’سی پیک‘ کی حالت زار اور سلامتی کونسل میں ’کامیابی‘
17 اگست 2019 2019-08-17

جمعہ 16 اگست کو شائع ہونے والی ایک خبر کا متن ملاحظہ کریں: ’’مخصوص پلان کے تحت چائنا پاکستان اقتصادی راہداری ( سی پیک ) کے پروجیکٹس پر کام سست روی کا شکار کر دیا گیا ہے…14اگست 2019ء کو سکھر ملتان چھ رویہ موٹروے جو پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی ہے کو عام ٹریفک کیلئے کھولا جانا تھا جبکہ پانچ سو کلومیٹر کے لگ بھگ طویل سکھر ملتان موٹروے جو ہر لحاظ سے مکمل ہے اور اس کی تھرڈ پارٹی انسپکشن اور سرٹیفیکیشن بھی ہوچکی ہے جس سے وفاقی حکومت کو ٹول ٹیکس کی مد میں سالانہ اربوں روپے ملا کریں گے مگر کسی دباؤ کے تحت اسے نہیں کھولا گیا۔جبکہ ھکلا (ترنول) ڈی آئی خان موٹروے جو ساڑھے تین سو کلومیٹر طویل ہے کی تعمیر کا باقی ماندہ کام نہ ہونے کے برابر ہے حالانکہ چائنا کی طرف سے فنڈز بھی دستیاب ہیں مگر کسی طاقت کے اشارے پر اس پر کام کی رفتار نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ دریں اثنا برہان حویلیاں ایبٹ آباد مانسہرہ موٹروے جس کا برہان تا حویلیاں سیکشن کا افتتاح سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی 31 مئی 2018 سے پہلے کر چکے ہیں اور حویلیاں سے مانسہرہ تک کی موٹروے زیادہ سے زیادہ چھ ماہ میں مکمل ہوجانا تھی اس پر کام کم وبیش رکا ہوا ہے۔ ادھر پشاور سے کراچی تک ڈبل جدید ترین ریلوے لائن بچھانے کے پروجیکٹ ایم ایل۔ ون اور ایم ایل۔ ٹو اور ایم ایل۔تھری (کراچی تا لاہور) لاہور تا راولپنڈی۔ راولپنڈی تا پشاور بھی ایک بہت بڑے ملک کے دباؤ کی وجہ سے بند ہے اور اس کا زمینی کام تاحال شروع نہیں ہوا۔وزارت ریلوے کی ایک شخصیت نے ایک سماجی تقریب میں اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ایک سابق صدر کو ہلکے پھلکے انداز میں عندیہ دیا کہ ایک بہت بڑا ملک چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور کے اس اربوں ڈالر کے اس ایم ایل پروجیکٹ کو کم وبیش بند کرا رہا ہے۔ اس سے پاکستان کی اقتصادی ترقی کی تمام امیدیں خاک میں مل گئی ہیں۔ سی پیک پروجیکٹوں پر عملدرآمد کی رفتار بند یا بے حد سست ہونے کی وجہ سے پاکستان کی آدھی سے زیادہ انڈسٹری سنگین بحران کا شکار ہوگئی ہے اس کے نتیجے میں اسٹیل ملیں بند ہونے لگی ہیں اور سیمنٹ پلانٹ پیداواری گنجائش کے صرف 40 فیصد تک سیمنٹ بنا رہے ہیں سیمنٹ کی بوری ساڑھے چھ سو کی بجائے ساڑھے چار سو روپے میں بھی بکنا مشکل ہوگئی ہے۔ اسلام آباد کے پشاور موڑ سے نیو ایئرپورٹ تک کی میٹرو بس پلان کے مطابق پندرہ ماہ میں بھی نہیں چلائی جاسکی حالانکہ یہ سابقہ حکومت تین سے چھ ماہ میں مکمل کرنے والی تھی‘‘۔(روزنامہ جنگ لاہور)

