فیصلے کی گھڑی
17 اگست 2020 (21:53) 2020-08-17

ایک گاؤں میں مولوی صاحب رہتے تھے۔مولوی صاحب کا کوئی دوسرا ذریعہ آمدن نہ تھا۔ گاؤں میں رہتے ہو ئے گزارہ بہت مشکل تھا۔اسی گاؤں میں کوئی نیک دل جاگیردار بھی رہتا تھا تو اس نے زمین کا ایک ٹکڑا مولوی صاحب کو ہدیہ کیا کہ ویسے بھی سارا دن آپ فارغ ہوتے ہیں تو کھیتی باڑی کریں تاکہ گزارہ اچھا ہو۔ مولوی صاحب نے گندم کاشت کرلی اور جب فصل ہری بھری ہوگئی تو بڑی خوشی ہوتی تھی دیکھ کر اس لئے دن کا اکثر وقت وہ کھیت میں ہی بیٹھے رہتے اور فصل دیکھ دیکھ کر خوش ہوتے۔لیکن اچانک ایک ناگہانی مصیبت نے اِن کو کو آن گھیرا…گاؤں کے ایک آوارہ گدھے نے کھیت کی راہ دیکھ لی…گدھا روزانہ کھیت میں چرنے لگا۔ مولوی صاحب نے پہلے تو چھوٹے موٹے صدقے دیئے لیکن گدھا منع نہیں ہوا۔پھر اس نے مختلف سورتیں پڑھ پڑھ کر پھونکنا شروع کردیا لیکن گدھا پھر بھی ٹس سے مس نہیں ہوا۔ایک دن پریشان حال بیٹھے گدھے کو فصل اجاڑتے دیکھ رہے تھے کہ ادھر سے ایک کسان کا گزر ہوا۔ گدھے کو چرتا دیکھ کر کسان  نے پوچھا مولوی صاحب ! آپ عجیب آدمی ہیں گدھا فصل تباہ کر رہا ہے اور آپ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں؟مولوی صاحب نے عرض کیا کہ جناب ہاتھ پر ہاتھ دھرے کہاں بیٹھا ہوں؟ ابھی تک ایک مرغی اور بکری کے بچے کا صدقہ دے چکا ہوں اور کل سے آدھا قرآن شریف بھی پڑھ کر پھونک چکا ہوں لیکن گدھا ہٹتا نہیں ہے۔ مجھے تو یہ بھی گدھا کافر لگتا ہے جس پر کوئی شے اثر نہیں کرتی ،کسان کے ہاتھ میں ایک ڈنڈا تھا وہ سیدھا گدھے کے پاس گیا اور گدھے کو دوچار ڈنڈے کس کر مارے تو گدھا کسی ہرن کی طرح چوکڑیاں بھرتا ہوا بھاگ کھڑا ہوا۔کسان نے کھیت سے باہر آکر 

ڈنڈا مولوی صاحب کے حوالے کرتے ہوئے کہا …قبلہ مولوی صاحب قرآن گدھوں کو بھگانے کیلئے نازل نہیں کیا گیا۔ گدھوں کو بھگانے کیلئے اللہ تعالیٰ نے یہ ڈنڈا بھیجا ہے۔ہم پاکستانی بھی عجیب قوم ہیں۔ ہمارے حکمران اور ہمارے حکمران بھی عجب ہیں۔

