مرحبا آیا صوفیہ ۔۔!
17 اگست 2020 (21:48) 2020-08-17

حافظ محمد ادریس:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہؓ سے فرمایا تھا کہ قسطنطنیہ کو فتح کرنا بہت بڑا اعزاز اور حصول جنت کا یقینی ذریعہ ہو گا۔ بعض مغربی مصنفین نے اس حدیث کی بنیاد پر اپنے دائمی اسلام دشمن رویے کے تحت خوب زہر اگلا ہے کہ اسلام خون ریزی اور جنگ و جدال کا مذہب ہے ۔لیکن اکثر مغربی مفکرین کے برعکس ایڈورڈ گبن نے اپنی کتاب ’’تاریخِ زوال و سقوطِ سلطنت روما‘‘ (The History of Decline and Fall of the Roman Empire) میں ایک بہت اہم نکتہ اٹھایا ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ عقلی لحاظ سے یہ حکم درست اور رسول عربیؐ کی دور رس سوچ کا غماز ہے، اس لیے کہ اگر اسلامی ریاست رومی سلطنت کی طرف پیش قدمی نہ کرتی تو رومی سلطنت اسلامی ریاست کے خلاف جارحیت کرتی۔ دونوں ایک دوسرے کے مدمقابل اور عالمی قوت کی حامل ریاستیں تھیں۔ کسی نہ کسی کو پیش قدمی کر کے اپنا سکہ ضرور جمانا تھا۔ سترویں صدی عیسوی کے اس انگریز مصنف کی یہ بات بہت وزنی اور مبنی برحقیقت ہے۔ آنحضورؐ کی حیات طیبہ میں ہی قیصر روم نے ایک بہت بڑا لشکر تیار کر کے مدینہ کی ریاست کو ملیا میٹ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

دنیا کی نام نہاد سپرطاقت کے مقابلے کے لیے آنحضورؐ نے مدینہ میں بیٹھ کر انتظار نہیں کیا بلکہ آپؐ نے شدید اور کٹھن حالات میں طویل سفر طے کر کے اس چیلنج کا جواب دیا۔ آپ تیس ہزار کا لشکر لے کرمدینہ سے نکلے اور تبوک کے مقام پر خیمہ زن ہوئے اور کئی ہفتے دشمن کی فوجوں کا انتظار کیا۔ قیصر ہمت ہار کر مقابلے کے بغیر ہی واپس چلا گیا۔ غزوہ تبوک تاریخ اسلام کا بہت اہم واقعہ ہے۔ اس سے گبن کی بات مزید معتبر ہو جاتی ہے۔ قسطنطنیہ رومی سلطنت کا ایشیائی دارالحکومت تھا۔ اس کو فتح کرنا اسلامی ریاست کے لیے نہایت اہمیت کا حامل مگر خاصا کٹھن کام تھا۔ 

آنحضورؐ کے صحابہؓ نے قسطنطنیہ کی فتح کے لیے کئی بار فوجی تیاری کے ساتھ اس کی طرف پیش قدمی کی، مگر اس دور میں یہ شہر فتح نہ ہو سکا۔ شہر کی فصیل کے قریب آنحضورؐ کے محبوب صحابی اور ہجرت کے بعد آپؐ کے میزبان حضرت ابو ایوب انصاریؓ کی قبر ایک تاریخی واقعہ ہے۔ آپؓ اس محاصرے کے وقت کافی عمر رسیدہ تھے۔ آنحضورؐ کی بشارت کی وجہ سے آپؓ اس فوج کا حصہ بنے۔ محاصرے کے دوران آپؓ نے وصیت فرمائی کہ میں شہید ہو جائوں گا۔ کوشش کرنا کہ میری قبر فصیلِ قلعہ کے قریب ترین بن سکے۔ آج بھی آپؓ کی قبر زیارت گاہ عام ہے اور اس کے ساتھ جامع مسجدِ ابو ایوب انصاریؓ استنبول کی آباد ترین مساجد میں سے ہے۔ چند سال قبل اس مسجد میں نماز پڑھنے کا اعزاز حاصل ہوا تو دل کو یک گونہ اطمینان نصیب ہوا، جس کا لطف آج بھی تازہ ہے۔ تمنا تھی کہ آیا صوفیہ میں بھی جبین نیاز جھکائوں اور سربسجدہ ہو کر آنسو بہائوں مگر اس دور میں یہ ممکن نہ تھا۔ اب معلوم نہیں کبھی یہ موقع نصیب ہو گا یا نہیں۔

