قرآن میں حکمران کا تصور
17 اگست 2019 2019-08-17

قارئین کرام، ہمارا آج کا موضوع آپ لوگوں کی توجہ چاہتا ہے، اس لیے مہربانی کریں، اسے غورسے پڑھیں، تاکہ تصور حاکمیت سمجھنے میں کسی قسم کی غلطی کا احتمال نہ رہے۔

دین مبین ، میں مکمل ضابطہ ¿ حیات موجود ہوتا ہے، جس کی راہ نمائی پیدائش سے لحدتک ، سیاست، معاشرت، اقتصادیات، تک لی جاسکتی ہے، اور کوئی بھی ریاست خواہ اس کا تعلق کسی بھی براعظم سے ہو، ان ستونوں پہ استوار ہوتی ہے خواہ وہ اسلامی ریاست ہو، خواہ اشتراکیت پسند ہو، چین، روس، ناروے اور خلیجی ریاستیں اس نظریے کی بہترین عکاس ہیں، قرآن پاک، اور حدیث رسول پڑھنے کا سو نیکیوں کا ثواب آپ کو ملتا ہے، اور یقیناً اس کا ثواب راقم کو بھی ملتا ہوگا، اس حوالے سے تفاسیر پہ توجہ دی جائے، تو حاصل کلام یہ ہے، بقول علامہ طالب جوہری خلیفہ یعنی حکمران کے معنیٰ نائب اور جانشین کے ہیں، خلافتغیر کی نیابت کا نام ہے نیابت کے معنی کسی کا نائب ہونا، یا قائم مقام ہونا، ہوتا ہے، خواہ وہ غیر کی موجودگی میں ہو یا اُس کی موت کے بعد ہو، یا اس کے معذور ہونے کی صورت میں ہو، یا یہ نیابت نائب کی عزت افزائی اور اظہار احترام کے لیے ہو۔ آدمؑ کو اللہ کی نیابت آخری قسم کے اعتبار سے حاصل ہوئی، انی جاعل فی الارض خلیفہ، کے معنی بھی یہی ہیں، کہ خلیفہ بنانا فقط اور فقط اللہ تعالیٰ کا کام ہے، نہ انسان خود خلیفہ بن سکتا ہے، اور نہ کوئی انسان کسی دوسرے انسان کو خلیفہ بناسکتا ہے، اس مفہوم پر یہ دو آیتیں پڑھیے۔اے داﺅد ، ہم نے تم کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے، تو لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرو۔ اور دوسری آیت میں ارشاد ہے کہ تم میں سے ایمان لانے والوں، اور نیک اعمال کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ انہیں زمین میں خلیفہ بنائے گا، جیسے ان سے پہلے والوں کو بنایا تھا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے، کہ حکمران (خلیفہ) کیسا ہونا چاہیے؟۔ اس کا جواب یہ ہے کہ بشریت کے باوجود اس میں ایسی صفات موجود ہوں کہ جن کی بنا پر اس پر خلیفہ اللہ کا مفہوم صادق آسکے۔ کہا جاتا ہے، کہ اللہ والے وہ ہوتے ہیں، جن کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ یاد آجائے۔ تو حکمران چونکہ خدا کا نائب ہوتا ہے، لہٰذا اس کو بھی دیکھ کر اور اس کے کردار کو اور اس کے افعال واعمال کو جو اتنے صاف، صالح، پاک اور شفاف ہوں، کہ واقعی یہ نظر آئے، کہ یہ حکمران ”ظل الٰہی“ ہے۔

ہٹلر، مسولینی، مودی، ہامان، فرعون، نمرود، شداد وغیرہ بھی تو حکمران تھے، نعوذ باللہ ان کو دیکھ کر، یا ان کے کرتوت اس بات کی غمازی کرتے تھے، یا کرتے ہیں، کہ خدا کی دی ہوئی خدائی کے یہ قابل ہیں۔ قارئین یہ قرآن پاک کے ارشادات تو ہر مسلمان جانتا ہے۔

”اور جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا، کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں، تو وہ بولے کہ کیا تو زمین میں ایسے کو بنائے گا، جو زمین میں فساد کرے، اور خون ریزیاں کرے، حالانکہ ہم حمد کے ساتھ تیری تسبیح اور تقدیس کرتے ہیں، فرمایا کہ میں وہ جانتا ہوں، جو تم نہیں جانتے ہو، اس کی تشریح مزید یوں کی گئی ہے، کہ خلیفہ ، وہ ہوتا ہے، جو کسی کی ملک میں اس کے تفویض کردہ اختیارات اس کے نائب کی حیثیت سے اختیار کرے، خلیفہ مالک نہیں ہوتا بلکہ اصل مالک کانائب ہوتا ہے، وہ اپنی مرضی اور منشا کے مطابق کام کرنے کا حق نہیں رکھتا، مولانا مودودیؒ کے مطابق اگر حاکم اصل مالک کے سوا کسی اور کو حاکم تسلیم کرکے اس کی منشاکی پیروی اور اس کے احکام کی تعمیل کرنے لگے، تو یہ سب غداری اور بغاوت کے افعال ہوں گے۔

