سی بی سرسید کالج راولپنڈی:کچھ مزید باتیں اوریادیں!
17 دسمبر 2018 2018-12-17

پچھلی صدی کی ستر کی دہائی کے وسط تک سی بی سرسید کالج میں تعینات اپنے ساتھی اساتذہ کا تذکرہ کرتے ہوئے مجھے دسمبر کے اِن دنوں میں جب 16دسمبر کی تاریخ گزر رہی ہے 1971ء کا ستم گر دسمبر یاد آرہا ہے۔ جس کی 16تاریخ ہم پاکستانیوں کے لئے قیامت بن کر ٹوٹی ۔ اُس دِن اسلام کے نام پر حاصل کردہ مملکتِ خدادادِ پاکستان کا مشرقی بازو اِس سے کٹ کر جُدا ہوا۔ بیت المکرم جیسی پُر شکوہ اور خوبصورت مسجدوں کے شہر ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں ہماری مشرقی کمانڈ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل امیر عبداللہ خان نیازی جو اپنے آپ کو ٹائیگر نیازی کہلوانا پسند کرتا تھا، نے اپنے بھارتی ہم منصب لیفٹیننٹ جنرل جگجیت سنگھ اروڑا کے سامنے ہتھیار ڈالے تھے۔ پاکستان کی شکست کی رُسوائے زمانہ دستاویز پر دستخط کیے تھے اور اپنا پستول گولیاں خالی کر کے فاتح دُشمن جنرل کو پیش کیا تھا۔ جنرل نیازی کا دعویٰ تھا کہ ہتھیار ڈالنے سے قبل وہ مرنا پسند کرے گا۔ غیر ملکی اخبار نویسوں کے سامنے اُس کے الفاظ تھے Surrender over my dead body۔ لیکن اِن الفاظ کی گونج ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ جنرل نیازی فحش لطیفے سنتے سناتے ہتھیار ڈالنے پر تیار ہو گئے ۔مجھے آج بھی یاد ہے اور میں اِسے زندگی کی آخری سانسوں تک بھول نہیں پاؤں گا کہ 16دسمبر 1971ء کو ہم سرسید کالج کے اساتذہ کی اکثریت کالج کے سائیکل سٹینڈ کے ساتھ کھلی پختہ جگہ پر دھوپ میں موجود تھی کہ ڈھاکہ میں ہتھیار ڈالنے کی خبر سامنے آئی۔ جسے سُن کر ہم میں سے اکثر کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور شاید میں کچھ زیادہ ہی پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔ آج تقریباً نصف صدی بعد بھی اِس واقعے کو یاد کرتے ہوئے بھی میری آنکھیں بھر آتی ہیں اَور شاید زندگی کی آخری سانسوں تک یہ صورتِ حال ایسے ہی برقرار رہے گی۔

میں واپس سی بی سرسید کالج کے اُس دور کے اساتذہ کی طرف آتا ہوں۔ محترم جمیل ملک مرحوم کا میں نے تذکرہ کیا۔ وہ وائس پرنسپل تھے۔ اُن کا تعلق راولپنڈی مری روڈ کے نواح میں محلہ وارث خان میں آباد معروف ملک پراچہ فیملی سے تھا۔ جمیل ملک صاحب سوشلسٹ نظریات کے مالک تھے۔ کسی زمانے میں وہ کمیونسٹ پارٹی جسے قیامِ پاکستان کے کچھ عرصہ بعد خلافِ قانون قرار دے دیا گیا تھا سے اُن کا تعلق رہا۔ انجمن ترقی پسند مصنفین سے تعلق اَور مشہور شاعر اور ادیب احمد ندیم قاسمی مرحوم جو بائیں بازو

