مسلمانوں کی تباہی کا پیش خیمہ
17 دسمبر 2018 2018-12-17

اللہ پاک نے قرآن پاک میں جا بجا بنی اسرائیل کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے ۔اللہ پاک بار بار بنی اسرائیل کو دئیے گئے انعامات اور نعمتوں کا تذکرہ کرتا ہے جو بنی اسرائیل کو بخشی تھیں ۔قرآن پاک کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ بنی اسرائیل اللہ کی بڑی لاڈلی یامحبوب قوم تھی لیکن اس قوم نے جب اللہ کی نعمتوں کی قدر نہ کی تو ان پہ زوال آگیا ۔انکی نسلیں تک تباہ کر دی گئیں ۔ہم جانتے ہیں کہ قرآن پاک کو اللہ نے ساری دنیا کی ہدائیت کے لیے اُتارا ہوا ہے ۔قرآن کا پیغام صرف مسلمانوں ہی نہیں بلکہ ساری دنیا کی بھلائی ہے ۔جب تک مسلمانوں نے قرآن کو سمجھ کے پڑھا تو انہوں نے نہ صرف اپنی زندگیاں بہتر کیں بلکہ مسلمان ایک لمبے عرصے تک دنیا پہ حکومت کرتے رہے ۔لیکن جب سے مسلمان قوم نے قرآن سے پہلو تہی کی ہوئی ہے ۔یا یوں کہیے کہ جب سے ہم نے قرآن کو صرف ثواب کے لیے پڑھنے کا عمل احتیار کیا ہواہے ۔ہمارے علما ء کرام قرآن سے دین و دنیا کے فلاح کی راہیں ڈھونڈنے کی بجائے مسلکی تفریق کی باتیں تلاشنے لگے ہیں ۔تب سے مسلم قوم دنیا میں محکوم بن رہی ہے ۔ایک وقت تھا جب دنیا کے بڑے حصے پر مسلمانوں کی حکومت تھی ہر روز مسلم انجےئنر زنئی نئی ایجادات کے بارے میں کام کرتے تھے ۔مسلم سائنس دانوں کا ساری دنیا میں ایک خاص مقام تھا ۔بلکہ یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ آج جو کچھ ایجاد ہورہا ہے اس کی بنیاد بھی قرآنِ پاک اور مسلمان سائنسدانوں کی مرہونِ منت ہے تو بے جا نہ ہوگا ۔ہم جانتے ہیں کہ میزائل سسٹم کی بنیاد بھی میسور کے سلطان ٹیپو نے ہی رکھی تھی ۔اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ مسلم شہسوار کس خوبی سے سر کش دریاوں میں گھوڑے اتار دیا کرتے تھے ۔لیکن یہ ایک تلخ حقیت ہے کہ مسلم قوم نے ایک لمبے عرصے سے خود کچھ نہ کرنے کا عہد کیا ہوا ہے ۔بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ آج کا مسلمان بے شک ایک آزاد ملک میں رہتا ہے لیکن اس کی سوچ اور فکر غیروں کی غلام بن چکی ہے ۔ایسا تو بالکل بھی نہیں ہے کہ مسلم ماوں کی کوکھ بنجر ہو گئی ہے ۔آج بھی ترقی یافتہ ملکوں میں جو نئی نئی ایجادات ہورہی ہیں ان میں مسلمان دماغ اپنا حصہ بخوبی ڈال رہے ہیں ۔لیکن چونکہ مسلمان قوم ابھی ذہنی غلامی میں ہے ۔اس لے بے پناہ وسائل ہونے کے باوجود بھی مسلمان دوسروں کے آگے سر تسلیم کرنے پر مجبور ہیں ۔اللہ پاک نے مسلمانوں کے لیے اپنی نعمتوں کی بہتات رکھی ہوئی ہے لیکن نعمتوں سے بے قدری نے بحثیت قوم مسلمانوں کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے ۔یہی وجہ امریکہ ایک عرب صحافی کے قتل کا الزام آج سعودی ولی عہد پر لگا کے ہماری دینی غیرت پہ کوڑے برسا رہا ہے ۔کبھی جن عرب کے شہسواروں کی ہیبت سے دشمانانِ دین کے پاوں لرزتے تھے آج وہی دشمنانِ دین اس عرب کے بادشاہِ وقت کو کہٹرے میں کھڑا کر رہے ہیں ۔حضرت اقبال ؒ نے کہا تھا کہ ’’ تھے وہ تمہارے ہی آباء مگر تم کیا ہو‘‘ آج بھی یہ مصرعہ مکمل ہماری کہانی بیان کر رہا ہے ۔دشمنانِ دین نے جہاں جہاں مسلمانوں کے زیر کیا ہے وہاں اس نے مسلمانوں کے اندر سے ہی میر جعفر اور میر صادق ڈھونڈ لیے ۔جب انگریز برصیغر پر قبضہ کر رہا تھا تو اس کے پاس صرف افسران اپنے تھے باقی ساری فوج اور چھوٹے کمانڈر یہیں کے باشندے تھے ۔