کیا دنیا میں کسی مہذب ، خود مختار اور شدید حد تک اقتصادی ترقی کے ضرورت مند ملک کی مثال دی جا سکتی ہے جس کی حکومت اور مقتدر طبقوں نے کسی بڑی طاقت کے دباؤ میں آ کر اپنے یہاں جاری و ساری اتنے بڑے اقتصادی و ترقیاتی منصوبے کو تلپٹ کر کے رکھنا شروع کر دیا ہو جو اس کی معاشی زبوں حالی اور ڈالر ڈالر کی محتاجی کی سی صورت حال کاپانسہ بدل دینے کے واضح امکانات رکھتا ہے … اپنے پاؤں پر کلہاڑا مارنا اورکسے کہتے ہیں… مندرجہ بالا خبر کے لفظ لفظ سے عیاں ہے اتنے بڑے کارنامے کی توفیق غالباً مبدافیض کی جانب سے ہمارے حکمرانوں کو ہی دی گئی ہے… وہ بھی ایک غیر ملکی طاقت کی انگیخت پر جس کے بارے میں گزشتہ ستر برس کی تاریخ شاہد ہے اس نے ہر اہم موڑ پر ہمیں مایوس کیا مگر صرف اکیلے امریکہ کا قصور نہیں موجودہ حکومت اور اس کے سرپرستوں کا سی پیک کے بارے میں انقباض نفس بھی کام دکھا رہا ہے…2013ء میں نواز شریف کے تیسری مرتبہ وزیراعظم منتخب ہونے کے ساتھ جب خنجراب سے گوادر تک غیر معمولی نوعیت کے تعمیراتی و صنعتی منصوبے کے آغاز کا اعلان کیا گیا تو جزوی و اطلاقی اختلافات سے قطع نظرمجموعی طور پر اس پر قومی اتفاق رائے کا اظہار ہوا نواز شریف کریڈٹ لے رہے تھے ان کے تیسری مرتبہ وزیراعظم منتخب ہونے کے سبب برادر ہمسایہ ملک چین نے ان کی عوامی قوت اور حکومتی تجربے پر اعتبار و اعتماد کرتے ہوئے اتنے بڑے منصوبے کی عملی شروعات کیں جن کے اختتام پر گوادر دنیا کی اہم ترین بندر گاہوں میں شمار ہو گی اور اندرون پاکستان سڑکوں اور جدید ریلوے لائن کا ایسا جال بچھ جانا تھا جن سے ترقی کی نت نئی راہیں نکلتیں… اس کے ساتھ چین کی جانب سے 45 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا بھی اعلان ہوا… اسی مرحلے پر جناب آصف علی زرداری نے کہا کہ سی پیک کے پورے تصور ہی کو آخری شکل ہی انہوں نے اپنے عہد صدارت میں چین کے بار بار کے دوروں کے دوران دی تھی… اب جو اس کی تعمیر کے آغاز کا مرحلہ آیا تو نواز شریف صاحب برسراقتدار آ گئے… تیسری جانب وہ جسے ہمارے سیاسی روز مرہ میں اسٹیبلشمنٹ کہا جاتا ہے ، اس کے کار پردازوں کی رائے تھی اتنے بڑے منصوبے کی جس کی اقتصادی کے ساتھ سٹرٹیجک اہمیت بھی بہت زیادہ ہے کی کمان ان کے ہاتھوں میں ہونی چاہیے… ایک عمران خان واحد سیاستدان تھے جنہیں اسے قومی منصوبے کو طور پر دل و جان کے ساتھ قبول کرنے میں ہچکچاہٹ تھی کہ منصوبے کے ماتھے پر بہر صورت نواز شریف کی مہر لگ چکی تھی… یہ بات انہیں کسی طور ہضم نہیں ہو پا رہی تھی… ان کے انقباض کا یہ عالم تھا 2014ء کے اسلام آباد کے ڈی چوک کے دھرنوں کے دوران اس بات کی پرواہ تک نہ کی کہ ان کے برپا کردہ شور و ہنگامے کی وجہ سے عوامی جمہوریہ چین کے صدر شی جن پنگ سی پیک کے افتتاح کے لیے ہمارے دارالحکومت میں قدم رنجا نہ ہو سکیں گے… چنانچہ پاکستان کے عظیم ترین دوست ملک کا جو آج بھی کشمیر کے مسئلے پر ہمارے ساتھ کھڑا ہے کا سربراہ بھارت جا اترا… 