قارئین کرام، حاکمیت کے اس پیمانے پہ سوائے رسول خدا کے تربیت یافتہ ہی پورے اترتے دکھائی دیتے ہیں، یعنی ابوبکرؓ ، عمرؓ ، عثمانؓ اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ خلافت کو ملوکیت میں تبدیل کرتے ہوئے مناظر ریاست مدینہ ایسے نظروں سے اوجھل ہوئے، کہ اس کا وجود مملکت سعودیہ میں بھی مفقود ہوتا دکھائی دیتا ہے، کیونکہ ولی عہد سعودیہ محمد بن سلمان نے بیان دیا ہے، کہ جلد ہی میں سعودیہ کو یورپ سے بھی جدید بنادوں گا۔

دوبئی تو جدید بن چکا ہے، جہاں دنیا بھر کے عیاش وعشاق دادعیش دینے اور فلوریڈا اور کینیڈا کے ساحلوں سے کہیں زیادہ وہاں تفریح کرنا پسند کرتے ہیں ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے لبنان بیروت اور افغانستان کیوں زمیں بوس ہوا، کیونکہ افغانستان کے بادشاہ ظاہر شاہ کے ظاہر وباطن میں تضاد تھا، اور کابل وبیروت کھلم کھلا احکامات اور تعزیر شرعی سے گریزاں تھا۔ بہرکیف میں وضاحت کررہا تھا، کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ”وہی ہے، جس نے تم کو زمین کا خلیفہ بنایا، اور تم میں سے بعضوں کو بعض کے مقابلے میں زیادہ بلند درجے دیئے تاکہ تم کو جوکچھ دیا ہے، اس میں تمہاری آزمائش کرے، کیونکہ صرف حکمران ہی نہیں تمام انسان زمین میں خدا کے خلیفے ہیں، یعنی خدا نے اپنی مملوکات میں سے بعض چیزیں، ان کی امانت میں دی ہیں، اور ان پر اسے ”تصرف“ دے دیا ہے، یعنی اختیارات دے دیئے ہیں، اور ان خلیفوں یعنی حکمرانوں میں مراتب کا فرق بھی خدا ہی نے رکھا ہے، یعنی خدا کی طرف سے دی گئی امانت کا دائرہ کسی کا محدود ہے، اور کسی کا وسیع ، کسی کو زیادہ چیزوں کے اختیارات دیئے ہیں اور کسی کو کم، اور بعض انسان بھی بعض انسانوں کی امانت میں ہیں۔

یہ سب کچھ دراصل انسان کا امتحان ہے ، اور اسی کا یہ دنیا سامان ہے بلکہ پوری زندگی ہی ایک امتحان گاہ ہے، اور جس کو جو بھی خدا نے عطا فرمایا ہے، اسی میں اسی کا امتحان ہے، کہ اس نے کس طرح خدا کی دی ہوئی امانت میں تصرف کیا، اور کہاں تک امانت کی ذمہ داری کو سمجھا، اور اس کا حق ادا کیا، اور کس حدتک اپنی قابلیت یا نا اہلیت کا ثبوت دیا، اسی پہ انسان کی اخروی ودائمی زندگی کا راز مضمر ہے۔ جواس دنیا کی پل صراط سے بخوبی گزر گیا وہی وہ پل صراط بھی بخوشی پار کرلے گا ۔اللہ نے ہرانسان کے ایک ایک پل کا امتحان لینا ہے، یعنی آپ کا انداز گفتگو وتکلم کیسا ہے ؟ آداب نشست وبرخاست میں رعونت وتکبر تو نہیں جھلکتا، آپ کی چال ڈھال متکبرانہ ہے، یا وہ عین مومنانہ ہے، کرسی صدارت ووزارت میں آپ انداز طفلانہ میں کرسی کو مسلسل ہلاتے تو نہیں رہتے، جس سے دوسروں کو کمترین ہونے کا تاثر ملے، اور اپنا پاﺅں یعنی جوتی کا رخ تو کبھی بھی کسی دوسرے کی طرف قطعی نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ ہمارے رسول پاک تو کبھی پاﺅں دوسری جانب کرنا تو درکنار وہ کبھی پاﺅں مبارک بھی پھیلا کر نہیں بیٹھتے تھے، مگر افسوس آج امت مسلمہ کا یہ حال ہے، کہ محبوب خدا کی خاطر اللہ سبحانہ وتعالیٰ اس امت کے بجائے دوسری امت اور قوم نہیں لایا۔ بقول اقبال ؒ

اس دیر کہن میں ہیں عرض مند پجاری

رنجیدہ بتوں سے ہوں تو کرتے ہیں خدا یاد

پوجا بھی ہے بے سود، نمازیں بھی ہیں بے سود

قسمت ہے غریبوں کی وہی نالہ وفریاد

ہیں گرچہ بلندی میں عمارات فلک بوس

ہرشہر حقیقت میں ہے ویرانہ¿ آباد


ای پیپر