کابل افغان حکومت کے ہاتھوں سے نکل رہا ہے
17 اگست 2018 2018-08-17

کابل میں ایک اکیڈمی ، بغلان میں ایک فوجی مرکز پر حملے ، زابل میں ناکے پر چملے اور قندوز پر کنٹرول کے دوران اور گزشتہ ہفتے عزنی پر قبضے کے بعد اب پرسوں کابل ہی میں انٹیلی جنس ٹریننگ سنٹر پر خودکش حملے میں16افراد جاں بحق اور بیسیوں زخمی ہوگئے۔ دو ر وز قبل ایجوکیشن سنٹر پر خودکش حملے میں درجنوں طلباء وطالبات اس وقت مارے گئے تھے جب وہ ٹیسٹ کی تیاری کرنے میں مصروف تھے۔ تربیتی مرکز میں ہلاک ہونے والوں کی تدفین کی جاچکی ہے ۔ کابل میں ایجوکیش سینٹر پر خودکش حملے میں بیسیوں طلباوطالبات کے جاں بحق ہونے کی انسانی حقوق تنظیموں نے شدید مذمت کی ہے ۔ اس حملے کی ذمہ داری داعش نے جبکہکابل ہی میں انٹیلی جنس ٹریننگ سنٹر پر خودکش حملے کی ذمہ داری افغان طالبان نے قبول کرلی ہے ۔ متاثرہ خاندانوں نے اپنے پیاروں کی تدفین پر غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے سکیورٹی مزید بہتر بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یاد رہے عید پر طالبان نے جنگ بندی پر غور شروع کر دیا تھا لیکن اس کی مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ کابل پر حکومت مخالف تنظیموں کے پے در پے حملوں سے عالمی برادری کو یہ پیغام مل رہا ہے کہ افغانستان کی امریکہ نواز حکومت کا اب کابل پر بھی کنٹرول نہیں رہا ۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر امریکی دستے اور ان کی جہازی سائز کی جدید ترین جنگی مشینری اور ایریل سپرامیسی نہ ہو تو کابل کب سے مزاحمت کار طالبان اس کو اپنے قبضے میں لے چکے ہوں۔
2017 ء کے وسط میں امریکی خفیہ اداروں کے نگران اور قومی انٹیلی جنس کے سربراہ ڈَین کوٹس نے واشنگٹن میں ایک سماعت کے دوران ملکی سینیٹ کو بتایا نھاکہ ’’ کابل حکومت کے لیے امریکا اور اس کے ساتھی ممالک کی طرف سے فوجی امداد میں مناسب اضافے کے باوجود 2018ء میں اس ملک میں سیاسی اور سکیورٹی صورت حال تقریباً یقینی طور پر آج کے مقابلے میں مزید خراب ہو جائے گی، مغربی ممالک افغانستان میں مزید فوجی تعینات کرنے سے گریزاں رہیں‘‘۔ڈَین کوٹس نے امریکی سلامتی کو درپیش خطرات کے بارے میں ملکی قانون سازوں کو اپنے سالانہ اندازوں سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ’’ افغان حکومت نے اگر اپنے ہاں مسلح مزاحمت اور عسکریت پسندی کو محدود نہ کیا یا پھر طالبان کے ساتھ کوئی امن معاہدہ طے نہ کیا، تو اسے بیرونی (فوجی) امداد پر اپنا انحصار کم کرنے کے لیے بہت زیادہ جدوجہد کرنا پڑے گی‘‘۔اے ایف پی کی رپور ٹس کے مطابق کوٹس نے افغانستان میں مستقبل کے ممکنہ حالات کی جو تصویر کشی کی، انہیں کم امیدی سے عبارت اندازوں کا نام ہی دیا جا سکتا ہے ۔عشروں سے بدامنی اور خانہ جنگی کے شکار ملک افغانستان میں پچھلے کافی عرصے سے مزاحمت کار طالبان دوبارہ کافی فعال ہو چکے ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ منصوبے بنا رہی ہے کہ اسے ممکنہ طور پر افغانستان میں اپنے مزید فوجی تعینات کرنا چاہئیں۔ افغانستان میں امریکا کی سربراہی میں فرائض انجام دینے والی افواج کو وہاں لڑتے ہوئے اب قریب17 برس ہو چکے ہیں اور یہ جنگ پہلے ہی امریکا کی طرف سے آج تک لڑی جانے والی طویل ترین جنگ بن چکی ہے ۔ لیکن کابل اور واشنگٹن میں حکومتوں کو تشویش یہ ہے کہ افغانستان میں موجودہ صورت حال ایک طرح کے جمود کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ باخبر حلقے جانتے ہیں کہ اپنی انتخابی مہم میں ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوجوں کے انخلا کا وعدہ کیا تھا لیکن فوجی کمانڈروں کے دباؤ کے تحت اس کو اْلٹ پالیسی لاگو کرنا پڑی اور اوباما کے دور کی فوجی تعیناتی میں مزید فوجی دستے بھیج کر اضافہ کیا گیا۔ یاد رہے کہ نومبر2017ء میں افغان پارلیمنٹ کے متعدد ارکان نے صدر اشرف غنی کی قومی حکومت سے اپیل کی تھی کہ وہ ملک میں سیکورٹی اور استحکام کے قیام کی کوشش اور موجودہ تشویشناک صورت حال سے نکلنے کا راستہ تلاش کرے۔ ارکان پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ افغانستان کے عوام بدامنی اور قتل و غارت کے واقعات سے تنگ آچکے ہیں لہذا حکومت کو چاہیے کہ وہ جنگ کے خاتمے اور قیام امن کا موثر اور پائیدار حل پیش کرے‘‘۔ ان دنوں افغانستان کے مختلف علاقوں، خاص طور سے کابل ، ننگرہار، پکتیا ، بغلان، زابل اور قندوز اورعزنی میں متعدد خونریز حملے ہو ئے جن کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ۔