1915ء میں صدر شی جن پنگ دوبارہ آئے اور ہماری پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے ساتھ اس غیر معمولی منصوبے کا افتتاح بھی کیا… عمران کے علاوہ جو دو بیرونی قوتیں اس منصوبے کو برداشت نہیں کر پا رہی تھیں ان میں ظاہر ہے ایک بھارت ہے جس نے اس کی کھلم کھلا مخالفت کی کیونکہ اسے خطے کے اندر پاکستان کا اتنا بڑا اقتصادی اور شاہراہی مرکز بن جانا ہرگز گوارا نہ تھا… دوسرا اور دنیا کا سب سے طاقتور ملک امریکہ ،جس کے مفادات کو چین کے اس حد تک بڑھنے والے رسوخ سے زک پہنچتی تھی مگر پاکستان کے عوام اس پر مطمئن اور سرشار تھے کہ اس کی تکمیل کے نتیجے میں ہم پر اس اقتصادی خود انحصاری کی راہیں ہموار ہوں گی، جس کا خواب 70 سال سے دیکھتے چلے آ رہے تھے مگر امریکہ اور اس کے آئی ایم ایف جیسے ذیلی اداروں کی امداد اور قرضوں کے محتاج رہے… واحد سپر طاقت کی جنگیں لڑنے پر بھی مجبور ہوئے…

نواز شریف کی وزارت عظمیٰ تو چار برسوں کے بعد کسی نہ نظر آنے والی توپ کے دہانے پر رکھ کر اڑا دی گئی…اس کی جماعت مسلم لیگ (ن) نے البتہ لڑکھڑاتی گرتی حالت میں پانچ سال پورے کیے تاہم اس مدت میں سی پیک نے پہلا کرشمہ یہ دکھایا اس کے تحت ہونے والی اولین سرمایہ کاری کے نتیجے میں لوڈشیڈنگ کا جو اذیت ناک عذاب ہماری قوم پر مسلط تھا، اس سے کافی حد تک نجات مل گئی… چین کے درہ خنجراب سے لے کر پوری ارض پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہوئی جو تین شاہراہیں یعنی مغربی، وسطی اور مشرقی تعمیر ہونا تھیں، ان کا کام بھی کافی حد تک مکمل ہو گیا… اب گیارہ سپیشل اکنامک زون بننا تھے تاکہ ان کے ذریعے ملک بھر میں نت نئی صنعتوں کا جال بچھایا جا سکے… چین اور بقیہ دنیا سے بھی سرمایہ کار آئیں…کراچی سے پشاورتک جدید ٹیکنالوجی کی حامل نئی ریلوے لائن کی تعمیر ہونا تھی مگر اگست 2018ء میں نئی اور عمرانی حکومت جو برسر اقتدار آئی تو اس کے مشیر تجارت رزاق داؤد نے جن کے خاندان کے تمام تر کاروباری مفادات امریکہ سے وابستہ رہے ہیں فوراً اعلان کر دیا کہ کچھ عرصے کے لیے سی پیک کے منصوبے کو التواء میں ڈال دیا جائے… وجہ اس کی انہوں نے کچھ نہ بتائی البتہ عمران خان کا پرانا انقباض، امریکہ کا دباؤ اور ہماری اسٹیبلشمنٹ کی نواز عہد سے بیزاری تینوں نے اپنا کام دکھانا شروع کر دیا… آج یہ عالم ہے جیسا کہ اوپر دی گئی خبر سے مترشح ہوتا ہے نہ صرف موٹر وے جیسے عظیم منصوبے کی کئی مقامات پر تکمیل میں روڑے اٹکانے جا رہے ہیں بلکہ پشاور سے کراچی تک جدید ترین ریلوے لائن بچھانے کے ایم ایم ون منصوبے پر جس کے بارے میں صرف ہمارے کسی دشمن کی ہی رائے ہو سکتی ہے کہ ملک کو اس کی شدت کے ساتھ ضرورت نہیں ، کام شروع نہیں ہو پا رہا اور یہ سب کچھ خاص منصوبہ بندی کے تحت ایک بڑے ملک کے دباؤ کا شاخسانہ ہے… وہ ملک ظاہر ہے پاکستان کی حکمران