کے نظریات کے لئے مشہور تھے سے بھی اُن کی نیاز مندی قائم رہی۔ جمیل ملک بلا شبہ ایک خوبصورت شاعر اور نقاد تھے۔ اپنے ہم راز ساتھیوں اور ہمجولیوں کے علاوہ دوسروں کے سامنے زیادہ کھلتے نہیں تھے۔ سٹاف روم میں بیٹھے ہوتے اور پیریڈ ہو جاتا تو اُن کا یہ معروف (Pet)جملہ سُنائی دیتا۔ حضرات پیریڈ ہو چکا ہے کلاسز میں پہنچیں۔ ہم نوجوان اور نسبتاً جونیئر سٹاف ممبر اُن کی غیر موجودگی میں اُنہیں چاچا کہتے۔ اُن کا بیٹا نوید ملک سکول میں میرا شاگرد رہا ۔ اچھا مودب،کم گو اور محنتی بچہ تھا۔ اللہ اُسے سلامت رکھے۔ جمیل ملک کے داماد پروفیسر جناب شوکت پراچہ جو رشتے میں اُن کے حقیقی بھتیجا بھی ہیں ریاضی کے لیکچرار کے طور پر ایف جی سرسید کالج میں تعینات ہوئے اور بطورِ پروفیسر ریٹائرڈ ہوئے ۔ مجھے خوشی ہے کہ اُن سے میرے نیازمندانہ تعلقات چلے آرہے ہیں۔

میں اکتوبر 1969ء سرسید کالج میں میں متعین ہوا تواُ س کے کچھ عرصے بعد ہی مجھے اور میرے ساتھ ہی یا مجھ سے کچھ آگے پیچھے تعینات ہونے والے دوسرے ساتھیوں میں سے کچھ کو ایسی صورتِ حال کا شکار ہونا پڑا جسے ناخوشگوار نہیں تو خوشگوار بہر کیف نہیں کہا جا سکتا۔ بات یہ تھی کہ ہم نئے آنے والوں جن میں راقم الحروف اور دوسرے دو تین ساتھی نمایاں تھے کا اِدارے یا کلاسز میں ایڈجسٹ ہونا کچھ مشکل بن گیا۔ اِس میں کچھ ’’مہربان دوستوں اور ساتھیوں‘‘ کا بھی ہاتھ تھا۔جو سٹوڈنٹ کی طرف سے کلاسز میں ہم جیسے ٹیچرز کے خلاف ہلے گُلے کو شغل میلہ سمجھ کر اِس کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ یہ پرانے ساتھی شاید اپنی سرشت اور فطرت کے ہاتھوں مجبور تھے کہ شام کو اپنے ہاں گروپس کی صورت میں ٹیوشن پڑھنے والے اپنے’’ نک چڑھے اور چہیتے سٹوڈنٹس‘‘کو باقاعدہ اس کے تیار کیا کرتے تھے۔ تاہم مجھے یہ تسلیم کرنے میں بھی کوئی عار نہیں کہ اس میں کچھ قصور اپنا بھی تھا کہ اپنے دیہاتی پن کی سادہ لوحی، اکھڑ پن، اَنا پسندی، غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح کہنے اور اپنے خیالات و نظریات پر کاربند رہنے کی ’’خامیوں‘‘ کی بنا پر دوسروں نے ہمیں آسانی سے تھوڑا ہی قبول کرنا تھا۔ خیر وقت کے ساتھ صورتِ حال تبدیل ہوتی گئی اور آخری تجزیے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ انجامِ کار سرخُر وئی رہی اور رَبِّ کریم کے کرم کے ساتھ بطور ایک نیک نام اور محنتی پرنسپل ملازمت کا اختتام ہوا۔