رسولِ رحمتؐ کی بشارت کا مصداق بننے کا اعزاز روز ازل سے ترکمانِ عثمانی کی قسمت میں لکھا تھا۔ سلطان محمد فاتح ترکی کے نوعمر ترین تاجدار تھے جو اپنے والد سلطان مراد ثانی کی وفات کے بعد نومبر1444 ء میں ۲۱سال کی عمر میں تخت نشین ہوئے۔1453 ء میںسلطان محمد اس شہر کو فتح کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس فتح میں ان کی فوجی قوت و مہارت کے ساتھ عسکری حکمت عملی کا بھی بہت بڑا حصہ ہے۔ ۱۲؍سالہ خلیفہ نے جب اس شہر 29؍مئی1453 ء کو فتح کر لیا، تو یہاں کے تاریخی گرجا آیاصوفیہ پر بھی اسلامی فوج کا قبضہ ہو گیا۔ رومیوں نے اپنی شکست تسلیم کر لی۔ سلطان محمد فاتح نے آیا صوفیہ کے گرجا گھر کو عیسائیوں سے قیمتاً خرید لیا۔ یہ قیمت انھوں نے اپنی جیب سے ادا کی تھی یا شاہی خزانے سے؟ اس معاملے میں دونوں آرا ہیں، مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ گرجا خریدا گیا تھا۔ اسے خریدنے کے بعد اس میں کچھ مزید تعمیری اضافہ کر کے اسے مسجد قرار دیا گیا۔ خریدوفروخت کے تمام کاغذات و دستاویزات عثمانی خلافت کے پاس محفوظ تھے جو آج بھی موجود ہیں۔

خلافت عثمانیہ کی بساط لپیٹنا مغربی قوتوں کا دیرینہ خواب تھا۔ جدید ترکی کے بانی  مصطفی کمال پاشا نے خلافت کا خاتمہ کردیا اور برسراقتدار آنے کے بعد ترکی کو مکمل طور پر ایک سیکولر ریاست بنا دیا۔

ادھر برصغیر کے مسلمانوں نے خلافت کو بحال کرنے کیلئے تحریکِ خلافت سالہاسال چلائی۔ مولانا محمد علی جوہر، علامہ اقبال، مولانا ظفر علی خاں، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی اور دیگر اہلِ فکر نے اس کے لیے یادگار جدوجہد کی، مگر انہونی ہو کر رہی اور اسلام دشمن قوتیں اپنے مقاصد میں کامیاب ہو گئیں۔ برصغیر کے مسلمان انتہائی غمزدہ تھے۔ اسی موقع پر دردِدل کے ساتھ علامہ اقبال نے کہا تھا۔ 

چاک کر دی ترکِ ناداں نے خلافت کی قبا

سادگی مسلم کی دیکھ، اوروں کی عیاری بھی دیکھ

مسجد آیا صوفیہ جو صدیوں تک ترک مسلمانوں کے علاوہ دنیا بھر سے آنے والے مسلمانوں کے سجدوں سے مزّین ہوتی رہی، کمال پاشا کے دور میں 1935 ء میں میوزیم میں تبدیل کر دی گئی۔ ترکی میں1950 ء میں برسراقتدار آنے والے وزیراعظم جناب عدنان میندریسؒ نے کچھ ناروا پابندیاں مثلاً حج اور پردے کی ممنوعیت اور عربی میں اذان پر پابندی کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا، تو فوجی انقلاب برپا ہو گیا۔

 صدر رجب طیب اردوان برسراقتدار آئے، تو انھوں نے حکمت کے ساتھ فوج کے لامحدود اختیارات کو کنٹرول کیا۔ ان کے خلاف2016 ء میں فوج نے بغاوت کی، تونہتے عوام الناس کے سمندر نے مسلح فوج کو بے بس کر دیا۔ آیندہ ترک فوج کو ایسی مہم جوئی سے پہلے ہزار مرتبہ سوچنا پڑے گا۔صدر اردوان نے اپنے انتخابی وعدوں کو پورا کرنے کے لیے بھی اسی طرح حکمت کے ساتھ پرعزم اقدام کیے۔ ان میں سے ایک وعدہ یہ بھی تھا کہ آیا صوفیہ کو پھر سے مسجد میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ اس کے لیے صدر اردوان نے کوئی صدارتی آرڈر جاری نہیں کیا بلکہ عدالت عالیہ میں کیس دائر کیا جس میں تمام دستاویزات پیش کی گئیں کہ مسجد کی جگہ غاصبانہ نہیں بلکہ قیمتاً خریدی گئی تھی۔ عدالت عالیہ نے فل بینچ کے ساتھ کیس کی سماعت کی۔ دلائل اور پھر شواہد کی بنیاد پر یہ تاریخی فیصلہ دیا کہ آیا صوفیہ مسجد ہے اور اسے کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ 