روا ں سال افغانستان میں 27 جنوری کو کابل میں ہونے والے ایمبولنس بم دھماکے کو افغان حکومت نے پچھلے 40 سال کا سب سے ہولناک جان لیوا دھماکہ قرار دیا تھا۔ جس میں 103 افراد موقع پر ہی ہلاک اور 158 زخمی ہوئے۔ کابل شہر کے مصروف ترین حصے، جہاں وزارت داخلہ کی پرانی عمارت تھی، میں ہونے والا اس دھما کے نے افغان حکمرانوں کے ایوانوں اور عام شہریوں کو گلی کوچوں اور گھروں میں بد ترین خوف و ہراس میں مبتلا کردیا تھا ۔طالبان نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ یہ دھماکہ کابل کے پر تعیش 'انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل‘ میں ہونے والی دہشت گردی کے چند ہی دن بعد ہوا تھا۔ افغان امور کے ماہر تجزیہ کاروں کے مطابق ’’امریکی سامراج کی طویل ترین جارحیت پر مبنی جنگ اور قبضے کے 17 سال بعد افغانستان کی موجودہ صورتحال اور ان کی کٹھ پتلی حکومت کی رٹ کا کابل تک محدود ہونا ان کی شکستِ فاش کی غمازی ہے ۔ وسطی کابل کو ایک قلعہ نما زون بنا دیا گیا ہے ۔ اونچی کنکریٹ کی بھاری دیواریں کھڑی کر دی گئی ہیں، لیکن یہ سب کچھ ان حملوں کو روکنے میں ناکام ثابت ہو رہا ہے ۔صورت حال اس حد تک دھشت ناک ہوگئی کہ افغانستان کے موجودہ صدرر اشرف غنی سراسیمگی کا شکار ہوگئے اور انہوں نے 'سی بی ایس‘ کی صحافی لارا لوگن سے بات کرتے ہوئے یہ حیران کن بیان دیا کہ ''اگر امریکی فوجیں افغانستان سے نکال لی جاتی ہیں تو افغانستان کی فوج چھ ماہ میں ہی ڈھیر ہو جائے گی، ہم اس وقت مجبور ہیں،عوام کو دہشت زدہ کر کے طالبان نے ہماری حکومت کے بار ے میں شدید شکوک و شبہات پیدا کر دئیے ہیں‘‘۔ نتیجتاً کابل میں عوام سڑکوں پر نکل آئے اور مظاہروں’اشرف غنی کو پھانسی دو‘ کے نعرے لگاتے دکھائی دیے۔
یہ امر ذہن نشین رہے کہ سالِ رواں میں میں امریکہ نے ایک نئی ’حکمت عملی‘ سے کارروائیاں شروع کی تھیں جس سے انہیں امید تھی کہ جنگ کا پانسہ پلٹ جائے گا۔افغانستان سے سامراجی افواج کے کمانڈر جنرل جان نکلسن نے جنوری 2018کے آغاز میں امریکی میڈیا گروپ 'سی بی ایس‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ''نئی پالیسی فیصلہ کن ہو گی اور آخری معرکہ ثابت ہو گی،اس سے ہم فتح حاصل کر سکتے ہیں‘‘۔ اس کے بعد یکدم امریکی فوجی کارروائیاں تیز تر کر دی گئیں اور امریکی جنگی طیاروں نے فضائی بمباری کے لئے زیادہ سے زیادہ اڑانیں بھر تے ہوئے اندھا دھند بموں کی بارش کی۔ امریکی جنرل کی خوش فہمی کے بر عکس طالبان کے حملوں میں مزید شدت آئی۔انہوں نے امریکیوں کو اپنی کارروائیوں سے یہ پیغام دیا کہ ان کی یہ حکمت عملی فلاپ ہوچکی ہے اور یہ انہیں کمزود کرنے میں بری طرح ناکام ثابت ہوئی۔
پہلے عراق اور اب افغانستان میں امریکی سامراج کو شکست ہوئی ہے ۔ اس کا اعتراف تقریباً آٹھ سال پہلے افغانستان میں امریکی فوجوں کے سپہ سالار جنر ل سٹینلے میکرسٹل نے اپنے استعفیٰ کی شکل میں کر لیا تھا۔ 17 سال قبل کی گئی جارحیت کا خمیازہ سامراجیوں کو بہت بری طرح بھگتنا پڑا ہے ۔ آج افغانستان کا 90 فیصد بجٹ امریکی خزانے سے آتا ہے ۔ اِس کے برعکس یورپی سامراجی خاصے کفایت شعار اور منافقانہ سفارتکاری کے حامل ہیں۔ اسی عرصے میں 2400 سے زیادہ امریکی فوجی، جن کی اکثریت غریب خاندانوں سے تعلق رکھتی تھی، مارے جا چکے ہیں۔ اس جنگ پر امریکہ ایک ٹریلین ڈالر صرف کر چکا ہے اور انجام ساری دنیا کے سامنے ہے ۔ طالبان کے کنڑول میں‘ خود امریکی حکام کے مطابق 47 فیصد افغان سرزمین ہے ۔


ای پیپر