متحدہ عرب امارات سات ریاستوں پر مشتمل مشرق وسطیٰ کا ایک اہم ملک ہے جو کہ پہلے چھ ریاستوں پر مشتمل تھا۔ دسمبر انیس سو اکہتر میں ایک وفاق کی شکل میں معرض وجود میں آیا۔ ساتوں ریاست راس الخیمہ نے فروری انیس سو بہتر میں چھ ریاستوں کے اتحاد میں شمولیت اختیار کی اور یوں متحدہ عرب امارات کی تکمیل مکمل ہوئی یہ ایک غریب ریاست تھی جس کی معیشت کا انحصار صرف موتیوں کی صنعت پر تھا اس کی ایک ریاست دبئی جو ایک بندرگاہ ہے تیل کی تجارت کے لیے استعمال ہوتی تھی مگر پھر متحدہ عرب امارات کے دن پھرنے لگے اور ملک میں تیل کے کنویں کھودے جانے لگے اور یوں متحدہ عرب امارات ایک امیر ریاست میں تبدیل ہوتا گیا یہ ریاست عربوں کے لیے اور اسلام کے لیے اپنی دولت بھی دینے لگی اس نے ر وسی کافروں کو روکنے کے لیے سعودی عرب کے ساتھ مل کر پاکستان کی مدد بھی کی اور اس کے پاکستان کے ساتھ تعلقات مضبوط مذہبی بنیادوں پر استوار ہونے لگے متحدہ عرب امارات فلسطین کی آزادی کے لیے بھی اپنے دوسرے عرب ممالک کے ساتھ کھڑا رہا اس نے فلسطین کے لیے معاشی امداد بھی فراہم کی اور اسرائیل کے ناجائز قبضے کے خلاف اقوام عالم میں فلسطین کی حمایت کے لیے اپنی آواز بھی بلند کی آتھ ماہ پہلے متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاہد النہیان نے ایک ٹویٹ کیا جس میں انہوں نے عرب ریاستوں کے اسرائیل کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا اور اس کی حمایت بھی کی اسرائیلی وزیراعظم نے اس کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ یہ امن کی ضرورت ہے یوں پوری دنیا کے کان کھڑے ہوئے کہ کیا متحدہ عرب امارات اسرائیل کو تسلیم کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے اس سلسلے میں بہت سی سازشی تھیوریاں گھڑی گئیں مگر تیرہ اگست کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شہزادہ محمد بن زاہد النہیان نے ٹویٹ کیے اور کہا کہ ’’ابراہیم معاہدہ‘‘ خطے کے امن کے لیے ضروری ہے اس معاہدے کے مطابق متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کو باقاعدہ طو رپر تسلیم کر لیا اور اسرائیل مغربی کنارے پر اپنی بستیاں نہیں بسائے گا اس معاہدے پر دنیا سے ملا  جلا رجحان سامنے آیا برطانیہ، بحرین، مصر نے اسے خوش آئند قرار دیا جبکہ فلسطینی صدر محمود عباس نے اسے مسترد کر دیا۔ یہاں پر پاکستان کے لیے ایک سبق پوشیدہ ہے فلسطینی اتھارٹی نے خود انیس سو بانوے کو اسرائیل کو مان لیا جبکہ دوسرے عرب ملک بھی اسرائیل کے ساتھ رسمی تعلقات رکھے ہوئے ہیں ہمارا پڑوسی ملک بھارت بھی اسرائیل کو تسلیم کر چکا ہے اور اسرائیلی یہودی نواز لالی کو امریکہ میں پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے ہمارا ایک اصولی مؤقف ہے کہ ہم اپنے عرب بھائیوں کی حمایت کے لیے اسرائیل کو تسلیم نہیں کر رہے اب جبکہ اسرائیل کو خود عرب ممالک تسلیم کر رہے ہیں کیا وجہ ہے کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کر رہا اس کا جواب بے وقوفی کے سوا کچھ نہیں ہے ہم پہلے ہی عرب ملکوں کی حمایت ہی اپنا نقصان کروا چکے ہیں جبکہ یہی عرب ممالک ہمارے دشمن ملک بھارت کے ساتھ کھڑے رہے اور ہم کشمیر کے مسئلے پر اقوام متحدہ میں مطلوبہ حمایت حاصل نہ کر سکے۔ یہاں ہمارے لیے ایک سبق پوشیدہ ہے کہ ہم پاکستانی بن کر سوچیں اور پاکستان کے مفادات کو بچائیں۔ 


ای پیپر