کشمیریوں کی جدوجہد آزادی
17 اگست 2019 2019-08-17

15 اگست 1947ء نہ جانے آزادی تھی یا کشمیریوں کی غلامی کے نئے دور میں داخل ہونے کا دن تھا۔ کشمیری اپنی آزادی کی جنگ تو مغلوں کے دور سے لڑتے چلے آ رہے ہیں شیخ امام الدین سے لے کر برہان وانی اور یٰسین ملک و مشعال یٰسین کی بیٹی رضیہ سلطانہ تک یہ جنگ جاری ہے۔ آج کشمیر کا کوئی گھر ایسا نہیں جس نے بھارتی بھیڑیوں کی گولی اور تشدد سے شہید ہونے والے کا لاشہ نہ اٹھایا ہو… کشمیر کے ایشو پر ہی تو پیپلزپارٹی جیسی جماعت کی بنیاد رکھی گئی۔ تین جنگیں لڑی گئیں آدھا ملک چلا گیا مگر کشمیری آج بھی پاکستان کے جھنڈے میں دفن ہوئے چلے جا رہے ہیں۔ ہمارے ہاں ہر قسم کے لوگ اقتدار میں آئے اور چلے گئے ۔ نسلیں سنواری ، مال بنایا ، بیرون اور اندرون ملک جائیدادیں بنائیں۔ دعوے کیے، وعدے کیے مگر کشمیر کا کیا ہوا؟ کشمیری دراصل اپنی آزادی کی جنگ نہیں وہ پاکستان کا حصہ بننے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ گورے سے ہندوستان کے لوگوں کو تو آزادی مل گئی مگر وادیٔ کشمیر کے باسیوں کو بدترین غلامی ملی اور ہندوستان کا بٹوارہ نامکمل رہا۔ کشمیریوں کی خواہش پاکستانی کہلانا ہے مگر بھارت کے مکروہ حکمرانوں کو یہ بات وارے میں نہیں، کشمیر پر قبضہ برقرار رکھنا ہندوستانی فوج نے اپنا روزگار بنا لیا۔ بھارتی بھیڑیوں کے ہاتھوں لاکھوں نہتے کشمیری قتل اب تک 13 ہزار سے زائد شرم و حیا کی پیکر لڑکیوں کی آبرو ریزی ہو چکی اور لاکھوں زخمی ہو کر ناکارہ ہو چکے۔

بھارت کا ہر حکمران مراعات ہی نہیں ہر کشمیری کو بہن کا رشتہ دینے کو بھی تیار ہو اگر وہ بھارت سے آزادی اور پاکستان سے الحاق کا مطالبہ چھوڑ دیں میرے مطابق اگر کشمیری صرف انڈیا سے آزادی چاہتے مگر پاکستان سے الحاق نہ چاہتے تو بنیے کی غلامی سے کب کے آزاد ہو چکے ہوتے دراصل پاکستان کے ساتھ الحاق اور پاکستان کا حصہ بننا پاکستانی کہلانا ہی کشمیریوں کی جدوجہد کی بنیاد ہے۔ میں تاریخ کا طالب علم ہی نہیں وطن عزیز کی 1971 ء سے تاریخ کا چشم دید گواہ بھی ہوں۔ جناب بھٹو صاحب کے دور میں کشمیر کی آزادی کے نام پر ہڑتال کی کال دی گئی تو پورا مقبوضہ کشمیر سناٹے میں بدل گیا جب بھٹو صاحب شہید ہوئے تو پورے کشمیر میں سوگ تھا جو آج بھی جاری ہے۔ میرے ایک پاکستانی دوست سے اس کا بھارتی رشتے دار ملنے پاکستان گوجرانوالہ آیا۔ اس نے کہا یہ تم لوگوں نے کیا کیا بھٹو کو شہید کر ڈالا۔ ہندوستان کے لیے بھٹو ایک خوف کی علامت تھے شاید پاکستانیوں کو اتنا دکھ نہیں جتنا ہندوستان کے مسلمانوں کو جناب بھٹو کی شہادت کا دکھ اور صدمہ ہے۔ پروفیسر جناب جہانگیر تمیمی صاحب جب بھارت کے دورے سے واپس آئے تو صرف اتنا تبصرہ کیا کہ کاش پاکستان کے متعلق جتنا بھارتی مسلمان فکر مند ہے پاکستانی بھی پاکستان لیے ہوتے ۔ ضیاء الحق کے دور میں جس انداز سے کشمیریوں کی حمایت جاری رکھی گئی اس سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہوا نتیجتاً ہندوستان کے 9 لاکھ درندے وادی میں دندناتے پھر رہے ہیں۔ 8 لاکھ تو پرانی بات ہے ایک لاکھ 40 ہزار اب تازہ دم بھیڑئیے تعینات کیے گئے ہیں۔ اگلے روز عرفان صدیقی کی گرفتاری کی روداد پڑھ رہا تھا جو ان پر ناجائز مقدمہ بنا محض دو ایک روز جیل میں گزارے ۔انہوں نے اس روداد کو کربلا ثانی بنانے کی کوشش میں 5 قسطیں لکھ ڈالیں کی میں نے سوچا بھٹو خاندان پر ٹوٹنے والے ظلم و دیگر خاندانوں کے امتحان کی اہمیت کا اندازہ ہوا ہو گا جبکہ کشمیر کے تو ہر خاندان کارواں رواں زخمی ہوا پڑا ہے۔ کشمیر کے معاملے میں میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم اس کو صحیح معنوں میں اپنا دکھ سمجھ لیں کبھی سوچا ہے کہ ہمارے گھر کے دروازے پر ایک اے ایس آئی ہی بیل دے دے تو کیسے سارے واسطے ، رابطے اور تعلقات یاد آجاتے ہیں چاہے وہ اپنی کسی مصیبت میں مدد کے لیے ہی آیا ہو۔ کبھی تصور کریں کشمیریوں کی زندگی کو جس میں موت آسان ہو چکی ہے۔ انڈین فوج کے بھیڑیے اور پولیس کے کتے ان کے گھروں کے درو دیوار کو میدان سمجھتے ہیں۔ مویشیوں ، جانوروں ، غلاموں اور ملک دشمن سے بھی بدتر سلوک جاری ہے کسی ایک ویڈیو کلپ ایک فوٹو ایک خبر کو بھی دل کی آنکھ سے دیکھیں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ کشمیری اپنی نہیں ہماری جنگ لڑ رہے ہیں۔ عزتیں، زندگیاں سب کچھ پاکستان پر قربان کر رہے ہیں ہندوستان کی 8 لاکھ افواج کو کئی سال سے Engage کر رکھا ہے۔ یہ ان کی جنگ نہیں وہ ہماری جنگ لڑ رہے ہیں اور ہمیں اپنے رویے پر غور کرنا ہو گا۔ وطن عزیز کی افواج لمحہ بھر غافل نہیں رہتیں۔ حکمرانوں نے بھی اپنے تئیں حق ادا کیا مگر میر امطمع نظر تو صرف اتنا ہے کہ کشمیریوں کی جنگ کی حقیقت کو سمجھا جائے۔

