سیف سٹی اتھارٹی لاہور، تباہی کے دہانے پر
17 اگست 2020 (21:55) 2020-08-17

سابقہ حکمرانوں نے بڑے دعوے کے ساتھ سیف سٹی اتھارٹی کا آغاز کیا تھا اور اس بات کا اظہار کیا تھا کہ اس کے آغاز سے شہر میں جرائم کی وارداتیںختم ہو جائیں گی، شہر لاہور کرائم فری ہو جائے گا۔ یہاں اب کوئی چوری وڈکیتی نہ ہوگی اور اگر خدانخواستہ ایسا کوئی واقعہ ہوتا بھی ہے تو ہم سیف سٹی اتھارٹی کے مہنگے اور جدید کیمروں سے مدد لے کر ملزمان تک پہنچ سکتے ہیں ۔ جب شہر میں سیف سٹی کے کیمرے نئے نئے نصب ہوئے تھے تو انہی دنوں میں گوالمنڈی چوک میں ایک کیمرہ اپنے اصل سے علیحدہ ہو کر بجلی کی تاروں سے لٹک رہا تھا اور اربوں روپوں سے شروع ہونے والے سیف سٹی اتھارٹی کی قابلیت کا پول کھول رہا تھا۔ میں نے اپنے طور پر اس کیمرے کی تصویر لے کر سوشل میڈیا پر شئیر کی، جس کے بعد کئی چینلز نے اس پر رپورٹ بھی نشر کی تھی ۔ 

اپنے ابتدائی ایام میں ہی یہ سسٹم غیر فعال ہو چکا تھا اور رہی سہی کسر ہمارے محکمہ پولیس کے کام چور اور نکمے لوگوں نے پوری کر دی تھی ۔ جب بھی شہر میں ہونے والے قتل، ڈکیتی، اور چوری کی واردات ہوتی تو محکمہ پولیس کے لوگ سیف سٹی والوں پر اور سیف سٹی کے لوگ محکمہ پولیس والوں کی کم علمی پر سارا ملبہ دال دیتے اور یوں بجائے معاملات بہتر ہونے کے خراب ہوتے چلے گئے ۔ نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ سیف سٹی اتھارٹی لاہور کے آدھے سے زائد کیمرے غیر فعال ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے جہاں تمام کیمرے ٹھیک ہونے پر بھی کوئی خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہو پارہے تھے، وہاں آدھے سے زائد کیمروں کی خرابی کی وجہ سے جو حالات ہیں ، اس کا اندازہ اہلیان لاہور اور بالخصوص جن شہریوں کے ساتھ ڈکیتی، چوری اور ٹریفک ایکسیڈنٹ کی 

وارداتیں ہوئی ہیں وہ بخوبی لگا سکتے ہیں کہ وہ پولیس اور سیف سٹی اتھارٹی کے درمیان فٹبال بنے ہوئے ہیں ۔ تھانے کی پولیس کہتی ہے کہ فلاں کیمرے سے ریکارڈ نہیں ملا، اور اتھارٹی والے کہتے ہیں کہ ہمارے سب کیمرے چالو حالت میں ہیں ، پولیس والے غلط بیانی کر رہے ہیں ۔ 

