17 اگست 2020 (11:32) 2020-08-17

جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے 5جولائی 1977 کو ملک میں مارشل لاء کے نفاذ اور ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ اُلٹنے کے بعد عنان حکومت سنبھالی اور پھر 11سال تک ملک کے ایسے بلا شرکت غیرے حکمران رہے کہ انھیں اقتدار و اختیار پر مکمل گرفت حاصل تھی۔ اُن کے دور کو معروف معنوں میں آمرانہ دورِ حکومت کہا جاتا ہے جس میں کم و بیش 8سال تک ملک میں مارشل لاء نافذ رہا۔ ایک فوجی آمر ہونے کے باوجود کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ ضیاء الحق کا دور ان کی ذاتی شخصی خوبیوں ، ملک کی تعمیر و ترقی ، قوموں کی برادری بالخصوص عالم اسلام میں پاکستان کے قائدانہ کردار اور ملک کی مجموعی صورت حال اور عوام کو حاصل سہولیات کے حوالے سے جمہوری ادوارِ حکومت کے مقابلے میں زیادہ بہتر تھا؟ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ 17اگست 1988کو بہاولپور کے قریب دریائے  ستلج کے کنارے بستی لال کمال کی فضائوں میں پاک فضائیہ کے C-130طیارے کے حادثے میں ضیاء الحق کی شہادت کو 32سال کا عرصہ گزرنے کے بعد جب ایک نئی نسل پروان چڑھ چکی ہے  اور ماضی بالخصوص ضیاء الحق کے دور کے بہت سارے حالات و واقعات کو اپنے حقیقی سیاق و سباق اور صحیح تناظر میں بیان نہ کرنے اور خلط ملط کرنے کا رواج عام ہو چکا ہے ۔پھر بھی ملک میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو آج بھی ضیاء الحق کا نام سامنے آئے تو ’’مردِ مومن، مردِ حق۔۔۔ضیاء الحق ، ضیاء الحق‘‘ کا نعرہ لگانے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ 

جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کیا تھے اور کیا نہیں تھے؟ اِن میں کون سی شخصی خوبیاں اور کمزوریاں پائی جاتی تھیں؟ اِن کا 

نظامِ حکومت کیسا تھا اور اس میں کتنا جبر تھا؟ اُن کی حکومتی پالیسیاں کیا تھیں اور اِن سے پاکستان کو کتنا استحکام ملا اور پاکستان کتنا عدم استحکام سے دو چار ہوا؟ اُن کے دور میں عالمی برادری میں پاکستان کا کیا مقام تھا اور عالم ِ اسلام میں پاکستان کو کتنی اہمیت حاصل تھی۔ اُن کی افغان پالیسی اورسوویت یونین کے خلاف جہادِ افغانستان میں شرکت کا فیصلہ کس حد تک درست تھا یا نہیں تھا؟ اُنہوں نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھانے میں کیا کردار ادا کیا؟ اُن کے دور میں بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی نوعیت کیا تھی اور وہ بھارت کو عالمی سطح پر کس حد تک نیچا دِکھانے میں کامیاب رہے تھے؟ اُنہوں نے ملک میں اسلامی نظام کو رائج کرنے اور اسلامی تعلیمات کے فروغ کے لئے کتنی سنجیدہ کوششیں کیں یا محض دِکھلاوے کے لئے اسلام کا نام لیتے رہے؟ اُن کے دور میںقومی پیداوار اور شرح نمو میں کتنا اضافہ ہوا ؟ عوام کس حد تک آسودگی سے شب و روز بسر کر رہے تھے اور اشیائے ضروریہ کس حد تک دستیاب تھیں اور اس کے ساتھ ملک میں امن و امان کی صورت حال کیا تھی۔۔۔؟ یہ سارے سوالات،استفسارات اور پہلو ایسے ہیں جن کے بارے میں قوم کے مختلف طبقات کی مختلف آراء ہو سکتی ہیں۔تا ہم ان کے کٹڑ مخا لفین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان کا قوموں کی برادری میں ایک مقام تھا۔عالمِ اسلام میں اس کو مر کزی حیثیت حا صل تھی۔ وہ آج کی طر ح بے بسی،بے کسی اور تنہائی کا شکا ر نہیں تھا۔ OICیعنی آرگنائزیشن آف اسلامک کا نفرنس جس کے ہر پانچ سال بعد منعقد ہونے والے سربراہی اجلاس اور درمیان میں خصوصی اجلاس جنرل ضیا ء الحق کے خطا بات میںاٹھا ئے گئے نکا ت کو اپنے ایجنڈے اور اپنے اعلا میوں کا حصہ بنا تے رہے ۔بھا رت کو اسلامی تنظیم کے اجلا سوں کے قریب پھٹکنے یا بطورِ مبصر شرکت کی اجازت نہیں تھی ۔

