اسرائیل وامارات امن سمجھوتے کے اثرات
17 اگست 2020 (11:30) 2020-08-17

مسلم ممالک میں تقسیم کی وجوہات میںفرقہ وارانہ کے ساتھ عرب وعجم کا بھی عمل دخل ہے سعودی عرب اور ایران کے مدِ مقابل آنے سے اُمتِ مسلمہ دو واضح بلاکوں میںمنقسم ہے سعودی عرب سے ناراض ایران کے قریب ہوجاتے ہیں اور ایران سے ناخوش سعودی عرب کی چھتری تلے پناہ لے لیتے ہیں مگریہ اِدھر سے اُدھر حرکت مفادات کے تابع ہوتی ہے اسرائیل کے ظہور کے ساتھ ہی مشرقِ وسطیٰ میں تنازعات بڑھے جنگیں ہوئیں ہمیشہ فاتح اسرائیل رہااور ہر وسیع یا محدود جنگ میں فتح کے بعدفلسطین،مصر،اردن، لبنان اور شام کے علاقوں کواپنی مملکت کا حصہ بناتاچلا گیا جس سے عرب ممالک کے حکمرانوں میں بددلی اور مایوسی نے جنم لیا جبکہ ایران کے ساتھ محاذآرائی نے بددلی اور مایوسی میں مزیدا ضافہ کیا جس سے عرب ممال اسرائیل کی طرف متوجہ ہوئے کیونکہ عرب ممالک کی طرح اسرائیل بھی ایرانی پالیسیوں کا بڑا ناقد ہے علاوہ ازیں عربوں میں نرم گوشہ جنم لینے کی ایک اوروجہ امریکہ اسرائیل ساجھے داری ہے جبکہ امریکہ کے عربوں سے بھی قریبی مراسم ہیں اور وہ امریکی اسلحے کے بڑے خریدارہیں کئی برسوں کی سفارتکاری کے بعد امن کے لیے بیمار ہوئے جس کے سبب اُسی عطار کے لونڈے سے دوا مانگنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

اِس میں کوئی شائبہ نہیں کہ دنیا سائنسی ترقی اور ایجادات کے دور سے گزررہی ہے مادی وسائل کا دوردورہ ہے جو صنعت و حرفت میں ترقیافتہ ہے دنیا اُس کی بات سنتی اوراُس سے مراسم اُستوار کرنے کو بے چین ہوتی ہے اسرائیل کی صنعت و حرفت ترقی یافتہ اور اُس کی زرعی ایجادات کا بھی زمانے میں ڈنکا بج رہا ہے ڈرون کی صنعت پر اُس کا غلبہ ہے یوں افرادی قوت کی کمی کا مسلہ حل کر لیا ہے مگر عربوں پر نظر ڈالی جائے وہ دستیاب توانائی کے ذخائرخود استعمال کرنے سے قاصر اور امداد لینے پر مجبور ہیں وافر افرادی قوت بھی فائدہ مند نہیں اسی لیے سوچنے پرمجبور ہیںکہ مقابلے کی پوزیشن میں نہیں تو کیوں نہ لڑنے اور باربار شکست کی سُبکی اُٹھانے کی بجائے تصفیہ کرلیں اسرائیل و امارات امن سمجھوتے میں امریکی کردار کے علاوہ کمزوریوں کا بڑاعمل دخل ہے لیکن امن سمجھوتے سے مشرقِ وسطیٰ میں امن قائم ہوجائے گااور عرب ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوجائیں گے؟ کا جواب فوری طور پر ہاں میں دیناابھی مشکل ہے لیکن اِتنا وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ اسرائیل و امارت امن معاہدہ کے اعلان سے مزید عرب ممالک کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے اور سفارتی تعلقات بحال کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔

اسرائیل اور عرب ممالک میں بڑھتی قربتیںنئی بات نہیں عرصے سے اِس حوالے سے خبریں ذرائع ابلاغ کی زینت بن رہی ہیں بس فرق اتنا رہا کہ نئی واضح پیش رفت سے ابہام دور ہوئے ہیں امن سمجھوتے سے عربوں کے مفاد کا تحفظ ہوتا اور فائدہ ملتا ہے یا نہیں ایک بات طے ہے کہ اسرائیل محفوظ ہونے کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ کے طاقتور فریق ہونے کا دعویٰ منوانے میں کامیاب ہوگیا ہے اور عربوں میں جنم لینے والی مایوسی سے دنیا آشنا ہوگئی ہے امارات اسرائیل کو تسلیم کرنے والا تیسراعرب ملک ہے یہ بات کب سعودیہ کو گُھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرتی ہے شام ،عراق سمیت دیگر عرب ممالک کو اسرائیل کے بارے پالیسی بدلنے ،تسلیم کرنے اور سفارتی تعلقات بحال کرنے میں کتنی دیرلگتی ہے کا جواب جاننے کے لیے زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ امارات و سعودیہ کی یکساں سوچ کسی سے پوشیدہ نہیںاور یہ کہ سعودی اجازت نامے کے بغیر امارات اکیلے اِتنا بڑافیصلہ نہیں کر سکتا امریکی ثالثی میں اسرائیل وامارات کے مابین طے پانے والے امن معاہدے کی طرح دیگر عرب ممالک سے بھی ایسا معاہدہ طے پانا ممکن ہے۔