کشمیریوں کی اپنی نہیں پاکستان کی جنگ ہے جس کے بدلے میں بھارتی فوجی درندے ان کے گھروں میں ڈیرے ڈالے بیٹھے ہیں۔ جہاں تک آزادی کا تعلق ہے تاریخ گواہ ہے کہ جس قوم نے بھی آزادی مانگی اور جدوجہد کی اللہ رب العزت نے آزادی اس کے مقدر میں لکھ دی۔ کشمیریوں پر حالیہ ظلم کی لہر ہندوستان کے ٹکڑے کر دے گی۔ اگر کشمیر کا پرانا سٹیٹس بحال نہ ہوا اوراس وادی کو بھی ہندوستان میں شامل رکھا تو اللہ کے فضل سے صرف کشمیر میں نہیں یہ کشمیر کی آزادی کی جنگ پورے ہندوستان میں داخل ہو جائے گی۔ ہندوستان جس میں پہلے ہی درجنوں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں جن میں سے 9 تحریکیں تو اپنی آزادی کے آخری مراحل میں ہیں ۔ مودی قصاب کو علم نہیں کہ جتنا بڑا انفراسٹکچر ہوتا ہے اتنی بڑی تباہی ہوتی ہے۔ وادی کشمیر کی تباہی اب ہندوستان کی تباہی میں بدلے گی۔ وطن توہم نے اپنا نظام حکومت رائج کرنے کے لیے لیا تھا ورنہ آج بھی ہندوستان میں عیسائی اور دیگر اقلیتوں کو ملا کر برصغر میں مسلمانوں کی تعداد ہندوؤں سے زیادہ ہے ہماری بدنصیبی کہ نظام تو نہ لا سکے لیکن نوشتۂ دیوار ہے کہ ہندوستان ٹوٹنے کے در پے ہے۔ بھارت پاک فوج سے گھبراتا ہے جبھی تو جب بھی وطن عزیز میں فوجی اقتدار یا سویلین اور فوج ایک پیج پر ہوں تو کشمیریوں پر ظلم اور جنگ کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ پاکستان کی آزادی کی جدوجہد میں کشمیری 1931ء میں باقاعدہ شامل ہوئے مگر 1947ء سے اُن کے لیے نئی غلامی کا آغاز ہوا اور انتہائی گھٹیا ملک کی غلامی میں چلے گئے۔

انگریز سے آزادی کے وقت جانی و مالی نقصانات سازش کے تحت پھوٹنے والے ہنگاموں سے ہوئے تھے جبکہ کشمیری تو دوران جدوجہد آزادی ہی قربان ہوئے چلے ہیں۔ وادی لہولہان ہے، جائیدادیں، عزتیں، جانیں سب کچھ آزادی اور پاکستان کے ساتھ الحاق کے لیے قربان ہو رہا ہے مگر اب کشمیریوں پر جبرو ظلم ، بربریت اور تشدد، استبداد و قہر کی نئی لہر ہندوستان کو بہا لے جائے گی بس ہمیں صرف یہ عوامی سطح پر سمجھنا ہے عسکری سطح پر تو ایک لمحہ غفلت کا نہیں عوامی سطح پر یہ ضرور سمجھنا ہے اور یقین کے ساتھ محسوس کرنا ہو گا کہ کشمیر کی جنگ کشمیریوں کی نہیں پاکستان کی جنگ ہے۔ سلامتی کونسل کی قرار دادیں، ظالموں کی سازشیں، سامراج اور استعماریوں کی کوششیں سب کی سب دھری رہ جائیں گی قدرت اپنے قانون کے مطابق مظلوموں کی جدوجہد کو بالآخر کامیاب کرے گی۔


ای پیپر