احتساب، بس دیکھتے جائیے
17 اگست 2020 (11:28) 2020-08-17

احتساب کا عمل جاری ہے مگر دولت کی واپسی کی کوئی خبر نہیں سننے کو مل رہی۔ ہو سکتا ہے عوام کو اس بارے بتانا ضروری نہ ہو ویسے بھی ہر بات کب انہیں بتائی جاتی ہے۔ تمام فیصلے اُن کی مرضی و منشا کے مطابق نہیں ہوتے شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ انہیں تو اپنا ووٹ دینا ہوتا ہے جسے وہ اپنے من پسند امیدوار کو دے ڈالتے ہیں۔ 

خیر احتساب آگے بڑھ رہا ہے اب وزیراعلیٰ پنجاب کو بھی نیب نے طلب کر لیا ہے ان سے پوچھ گچھ کا سلسلہ ہو چکا ہے اگلے پچھلے کھاتے کھلنے جا رہے ہیں مگر مجھے نجانے کیوں لگ رہا ہے کہ یہ سب گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنا ہے کیونکہ اب تک جتنے بھی سیاستدانوں کو کٹہرے میں کھڑا کیا گیا ہے وہ احتساب کے شکنجے میں آنے کے باوجود خود کو آزاد سمجھ رہے ہیں لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ جناب عثمان بزدار وزیر اعلیٰ پنجاب بھی ایسا ہی محسوس کریں گے؟

جاوید خیالوی کہتا ہے کہ اب جب ہم تہتر برس گزار چکے ہیں تو معلوم ہوا ہے کہ عام آدمی کے لیے قانون بھی حرکت میں آتا ہے اسے معمولی واردات پر پس زندان بھی دھکیل دیا جاتا ہے اسے ہتھکڑیاں لگا کر عدالتوں میں بھی پیش کیا جاتا ہے پولیس اسے یہ تصور کر بیٹھی ہے کہ جیسے اس نے ملک کا پورے کا پورا خزانہ ہڑپ کر ڈالا ہے لہٰذا اس کے ساتھ ایسا سلوک کرتی ہے کہ بندہ کانپ کانپ جاتا ہے مگر یہ کیسا تضاد ہے کہ کسی بڑے کو بڑے سے بڑا جرم کرنے پر بھی مسکرا مسکرا کر دیکھا جاتا ہے۔ اسے ہر وہ سہولت فراہم کر دی جاتی ہے جو اسے اپنے گھر میں میسر ہوتی ہے۔ 

افسوس صد افسوس ’’دکھ جھیلے بی فاختہ اور کوے انڈے کھائیں‘‘ غریب لوگ محنت مشقت کر کے بھی اپنا پیٹ نہ پال سکیں اور بڑے کچھ کیے بغیر موجیں کریں۔ 

کسی حد تک جاوید خیالوی ٹھیک کہتا ہے یہاں کا نظام حیات لوگوں کو آسانیاں فراہم نہیں کرتا بلکہ ان کے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے انہیں خوف زدہ کرتا ہے تا کہ وہ (لوگ) سہمے سمٹے رہیں اور ان میں ان کو للکارنے کی سکت نہ ہو لہٰذا طبقہ اشرافیہ ہمیشہ محفوظ رہتا ہے اور جائز و ناجائز ذرائع سے دولت کے انبار لگاتا رہتا ہے جب عوام میں تھوڑی بہت بے چینی پھیلتی ہے تو قانون حرکت میں آ کر پکڑ دھکڑ کے مناظر ابھار دیتا ہے اور ہم سادہ لوح غریب عوام خوش ہو جاتے ہیں کہ اب اونٹ آیا پہاڑ کے نیچے مگر حقیقت میں کچھ اور ہوتا ہے؟ ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ… ایک ہلچل سی مچتی ہے۔ کبھی حکومت تبدیل ہونے کی افواہیں اڑتی ہیں کبھی آہنی ہاتھ کا تذکرہ ہوتا ہے پھر کچھ عرصے بعد یہ سب قصہ پارینہ بن کر رہ جاتا ہے۔ 