عرب ممالک اور اسرائیل میں تنائو کی بہتر سالہ تاریخ کو اہم موڑ تک لانے کے لیے کافی عرصے سے پیش رفت جاری تھی مگر گزشتہ دوبرس سے فاصلوں میں تیزی سے کمی آئی 2018میں اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کا اچانک عمان پہنچنااور عمان کے سلطان سے ملاقات کرنا قربتوں میں اضافے کی اطلاعات کی پہلی بار تصدیق ہوئی ملاقات کے حوالے سے عمان کے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطین کو اکٹھا بٹھانے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں کیونکہ دومتحارب فریقوں کو ثالث کے بغیر اکٹھا نہیں بٹھایا جا سکتا انھوں نے اسرائیل سے دیگر ریاستوں کی طرح پیش آنے کی تمنا ظاہر کی اب یو اے ای کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کا معاہدہ تصدیق کرتا ہے کہ کئی عرب ممالک عمان کے وزیرِ خارجہ کی سوچ سے نا صرف متفق ہیں بلکہ دیگر ریاستوں کی طرح اسرائیل کو تسلیم کرنے اور سفارتی تعلقات بحال کر نے پر آمادہ ہیں حیرانگی کی بات یہ ہے کہ فلسطین کے نام پر ہونے والے معاہدوں پر فلسطینی راضی نہیں امارات و اسرائیل کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت پر فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے تنقید کی ہے اور یو اے ای سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے جبکہ حماس جیسی مزاحمتی تحریکوں نے معاہدے کوغدارانہ اور پیٹھ میں چھراگھونپنے کے مترادف قراردیا ہے لیکن تنقید کرتے ہوئے اُنھیں شاید عربوں کی تھکاوٹ یاد نہیں رہی ۔

اسرائیل نے امارات سے معاہدے کے تناظر میں غرب اردن کے علاقوں جودیہ اور سماریہ کا اپنے ساتھ الحاق کا عمل معطل کرنے اور مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں نماز ادا کرنے کی اجازت دینے کا اعلان کیا ہے لیکن ساتھ ہی الحاق معطل کرنے کے باوجود،جودیہ اور سماویہ کو اپنی سرزمین قراردیتے ہوئے دستبردار نہ ہونے کاعزم ظاہر کیا ہے جس پر حیرانگی کی کوئی بات نہیں وہ بالاتر طاقت ہے معاہدہ اوسلو کے کون سے نکات پر عملدرآمد ہوا، اب طے شدہ شرائط کی پاسداری پر اُسے کون مجبور کر سکتا ہے؟امارات نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن سمجھوتہ طے نہ پانے تک مقبوضہ بیت المقدس میں سفارتخانہ نہ کھولنے کی بات کی ہے لیکن اماراتی موقف کب تبدیلی ہوجائے کچھ کہا نہیں جا سکتا۔

جمعرات کو ٹیلی کانفرنس میں ڈونلڈ ٹرمپ،شیخ محمد بن زاید النیہان اور اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے بات چیت کے دوران جس امن سمجھوتے کی منظوری دی ہے اگر فریقین سمجھوتے کی پاسداری کریں تو عرب اسرائیل تنازع کے حل کا امکان ممکن ہے اور حالیہ تاریخی سفارتی بریک تھرو امن لانے کی کلید ثابت ہو سکتا ہے مگر شرط خلوص کی ہے امن کی بات کرتے ہوئے رویوں میں بھی تبدیلی لانا لازم ہے سرمایہ کاری، سیاحت، براہ راست پروازوں، ٹیکنالوجی، سیکورٹی، توانائی، ٹیلی مواصلات، صحت، ثقافت اورماحولیات میں تعاون کے لیے امن شرط ہے دونوں ملک اگر آئندہ ہفتوں میں وفود کی سطح پر ہونے والی بات چیت کو نتیجہ خیز بنانا چاہتے ہیں تو امن کے لیے عملی اقدامات اُٹھائیں وگرنہ امن اسمجھوتہ جسے معاہدہ ابراہیم کا نام دیا گیا ہے ناکامی کی چادر اوڑھ لے گا اگر خطہ بدستور بدامنی کا شکار رہتا ہے تو یہ معاہدہ بھی دوممالک میں سفارتی مراسم کی بحالی تک محدود ہو کر رہ جائے گا۔


ای پیپر