کالم میں گنجائش کم ہونے کی وجہ سے میرے لئے ممکن نہیں کہ میں اُس دور کے اپنے تمام ساتھیوں کا تذکرہ کر سکوں۔ محترم عرفان صدیقی میرے ہمدم دیرینہ ، قریبی ساتھی اور انتہائی محترم دوست پہلے سے ہی تھے۔ سی بی سرسید کالج میں بطورِ رفقائے کار فرائض کی سرانجام دہی میں ہماری رفاقت اور دوستی میں اور گہرائی اور مضبوطی پیدا ہوئی۔ اُن کے بارے میں ایک نہیں کئی کالم لکھ کر بھی شاید میں اُن کے ساتھ اپنے قریبی تعلق اور اُن کی شخصی خوبیوں اور خوبصورت شخصیت کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ نہ کر سکوں۔ میں اِسے فی الحال موخر کرتا ہوں تاہم اِتنا ضرور کہوں گا کہ پہلے سی بی سرسید کالج کے سکول سیکشن کے اُستاد کے طور پر ، پھر جلد کالج کلاسز کے لئے بطورِ لیکچرار اُردو انتخاب کے بعد اُنہیں اپنے رفقائے کار ، اپنے سٹوڈنٹس اور کالج انتظامیہ کے نزدیک اپنی ذاتی صلاحیتوں، اپنی اہلیت، قابلیت، محنت، لگن اوراعلیٰ کارکردگی کی بنا پر جو مقبولیت اور پسندیدگی حاصل رہی وہ شاید کم ہی لوگوں کے حصے میں آئی ہوگی۔ دوسرے ساتھیوں میں مَیں پہلے ڈاکٹر قاضی محمد عیاض کاذِکر کرنا چاہوں گا۔ وہ اور میں ایک ہی روز سرسید کالج میں آئے۔ قاضی صاحب محترم بی ایڈ میں میرے کلاس فیلو تھے۔ وہ بلاشبہ انتہائی نیک، صوم و صلوٰۃ کے پابند باعمل مسلمان ہی نہیں بلکہ ایک محنتی اور نیک نام اُستاد گردانے جاتے رہے ہیں۔ اُنہوں نے وقت سے قبل ملازمت سے ریٹائرمنٹ لے لی۔ عبدالحمید قریشی مرحوم اور محترم امیر ملک کی آپس میں گہری دوستی رہی۔ دونوں پسندیدہ اورہنس مُکھ شخصیات کے مالک ہونے کے ناطے سٹوڈنٹس اور رفقائے کاردونوں میں یکساں طور پرمقبول رہے ۔ عبدالحمید قریشی مرحوم ریاضی اور انگریزی دونوں مضامین اور محترم امیر ملک مطالعہ پاکستان کے اچھے اور ماہر اُستاد سمجھے جاتے تھے ۔محترم امیر ملک نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی جبکہ عبدالحمید قریشی فروری 2003ء میں ایف جی سرسید سکول کے پرنسپل کے طور پر ریٹائر ہوئے۔ چند ماہ قبل اُن کا انتقال ہوا۔ میں یہاں دیگر ساتھیوں میں سے ملک غلام رسول مرحوم اور امیر داد ملک مرحوم کا تذکرہ کرنا چاہوں گا۔ ملک غلام رسول مرحوم کا تعلق فیصل آباد سے تھا۔ وہ بڑے ہی محنتی اور جانثاراُستاد تھے۔ ساتھیوں کے کام آنا اُن کی سرشت میں شامل تھا۔اُن سے اکثر ہنسی مزاق چلتا رہتا تھا اور وہ ساتھیوں کی تنقید کا بُرا نہیں مناتے تھے۔وہ 2003ء میں بطورِ پرنسپل ریٹائر ہوئے۔ آٹھ دس سال قبل اُن کا انتقال ہوا۔ اللہ اُن کو غریقِ رحمت کرے۔ امیر داد ملک مرحوم سے میری رشتے داری بھی تھی وہ غیر شادی شدہ اور ریاضی کے بڑے اچھے اُستاد تھے ۔ غیر شادی شدہ رہے۔ گاؤں میں اُنہیں دوڑ والے بیل پالنے کا بڑا شوق تھا۔ اللہ اُنہیں بھی اپنی رحمتِ خاص سے نوازے۔


ای پیپر