سفر اور جشن !
17 اگست 2019 2019-08-17

قارئین میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے بیرون ملک ہوں، یورپ کے کئی ممالک میں مقیم مختلف پاکستانیوں اور مختلف تنظیموں نے مختلف تقریبات میں مجھے بطور مہمان خصوصی مدعو کررکھا تھا، اِس بار یورپ کے دورے میں میرا زیادہ عرصہ جرمنی میں اپنے عزیز چھوٹے بھائی علی سہیل ورک کے پاس گزرا، میں بھی اُس سے بہت محبت کرتا ہوں، مگر اُس کی محبت کا عالم یہ ہے اُس کا بس چلے وہ مجھے کبھی پاکستان واپس نہ آنے دے، دس اگست کو میں جرمنی سے مانچسٹر پہنچا، مانچسٹر کے میئر عابد چوہان نے مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے خواتین وحضرات کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کے جذبوں سے سرشار ایک محفل برپا کررکھی تھی، جس میں اُنہوں نے برادرم عدیل چودھری کی وساطت سے مجھے بطور مہمان خصوصی مدعو کیا، یہ ایک شاندار اور جاندار محفل تھی جس میں کالے، گورے، بھورے، عربی، عجمی، سکھ، عیسائی سبھی موجود تھے، اِس منفرد محفل میں بہت سی ایسی شخصیات سے ملنے کا اعزاز حاصل ہوا جن سے ملنے کے بعد مجھے بہت خوشی ہوئی، اور افسوس اس بات پر ہورہا تھا میں پہلے اُن سے کیوں نہیں ملا، اِس حوالے سے شاید احمد فراز کا ایک بڑا زبردست شعر ہے ” زندگی سے یہی گِلہ ہے مجھے .... تُو بہت دیر سے مِلا ہے مجھے“ .... مانچسٹر میں دوروزہ مختصر قیام کے بعد مجھے امریکہ کے ایک خوبصورت شہر Seattleآنا پڑا، یہاں میرے ایک بہت ہی محترم اور مخلص دوست خالد عزیز نے اپنے ساتھیوں سے مل کر پاکستان کے 73ویں یوم آزادی کے حوالے سے ایک بہت بڑی تقریب کا اہتمام کررکھا تھا، مجھے اِس تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کرنا تھی، اِس تقریب کے اصل مہمان خصوصی امریکہ میں پاکستانی سفارتخانے کے ایک اعلیٰ افسر اور اعلیٰ انسان عبدالجبار میمن ( قونصل جنرل لاس اینجلس) تھے، اُن کے ساتھ ڈپٹی قونصل جنرل شعیب منصور بھی تھے، اُن سے مِل کر بھی مجھے فراز کا یہ شعر یاد آرہا تھا ” زندگی سے یہی گلِہ ہے مجھے .... تو بہت دیر سے مِلا ہے مجھے“ ....Seattleمیں جشن آزادی کی تقریب میں اُنہوں نے وزیراعظم پاکستان عمران خان اور صدر پاکستان عارف علوی کے خصوصی پیغامات پڑھ کر سنائے، یہ پیغامات اتنے خوبصورت الفاظ اور جذبات پر مشتمل تھے یوں محسوس ہورہا تھا یہ پیغامات شاید لکھے بھی شعیب منصورنے ہیں، عبدالجبار میمن امریکہ میں مقیم پاکستانیوں میں بہت مقبول ہیں، اِس مقبولیت کی واحد وجہ اُن کا حسنِ اخلاق ہے، وہ ایسی انسان دوست شخصیت کے مالک ہیں شاید ہی کوئی سائل ایسا ہوگا جو اُن کے دریعنی دفترسے مایوس لوٹے ،....مشکل سے مشکل اور بڑے پیچیدہ مسائل کا کوئی نہ کوئی حل وہ ڈھونڈ لیتے ہیں، ہمارے افسران میں یہ ”خصوصیت “ بہت کم ہوتی ہے، میں اپنے اکثر دوست افسروں سے کہتا ہوں اللہ جب کسی کو اُس کے عِلم ، ہنر یا اوقات سے بہت بڑھ کر نواز دیتا ہے تو اللہ کی شکرگزاری کا ایک مقام یہ ہے انسان پانچ وقت کی نماز پڑھے، حج، روزہ، زکوٰة سمیت اپنے تمام دینی فرائض پوری لگن سے ادا کرے، میری نظر میں مگر اِس سے بھی بڑھ کر اللہ کی شکرگزاری یہ ہے مظلوم اور محروم انسانیت کی خدمت کی جائے، اگریہ جذبہ یا یہ ذہنیت کسی افسر کی نہیں ہے وہ ناشُکری کے ایسے مقام پر کھڑا ہے جس کا حساب دنیا وآخرت میں کسی نہ کسی انداز میں اُسے دینا پڑے گا، ابھی حال ہی میں حکومت پاکستان نے ڈاکٹر اسد مجید خان کو امریکہ میں پاکستان کا سفیر مقررکیا ہے، وہ خوش قسمت ہیں عبدالجبارمیمن اور شعیب منصور ایسے ماتحت اُنہیں ملے، مجھے یقین ہے اُن کی موجودگی میں دنیا خصوصاً امریکہ میں پاکستان کا نام وہ زیادہ آسانی سے روشن کرسکیں گے، ....Seattleمیں برادرم خالد عزیز نے اپنے ساتھیوں سے مِل کر جشن آزادی کی جو تقریب منعقد کی اُس میں شرکاءکی اتنی بڑی تعداد دیکھ کر یوں محسوس ہورہا تھا یہ تقریب نہیں کوئی ”جلسہ عام“ ہے، میں اِس تقریب کا حال بعد میں لکھوں گا، پہلے ذرا Seattleکی بات ہوجائے، امریکہ کا یہ