24؍جولائی2020 ء بروز جمعہ تاریخی دن بن گیا ۔ اس دن آیا صوفیہ کی تاریخی مسجد میں لاکھوں اہلِ ایمان ترکوں نے اپنے صدر کے ساتھ نماز جمعہ ادا کی۔ کروڑوں مسلمان اس نماز جمعہ کو دنیا بھر میں اپنی آنکھوں سے دیکھ کر خوشی منا رہے تھے۔ خطبہ جمعہ وزیر برائے مذہبی امور جناب علی ارباس نے دیا۔ صدر اردوان نے جب یہ فرمایا کہ آیا صوفیہ کے بعد اگلی منزل القدس ہے، تو دنیا بھر کے مسلمانوں کے دل جیت لیے۔ القدس منتظر ہے کسی صلاح الدین ایوبی کی! سیکولر ذہن رکھنے والے لوگوں کا معاملہ مگر عجیب ہے۔ وہ کسی بھی اسلامی اقدام کو ٹھنڈے پیٹوں کبھی برداشت نہیں کرتے۔ اگر وہ بھی دلائل کی بنیاد پر سوچیں تو کوئی وجہ نہیں کہ اس عدالتی فیصلے اور عمل درآمد پر زہریلا پروپیگنڈا جاری رکھیں۔ 

جن لوگوں نے یورپ، امریکہ اور کینیڈا کا سفر بقائمی ہوش و حواس کیا ہے وہ جانتے ہیں کہ ان تمام ممالک میں درجنوں نہیں سیکڑوں اور ہزاروں ایسی مساجد آج موجود ہیں جو کبھی گرجا گھر تھے۔ ان گرجا گھروں میں مساجد کیسے بنیں؟ کیایہاں کسی سلطان محمد فاتح نے بزور قوت گرجا گھر کو مسجد میں بدل دیا۔ نہیں، ان ممالک میں طاقتور عیسائی یا لادین حکومتیں قائم ہیں، وہاں کوئی سلطان محمد فاتح یا محمود غزنوی و اورنگ زیب نہیںداخل ہوا ۔ اصل بات یہ ہے کہ وہاں کی عیسائی آبادی نے گرجا گھروں کو بربادو غیر آباد چھوڑ رکھا تھا۔ ان سے نہ کسی کو دلچسپی تھی نہ کوئی عبادت کے لیے وہاں آتا تھا۔ یہ تمام گرجا گھر مختلف غیر مسلم لوگوں نے خرید کریا تو شراب خانے بنا دیے یا کلب۔ پھر مسلمانوں کی آبادی بڑھی تو انھوں نے انھیں خریدا اور ان کی مرمت اور عمارت میں مناسب ترمیم کر کے اسلامی مراکز و مساجد میں بدل دیا۔ برطانیہ، اٹلی، جرمنی، ڈنمارک، سپین، امریکہ اور کینیڈا میںایسی بہت سی مساجد میں اس فقیر کو خود نماز پڑھنے کا اعزاز حاصل ہوا اور خطاب کرنے کے مواقع بھی کئی بار ملتے رہے۔

 ان مواقع پر دوستوں نے پوری تاریخ بیان کی کہ کس طرح چرچ کو مسجد میں تبدیل کیا گیا۔ایسے ہر موقع پر میری زبان سے ہمیشہ بے ساختہ نکلا سبحان اللہ! جس طرح انسان مشرف بہ اسلام ہوتے ہیں، اللہ کی قدرت ہے کہ گرجا گھر بھی مشرف بہ اسلام ہوئے ہیں۔ اگر یہ تمام گرجا گھر کفر کے گڑھ میں مسجدوں میں بدل سکتے ہیں اور کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی، تو آیا صوفیہ کی مسجد جو باقاعدہ قیمت ادا کر کے خریدی گئی تھی، کیوں سیکولر اور نام نہاد آزاد منش لوگوں کوکھلتی ہے؟ اللہ کا ارشاد ہے ’’اور یہ کہ مسجدیں اللہ کے لیے ہیں، لہٰذا اُن میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو اور یہ کہ جب اللہ کا بندہ اُس کو پکارنے کے لیے کھڑا ہوا تو لوگ اُس پر ٹوٹ پڑنے کے لیے تیار ہو گئے۔‘‘ (سورہ الجن: ۸۱-۹۱)

آج بھی لادین قوتیں اور تو کچھ نہیںکرسکتیں ،مسجد آیا صوفیہ میں اللہ کے نام کی کبریائی پراللہ کے بندے کے خلاف زبان و قلم سے اپنی بے نتیجہ و بے ہدف توپیں داغ رہی ہیںمگر بقول عرفی 

عرفی تو میندیش زغوغائے رقیباں

کہ آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا

٭٭٭


ای پیپر