں صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں۔ابھی تک غیر یقینی صورت حال ہے۔موجودہ صدر ڈاکٹر غنی امیدوار ہونگے کہ نہیں؟ اگر وہ انتخابات میں حصہ لیں گے تو ان کو کس کا تعاون حا صل ہو گا؟یہی پوزیشن ڈاکٹر عبداللہ کی بھی ہے۔یہ بات تو یقینی ہے کہ وہ صدارتی انتخابات میں بھر پورحصہ لیں گے۔لیکن سوال پھر وہی کہ ان کا پشتیباں کون ہوگا؟حزب اسلامی کے سربراہ حکمت یار بھی مفاہمت کے بعد افغانستان میں مو جود ہیں۔وہ بھی صدارتی انتخابات میں حصہ لیں گے۔لیکن ابھی تک یہ بھی کنفرم نہیں کہ کون ان کی طرف داری کریگا؟اس وقت روس ،چین،ایران اور ترکی افغانستان میں غیر معمولی دلچسپی لے رہے ہیں۔یہ تمام ممالک افغانستان میں قیام امن کے لئے تقریباً ایک ہی صفحہ پرلیکن قابض فریق امریکا اور خطہ میں ان کا لے پالک ہندوستان اس اتحاد سے بالکل خوش نہیں ۔ اس لئے امریکا نے وقتاً فوقتاً ان مذاکرات کی مخالفت کی ہے یا جن مذاکرات میں باامر مجبوری حصہ بھی لیا ہے اس کا ابھی تک کوئی نتیجہ بر آمد نہیں ہو ا ہے۔

میرے خیال میں رواں بر س افغانستان کے بارے میں روس،چین،پاکستان اور ترکی نے جتنے بھی مذاکرات کئے ہیں،ان تمام کا بنیادی مقصد مشترکہ صدارتی امیدوار پر اتفاق رائے پیدا کرنا رہا ہے۔لیکن اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ امریکا ہے ،اس لئے کہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکا کہ وہ آنے والے صدارتی انتخابات میں کس کو سپورٹ کرے گا۔اس وجہ سے ان ممالک کو دشواری کا سامنا ہے۔غالب امکان یہی ہے کہ یہ ممالک حکمت یار کو موقع دینا چاہتے ہیں،لیکن صورت حال واضح نہ ہو نے کی وجہ سے ابھی تک اشاروں اور کنایوں میں بھی اس کا اظہار کرنے سے اجتناب کر رہے ہیں۔ان ممالک کے پاس دوسرا آپشن موجودہ صدر ڈاکٹر اشرف غنی ہی ہے،لیکن ابھی تک وہ بھی واضح پوزیشن میں نہیں ۔ڈاکٹر اشرف غنی کی کوشش ہے کہ امریکا کی حمایت حا صل کرے اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر وہ ان ممالک کو ہری جھنڈی دکھا دیں گے۔

اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ امریکا کی گر فت افغانستان پر کمزور ہے۔لیکن یہ بھی ماننا پڑے گا کہ جب تک امریکا افغانستان میں موجودہے ان کے مدمقابل افغان طالبان افغانستان پر مستقل قبضہ کر نہیں سکتے۔افغان طالبان افغانستان کے کسی بھی صوبہ میں کسی بھی ضلع پر قبضہ کر سکتے ہیں،لیکن اس قبضے کو بر قرار رکھنا ان کے لئے ممکن نہیں ہو تا۔افغان طالبان قبضہ اس وقت بر قرار رکھ سکیں گے جب وہاں سے امریکی افواج نکل جائیں۔حالات بتا رہے ہیں کہ امریکا نے ابھی تک افغانستان سے مکمل انخلا کامنصوبہ بنایا نہیں ہے۔اگر امریکا نے افغانستان سے نکلنا ہو تا تو وہ علاقائی ممالک کا ساتھ دیتا ،لیکن روس،چین ،پاکستان اور ترکی کی کو ششوں کا ابھی تک انھوں نے سرد مہری سے ہی جواب دیا ہے۔جس سے ثابت ہو تا ہے کہ امریکا ابھی بھی جانے کا نہیں بلکہ پنجے مزید گاڑھنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ امریکا شکست کو دیکھ کر بھی افغانستان سے نکلنے کی بجائے وہاں قیام پر بضدکیوں ہیں؟اس کی تین وجوہات ہیں۔ چین کے اثرورسوخ کو روکنایعنی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)کو سبو تاژ کرنا،پاکستان اور ایران پر دباؤ بڑھانا۔جب تک سی پیک کا منصوبہ مکمل نہیں ہوتا امریکا کبھی بھی افغانستان سے نکلنے کی حماقت نہیں کریگا۔یہ الگ بات کہ جب ان کو یقین ہو جائے کہ اب اس منصوبے کو روکنا ممکن نہیں تو پھرامکان ہے کہ وہ قبل از وقت اپنا بوریا بستر گول کر دیں۔