قارئین کرام ! ڈکیتی و چوری جیسی وارداتوں میں تو چلیں شہریوں کو مال و دولت سے محروم ہونا پڑتا ہے ، اس لئے وہ وقت کے گذارنے کے ساتھ صبر کر جاتے ہیں لیکن شہر میں غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ کی وجہ سے آئے روز شہریوں کی اموات ،اور اس کی وجہ سے مر نے والوں کے لواحقین اپنا غم تا حیات نہیں بھلا سکتے ۔ گذشتہ دنوں میری بہن اور بہنوئی کے ساتھ بھی ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا جب ون وے کی خلاف ورزی کرتا کار ڈرائیور ، نشے میں دھت انہیں ردندتا ہوا آگے نکل گیا۔ اللہ کا فضل ہوا کہ زیادہ نقصان تو نہ ہوا البتہ6سالہ بھانجا کئی جگہوں سے شدید زخمی ہوا اور زخم اتنے گہرے تھے کے ٹانکے لگوانے پڑے، اس موقع پر بہنوئی نے کار ڈرائیور کو پکڑ کے ڈیوٹی پر موجود وارڈن کے حوالے کیا اور خود بچے کو لے کر طبی امداد کے لئے پاس ہی سروسز ہسپتال لے گئے ۔ واپس آنے پر معلوم ہوا کہ موصوف وارڈن صاحب نے ان صاحب کو باعزت جانے دیا چونکہ انہوں نے اپنی لاہور بار کی ممبر شپ کا کارڈ دکھایا اور کہا کہ میں وکیل ہوں ۔ یعنی وکیلوں کو اجازت دے دی گئی کہ آپ شہریوں کو سر عام شراب کے نشے میں مست ہو کر معصوم شہریوں کو کچلتے جائیں ، ہم آپ کو چھوڑتے جائیں گے۔ ہم نے اپنے طور پر کوشش کی کہ وہاں لگے کیمرے سے کچھ معلومات مل سکیں لیکن بقول پولیس کہ یہ کیمرہ کئی دنوں سے خراب ہے ۔ 

ایک ایسا ہی اندو ہناک واقعہ پھر سامنے آیا ہے کہ لاہور کے علاقے باغبانپورہ میں ایک پک اپ ڈرائیور انتہائی بے رحمی کے ساتھ موٹر سائیکل پر سوار بزرگ میاں بیوی کو کچلتے ہوئے فرار ہو گیا۔ شوہر کی تو موقع پر ہی ہلاکت ہوگئی جبکہ بیوی ریڑھ کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ چکی ہے اور جسم پر درجنوں زخم آئے ہیں ۔ اس کے علاوہ باپ کی موت اور ماں کی اس حالت کی وجہ سے اولاد اور عزہ و اقارب جس پریشانی میں مبتلا ہیں اس کو لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے ۔ اس اندو ہناک واقعے کی ایف۔آئی۔آر نمبری:1399/20 تھانہ شالیمار میں مورخہ9اگست کی درج ہے اور ابھی تک پولیس والے اس نامعلوم پک اپ ڈرائیور کا سراغ نہ لگا سکے ۔ یہاں بھی سیف سٹی اتھارٹی کے کیمرے کی خرابی وجہ بتائی جا رہی ہے اور پولیس بھی اربوں روپے بجٹ ہضم کرنے کے باوجود اپنی تمام تر ذمہ داری سیف سٹی پر ڈالتی نظر آتی ہے ۔ میں اس موقع پر خصوصی درخواست کروں گاایس۔ ایس۔پی انوسٹی گیشن جناب ذیشان اصغر سے کہ آپ کی نیک نامی کے کئی واقعات کے ہم چشم دید گواہ ہیں ، لیکن آپ کی سپاہ میں موجود کچھ کالی بھیڑیں اپنی کرتوتوں کی وجہ سے آپ کی نیک نامی پر حرف کا موجب بن رہی ہیں ۔ یہ کیس بھی انہی کالی بھیڑوں کی وجہ سے مس مینج ہو رہا ہے اور زیاددہ وقت گذر گیا تو کچھ بھی حاصل نہ ہو سکے گا سوائے چھوٹے بچوں کا مرنے والے باپ اور بستر علالت پر مری ماں کو دیکھ کر ہاتھ اٹھاکر بد دعائیں دینے کے ، ابھی بھی وقت ہے کہ ہم ان کی بد دعائوں سے بچیں اور سیف سٹی اتھارٹی جو خود تبای کے دہانے پر ہے سے کسی بھی امیدسے آزاد ہو کر پولیس کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ایسے واقعات کی روک تھام کی جائے ۔ 


ای پیپر