جے ایف تھنڈر کے مقابلے میں رفال !بھارت کی جنگی ہوس 
17 اگست 2020 (21:51) 2020-08-17

مدثر نذر قریشی

2019میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی جھڑپ نے فضائی جنگ میں ایک مرتبہ پھر پاکستان کی برتری کو قائم کردی تھی۔ اس کے ساتھ پاکستان اور چین کی اسٹریٹجک دوستی کے شاہکار JF-17 تھنڈر نے بھی اپنی صلاحیت کا لوہا منوالیا ہے اور بھارتی مِگ 21 کو گرا کر Tested in War کا درجہ حاصل کرلیا تھا۔ 90ء کی دہائی سے قبل پاکستان دفاعی شعبے میں مغربی دنیا پر انحصار کرتا تھا۔ مگر پریسلر ترمیم کے بعد امریکا نے پاکستان کو 28 ایف-16 طیارے فراہم کرنے سے انکار کردیا جس کے بعد پاکستان نے دفاعی شعبے میں خود انحصاری کے پروگرام پر عمل شروع کیا۔اس خود انحصاری کی پالیسی نے پاکستان کو دفاع کے متعدد شعبوں میں تقریباً خود کفیل بنا دیا ہے۔ اس وقت پاکستان کا اپنا میزائل نظام ہے جس میں زمین، فضا، سطحِ آب اور زیرِ آب فائر کرنے اور نشانہ بنانے کی صلاحیت کے حامل میزائل موجود ہیں۔

پاک فضائیہ کا انحصار اس وقت ایف-16 اور جے ایف-17 تھنڈر طیاروں پر ہے۔ اس میں سے ایک امریکی جہاز ہے اور دوسرا  پاکستانی جہاز ہے۔

چوتھی نسل کے جنگی طیاروں کی دوڑ میں جہاں پڑوسی ملک بھارت آج تک کامیاب نہیں ہوسکا وہیں پاکستان نے قلیل عرصے اور محدود جنگی بجٹ میں ایک شاہکار طیارہ جے ایف-17 تھنڈرتیار کیا جو دنیائے ائیرفورس میں اپنی دھاک بٹھا چکا ہے۔اور بھارت آج تک بھی طیاروں کے بنانے میں خودکفالت حاصل نہیں کر سکا اور آج بھی اسکا وزیرِ اعظم کہتا ہے کہ اگر ہمارے پاس فرانسیسی ساختہ ڈسالٹ رافیل ہوتے تو ہم پاکستان کے جے ایف 17 کا مقابلہ کر سکتے تھے مطلب کہ دشمن بھی اس جنگی مشین کی قابلیت مان چکا ہے۔

جے ایف 17تھنڈر ایک کثیرالمقاصد ملٹی رول لڑاکو طیارہ ہے۔سنگل انجن ملٹی رول،ہر موسم میں حملہ کرنے،حملہ روکنے،دشمن کے جہازوں کو مار گرانے والا یہ طیارہ پاکستان اور چین کا شاہکار ہے۔ جے ایف سیونٹین تھنڈر کے 4 ورژن تیار کیے جا رہے ہیں۔

1 ( جے ایف 17 بلاک1) جن کو اب بلاک 2 پر اپگریڈ کیا جا رہا ہے۔

2 ( جے ایف 17 بی)جو کہ تربیتی مقاصد کیلیے استعمال کیا جا رہا ہے جو کہ دو نشستوں پر مشتمل ہے۔

3 ( جے ایف 17 بلاک 2)جو کہ اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑھ چکا ہے۔

4 ( جے ایف17 بلاک 3) جو کہ تیاری کے مراحل میں ہے اور اس سال دوسری سہ ماہی کے اختتام پر پاک فضائیہ کے حوالے کر دیا جائے گا۔

جے ایف 17 کے تین ورژن چوتھی نسل سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ نیا بنایا جانے والا بلاک 3 4.5 نسل کا لڑاکو طیارہ ہو گا جو کہ پچھلے ورژنز کی نسبت کم وزن لیکن مضبوط مٹیریل سے تیار کیا جا رہا ہے۔

جے ایف 17 روسی ساختہ انجنklimov RD93 استعمال کرتا ہے جو کہ روسی سخوئی 35 میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔اور چینی ساختہ ریڈار جو کہ ایڈوانس ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔

پاکستان مجموعی طور پر ٹرانسفر آف ٹیکنالوجی کے تحت اس طیارے کے تمام ہتھیار پاکستان میں تیار کرتا ہے جبکہ پڑوسی دشمن ملک بھارت کا زیادہ تر انحصار روسی،امریکی،فرانسیسی اور اسرائیلی اسلحے پر ہے۔

