چوہدری پرویز الٰہی اور پنجاب کا معرکہ
17 اگست 2018 2018-08-17

چوہدری پرویز الٰہی کے لیے پنجاب کی سپیکر شپ تو تقریبا نوشتہ دیوار تھی کیونکہ ہندسوں کا کھیل ان کا راستہ بنا چکا تھا مگر یہ کسی کو گمان نہ تھا کہ پنجاب جو اس وقت سیاسی طاقتوں کا پانی پت بنا ہوا ہے اس میں ن لیگ کے بظاہر مضبوط مگر اندر سے کھوکھلے قلعہ میں اتنی بڑی نقب زنی ہونے والی ہے۔ شہباز شریف کی دیوار چین پھلانگنے کی نوبت اس لیے پیش نہیں آئی کے ن کیمپ کے کچھ فدائین مخالف کیمپ سے ملے ہوئے تھے۔ جن کی تلواریں شہباز شریف کے ساتھ مگر دل پرویز الٰہی کے ساتھ تھے۔ ان لوگوں کی تعداد 15 بتائی جاتی ہے مگر خدشہ یہ ہے کہ بات یہاں تک نہیں رہے گی۔ اس سفر میں شہباز شریف کے لیے ابھی مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں۔ سیاست بھی کیا چیز ہے آج سے ایک دھائی قبل ق لیگ کے قلعے میں ن لیگ کی جانب سے رہزنی کا جو سانچہ تیار کیا گیا تھا اس کے ذریعے راتوں رات ق لیگ پوری کی پوری ن لیگ میں شامل ہو گئی ۔ شریف برادران کی شرط یہ تھی کہ چوہدری پرویز الٰہی اور چوہدری شجاعت کے علاوہ سب کو عام معافی ہے۔ دس سال بعد پرویز الٰہی تے وہی سانچہ استعمال کرتے ہوئے اپنے مسروقہ گھوڑے واپس لے لیے ہیں۔ مگر یہ تو ابھی نقطہ آغاز ہے آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔

اسمبلی میں سپیکر کے انتخاب میں خفیہ رائے شماری کا جو قانون ہے وہ ممبران کو اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے پارٹی کے خلاف ووٹ دے سکتے ہیں۔ اگر یہ نہ ہوتا تو پھرالیکشن کی ضرورت ہی نہ تھی پھر تو ساری پارٹیوں کے ممبران کی گنتی کر کے فیصلہ کر لیا جاتا کہ سپیکر کون ہو گا۔ جب یہ سارا کچھ آئینی طریقے سے ہوا ہے تو ن لیگ کا اتنا شدید احتجاج گالی گلوچ اور ہلڑ بازی غیر اخلاقی ہے جس سے اس معزز ایوان کا استحقاق ہی مجروح نہیں ہوا بلکہ بیرونی ممالک میں پاکستان کا امیج خراب ہوا ہے۔ حالات کا تقاضہ یہ ہے کہ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخابات کے موقع پر میڈیا کی لائیو کوریج بند کر دی جائے تاکہ پاکستان کو دنیا میں تماشہ بننے سے بچایا جا سکے۔

ن لیگ کو سمجھنا چاہیے کہ سپیکر کی حیثیت اسمبلی میں بڑے عزت و وقار اور Decorum کی علامت

ہے۔ اس کی اجازت کے بغیر کوئی ممبر اسمبلی میں بول نہیں سکتا تمام تقاریر کا مخاطب وہ ہوتا ہے اسے جناب سپیکر کہہ کر مخاطب کیا جاتا ہے اور وہ کسی بھی ممبر اسمبلی کو ایوان سے باہر نکالنے کا اختیار رکھتا ہے۔ جس طرح ہر عمل کا رد عمل ہوتا ہے ۔ چوہدری پرویز الٰہی کی سپیکر کے طور پر تقرری ن لیگ کے اس عمل کا رد عمل ہے جس میں نواز شریف اور شہباز شریف نے جدہ سے واپسی پر چوہدری برادران کو ذلت آمیز انداز میں سیاسی عمل سے isolate کیا تھا ۔ چوہدری کی جگہ کوئی اور ہوتا تو اس وقت جا کر نواز شریف کے پاؤں پکڑ لیتا مگر انہوں نے جھکنے سے انکار کیا سیاسی تنہائی کا شکار رہے مگر اپنا اور ق لیگ کا تشخص اور بھرم ٹوٹنے نہیں دیا یہ وہی چوہدری ہیں جنہوں نے ماضی میں نواز شریف کی گجرات آمد پر ان کی گاڑی ان کے چاہنے والوں نے سر پر اٹھالی تھی یہ تاریخ کا حصہ ہے یہ چوہدری کی دوستی کی ایک جھلک تھی اب انہوں نے شریف برادران کو اپنی دشمنی کی جھلک بھی دکھا دی ہے کہ آج سے دس سال پہلے انہیں جس طرح بے آبرو اور بے توقیر کیا گیا تھا آج انہوں نے وہ سارا کچھ ن لیگ کے ساتھ کر دیا۔