اب سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ اگر ایسا ہی ہے تو پھر یہ ممالک مذاکرات کا ڈھونگ کیوں رچاتے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ سب کچھ کرنا بین الاقوامی اور سفارتی نزاکتوں کا حصہ ہے۔ ورنہ سب کو معلوم ہے کہ افغان طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کس طر ح کامیاب ہو سکتے ہیں؟لیکن وہ سب کچھ یہ ممالک بر اہ راست اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ وہ جانتے ہیں کہ امریکا اس طرح افغانستان میں قیام امن کے لئے تیار نہیں ہو گا۔کیا پوری دنیا کو معلوم نہیں کہ روز اول سے افغان طالبان کی شرائط کیا ہیں؟ما سکو میں بھی انھوں نے وہی شرائط رکھیں۔لیکن کو ئی بھی ملک براہ راست امریکا کو نشانہ بنانے اور ان کو افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے کا مشورہ دینے سے گریز کر رہا ہے۔

افغانستان کے مسئلہ پر تمام ممالک ٹائم پاس کر رہے ہیں۔خود افغانستان کے حکمران بھی سنجید ہ نہیں۔اگر دنیا اور افغانستان کی حکومت سنجیدہ ہو تی تو اب تک افغان طالبان اور امریکا کو سامنے بٹھا کر اس مسئلہ کا حل تلاش کر چکے ہوتے۔طالبان کا مطالبہ ہے کہ بات چیت ہو گی تو امریکا سے۔کیوں دنیا کو شش نہیں کر تی کہ امریکا کو آمادہ کریں؟طالبان کا مطالبہ ہے کہ غیر ملکی افواج نکل جائے۔پھر کیوں اس نقطہ پر بات چیت نہیں کی جاتی؟ افغان طالبان مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے قیدیوں کو آزاد کیا جائے۔کیوں اس پر پیش رفت نہیں ہو رہی ہے؟ طالبان مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے رہنما وں پر سفری پابندیاں ختم کی جائیں ۔پھر کیوں اس مسئلہ کا حل تلاش نہیں کیا جاتا؟افغان طالبان کے جتنے بھی مطالبات ہیں ان میں زیادہ تر کا تعلق امریکا سے ہے۔اگر امریکا اور خود افغانستان کے حکمران چاہے تو اس مسئلہ کا حل نکل سکتا ہے۔مگر افسوس اس بات کا کہ افغانستان میں مفادات کی جنگ جاری ہے۔

امریکا کی خواہش ہے کہ ہندوستان کو خطے کا تھانیدار بنا کر ایشیا ء کو ان کے حوالے کیا جائے۔روس،چین اور پاکستان کو یہ قبول نہیں۔چین کی کوشش ہے کہ اس خطہ میں ان کی بالادستی ہو، جو امریکا اور ہندوستان کو منظور نہیں۔مفادات کی اس جنگ میں افغانستان اور پاکستان کے عوام رسوا ہو رہی ہے۔لاکھوں انسان بڑی طاقتوں کے مفاد ات پر قربان ہو گئے ،لیکن پھر بھی وہ امن کے لئے تیار نہیں ۔اگر امریکا چاہے تو چند دنوں میں افغانستان میں امن قائم ہو سکتا ہے ،لیکن ابھی تک ان کو اپنے مفادات عزیز ہیں جب بھی ان کو انسان کی جان کی حرمت کا احساس ہوجائے گا اسی وقت افغانستان میں امن قائم ہوجائے گا،اس لئے کہ افغانستان کا مسئلہ افغانستان کی حکومت،افغان طالبان اور امریکا کے درمیان چند روزہ مذاکرات سے ہی حل ہو سکتا ہے۔


ای پیپر