آہ! ہمارے پاء جی اعظم بٹ شہیدؒ !
17 اگست 2020 (21:54) 2020-08-17

9 اگست کی صبح 9 بجے امریکہ سے ایک دوست جس کی آواز بہت تیز کانوں کو کیا روح و قلب اور جگر کو چیر گئی کہ آپ کے بھائی اعظم بٹ صاحب کا بہت افسوس ہوا ہے میں چونک گیا کہ صبح کے 9 بجے ہیں کوئی ایسی بات نہیں۔ تم امریکہ سے کیا اطلاع دے رہے ہو۔ اس نے میرے گوجرانوالہ میں ہمسائے کا نام لیا میں نے اس کا فون بند کر کے پاء جی اعظم صاحب کو فون کیا ۔اس خواہش کی شدت کے ساتھ فون اٹھنے کا انتظار کیا۔ کہ اللہ کرے دوسری طرف سے پاء جی کی آواز آئے اور اس المناک خبر کی تردید ہو مگر میری بھتیجی عائشہ نے فون اٹھایا جو رو رہی تھی چاچو آپ کدھر ہیں؟ میں نے کہا بیٹا کیا ہے ؟کہنے لگی بس آپ آ جائیں۔ بس ایک جہاں تھا جو تہہ وبالا ہو گیا گویا!

اور میرے بڑے بھائی پاء جی اعظم بٹ صاحب شہیدؒ کا اللہ سے وصال ہو چکا۔ (جنہوں نے کبھی کسی رشتے کو مایوس کیا نہ صلہ مانگا) میں نے کہا میرے اللہ تو مالک ہے، تیری مرضی اور رضا کے سامنے کون بول سکتا ہے۔ مگر تو نے لوگوں کی تو تقدیر لکھی جبکہ ہمیں دنیا میں بھیج کر ہمارے فسانے بنا ڈالے۔ ابھی مجھ میں سکت نہیں کہ ان کے متعلق کچھ لکھ پاؤں۔ کبھی ہمت پڑی تو ان کی شخصیت اور زندگی کے بارے ضرورلکھوں گا۔ ان کی غریب پروری ان کا دسترخوان، مہمان نوازی، خلوص، خوش اخلاقی، خوش گفتاری، لوگوں سے وابستگی، وضعداری، مزاح، احساس، عظمت، حمیت،عفو و درگزر، جرأت کہ بقول جناب محمد سلیمان کھوکھرنے جو اپنے کالم میں لکھا کہ (وہ گوجرانوالہ کا منہ متھا تھے، انہوں نے پیچھے سے وار کرنا تو سیکھا ہی نہ تھا)۔ مجھ میں ابھی ہمت نہیں البتہ اتنا ضرور کہوں گا کہ اگر اُن کی زندگی کو میں دو الفاظ دوں تو وہ قربانی اور خلوص ہے۔ ہم خوش نصیب ہیں کہ ہمارے بڑے بھائی ہیں۔ میرے والد جناب حاجی عنایت اللہ شہزادہ صاحب کے کردار کا وہ تسلسل تھے۔ ابھی میرے والد صاحب کی خدمت خلق اور دنیا سے حسن سلوک کی کہانیاں پوری نہ ہوئیں کہ جیل روڈ لاہور کے چیئرمین معظم بٹ جو میرے بڑے بھائی تھے کی دوست نوازی اور غریب پروری کے قصے اور صدمہ جاری تھاکہ پاء جی اعظم بٹ شہیدؒ کا المناک سانحہ ہو گیا۔ پاء جی اعظم بٹ شہیدؒ کی فراخ دلی ، زندہ دلی، عفو و درگزر،دوست نوازی ، غریب پروری بلا تفریق تھی۔ مجھے ہمیشہ تلقین کرتے کہ لوگوں سے وفا کی امید نہ رکھا کرو، بس اپنا آپ اور اللہ کی رضامدنظر رکھو۔ بادل بارش کے باوجود ہر شعبہ زندگی سے ہزاروں لوگ ان کے سفر آخرت میں شریک ہوئے۔ ہر آنکھ اشک بار تھی۔ بس!اُن کے دونوں بیٹے پروفیسر حسین اعظم، بیرسٹر عمیر اعظم (کینیڈا) اور بیٹوں جیسا بھتیجا پروفیسر ڈاکٹر ہمایوں معظم (آسٹریلیا) سے 

فلائیٹوں کی وجہ سے شریک نہ ہوئے جو دو دن بعد پہنچے۔ 

شرکاء میں کوئی ہو گا جس کے پاء جی اعظم بٹ شہیدؒ مشکل وقت میں کام نہ آئے ہوں اور شاید ہی کوئی ہو جو ان کے دسترخوان پر مہمان نہ بنا ہو۔ ایک معصوم دل اور سادہ روح کے مالک تھے۔ فی البدیعہ مزاح، دوسروں کے لیے درد مندی، حسن سلوک، اعلیٰ اخلاق ، بہترین کھانا اور پہناوا اُن کی نمایاں خصوصیات تھیں۔ پاء جی اعظم شہیدؒ ایک طرز زندگی کا نام ہے جس کو اپنوں، بیگانوں، دوستوں اور جاننے والوں نے بھی اپنانے کی کوشش کی۔وہ ہزاروں چاہنے والوں کے دلوں میں بستے تھے۔ رب کعبہ کی قسم کھاتے پیتے درجنوں نہیں سینکڑوں لوگوں نے مجھے کہا کہ آج وہ یتیم ہو گئے۔ 

میرے دوست جانتے ہیں جب میں اداس ہوتا ہوں تو جہاں میرے آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر میری کمزوری ہے وہیں میری طاقت بھی ہے۔ آقا کریم ؐ کی حیات طیبہ اہل بیعت و صحابہ اجمعین ؓکی زندگیاں ٹوٹتے ہوئے انسان کو انمول سہارا دیتی ہیں۔ 