قوتوں کا سرپرست اعلیٰ امریکہ ہے جسے سی پیک ایک آنکھ نہیں بھاتا اور چین کی دشمن میں پاکستان کی اقتصادی اور صنعتی ترقی کے در پے آ زار ہے لیکن اس تعطل پر سب سے زیادہ مسرور اور مطمئن بھارت اور مودی حکومت ہو گی جس نے ایک جانب مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کو ہڑپ کر کے لائن آف کنٹرول پر ہمیں آنکھیں دکھانی شروع کر دی ہیں، دوسری جانب امریکہ کے ذریعے پاکستان کی ترقی کی راہیں روکنے میں بھی کامیابی حاصل کر لی ہے جبکہ ہماری حالت یہ ہے گزشتہ ایک برس کے دوران تمام اقتصادی اور معاشی اعشاریے سخت گراوٹ کا شکار ہو گئے ہیں… مجموعی قومی پیدا وار کا تناسب گر کر اڑھائی سے تین کی سطح پر آ گیا ہے… زرمبادلہ کے ذخائر کم تر ہو گئے ہیں… بیرونی سرمایہ کاری کا عمل رک گیا ہے… اندرون ملک صنعتکار ایک روپیہ لگانے سے گریزاں ہیں اور مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے… اس کمزور ترین اور ڈالر ڈالر کی محتاج معیشت کے بل بوتے پر اور سی پیک جیسے عظیم منصوبے کو ٹھوکر مار کر ہم نے اس بھارت کے مقابلے میں اقوام متحدہ اور اس کی سلامتی کونسل کا دروازہ کھٹکایا ہے جس کے چین کے علاوہ تمام ارکان کے مفادات بھارت کی تیزی کے ساتھ ترقی کرتی ہوئی معیشت سے وابستہ ہیں… یہاں تک کہ مسلم دنیا کے امیر ملکوں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات وغیرہ نے بار بار کے دوروں اور منتوں کے بعد ہمارے کشکول میں تین تین ارب ڈالر تو ڈال دیے مگر سرمایہ داری کی خاطر کھربوں ڈالر لے کر بھارت جا پہنچے ہیں… اس حالت میں ہماری درخواست اور چین کے اصرار پر سلامتی کونسل کا اجلاس منعقد ہوا ہے جس کے اندر سے ایک گھنٹہ دس منٹ کے دورانیہ کے نتیجہ میں بس ہمیں اتنی کامیابی ملی ہے کہ 50 سال بعد تنازع کشمیر اس کے بند کمرے مشاورتی اجلاس میں زیر بحث آ گیا… کشمیر کو متنازع علاقہ کہا گیا…سابقہ قرار دادوں کا ذکر ہوا شملہ معاہدہ کا حوالہ بھی دیا گیا مگر بھارت پر معمولی درجے کا اخلاقی دباؤ ڈالنے سے پہلو تہی کی گئی کہ اس نے جو انتہائی ناجائز طو رپر متنازع ریاست جموں و کشمیر کا اپنے اندر انضمام کر لیا ہے، اس اقدام کو واپس لے اور کشمیریوں کے اوپر ظلم و ستم کے جو پہاڑ توڑ ڈالے ہیں … اس مکروہ کام سے فوری طور پر باز آجائے… صرف اس خواہش کا اظہار کیا گیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کو کسی قسم کی جنگ میں الجھنے سے احتراز کرنا چاہیے… یہ امریکہ کی خوشنودی کی خاطر ہے سی پیک کو ٹانگ مار کر اور محتاجی میں ڈوبی ہوئی ملکی اقتصادیات کے کھوکھلے ڈھانچے کی طاقت کی بنا پر بھارت کے مقابلے میں ہماری وہ سفارتی کامیابی جس کا وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پرسوں جمعہ کی شام سے اٹھتے بیٹھتے ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں…


ای پیپر