شہر کینیڈا کے بالکل قریب ہے، کینیڈا کا سب سے خوبصورت شہر ”وینکور“ Seattleسے چند گھنٹوں کی مسافت پر ہے، وینکورکی دنیا ہی الگ ہے، یہ مکمل طورپر گوراشہر ہے، اِس شہر کے صرف لوگ ہی نہیں ہر شے گوری ہے، ہر طرف پھول ہی پھول، سبزہ ہی سبزہ دیکھائی دیتا ہے۔ اس شہر کی خوبصورتی پر کئی کتابیں لکھی جاسکتی ہیں۔ Seattleکو اِس حوالے سے بھی میں ایک خوبصورت شہر سمجھتا ہوں، یا یوں کہہ لیں یہ شہر مجھے اِس لیے بھی بڑا پسند ہے کہ یہ وینکور کا ”ہمسایہ“ ہے، میں جب وینکور جاتا ہوں ایک احساس مجھ پر ہمیشہ غالب رہتا ہے دنیا میں جتنے خوبصورت لوگ ہیں سب وینکور میں پیدا ہوئے تھے، میں کئی بار کینیڈا گیا، یہاں ٹورنٹو میں میرا سسرال ہے، ٹورنٹو سے وینکور کی فلائٹ تقریباً سات گھنٹے کی، سو ٹورنٹو سے جب کوئی وینکور جاتا ہے تو وہ یہ سمجھ کر نہیں جاتا وہ دوسرے شہر جارہا ہے، بلکہ یہ سمجھ کر جاتا ہے وہ دوسرے ملک جارہا ہے، .... کینیڈا اور امریکہ اتنے بڑے ممالک ہیں ان کے کئی شہروں میں سات سات آٹھ آٹھ گھنٹوں کی فلائٹس لے کر جانا پڑتا ہے، جیسے امریکہ کے شہر نیویارک سے کسی نے Seattleآنا ہو تو اس کے لیے چھ گھنٹے کی فلائٹ ہے، .... میں جب کئی برس پہلے، پہلی بار کینیڈا جارہا تھا مجھے میرے ایک بہت ہی محترم بھائی سابق بیوروکریٹ قاضی آفاق حسین نے کہا ” تم کینیڈا جارہے ہو تو وینکور ضرور جانا، یہ کینیڈا کا سب سے خوبصورت شہر ہے، لاہور کے بارے میں تو پتہ نہیں یہ کس حدتک درست ہے ”جِنے لہور نئیں تکیا جمیا ای نئیں“ مگر وینکورکے بارے میں یہ بات پورے دعوے سے کہی جاسکتی ہے ”جنے وینکور نئیں تکیا جمیا ای نئیں“۔ قاضی آفاق صاحب نے وینکور کی اتنی تعریف کی، میں نے دل ہی دل میں ارادہ باندھ لیا اِس شہر کا دیدار لازمی کروں گا، اُن کا بیٹا وینکور میں رہتا تھا، اُس کے علاوہ میرا ایک جگری دوست حافظ محمد احمد بھی اِسی شہر میں قیام پذیر تھا، میں جب ٹورنٹو پہنچا چند دن وہاں قیام کے بعد میں نے اپنی بہن عائشہ عزیز ملک سے کہا ” میں نے چند دنوں کے لیے وینکور جانا ہے“ .... وہ چونکہ جانتی ہے کہ سفر سے میری جان جاتی ہے تو یہ کہہ کر اُس نے میری جان ہی نکال دی کہ بھائی جان اِس کے لیے آپ کو سات گھنٹے کی فلائیٹ لینا پڑے گی (جاری ہے)


ای پیپر