اور آج بھی یہ حال ہے دنیا میں جہاں جہاں مسلم خون بہہ رہا ہے خون بہانے والے اور مرنے والے مسلم قوم کے لوگ ہی ہوتے ہیں ۔نقطہ صرف یہ ہے کہ مسلم قوم کو اغیار اپنے مقصد کے لیے استعمال کرنا جان چکے ہیں ۔جو انتشار ہمارے اندر تھا اسے بڑھایا جارہا ہے ۔پہلے مسلم علما ء کفار کو دین کی دعوت دیا کرتے تھے ۔آج کے علما ء اپنے فرقے کی دعوت دیتے نظر آتے ہیں ۔پہلے نصاب قرآن و حدیث تھا مقصد دینِ اسلام کی آبیاری تھا ۔آج نصاب قرآن و حدیث کے مرضی کے معنی نکال کے مقصد اپنے فرقے کی تعلیم بن چکا ہے ۔اس لیے آج مسلم دنیا میں ایجادات صرف انتہا پسندی کی ہورہی ہے ۔ہر روز نئے نام سے نئی تنظیم سامنے آجاتی ہیں ۔جن کا مقصد دین اسلام کے ماننے والوں کو کمزور کرنا ہوتا ہے ۔نتیجہ مسلم ملکوں میں نئی چیزیں بہت کم تیار ہو رہی ہیں ۔یوں کہہ لیجے کہ آج کے دن ساری سائنسی ایجادات مغرب کر رہا ہے ۔لیکن میرے حضور یہ بھی کیا ستم ظریفی ہے کہ ہم مسلمانوں کو یہ ایجادات استعمال کرنے کا ہنر بھی نہیں آرہا ہے ۔سوشل میڈیا کا کام مغربی دنیا میں جلد رابطے کے طور پر کام لیاجانا ہے ۔وہ لوگ اتنے مہذب ہوچکے ہیں کہ جو چیز جس مقصد کے لیے بنائی گئی ہو اسی مقصد کے لیے استعمال کررہے ہیں ۔لیکن میرے ملک کے لوگوں کو سوشل میڈیا کا مقصد گھر بیٹھ کے گھنٹوں وقت ضائع کرنا بن چکا ہے ۔ایک طرف سوشل میڈیا تعلیم،فن،آگاہی، رسومات اور معیشت کی بہتری کے لیے کام کر رہا ہے تو دوسری ہماری ساری قوم اس میڈیا کے ذریعے فحش کاموں میں جٹی ہوئی ہے ۔میں حیراں ہوجاتا ہوں جب مستند سمجھے جانے والے اہل علم لوگ سوشل میڈیا کے ذریعے گھٹیا قسم کے پیغامات فارورڈ کر دیتے ہیں ۔تب میرا یقین پکا ہوجاتا ہے ۔کہ قصور سوشل میڈیا کا نہیں ہے قصور ہماری سوچ ہے جو ہم نے کب کی گروی رکھی ہوئی ہے ۔اس سوچ کی آزادی کے لیے کام کیے بغیر ہم کبھی بھی ترقی نہیں کرسکتے ہیں ۔اگر امریکہ 249روس کا مقابلہ کرنا ہے تو اپنے اندر اپنے اسلاف کی سوچ پیدا کرنا پڑے گی ۔اپنے کردار کو اندر باہر سے نکھارنا پڑے گا ۔اپنے بچوں کو بچپن میں ہی سمجھانا ہوگا کہ ہم کس قوم کے نمائندے ہیں ۔ہمارا اصل ہیرو کون ہے ۔ہمارا اصل قائد کون ہے ۔یہ راہیں ہم نے آج متعین کرنی ہیں ان پر کام کرنا ہے تو پھر امید ہے کہ آنے والے بیس بائیس سالوں بعد جوان ہونے والی ہماری نسل اپنے اصلاف کے نقشِ قدم پہ چلتے ہوئے ایک بار پھر قیصر و کسری کے محلات پہ حملہ کرنے کے قابل ہوجائیں ۔ابھی خدا کے لیے اپنے بچوں سے بات کیجیے ۔انہیں سوشل میڈیا سے احسن کام لینے کا گر سکھائیے ۔جو نعمتیں اللہ پاک نے دی ہوئی ہیں ان کی قدر کرنا شروع کریں ۔تھوڑے رزق پہ رازی ہونا سیکھیں ۔اللہ برکت ڈال دے گا ۔موبائل فون کا غیر ضروری استعمال اپنی جگہ الگ مسئلہ بن چکا ہے حتکہ مساجد میں امام صاحب کے کہے جانے کے باجود نماز میں موبائل فون کی گھنٹی بج اٹھتی جو تمام نمازیوں کے لئے اذیت لئے ہوتی ہے اب تو نوجوان نماز میں میسج تک کرنا بھی غلط نہیں سمجھتے نہ صرف نوجوان بلکہ ہمارے پڑھے لکھے سمجھدار حضرات بھی مسجد میں اونچی آواز میں فون پر باتیں کررہے ہوتے ہیں اور اسے معیوب نہیں سمجھا جاتا خرابی کا یہ سلسلہ کہاں جا کر رکے گا خدا جانے لیکن مسلمانوں نے اگر اپنی اصلاح نہ کی تو یقینایہ انکے لئے بڑی تباہی کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے ۔


ای پیپر