ہم کتنے سادہ ہیں!
17 اگست 2020 (11:27) 2020-08-17

میخائیل گوربا چوف 1985 میں سوویت یونین کے صدر منتخب ہوئے ، یہ سرد جنگ کے عروج کا زمانہ تھا ،ساری دنیا امریکہ کے ساتھ کھڑی تھی اور سوویت یونین آخری سانسیں لے رہا تھا ۔ اشتراکیت اپنا اعتبار کھو بیٹھی تھی اورسرمایہ داری کاعفریت ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے کو تیار تھا ۔ سوویت یونین اشتراکیت کا سب سے بڑا چمپیئن تھالہذا یہ آخری حد تک لڑنے مرنے کو تیار تھا۔ میخائیل گوربا چوف نے اقتدار سنبھالا تو اس نے اشتراکیت کے مردہ ہاتھی کو دوبارہ زندہ کرنے کا عہد کر لیا ، اس نے ملک میں نئے قوانین متعارف کر وائے، افغان جنگ سے نکلنے کے راستے تلاش کیے ، ہمسایہ ممالک سے دوستی کے عہد باندھے اور سرد جنگ سے نکلنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دیں۔ اس کے ساتھ داخلی سطح پر اشتراکیت کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد منصوبے شروع کیے، اس نے ایک خصوصی وفد لندن روانہ کیا جو یہ ریسرچ کرے کہ سرمایہ دارانہ نظام کیسے کام کرتا ہے ۔وفد لندن پہنچا، میزبان نے وفد کو لندن کی اہم مارکیٹس ، اسٹاک ایکسچینج اور لندن سکول آف اکنامکس کے دورے کروائے ،لندن کے اہم بینکوں کا وزٹ کروایا، بینک مینجرز، ماہرین معاشیات، پروفیسر ز اور سرمایہ داری کے ماہرین سے میٹنگز ہوئیں ، تفصیلی وزٹ اور طویل میٹنگز کے بعد وفد کے شرکاء پھٹ پڑے ،:’’ذرا ٹھہریے! آپ ان پیچیدہ اقتصادی نظریات اور اعداد وشمار کو رہنے دیجئے، ہم دو دن سے لندن کی خاک چھان رہے ہیں لیکن ایک بات ہماری سمجھ میں نہیں آ رہی، وہاں ماسکو میں ہمارے بہترین دماغ روٹی کی تقسیم کے نظام پر کام کر رہے ہیں لیکن اس کے باجود ہماری نانبائی کی دکانوں اور ہوٹلوں پر لمبی قطاریں لگی رہتی ہیں اور لوگوں کو دو عدد روٹی لینے کے لیے دو گھنٹے انتظار کر نا پڑتا ہے ۔ جبکہ یہاں لندن میں لاکھوں افراد مقیم ہیں ، ہم دو دن سے شہر کے بازاروں میں گھوم رہے ہیں لیکن ہم نے یہاں ایک بھی قطار نہیں دیکھی ، برائے مہربانی ہمیں اس شخص کے پاس لے جائیے جو لندن میں روٹی کی فراہمی کے ادارے کا ذمہ دار ہے۔‘‘ میزبانوں نے سرکھجایا ، ایک دوسرے کی طرف دیکھااور تھوڑی دیر سوچ و بچار کے بعد معذرت کرتے ہوئے بتایا کہ یہاں لندن میں روٹی کی فراہمی کا کوئی ادارہ ہے نہ اس کا کوئی ذمہ دار۔قطع نظر اس کے کہ یہ واقعہ سچ ہے یا غلط مگر یہ واقعہ ا عداد وشمار اور ڈیٹا کہ اہمیت کو واضح کرتا ہے ، 21ویں صدی میں ایک نئے مذہب اور 

ایک نئے نظام فکر نے جنم لیا ہے جسے ڈیٹا ازم یا مذہب شماریات کہا جا سکتا ہے۔ یہ مذہب اعلان کرتا ہے کہ کائنات محض اعداو شمار کا گورکھ دھندہ ہے اور کائنات میں موجود ہر شے کی قیمت او ر اہمیت کا تعین شماریات میں اس کے مقام سے طے ہوگا۔ آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ مستقبل میں دنیا پر ان قوتوں کی حکمرانی ہو گی جو بگ ڈیٹا کی مالک ہوں گی۔ بگ ڈیٹا کیا ہے ،یہ وہ ڈیٹا ہے جو میں ، آپ اور دنیا کے کروڑوں اربوں انسان گوگل ، فیس بک اور یوٹیوب جیسی ویب سائٹس کو مفت میں فراہم کر رہے ہیں ، اس ڈیٹا کی بناپر یہ لوگ ہمارے بارے میں ہم سے زیادہ جانکاری رکھتے ہیں، آنے والے دنوں میںان کمپنیوں کے مالکان اس ڈیٹا کی بنیاد پرہمارے اذہان کو کنٹرول کریں گے اور کروڑوں اربوں انسانوں کا مستقبل ان کے ہاتھ میں ہو گا۔