ضیاء الحق کو فوجی آمر کہیں یا کچھ اور لیکن یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کے بارے میں  ضیاء الحق کے متفقین اور مخالفین سبھی کا اِتفاقِ رائے سامنے آئے گا کہ ضیاء الحق میں بہت ساری شخصی خوبیاں پائی جاتی تھی۔ وہ بڑی حد تک عاجزی ، انکساری، مروت اور دوسروں کا احترام کرنے اور اُن کی عزت ِ نفس کا پاس کرنے کی صفات سے بہرہ ور تھے۔ صوم و صلوٰۃ کی پابندی، اسلامی تعلیمات سے لگائو اور مشرقی اقدار و روایات کی پاسداری اُن کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی۔ بلا شبہ اُنہوں نے ملک میں نظامِ صلوٰۃ، عشر و زکوٰۃ اور حدود قوانین کے نفاذ کے لئے سنجیدہ کوششیں کیں۔  اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ اُن کے دور میں کسان، مزدور، تاجر، صنعت کار، سرکاری ملازمین، بزرگ شہری، سابقہ فوجی اور ریٹائرڈ سرکاری ملازمین سمیت عوام کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ بعد کے ادوار بالخصوص آج کے دور کے مقابلے میں نسبتاً آسودہ زندگی بسر کر رہے تھے۔ زرعی اجناس کی پیداوار میں اضافے کے ساتھ مجموعی قومی پیداوار میں اضافہ اور قومی نمو میں بہتری کے آثار نمایاں تھے۔ عالمی برادری بالخصوص عالم ِ اسلام میں پاکستان کی ایک عزت اور مقام تھا۔ بھارت کے مقابلے میں پاکستان بہتر ڈپلو میسی پر عمل پیر ا تھا۔بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی اور بعد میں اُس کے بیٹے راجیو گاندھی کی طرف سے ضیاء الحق سے بے اعتنائی کا رویہ اپنانے کے باوجود مختلف عالمی فورمز پر اُنہیں ہر گام ضیاء الحق کے مقابلے میں خفت کا سامنا کرنا پڑتا رہا۔ پاکستان نے غیر جانبدار ممالک کی تنظیم کی رُکنیت ہی حاصل نہ کی بلکہ بھارت کی روایتی چوہدراہٹ کو بھی ختم کیا۔ جہادِ افغانستان میں پاکستان کی بھرپور شرکت اور روسی قیادت کی طرف سے سنگین نتائج کی دھمکیوں کے باوجود ضیاء الحق کا ثابت قدم رہنا کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ لیکن اس سب کے باوجود ضیاء الحق شاید ہمارے نام نہاد لبرز اور بائیں بازو کے دانشور طبقات کے معیار پر پورا نہیں اُترتے تھے۔ یہ طبقات جو ضیاء الحق کے دور میں ہر طرح کی مراعات ، نواشات اور آسائشوں سے بہرہ مند ہوتے رہے آج بھی اُن کو تنقید کا نشانہ بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ہیں۔

ضیاء الحق کے افغان پالیسی پر آج بھی اُن کو کوسنے والے موجود ہیں اور کہا جاتا ہے کہ اُنہیں روسیوں کے خلاف افغانیوں کی تحریک مزاحمت جسے جہادِافغانستان کا نام دیا جاتا ہے میں حصہ نہیں دینا چاہیے تھا اور نہ ہی لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین کو اپنے ملک میںپناہ دینی چاہیے تھی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کی وجہ سے کلاشنکوف کلچر کو رواج ملا اور دہشت گردی کا آغاز ہوا۔ معترضین اس حقیقت کو بھول جاتے ہیں کہ دسمبر 1979کو روسی افواج افغانستان میں دَر آئیں تو یہ آج کا پیوٹن کا روس نہیںتھا۔ یہ برزنیف ، چرنکو اور آندرے پوف کا طاقت اور غرور کے گھمنڈ میں بدمست 

سوویت یونین تھا جس نے وسط ایشیاء کی وسیع و عریض رقبوں پر پھیلی مسلم ریاستوں پر ہی قبضہ نہیں کر رکھا تھا بلکہ ہنگری اور پو لینڈ سمیت مشرقی یورپ کے کئی ممالک کو بھی تاراج کر رکھا تھا۔  افغانستان  میں اگر اُس کی مزاحمت نہ کی جاتی تو وہ افغانستان کو روندنے کے بعد بحیرئہ عرب کے گرم پانیوں تک پہنچنے کے لئے اپنے صدیوں پرانے خواب کو حقیقت کا روپ دینے کے لئے پاکستان کی سرحدوں کو بھی پامال کر سکتا تھا۔پھر سقوطِ مشرقی پاکستان کا بدلہ چُکانا بھی ہم پر واجب تھا کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں بھارت کے ساتھ سوویت یونین بھی برابر کا شریک تھا۔ پھر افغانیوں کے ساتھ اسلامی اخوت کا رشتہ بھی تھا کہ اُن کا ساتھ دِیا جاتا۔ پھر یہ حقیقت بھی تھی کہ پاکستان کی حکومت افغانیوں کو بطورِ مہاجر پاکستان میں آنے سے روکتی تب بھی انہوں نے نہیں رُکنا تھا۔ پاکستان کے قبائلی علاقے اُن سے پٹ جاتے۔ لہٰذا حالات و واقعات ا ور زمینی حقائق کا تقاضا یہی تھا کہ پاکستان افغانیوں کی تحریک ِ مزاحمت جو حقیقتاً چند سال قبل ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں شروع ہو چکی تھی اس میں سرگرمی سے شریک ہوتا۔ پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ افغان جہاد کی آڑ میں پاکستان نے اپنے ایٹمی پروگرام کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ یہ ضیاء الحق ہی تھے جنھوں نے1987 کے شروع میں پاک بھارت کرکٹ میچ دیکھنے کے لیے بھارت کے دورے کے دوران بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی کو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی تکمیل کا اشارہ دے کر یہ دھمکی نما پیغام دیا کہ بھارت "براس ٹیک" فوجی مشقوں کے نام پر پاکستان کی سرحد پر جمع 2لاکھ فوج کو واپس بُلا لے اور پاکستان کے خلاف کسی جارحانہ کاروائی سے باز آجائے ورنہ بھارت اس تباہی کا شکار ہوگا جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔


ای پیپر