رفتار کے لحاظ سے یہ طیارہ رافیل کے برابر ہے۔اب آتے ہیں موازنے کی طرف ۔

ڈیسالٹ رافیل 

رفال جوہری میزائل داغنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس میں دو طرح کے میزائل نصب ہو سکتے ہیں، ایک کا مار کرنے کا فاصلہ 150 کلومیٹر جبکہ دوسرے کا تقریباً 300 کلومیٹر ہے۔ جوہری اسلحے سے لیس ہونے کی صلاحیت رکھنے والا رفال طیارہ فضا میں 150 کلومیٹر تک میزائل داغ سکتا ہے جبکہ فضا سے زمین تک مار کرنے کی اس کی صلاحیت 300 کلومیٹر تک ہے۔

یہ انڈین فضائیہ کی جانب سے استعمال ہونے والے میراج 2000 کی جدید شکل ہے اور انڈین ایئر فورس کے پاس اس وقت 51 میراج 2000 طیارے ہیں۔ رفال بنانے والی کمپنی داسو ایوی ایشن کے مطابق رفال کی حد رفتار 2020 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے۔ طیاری کی اونچائی 5.30 میٹر اور لمبائی 15.30 میٹر ہے اور اس طیارے میں فضا میں بھی ایندھن بھرا جا سکتا ہے۔ رفال کو اب تک افغانستان، لیبیا، مالی، عراق اور شام جیسے ممالک میں ہونے والی کارروائیوں میں استعمال کیا جا چکا ہے۔رفال اوپر، نیچے، دائیں اور بائیں ہر طرف نگرانی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یعنی اس کی وِزیبلٹی 360 ڈگری ہے۔

کئی طرح کی خوبیوں سے لیس رفال کو بین الاقوامی معاہدوں کے سبب جوہری اسلحے سے لیس نہیں کیا گیا تاہم کئی ماہرین کا خیال ہے کہ انڈیا میراج 2000 کی طرح رفال کو بھی اپنی ضرورت کے مطابق ڈھال لے گا۔

رفال کی صلاحیتوں پر کوئی شبہ نہیں

انڈین فضائیہ کا کہنا ہے کہ ’رفال ایک بہترین اور باصلاحیت جنگی طیارہ ہے۔‘ سابق وزیر دفاع منوہر پاریکھ کا کہنا تھا کہ ’رفال کا نشانہ کبھی نہیں چوکتا۔‘

رول :ملٹی رول فائٹر جیٹ

عملہ؛2

لمبائی:50فٹ 1 انچ

پروں کا پھیلائو:35.4 فٹ

اونچائی:17.5فٹ

وزن: 10.4 ٹن

ہتھیاروں کے ساتھ وزن:15ٹن

انجن: 2× سنیکما ایم 88

رفتار: ماک 1.8 سے ماک 2

اونچائی تک جانے کی حد:50000 فٹ

جنگی دائرہ:1852 کلومیٹر

استعداد؛3700 کلومیٹر

30 ملی میٹر کی گن کے ساتھ یہ طیارہ شارٹ اور میڈیم رینج ائیر ٹو ائیر اور امریکن GBU فیملی کے بمزاور Thales فرانسیسی اسلحہ ساز کمپنی کے بنائے گئے میزائلوں کی پوری نسل استعمال کرتے ہیں۔اور thales کمپنی کا ہی بنایا گیا targeting pod اور AESA راڈار استعمال کرتا ہے۔اب آتے ہیں اسکی قیمت کی طرف تو اسکی قیمت 7 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کے لگ بھگ ہے۔

جے ایف 17تھنڈر

جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیارہ پاکستان کے لیے اس وجہ سے بھی خاصی اہمیت کا حامل ہے کہ پاکستان اسے خود تیار کرتا ہے۔ پاکستان نے چین کی مدد سے ہی ان طیاروں کو بنانے کی صلاحیت حاصل کی ہے اور ماہرین کے مطابق یہ طیارہ ایک ہمہ جہت، کم وزن، فورتھ جنریشن ملٹی رول ایئر کرافٹ ہے۔ اس طیارے کی تیاری، اپ گریڈیشن اور ’اوورہالنگ‘ کی سہولیات بھی ملک کے اندر ہی دستیاب ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان اس طیارے کی تیاری کے مراحل کو یقینی بنانے کے لیے کسی بھی دوسرے ملک کا محتاج نہیں ہے۔ عسکری حکام کے مطابق یہ طیارہ دنیا بھر میں کئی اہم شوز میں بھی پذیرائی حاصل کر چکا ہے اور دنیا نے اس کی بہت اچھی اسسمینٹ کی ہے، یہی وجہ ہے کہ ہر بڑے شو میں جے ایف 17 کے لیے دعوت نامہ ضرور آتا ہے۔

