اساتذہ کے نجی اداروں میں تدریس پر پابندی
17 دسمبر 2018 2018-12-17

پنجاب حکومت نے سرکاری کالجوں کے اساتذہ پر اکیڈمیوں، نجی تعلیمی اداروں میں پڑھانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ سرکاری تعلیمی اداروں کی اکیڈمیوں اور نجی تعلیمی اداروں میں بھی خدمات سرانجام دینے کا معاملہ بہت گھمبیر صورت اختیار کر چکا ہے۔ کالجز کے اساتذاہ نے اکٹھے ہو کر اکیڈمیاں بنا رکھی ہیں جہاں بھاری فیسوں کے عوض طلباء کو کوچنگ مہیا کی جاتی ہے۔ یہ اساتذاہ سرکاری کالجوں میں اپنی کلاسوں کو پوری محنت سے پڑھاتے ہیں نہ تعلیمی سال میں سلیبس مکمل کراتے ہیں، جس سے طلبا کو امتحانات کے دوران دشواری پیش آتی ہے۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں ان اساتذاہ کا دلجمعی سے نہ پڑھانا طلباء کو مجبور کرنے کے مترادف ہے کہ وہ نجی اکیڈمیوں کا رخ کریں۔ ایک وقت تھا جب سرکاری کالجز کو عزت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا لیکن آج انہیں کمزور اور محروم طبقات کے بچوں کے پڑھنے کی جگہ کے طور پر دیکھا جا رہاہے۔ ملک میں وسیع و عریض کیمپسز پر مشتمل کالجز ہیں جہاں دنیا جہاں کی سہولتیں میسر ہیں ان سہولتوں کا نجی کالجز سے تقابل کیا جائے تو زمین و آسمان کی دوری والا فرق نظر آتا ہے لیکن جب نتائج اور معیار کا موازنہ کیا جائے تو سرکاری کالجز کا معیار ہر سال تنزلی کی طرف جا رہا ہے۔ خاص طور پر سرکاری تعلیمی اداروں میں اساتذہ کا بے دلی سے طلباء کی رہنمائی کرنا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پیچیدہ صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ان تعلیمی اداروں کے استاد اور شاگرد ایک دوسرے سے لاتعلق ہوتے جا رہے ہیں، ہوں بھی کیوں نہ سرکاری کالجوں کے یہی اساتذہ جب اکیڈمی میں کوچنگ دیتے

ہیں تو ادھر ان کے پڑھانے کا انداز اور جذبہ کالج کی نسبت بالکل مختلف ہوتا ہے۔

نجی تعلیمی اداروں کے اساتذاہ عام سی تنخواہوں پر بھی جوش و جذبے سے طلباء کی رہنمائی کرتے ہیں، طلباء سے قریبی تعلق پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، دوستانہ ماحول میں ان کی رہنمائی کرتے ہیں اس طرح ایک دوسرے سے تعلق گہرا ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے وہاں طلباء نتائج بھی دکھاتے ہیں اور ساتھ ساتھ استاد اور شاگرد کا تعلق بھی مضبوط بنیادوں پر قائم رہتا ہے جب کہ اس بات کا مشاہدہ سرکاری کالجز کے اساتذہ اور طلباء کے باہمی تعلق سے کیا جائے تو صورتحال بہت ہی پیچیدا نظر آتی ہے ۔ معلم اور طالب علم میں غیر جذباتی تعلق خالص علمی اور عقلی حیثیت سے بھی بڑا مضر ثابت ہوتا ہے کیونکہ انسان صرف عقل ہی سے نہیں سیکھتا بلکہ جذبے کی روشنی میں بھی دیکھتا اور سمجھتا ہے۔ بچہ اپنے والدین کی مدد سے گرد و پیش کی دنیا کو پیدا کرتا ہے لیکن خود اپنی ذات کی تخلیق میں اسے استاد سے مدد ملتی ہے اچھا استاد شاگرد کے ظاہر سے واقف ہونے پر اکتفا نہیں کرتا وہ اس کے باطن کو سمجھتا ہے اور اس کی پوری شخصیت کا احاطہ کرتا ہے اور اس طرح خود اپنے نفس کو بھول کر ایک اور نفسِ انسانی کے فروغ کا باعث بنتا ہے۔ خود فروشی اور خود فراموشی کے اس عمل میں استاد اپنے صحیح مقام و منصب کو پہنچتا ہے یہ وہ مقام ہے جہاں شاگرد استاد سے سیکھتا ہے اور استاد شاگرد سے۔ لیکن آج صورتحال ویسی نہیں رہی بلکہ سرکاری تعلیمی اداروں میں استاد اور شاگرد کے درمیان عام کاروباری خیر سگالی کی حس بھی مفقود ہو چکی ہے۔ اس بات کا مشاہدہ کرنے کے لئے اگر آپ کسی سرکاری کالج کا رخ کریں تو آپ کو گمان ہو گا کہ آپ کسی ایسی دنیا میں آ گئے ہیں جہاں دو متحارب فریق استاد اور شاگرد بستے ہیں۔ استاد اپنے شاگردوں کے درمیان سے یوں گزر جاتا ہے جیسے اس کی نظر یں انسانوں سے دو چار ہی نہیں ہیں، دوسری طرف شاگرد اپنے استاد کو دیکھتے ہی آنکھیں چرانے لگتا ہے کیونکہ دونوں کو ایک دوسرے سے واجبی سی غرض ہوتی ہے اور دونوں کو اپنی اپنی اکیڈمی پہنچنے کی فکر ہوتی ہے۔ جب کہ یہاں کیفیت ہی دوسری ہے اساتذہ کو مستقل لگی بندھی آمدنی کے جانے کی فکر نہیں ہوتی بلکہ اضافی آمدنی پریشان کئے رکھتی ہے جس میں ان کی ذرہ سی لاپرواہی سے کمی ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے اس اضافی آمدنی کے لئے ان کا جذبہ ہی اور ہوتا ہے مستقل آمدنی کی فکر کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی وہ تو ہر حال میں مقررہ وقت پر میسر آ جانی ہوتی ہے اور اگلے سال اس کے کم ہونے کا اندیشہ نہیں ہوتا بلکہ اس میں ہر حال میں اضافہ ہی ہونا ہوتا ہے۔ یہ صورتحال بڑی ہی سنگین ہے جو ہمارے نظامِ تعلیم کو گھن کی طرح کھائے جا رہی ہے۔

عوام میں سرکاری اساتذاہ کے نجی کالجز اور اکیڈمیوں میں پڑھانے پر پابندی کے فیصلے سے خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور وہ حکومتِ پنجاب کے اس فیصلے پر مکمل عملدرآمد کی منتظر ہے کیونکہ موجودہ حکومت کا نعرہ ہی تبدیلی کا ہے تعلیمی میدان میں تبدیلی کی لہر یقیناً ملک کو کہیں آگے لے جائے گی۔پی ٹی آئی نے اپنے گزشتہ خیبر پختونخواہ کے دورِ اقتدار میں سرکاری تعلیمی اداروں کے حوالے سے بڑے انقلابی اقدامات کئے جن کے بہت مثبت نتائج سامنے آئے۔ نجی تعلیمی ادروں اور اکیڈمیوں میں سرکاری اساتذاہ کے پڑھانے پر پابندی سے سرکاری تعلیمی اداروں میں بہتری آئے گی اور سرکاری کالجوں اور نجی تعلیمی اداروں میں صحت مند مقابلہ ہو گا، جو کہ یقیناً بہتر تعلیم کی صورت میں سامنے آئے گا۔


ای پیپر