چوہدری پرویز الٰہی ایک منجھے ہوئے سیاستدان ہیں اور پارلیمانی سیاست میں شاید اس وقت پنجاب میں ان سے تجربہ کار سیاستدان کوئی نہیں ہے۔ وہ پہلے پاکستانی ہیں جنہوں نے شہباز شریف کے میٹرو بس منصوبے کو جنگلہ بس کا نام دیا تھا وہ اپوزیشن کے دور میں ہر انٹرویو اور ہر چینل پر یہ چیلنج کرتے رہے کہ کسی فورم پر انہین اور شہباز شریف کو آمنے سامنے لایا جائے تو وہ پنجاب میں ہونے والی نمائشی ترقی کا پردہ چاک کر دیں گے مگر شہبا زشریف نے کبھی ان کا چیلنج قبول نہ کیا جہاں تک پرویز الٰہی کے اپنے 5 سالہ دور کا تعلق ہے اس میں کوئی شک نہیں ہ ان کے عہد میں ریکارڈ ترقیاتی کام کیے گئے لیکن پنجاب میں الیکشن جیتنے کے لیے ترقیاتی کام معیار نہیں ہوتا اہل پنجاب کی اپنی مصلحتیں اور تاریخ ہے البتہ بطور سیاستدان ان کی ایک غلطی یہ تھی کہ مشرف دور میں جب جنرل مشرف کو وردی سمیت صدر تسلیم کرنے پر debate قومی سطح پر چل رہی تھی تو انہوں نے ایک دفعہ نہیں کئی بار اس امر کا اظہار کیا تھا کہ وہ جنرل مشرف کو 10 دفعہ بھی وردی سمیت صدر بنوانے کے حق میں ہیں ان کا یہ سیاسی بیان ایک عرصہ تک انہیں haunt کرتا رہا۔

سپیکر کے انتخاب کے موقع پر ایک اور اہم سبق یہ ہے کہ اگر شریف خاندان نے سیاست میں تحمل برداشت رواداری کا مظاہرہ کیا ہوتا تو آج پرویز الٰہی ان کے ساتھ ہوتے یہ شریف برادران کی اپنی غلطیاں ہیں کہ وہ درگزر سے کام نہیں لیتے۔ نثار علی خان ، جاوید ہاشمی جیسی اور بھی مثالیں موجود ہین اس کے برعکس پرویز الٰہی کے اپنی پرانی پارٹی (ن) لیگ میں اب بھی ذاتی رابطے استوار ہیں جو آنے والے وقت میں (ن) لیگ کی پارلیمانی پارٹی کی دھجیاں بکھیر سکتے ہین۔ اس کی ایک اور جہ بھی ہے پنجاب کے لوگ کبھی بھی ڈوبتی کشتی میں پاؤں نہیں رکھتے یہ ہمیشہ کمزور کے معاملے میں طاقتور کا ساتھ دیتے ہین ۔ تاریخی طور پر پنجاب میں رہنے والوں نے پنجاب پر قبضے کی ہر جنگ میں بیرونی حملہ آروں کا ساتھ دیا یہی وہ نفسیات ہے جو ارکان پنجاب اسمبلی کو سرسبز چراہ گاہوں کی جانب راغب کرتی ہے۔ لہٰذا اس بات کا خطرہ موجود ہے کہ (ن) لیگ کے سیاسی قلعے کی ریتلی دیواریں کہیں مندہم نہ ہو جائیں اور ایک دفعہ پھر ایام جدہ کی یاد تازہ ہو جائے۔

پرویز الٰہی کی حلف برداری میں زبردست احتجاج کرنے والوں کے چہروں کو غور سے دیکھ لیں ان میں سے بہت سے چہرے آنے والے وقت میں اپنی وفاداریاں کہیں اور لے جانے والے ہیں یہ ہماری سیاسی روایت ہے اب تو حالت یہ ہو چکی ہے کہ لوٹا کا لفظ جو شروع میں ایک گالی سمجھا جاتا تھا اب معمول کے استعمال میں آ گیا ہے یہ ضمیر پر بوجھ نہیں ہے۔ (ن) لیگ کے جو گھوڑے چوری ہوئے ہیں وہ دراصل مرغن چارے کی تلاش میں ہجرت کر گئے ہیں۔ جب (ن) لیگ پر خوشحالی آئے گی تو یہ پھر واپس آ جائیں گے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔

پرویز الٰہی کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی سیاسی حکمت عملی کے بل بوتے پر (ق) لیگ کی مٹھی بھر سیٹوں سے پنجاب اسمبلی کی سب سے اونچی کرسی حاصل کر کے سیاسی تاریخ کا ایسا جادو دکھایا ہے جس کی نظیر نہیں ملتی۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے عزت بخشتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت و رسوائی دیتا ہے۔


ای پیپر