حالات کروٹ بدل رہے ہیں…؟
17 اگست 2020 (11:31) 2020-08-17

وقت پر لگا کر اڑ رہا ہے، تبدیلی کی ہوائیں چلنے لگی ہیں کہیں سے سن گن ہوئی تھی 6 ماہ  کا الٹی میٹم دیا تھا۔ اب آئندہ چار ماہ اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔ حالات کروٹ بدل رہے ہیں۔ آٹھواں تجربہ بھی ناکام ثابت ہوا۔ نویں تجربے کے لیے مشاورت، کسی آئرن مین کی تلاش ،ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔ سامنے کی بات ہے۔ مہنگائی، نا اہلی، نا تجربہ کاری اس پر ڈھٹائی انا پرستی عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ عدالتوں کے ریمارکس اور فیصلے خالی از علت نہیں، ذہن بدل رہے ہیں۔ زمینی حقائق جلد یا بدیر آنے والے طوفان کی خبر دیتے ہیں۔ ملا کی دوڑ مسجد تک بقراط عصر شیخ رشید کی دوڑ نیب تک، پھلجھڑیاں چھوڑنا موصوف کا فرض منصبی جسے وہ عبادت سمجھ کر کرتے رہتے ہیں اور اپنا رنگ جماتے ہیں۔ ان کی سیاسی زندگی میں کبھی ایک کبھی دو تین ماہ اہمیت کے حامل رہے ہیں۔ یار لوگوں نے اب کے چار ماہ قرار دے دیے ہیں۔ اس دوران کیا ہوگا غیب کا علم اللہ کے پاس جو علام الغیوب ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں، بندے صرف ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں۔ نیندیں اڑی ہوئی ہیں۔ چہروں پر ہوائیں نمایاں ہیں۔ اڑی اڑی سی رنگت کو ماسک چھپائے ہوئے ہیں۔ بقراط عصر کرونا سے بچ گئے اسمارٹ لاک ڈائون کے دوران خود بھی اسمارٹ ہوگئے مگر اس عرصے میں بھی خدا یاد نہ آیا غیبت اور کن سوئیوں کی عادت نہ گئی، انہیں غیب کا نہیں نیب کا علم ہے۔ پنڈی کا کوئی ’’انجینئر‘‘ انجینئرنگ کرتا رہتا ہے۔ کہنے لگے تبدیلیوں کا موسم ہے کلین اپ آپریشن میں بہت کچھ صاف ہوجائے گا۔ سرکار والا کو بھی اس کا بھرپور احساس ہے۔ ہوائوں کا رخ پہچاننے لگے ہیں۔ پہلے آنے کا شوق تھا۔ اب جانے کا خوف ہے۔ ارد گرد سارے وزیر مشیر اپنی اپنی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اتنی بڑی کابینہ میں اہلیت اور قابلیت کا فقدان نمایاں، جیسے اکٹھے ہوئے تھے ویسے ہی بکھر رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں جن سے استعفیٰ لیے گئے ان پر بھی کرپشن اور اربوں کمانے کے الزامات لگے، نیب کی ان پر نظر نہیں پڑی۔ استعفے دے کر سکھی ہوگئے کسی کو جواب دہ نہیں، چینی اسکینڈل کی تحقیقات مکمل، ساری رپورٹیں ٹیبل پر پڑی ہیں حیران ہیں کہ کس پر ہاتھ ڈالیں، گرو مہاراج تحقیقات کے دوران ہی بچ کر نکل گئے۔ چیلوں نے چینی سو روپے کلو کردی، جو کرنا ہے کرلیں۔ راستہ دکھائی دے تو کچھ کریں گزشتہ دنوں ایک اجلاس بلالیا تھا۔ مقصد مہنگائی پر قابو پانا تھا۔ اجلاس بلانا اور اجلاس کے اختتام پر کوئی کمیٹی بنانا روز کا معمول، 720 کمیٹیاں، ما شاء اللہ سب پر نظر لیکن کمیٹیوں کی سفارشات پر عملدرآمد الگ مسئلہ بلکہ مشکل مسئلہ، سہج پکے سو میٹھا ہو کے قائل ہیں لیکن عوام کی پریشانیاں پریشان کیے دیتی ہیں۔ رات دن اس سوچ میں ہیں کیا کریں کیا نہ کریں۔ اجلاس کے بعد ارشاد ہوا۔ کچھ بھی ہوجائے آٹا چینی کی قیمتیں کم کی جائیں گی۔ اشارہ ابرو کی دیر تھی۔ حکم حاکم مرگ مناجات، قیمتیں فوری کم ہوسکتی تھیں، مگر پھر وہی مافیاز کا مسئلہ 

کم بخت مافیائیں جان کو چمٹی بلائیں کچھ کرنے نہیں دیتیں، تحقیقاتی رپورٹس پر عملدرآمد میں بھی یہی مافیائیں حائل، کسی کے خلاف کارروائی کرنے کی صورت میں خیموں کی طنابیں ٹوٹنے کے خطرات، اسی سے عوام میں مایوسی پھیل رہی ہے۔ عوام کی بے بسی دیدنی ہے۔ آئی ایم ایف کے حکم پر بجلی گیس مہنگی، سردیوں میں گیس کے بحران کا بگل بچ گیا۔ لوگ سردی سے ٹھٹھریں گے۔ جو لوگ گھروں میں گیس استعمال کرتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ گیس کے بل چار گنا ہوگئے بجلی ہر ماہ مہنگی 30 فیصد اضافہ ہوگا۔ عوام کی مشکلات اور پریشانیاں کسی بھی وقت تبدیلی کا سبب بن سکتی ہیں۔ کرپشن کا نعرہ بے اثر ہوچکا، لوگ کہنے لگے ہیں کہ اب منظم کرپشن ہو رہی ہے۔ ایسے طریقہ سے کرپشن کی جائے کہ کراماً کاتبین راہم خبر نیست، یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کرپشن کا گڑھ، راجہ ریاض کے مطابق کرپشن کے ریٹ بڑھ گئے ہیں۔ حقائق چھپانے کیلئے وہی پرانا فارمولا اپوزیشن کو گالیاں، ملک لوٹ کے کھا گئے کے طعنے، یقین کیجیے لوگ اعتبار نہیں کرتے۔ لاہوریے بر ملا کہنے لگے ہیں کہ چور ڈاکو اچھے تھے۔ آتے ہی بجلی کا بحران ختم کرنے میں لگ گئے اور ختم کر کے دم لیا۔ موٹرویز بنا گئے سفر آسان ہوا، ان کا سوال بجا گزشتہ دو سال میں کیا بنایا۔ صرف اعلانات پر گزارا، اس سے کس کا پیٹ بھرے گا۔ نیب کی نظر کمزور ہے ورنہ ارد گرد آمدن سے زائد اثاثوں، کرپشن، خلاف ضابطہ اقدامات کرنے والوں کا ہجوم ہے۔ فیس سیونگ کیلئے وزیر اعلیٰ پنجاب کو طلب کرلیا۔ وہ آئے بیٹھے اور چلے گئے۔ 20 سوالات پر مشتمل سوالنامہ حوالے کردیا۔ رشتہ داروں کے نام پر جائیدادیں اور اثاثے بنانے سے متعلق سوالات کیے گئے ہر سوال کا ایک ہی جواب مجھے معلوم نہیں پوچھ کر بتائوں گا۔ وارنٹوں کا ڈر نہ گرفتاری کا خوف پوچھ کر بتادیں گے، ما شاء اللہ کلیئرنس سرٹیفکیٹ مل گیا تو راستہ صاف، اپوزیشن والے تو پاگل ہیں ذرا سی طلبی پر تبدیلی کی افواہیں اڑانے لگے، ق لیگ لائن میں لگی ہے۔ دو سال حکومت کرلی اب وزارت اعلیٰ پرویز الٰہی کو دے دیں ورنہ اقتدار کی حسرت سینے میں دم توڑ دے گی چوہدری برادران اپنے محسن ہیں انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے دھرنے سے نجات دلائی ورنہ دینی مدارس کے ہزاروں طلبہ سر پر آن پہنچے تھے چوہدریوں کو کچھ تو صلہ ملنا چاہیے کہنے لگے وزیر اعظم اب کی بار لاہور آئے تو انہوں نے وسیم اکرم پلس کی تعریف نہیں کی۔ اس سے کیا ہوتا ہے کہنے لگے تبدیلی کا اشارہ ہے پھر کہا کہ ٹیم کپتان نے بنائی پوری گیم بیورو کریٹس کے ہاتھ میں چلی گئی۔ وہی چلا رہے ہیں۔ پریس کانفرنس کے دوران کان میں سرگوشی کی سر نیب کے بارے میں کچھ نہ کہیے سر سمجھ گئے انہوں نے نیب کے بارے میں واقعی کچھ نہ کہا۔ جب نیب کچھ نہیں کہہ رہی تو سر اس کے بارے میں کیوں کچھ کہیں، معاملات افہام و تفہیم سے حل ہوتے ہیں ہونے بھی چاہیے۔ مریم نواز کو اراضی الاٹمنٹ کیس میں بلایا تھا خلق خدا کو لے کر پہنچ گئیں، پولیس نمٹنے کو تیار اور الرٹ تھی۔ آنسو گیس، پتھرائو، لیزر گن، مریم نواز کی گاڑی کی اسکرین ٹوٹ گئی، شکر ہے کہ کریک آیا ورنہ مریم نواز کے بقول ان کی جان کو خطرہ تھا۔ مریم نواز گاڑی سے نکل کر ڈیڑھ گھنٹہ کھڑی رہیں، بالآخر نیب والوں نے کہہ دیا۔ بی بی واپس جائیں طلبی منسوخ، اکیلی آئیں تو تحقیقات ہوگی، اکیلی کیسے آئیں گی لاہوریے تن تنہا نکلنے نہیں دیں گے۔ مریم نواز متحرک ہوگئیں حرکت میں برکت، بلاول بھٹو بھی ایسی ہی راہ اپنانے پر مشاورت کر رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے پشاور میں ریلی کاا علان کردیا ہے۔ مولانا کے اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں کے بارے میں تحفظات ہیں۔ دھوکہ کھا چکے ہیں۔ دھوکہ کھا رہے ہیں۔ انہیں گلہ ہے کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی حکومت کو این آر او دے رہی ہے، تحفظات کے باوجود رابطے منقطع نہیں ہوئے، اپوزیشن رہنما نیب کی طلبیوں اور گرفتاریوں کے ڈر خوف سے آگے نہیں بڑھ رہے اس لیے شاید انہیں آئندہ چار ماہ کے دوران زلزلہ کے جھٹکوں کا علم نہیں، علم ہوتا تو وہ بی آر ٹی اسکینڈل، مالم جبہ، ہیلی کاپٹر اور فارن فنڈنگ کیسز کے بارے میں لائحہ عمل کے لیے مل بیٹھتے، ناکامیوں کی طویل داستانوں سے عوام کو آگاہ کرتے، سپریم کورٹ نے خواجہ برادران کے بارے میں اپنے فیصلے میں نیب کی غیر جانبداری پر وہ تمام سوالات اٹھائے ہیں جو عوام کے ذہنوں میں کلبلا رہے ہیں۔ ان ہی سوالات پر عوام کی اکثریت کا کہنا ہے کہ نظام احتساب یکطرفہ ہے۔ دائیں آنکھ میں محبت کے جذبات جبکہ بائیں آنکھ میں نفرت کے شعلے ہیں۔ نفرت کے یہی شعلے پھیل گئے تو آئندہ چار ماہ میں واقعی ’’ہو رہے گاکچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا‘‘ ۔


ای پیپر