جے ایف 17 پر کب کام شروع ہوا؟

یہ قصہ 1995ء سے شروع ہوتا ہے جب پاکستان اور چین نے جے ایف 17 سے متعلق ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔ اس طیارے کا پہلا آزمائشی ماڈل 2003ء میں تیار ہوا اور پاکستانی فضائیہ نے 2010ء میں جے ایف-17 تھنڈر کو پہلی مرتبہ اپنے فضائی بیڑے میں شامل کیا۔ اس منصوبے میں مِگ طیارے بنانے والی روسی کمپنی میکویان نے بھی شمولیت اختیار کر لی۔ پاکستان فضائیہ نے جے ایف-17 تھنڈر کو مدت پوری کرنے والے میراج، ایف 7 اور اے 5 طیاروں کی تبدیلی کے پروگرام کے تحت ڈیزائن کیا۔ دفاعی امور کے ماہرین کے مطابق جے ایف تھنڈر طیارہ ایف-16 فیلکن کی طرح ہلکے وزن کے ساتھ ساتھ تمام تر موسمی حالات میں زمین اور فضائی اہداف کو نشانہ بنانے والا ہمہ جہت طیارہ ہے جو دور سے ہی اپنے ہدف کو نشانہ بنانے والے میزائل سے لیس ہے۔ جے ایف-17 تھنڈر نے اسی صلاحیت کی بدولت بی وی آر (Beyond Visual Range) میزائل سے بالاکوٹ واقعے میں انڈین فضائیہ کے مگ کو گرایا تو اس کے ساتھ ہی جے ایف-17 تھنڈر کو بھی خوب پذیرائی ملی۔ جے ایف-17 تھنڈر طیاروں میں وہ جدید ریڈار نصب ہے جو رفال کی بھی بڑی خوبی گنی جاتی ہے۔ یہ طیارا ہدف کو لاک کر کے میزائل داغنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی رینج 150 کلومیٹر تک بتائی جاتی ہے اور یہ میزائل اپنے ہدف کا بالکل ایسے ہی پیچھا کرتا ہے جیسے ہالی وڈ کی متعدد فلموں میں دکھایا جاتا ہے۔ جے ایف-17 تھنڈر زمین پر حریف کی نگرانی اور فضائی لڑائی کے ساتھ ساتھ زمینی حملے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ یہ طیارہ فضا سے زمین، فضا سے فضا اور فضا سے سطحِ آب پر حملہ کرنے والے میزائل سسٹم کے علاوہ دیگر ہتھیار استعمال کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

رول :ملٹی رول کمبیٹ ائیرکرافٹ

عملہ:1

لمبائی؛49 فٹ

پروں کی چوڑائی:31 فٹ

اونچائی: 15.5فٹ

انجن:کلمو RD 93

رفتار:ماک 1.8to 2.0

خالی وزن:6ٹن

ہتھیاروں کے ساتھ وزن:12 ٹن

حد اونچائی:55،500فٹ

لڑائی کا دائرہ:1500 کلومیٹر

23 ملی میٹر کی ڈبل بیرل گن کے ساتھ یہ طیارہ چائینیز ائیر ٹو ائیر ،ائیر ٹو گرائونڈ ،اینٹی شپ cm802 ,امریکن GBU فیملی کے ہتھیار داغنے کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ پاکستان کا اپنا بنایا گیا رعد(ALCM) بھی داغنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اب آتے ہیں قیمت کی طرف تو JF-17 تھنڈر بلاک3 کی قیمت 3 کروڑ 20 لاکھ ڈالر ہے جو کہ RAFALE سے 2 گنا کم ہے لیکن اگر موازنہ کیا جائے تو یہ Dassault Raffale کے ہم پلہ ہے۔

انشاء  اللہ پاکستان کا دفاع کرنے والے ہم سے زیادہ دوراندیش ہیں اور انہوں نے دشمن کے ارادوں کو بھانپتے ہوئے ان کے ممکنہ خریدے جانے والے طیاروں کا توڑ پہلے سے ہی تیار کر رکھا ہے۔ان شاء  اللہ پراجیکٹ عزم بھی جاری ہے جو کہ ممکنہ طور پر سٹیلتھ ٹیکنالوجی کا حامل ہو گا اور 2023 تک منظر عام پر لایا جائے گا۔جو چینی j-31، امریکی- ایف 35، اور روسی su57 کے ہم پلہ ہوگا۔

٭٭٭


ای پیپر