کشمیر سے یک جہتی
17 اگست 2019 2019-08-17

حج، قربانی، عید الاضحی کے ساتھ ہی یوم آزادی چلا آیا۔ ذی الحج کا مقدس عشرہ، تکبیر تشریق اور لبیک کی گونج لیے آتا۔ ہم نے 27 رمضان (یوم آزادی 1947ء) سے نظریں چرا کر 14 اگست کو آزادی منانے کا دن طے کیا… تا کہ آزادی کا بے محابا اظہار ممکن ہو۔ (لیلۃ القدر اور جبریل امین ؑ کے نزول کی راتوں میں نہ میوزیکل شوز ممکن ہوتے، نہ پٹاخے اور سائیلنسر پھاڑ خوشی منائی جا سکتی) مگر اس مرتبہ عید قربان ساتھ نتھی ہو گئی۔ رہی سہی کسر یوں نکل گئی کہ غیر متوقع طور پر کشمیر کی خونچکاں کہانی ضمیر اور ایمان بن کر آن کھڑی ہوئی! شاید کشمیر پر 5 اگست کو اچانک غاصبانہ حملے کے بعد عید قربان ہماری تربیت کیلئے تھی۔ قربانی نام ہے قرب حاصل کرنے کے لیے محبوب ترین کی خاطر کمتر جان کر کسی محبوب شے کے قربان کر دینے کا۔ یہ تو دستبرداری ہے محبوبات نفس سے ۔ رب تعالیٰ کی اطاعت ، تسلیم ورضا، ایمان کی قیمتی متاع کی خاطر ہی تو ہمارے باپ ابراہیم علیہ السلام نے بڑھاپے میں اتر آنے والے چندے آفتاب و ماہتاب، محبوب بیٹے کی گردن پر چھری رکھ دی تھی! ہم نے بھی بحمد للہ 67 لاکھ جانور اس سال قربان کیے۔ قربانی کرتے ہوئے، تکبیر پڑھتے، یہ کہتے کہ ’میری نماز، میری قربانی (تمام مراسم عبودیت) میرا جینا میرا مرنا اللہ رب العالمین ہی کیلئے ہیں‘۔ رگ و پے میں ایمان کا کرنٹ تو دوڑا ہو گا؟ شعوری طور پر محبوبات نفس کو اللہ کی چوکھٹ پر قربان کر دینے کا حوصلہ تو اٹھا ہو گا۔ عید کے دن (محبوب) نافرمانیوں پر بھی چھری پھیرنا سچی توبہ کرنا عبادت ہے ورنہ تونری قصابی یا بے روح رسمی عبادت رہ جاتی ہے باربی کیو، قورمے بھری۔ بقول اقبالؔ: نماز و روزہ و قربانی و حج۔ یہ سب باقی ہیں تو باقی نہیں ہے۔ جذبے ساتھ ساتھ آزمائے بھی جاتے رہے۔ کشمیر ، پاکستان کے وجود ہی کا ایک حصہ، گویا جگر گوشہ، کس حال میں تھا؟ آج دو ہفتے سے زائد ہونے کو ہیں، کشمیر ایک بڑی جیل بن چکی ہے۔ غزہ ہی کی دوسری تصویر۔ خالی سڑکیں، خار دار تاریں، محصور آبادی، 7 لاکھ فوج کے نرغے میں، کرفیو کی زد میں۔ پوری دنیا سے مواصلاتی رابطے منقطع۔ خوراک، طبی ضروریات؟ انسان بند دروازوں کے پیچھے مقید؟ مودی نے عالمی ضمیر کے سامنے ایک بھاری سوال رکھ دیا ہے۔ وہی ضمیر جو مسلمانوں کیلئے 2001ء میں ہی بھنگ پی کر سو رہا تھا۔ بہت چیخ و پکار ہو تو ایک (دجالی) نیم وا آنکھ سے دیکھتا ہے اور کروٹ بدل کر پھر سو جاتا ہے۔ اقوام متحدہ اور ذیلی ادارے؟ یہ صرف اعداد و شمار جاری کرنے کا ادارہ ہے۔4 سال یمن جنگ کا تماشا دیکھتا رہا۔ اب بولا ہے کہ: ’سوا تین لاکھ افراد ہلاک ہو گئے، مزید تشدد ناقابل قبول ہے‘۔ سو آپ بھی مودی جملے کے بعد چار سال تو انتظار کیجیے، ابھی سے توقعات کیا لگانی؟ بھارتی جمہوریت کا کریہہ چہرہ خود بھارتی صحافیوں نے کشمیر کے دورے کے بعد پریس کانفرنس میں دکھایا ہے۔ صحافی کویتا کرشن نے کہا: جو کہتا ہے ، کشمیر کے حوالے سے ، (All is well, No!, All is hell) کہ سب ٹھیک ہے، نہیں! سب جہنم (زار) ہے! میمونہ مولہ نے کہا: ’ کشمیر پر قبضہ ختم کرو۔ یوں کام نہیں چلے گا۔ عوام اور پریس کی آواز دبا رکھی ہے، گلا گھونٹ رکھا ہے۔ یہ سب ختم کرو۔ 370 اور 35-A واپس لاؤ۔ علاقے کو جمہوریت واپس دو‘۔ صحافیوں کے گروپ نے عید کے دن کی کئی وڈیوز لیں جن کے مطابق سڑکوں پر ہو کا عالم تھا۔ نمازِ عید، قربانی، ضروریاتِ زندگی، رابطے سب سے محرومی! ہم نے کشمیر کے لیے کیا کیا؟ یک جہتی کے لیے پوری رات 14 اگست چھتوں، گراونڈوں پارکوں میں پٹاخے پھاڑے بگل بجائے، سائیلنسر پھاڑ موٹر سائیکلوں کا اودھم مچایا… اتنا کہ یہ ساری آوازیں سرحد پار تک جا رہی ہوں گی۔ یک جہتی کی آوازیں۔ ہم ایک جذباتی قوم ہیں۔ بیانوں، بڑھکوں، چوکوں چھکوں کے ہنگاموں کے پروردہ ہیں۔ بھارت کی طرف سے کھڑے کیے بھاری چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ایک کلو میٹر طویل 35 فٹ چوڑا جھنڈا کے پی کے میں (جس سے کئی مفلسوں کے تن ڈھانپے جاتے!) تیار کیا۔ جذبوں کے اظہارئیے میں ہر چھوٹے بڑے ادارے میں کیک کاٹے گئے۔ پاکستان کے جھنڈے کا کیک بنا کر ہم نے ہر جگہ ٹکڑے ٹکڑے کر کے کھا لیا۔ (شگون ہم لینا تو نہیں چاہتے، لیکن اس جھنڈے کا ہڑپ کیا جانا؟) اسی پر بس نہیں ہم نے بڑے بڑے جھنڈے ہر جا لہرائے۔ سب سے عجیب منظر اسلام آباد میں سی ڈی اے کی بھاری بھر کم کچرا گاڑی، جس پر بدبودار کچرالدا تھا اور اوپر سبز ہلالی پرچم لہرا رہا تھا! شاید یہ ہمارے یوم آزادی تقریبات پررواں تبصرہ بھی تھا۔ ہر اک لچر سی چیز کو کلچر کہا کرو۔ عریاں کثافتوں کو ثقافت کا نام دو۔ پاکستان کا مطلب کیا، لا الٰہ الا اللہ کی پکار پر یہ ہجرتیں ہوئیں۔ لاکھوں جانوں (عورتوں معصوم بچوں بوڑھوں سمیت) کی قربانی، ہزاروں بے بس لڑکیاں جو مشرقی پنجاب میں رہ گئیں شناخت کھو بیٹھیں۔ لاکھوں کی آبادی، ناچتی گاتی بگل بجاتی، پٹاخے پھاڑتی، راگ الاپتی، فلموں، ڈراموں، کرکٹ کی چاہ میں، در بدر خاک بسر تو نہ ہوئی تھی۔ یہ بھاری قربانی صرف کلمے کی پکار نے وصول کی تھی! سچے ایمانی جذبوں پر جان،مال، اولاد قربان کرنا ممکن ہے، یہی ذی الحج کی تربیت ہر نسل نے پائی تھی۔ اسی کے بل پر جدید تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت ہوئی تھی۔ صبح آزادی کے آفتاب کی کرنوں کو اپنے لہو سے رنگین کیا تھا! آزادی کی قیمت کشمیریوں سے پوچھیئے، جو ایک لاکھ شہید ہو چکے ہیں پاکستان کے جھنڈے لہرا کر پکارتے۔ پاکستان سے رشتہ کیا؟ لا الٰہ الا اللہ! ہم نے جواباً لاہور آرٹس کونسل کے تحت 14 اگست کو زبردست موسیقی کے پروگرام کا اہتمام کیا۔ پشاور نشتر ہال میں گیٹ توڑ، کھڑکی توڑ رش بھرا میوزیکل ورائٹی شو ہوا۔ ابھی تو فضا کشمیر نے سوگوار کر رکھی تھی ورنہ نجانے اور کیا کیا ہوتا! اسی دوران قبل از عید، مشرف کے ارب پتی کزن (بجا طو رپر ارب پتی!) نے بھارتی پاپ سٹار (گناہ کا ستارا؟) اور بالی وڈ گویے امریک سنگھ، (میکا) کے چودہ رکنی طائفے کو بیٹی کی شادی پر، ’پرفارم‘ کرنے کی دعوت دی۔ (یہ ہماری کشمیر پر، پر فارمنس ہی کی ایک جہت ہے) ڈیڑھ لاکھ ڈالر اور پورے طائفے کے لیے فرسٹ کلاس کے ٹکٹ دیئے گئے۔ تمام سرکاری اداروں، وزارتوں نے کلیئرنس دی اور راتوں رات پاکستانی ہائی کمشن نے ویزے دیئے کشمیر المیے کے علیٰ الرغم صوبائی گورنر نے استقبال کیا۔ تاہم ہمارے سرکاری بیانات دھواں دھار رہے۔ مراد سعید، وفاقی وزیر مواصلات نے معرکۃ الاراء بیان دیا۔ ’مودی! تم نے کوئی چالاکی کی تو ہر نوجوان ٹیپو سلطان ہے اور وزیراعظم عمران خان ہے!‘ ہمارے نوجوان تو جانتے ہی نہیں ٹیپو سلطان کون تھا! ( اور عمران خان! کیا باؤنسر ماریں گے مودی کو؟) ٹیپو سلطان تو شیر میسور تھا۔ اور ہمارا جوان؟ مگر تم کیا ہو…؟ ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر ٹھمکا ہو! آہ شیر میسور! انگریز کے خلاف جہاد کرنے میں 16 سال کی عمر سے لے کر 48 سال کی عمر تک اپنے جسم و جان کی تمام توانائیاں لگا کھپا کر جام شہادت نوش کرنے والا۔ جس کی فرنگی پر دہشت کا یہ عالم تھا کہ ٹیپوؒ کے جسد خاکی کے قریب آتے بھی کتنی دیر ڈرتے لرزتے رہے! حقیقی دہشت گرد! عظیم مجاہد! (اس اصطلاح کی حقیقی وجہ تسمیہ بھی تو یہی ہے!) ٹیپو کی شہادت پر جنرل ہیرس خوشی سے چلایا: آج سے ہندوستان ہمارا ہے۔ وہ جو انگریز کے ہندوستان پر قبضہ کی راہ میں کوہ گراں تھا! اور یہاں؟ ہمارے سبھی حکمرانوں کا میکہ اسی فرنگی کا برطانیہ ہے! پاکستان سے انکا رشتہ سسرالی ہے! ہماری مماثلتیں تو ٹیپو کی جدوجہد میں غداروں، ضمیر فروشوں، پیٹھ میں قدم قدم چھرا گھونپنے والے میر صادق، پورنیا اور بدر الزمان نائطہ جیسے سلطان کے امراء سے ہیں۔ سلطان ٹیپو تو دین کا شیدائی، پکا نمازی تھا۔ سرنگا پٹم کی شاندار نئی مسجد کی پہلی نماز کے لیے جب طے ہوا کہ امامت صاحب ترتیب کروائے(جس کی کبھی نماز قضا نہ ہوئی ہو)۔ تو اتنے ہجوم میں وہ سلطان ٹیپو ہی تھا! سلطنت میں شراب اور جوئے بازی نہایت سختی سے بند تھی۔ سلطان نے میوے اور کھجور کے درخت ہی کٹوا دیئے جن سے لوگ شراب بناتے تھے۔ اگرچہ حکومت کو اس سے بھاری معاشی نقصان ہوا۔ سلطان نے عوام کی بھلائی کے لیے ضرب المثل اقدامات کیے۔ غیر ممالک سے چیزوں کی درآمد پر پابندی لگا دی تھی کہ ملکی صنعت و حرفت ترقی پائے اور ملکی دولت،ملک ہی میں رہے۔ آخری وقت جان بچانے کا مشورہ دینے والے پر وہ شجاعت کا پیکر دھاڑا تھا: ’شیر کی ایک دن کی زندگی گیڈر کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے‘۔ جبکہ ہم جان بچاتے ہی تو 2001ء سے چلتے 2019ء کی سیاسی، سفارتی، معاشی، دفاعی، معاشرتی مفلسی کے اس دور میں آ پہنچے! ٹیپوؒ کے وارث تو شیر کشمیر سید علی گیلانی ہیں یا وہ جو امریکہ کو مذاکرات کی میز پر بٹھائے ناکوں چنے چبوا رہے ہیں! کشمیر بھی انہی سے فتح کروا لیں تو بہتر ہے!


ای پیپر