بے شک میرے پاء جی سے لوگوں نے بہت محبت کی مگر اُنہوں نے ہر رشتے سے عشق کیا۔ سماج اور معاشرت میں اُن کا 45 سالہ بے لوث خدمات کا دور ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ اللہ اس صدمے کو ہماری قوت میں بدلے گا اور روحانی پاکیزگی کا سبب بنے گا۔ اللہ اور انسان کا جہاں خالق اور مخلوق ، معبود اور خالق، بندگی اور اطاعت کا تعلق ہے وہاں مان کا تعلق بھی ہے۔ انسان بشری تقاضوں کے سبب کبھی اللہ کا مان رکھنے سے قاصر رہے لیکن اللہ تو کسی کا محتاج نہیں۔ مجھے اللہ سے یہ گمان ہے، میرا ایمان و مان ہے جونہی میرے پاء جی کی زندگی مکمل ہوئی ان کی آنکھ جنت میں کھل گئی۔ میرے رب نے ان کو بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل کردیا۔ 

آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلیم نے فرمایا کہ (مفہوم) اگر آپ کو آپ کے دکھ تنگ کریں، غم پریشان کریں تو میرے دکھ اور غم یاد کر لیا کرو۔ 

آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے والد ماجد جو مکہ کے سب سے حسین جوان جناب حضرت عبداللہ سلام اللہ علیہ کو دیکھا نہ تھا۔ والدہ ماجدہ  7 سال کی عمر میں ابواء کے مقام پر مسافرت میں وصال پا گئیں، دادا 8 سال کی عمر میں اور پھر چچا حضرت زبیر کے بعد چچا حضرت ابو طالب اور ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ کفار سے بھرپور دشمنی کے دور میں اس وقت دنیا چھوڑ گئے کہ شدت غم میں سرکار نے اس سال کو عام الحزن غم کا سال قرار دیا۔ منافق قسم کے دوستوں کا ہم گلہ کرتے ہیں مگر میرے آقا ؐ کومنافقین نے کس کس انداز میں تنگ کیا؟ حضرت علی ؑجانثاران اور منافقین کے نرغے میں رہے۔ جناب سیدہ فاطمہ زہرہؑ عمر بھر مغموم رہیں۔ صحابہؓ نے جو مصیبتیں اٹھائیں وہ دنیا میں اپنی مثال نہیں رکھتیں۔ منافقت اور جفا نے تو آقا کریمؐ کی آل کو ذبح کر ڈالا۔ ہم گناہ گار کیا حیثیت رکھتے ہیں بس ایک دعویٰ ہے سرکار کی غلامی اور شفاعت کا جو ہماری ڈھارس ہے۔ اللہ کریم اس کے بدلے میں ہمارے دلوں کو ٹھنڈک اور ہمارے شہید بھائی کو بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل کر دے اور درجات بلند کر دے۔ 

اب یہ تو میرے اور مجھ ایسے باقی لواحقین اور دوستوںکا صدمہ ہے جو چاہے عزاداروں میں ہو یا عزیزوں میں کہ سوئمنگ پول پر انہوں نے کیسے اپنی نئی نسل کی جان بچانے کے لیے بسم اللہ الرحمن الرحیم اور لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھ کر انسان سے فرشتے کا روپ دھارا اور مالک حقیقی سے وصال ہو گیا۔ 

ہر دوست اور عزیز کی حالت یہ ہے کہ!

سنے کون قصہ درد دل کا میرا غمگسار چلا گیا

جسے آشناؤں کا پاس تھا وہ وفا شعار چلا گیا

جسے میں سناتا تھا درد دل وہ جو پوچھتا تھا غم دوراں

وہ گدا نواز بچھڑ گیا، وہ عطا شعار چلا گیا

تاجدار چلا گیا

میرے ابا جی کہا کرتے تھے اعظم تم رات کو جو پیسے بچ جاتے ہیں وہ گھر کی چھت پر کھڑے ہو کر باہر پھینک دیتے ہو۔ابھی پاء جی اعظم شہید ؒ کے بیمار غم سے اتنا ہی باقی ان کی زندگی، احباب اور متعلقین کے بارے میں مضمون میں اپنی کتاب میں دے سکوں گا۔ اللہ کریم ان کی شہادت قبول فرمائے۔ ہمیں تو ان کے دوستوں اور غم خواروں کی صورت میں اُن کی صورت نظر آتی ہے جو سراپا آنسو بن چکے ہیں۔ جن کے لیے گوجرانوالہ اب پروفیسر من موہن سنگھ کی پنجابی نظم ’’امبی دا بوٹا‘‘ بن کر رہ گیا ہے۔ شہر کے لوگ اُن کو پاء جی اعظم جبکہ بچے پاپا کہہ کر پکارتے تھے۔ 

٭انسان کے بس میں اتنا ہی ہے کہ وہ اپنے آپ کو بے بس تسلیم کر لے۔ 

ابھی تو ہر ایک کی حالت یہ ہے کہ 

دل گیر بہت ہوں مرا دم گھٹنے لگا ہے 

اک تیرے بچھڑ جانے سے بچھڑا ہوں میں خود سے

دنیا ہوئی ویران مری کچھ ایسی کہ 

اب شہر خموشاں ہی میں دل لگنے لگا ہے

پاء جی اعظم شہیدؒ صاحب ابھی اتنی ہی، ہمت نہیں ہے۔

گر لکھا تھا مقدر میں، مقدر ہی سے لڑنا

آدم کو بھی صاحب مقدور کیا ہوتا

(آصف عنایت بٹ)


ای پیپر