اس وقت بھی جو ہو رہا ہے چند ماہ کے بعد میڈیا سے غائب ہو جائے گا کوئی نیا پروگرام سامنے آجائے گا ایک آس بندھے گی کہ اب تو اچھے دن آ کر ہی رہیں گے مگر وہ اور آگے بڑھ جائیں گے اس طرح دوسری تیسری نسل دیکھے جا رہی ہے اور وہ مایوس ہو کر کہتی ہے کہ یہ نظام کب بدلے گا؟ 

اسے علم ہونا چاہیے کہ کوئی بھی نظام جدوجہد کے بغیر نہیں بدلتا جن ملکوں میں نظام بدلے وہاں کے لوگوں نے احتجاج کا راستہ اختیار کیا اگرچہ انہیں ڈرایا دھمکایا گیا ، قوانین بنا کر روکنے کی کوشش کی گئی مگر وہ سب رکاوٹیں عبور کر گئے اور منزل مراد تک پہنچ گئے یہاں ہمارے ہاں ایسا کوئی لیڈر نہیں جو عوام کو اُن کے بنیادی حقوق دلانے کے لیے آگے آئے۔ عمران خان کو لوگوں نے منتخب کیا تھا کہ وہ خواہشیں جو پوری نہیں ہو سکیں وہ حقوق جو انہیں نہیں مل سکے اور وہ خواب جو پورے نہیں ہو سکے ان سب کے لیے ضرور کوشش کریں گے مگر وہ بھی نمک کی کان میں نمک بن گئے۔ معذرت کے ساتھ انہوں نے اپنے ایسے کارکنوں تک کو پیچھے دھکیل دیا جو رات دن محنت کر کے ان کو ایک لیڈر کے طور سے سامنے لائے تھے آج وہ سخت پریشان ہیں انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ پوچھنے والا اُن قبضہ گروپوں کو بھی کوئی نہیں جو کمزوروں کی زمینوں اور مکانوں پر قابض ہیں۔ مہنگائی مافیا ہو یا چینی مافیا آٹا مافیا ہو یا ٹرانسپورٹ مافیا سب کے سب دیدہ دلیری سے سرگرم عمل ہیں۔ اُدھر غریبوں کا حال یہ ہے کہ وہ زندگی کے لوازمات پورے حاصل نہ کر سکنے کی بنا پر مختلف النوع بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ ٹی بی ، ہیپا ٹائی ٹس ، دل اور گردوں کے امراض تو تیزی سے بڑھ رہے ہیں جس سے ہر برس لاکھوں کی تعداد میں اموات ہو رہی ہیں مگر حیرت ہے کہ ہمارا میڈیا اس حوالے سے اعداد و شمار پیش نہیں کرتا ایک وائرس سے متعلق ایسے بتاتا ہے کہ جیسے پورا ملک موت کے قریب تر پہنچ گیا ہو جبکہ اس وائرس سے چھ سات ہزار سے اوپر لوگ جان کی بازی نہیں ہارے اب تو سب خیر ہے امید کے دیے روشن ہو رہے ہیں بل گیٹس کہتا ہے کہ دوسرا فیز آئے گا مگر یہاں نہیں آئے گا روس کے بعد چین بھی اپنی ویکسین لانے میں کامیابی حاصل کر چکا ہے لہٰذا جو قوتیں انسانوں کو خوشحال نہیں دیکھ سکتیں انہیں سخت مایوسی ہو رہی ہے۔

حرف آخر یہ ہے کہ احتساب کاررولاہی ڈالنا ہے اور یہ سمجھ لینا ہے کہ عوام مطمئن ہو جائیں گے تو یہ بات درست نہیں عوام کو معلوم بہت کچھ ہے مگر وہ فی الحال کسی تحریک چلانے کے لیے تیار نہیں ۔ ہاں جب پانی ان کے سر سے گزرنے لگے گا تو وہ ضرور سڑکوں پر آئیں گے کیونکہ جینا بھی تو ہے اور اپنے مطابق جینا ہے!


ای پیپر