کچھ عرصہ قبل فیس بک نے ایک ریسرچ کی جس میں چھیاسی ہزار فیس بک صارفین نے حصہ لیا ، اس ریسرچ میں ان صارفین سے ان کی شخصیت کے متعلق سو سوالات کیے گئے، فیس بک نے ریسرچ سے قبل ہی صارفین کے ڈیٹا کی بنیاد پر نتائج کی پیشن گوئی کر دی تھی ۔ریسرچ مکمل ہوئی تو نتائج واقعی حیران کن تھے ، اگر آپ نے صرف دس دفعہ لائیک کا بٹن دبایا ہے تو فیس بک آپ کو آپ کے ملازمین اور ہمسایوں سے زیادہ جانتی تھی، اگر آپ نے ستر دفعہ لائیک کا بٹن دبایا ہے تو فیس بک آپ کو آپ کے دوستوں سے زیادہ جانتی تھی ، اگر آپ نے ایک سو پچاس بار لائیک کا بٹن دبایا ہے تو فیس بک آپ کے خاندان اور فیملی ممبرز سے بھی زیادہ آپ کو جانتی ہے اور اگر یہ تعداد تین سو تک پہنچ جائے تو فیس بک آپ کے شریک سفر سے بھی زیادہ آپ کے خیالات، سوچ ، افکار اور خواہشات کو جانتی ہے ۔ آپ ایک اور مثال دیکھیں ، آپ چار پانچ سال تک اپنی حکومت اوروزیر اعظم سے نالاں رہتے ہیں ، انتخابات نزدیک آجاتے ہیںا ور آپ پختہ عزم کرتے ہیں کہ اس جماعت کو ووٹ نہیں دیں گے ، الیکشن سے چند ماہ پہلے حکمران جماعت ٹیکسز میں کمی کرتی اور ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کر دیتی ہے ، اس کے ساتھ بہترین دماغوں کو میڈیا ٹاک کے لیے ہائر کیا جاتا ہے ، یہ لوگ صبح شام حکومت کے حق میںر ائے سازی کرتے ہیں ، فیس بک جو آپ کے رجحانات اور پسندیدگیوں  سے پہلے ہی واقف ، اس ڈیٹا کی بنیاد پر آپ کو ایسی وڈیوز دکھاتی ہے جس سے آپ مسخر ہو جاتے ہیں اور الیکشن کے دن آپ کو پتا ہی نہیں چلتا کہ آپ اسی امیدوار کو ووٹ دے آتے ہیں ۔  صر ف یہی نہیں آنے والے دنوں میں ہم مکمل طورپر ان کمپنیوں کے رحم وکرم پر ہوں گے، ہماری زندگی کے اکثر افعال انہی کے مشوروں سے ترتیب پائیں گے ، مثلا فیس بک ، گوگل اور یوٹیوب میرے ڈیٹا کی بنیاد پر مجھے بتائیں گے کہ مجھے چھٹیاں کہاں گزارنی ہیں ، مجھے کون سی فلم دیکھنی ہے ، کون سا کالج جوائن کرنا ہے اور کون سی یونیورسٹی میرے حق میں بہتر ہو گی۔ اور تو اور ہمارے جیون ساتھی کا انتخاب تک ان کے رحم و کرم پر ہو گا، مثلا میں سوچتا ہوں کہ زید اور بکر میں سے کون سا جیون ساتھی میرے حق میں بہتر ہو گا تو گوگل مجھے بتائے گا’’ میں بچپن سے تمہیں جانتا ہوں ، میں نے تمہاری اسٹڈی کا سار ا ریکارڈ دیکھا ہے، تم نے کون سی فلمیں دیکھی ہیں میں جانتا ہوں ، میں نے تمہارے معاشقے کی ساری ای میلز پڑھی ہیں ، میںنے تمہاری شیئر کر دہ ہر تصویر دیکھی ہے ، تمہاری ساری فون کالز سنی ہیں ، میں تمہارے ڈی این اے اور دل کی دھڑکنوں کے اعداد وشمار سے بھی واقف ہوں ، اس سارے ڈیٹا اور رومان کے بارے میں کئی دہائیوں کے لاکھوں اعدادو شمار کی بنیاد پر میں کہوں گا کہ تم زید کو جیون ساتھی چن لو اور ستاسی فیصد امکان یہی ہے کہ تم اس کے ساتھ خوش رہو گے ۔ ‘‘ گوگل مزید کہے گا ’’ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ یہ بات تمہیں پسند نہیں آئے گی ، زید کے مقابلے میں بکر کہیں زیادہ خوبصورت ہے اور تم بیرونی خوبصورتی کو زیادہ ترجیح دیتے ہو ، تمہاری خواہش یہی تھی کہ میں بکر کا نام لوں مگر میں نے شکل و صورت کی بجائے حقیقت پر مبنی جواب دیا ہے ، یقینا شکل و صورت سے فرق پڑتا ہے مگر اتنا نہیں جتنا تم سمجھ رہے ہو ، تمہاری نسل جس نے ہزاروں سال افریقہ کے جنگلات میں نمو پائی ہے ، میری تازہ تحقیق بتاتی ہے کہ وہ طویل مدتی رومانی تعلقات میں شکل و صورت کو محض چودہ فیصد اہمیت دیتی ہے اس لیے میں یہی کہوں گا کہ تم زید کو اپنا شریک سفر چن لو ۔‘‘ اکسیویں صدی میں ڈیٹا ازم یا مذہب شماریات سب سے اہم مذہب بن چکا اور ہم بڑی سادگی سے یہ ڈیٹا ان کمپنیوں کو مفت میں فراہم کر رہے ہیں،آج ہمارے ذاتی اعداد وشمار ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہیں اور ہم اپنا یہ اثاثہ گوگل پر ای میلز،ویب سائٹ سرچنگ اور فیس بک پر لائیک اور کمنٹ کی صورت میں مفت میں فراہم کر رہے ہیں اورہمیں اندازہ ہی نہیں کہ یوٹیوب پر کتے بلیوں کی لڑائی دیکھ کر ہم اپنا آپ ان کمپنیوں کے حوالے کر رہے ہیں ۔


ای پیپر