تھر میں پھر قحط نے سر اٹھا لیا
17 اگست 2018 2018-08-17

حکومت سازی ، نئی صورتحال میں بدلتی ہوئی صف بندی ، نئی حکومتوں سے عوام کی وابستہ امیدیں اخبارات کا زیادہ ترموضوع رہے ہیں۔ تاہم سندھ کے اخبارات نے بعض چبھتے ہوئے مسائل جو سلاہا سال سے نظر انداز ہوتے رہے ہیں ان کی طرف حکومت کی توجہ دلائی ہے ۔ روزنامہ کاوش لکھتا ہے سندھ کے صحرائے تھر میں ایک مرتبہ پھر قحط کے حالات پیدا ہو گئے ہیں۔ ضلع انتظامیہ نے وقت پر بارشیں نہ ہونے کے بعد سینئر بورڈ آف روینیو اور دیگر بالا حکام کو خط لکھ دیا ہے کہ ضلع کو قحط زدہ قرار دے کر امدادی کارروائیاں شروع کی جائیں۔ تھرپارکر ضلع کے چار تحصیلوں میں مون سون کی بارشیں تاحال نہیں ہوئی ہیں۔ ۔ تھر کی معیشت اور روزگار کا انحصار صرف مون سون کی بارشوں پر ہے۔ یہاں لوگوں کے لئے نہ روزگار ہے اور نہ مال مویشیوں کے لئے چارہ موجود ہے ۔ اس صورتحال کے پیش نظر ڈپٹی کمشنر تھرپارکر نے تحصیلداروں اور اسسٹنٹ کمشنرز سے صحرائی علاقہ کا سروے کرانے کے بعد ضلع کو قحط زدہ قرار دینے کی رپورٹ تیار کر کے سندھ کے بالا حکام کو بھیج دی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موسمی بارسیں نہ ہونے کی وجہ سے یہاں نہ فصل ہوسکے گی اور نہ گھاس اور مویشیوں کے لئے چارہ۔ لہٰذا صحرائی علاقے میں بسنے والی آبادی اور ان کے مویشی بھوک کی صورتحال سے دوچار ہو جائیں گے۔ دوسری جانب غذائیت کی کمی اور اس سے پیدا ہونے والے امراض میں کئی بچے مبتلا ہیں، ضلع میں نچلی سطح پر صحت کی سہولیات کا نظام بہتر نہ ہونے کی وجہ سے ضلع ہیڈکوارٹر کا واحد ہسپتال مٹھی ہے جہاں تک پہنچتے پہنچتے بچے دم توڑ دیتے ہیں یا پھر اس حالت میں ہوتے ہیں کہ ان کا علاج ناممکن ہو جاتا ہے۔ رواں ماہ کے دوران بچوں کی فوتگی کی تعداد 28 ہو گئی ہے۔ حکومت صرف ضلع ہیڈکوارٹر کی ہسپاتل کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے لیکن اصل مسئلہ غربت اور غذائیت کی کمی ہے اس پر موثر انداز میں عمل نہیں کر رہی۔
روزنامہ عبرت لکھتا ہے کہ گزشتہ 24 سال سے سندھ کے شہری خواہ دور دراز دیہی علاقوں میں کام کرنے والی لیڈی ہیلتھ ورکرز کام کر رہی ہیں۔ گزشتہ دس سال سے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کی ذمہ داری بھی ان خواتین ورکرز کو دی گئی ہے۔ یہ خواتین ہیلتھ ورکرز گرمی ہو یا سردی، بارش ہو یا آندھی، یا گھر میں بیماری ہو یا فوتگی اپنی ذمہ داری نبھا رہی ہیں۔ اس کام کے دوران انہیں متعدد چیلنجز کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ صحت کی بھلائی جیسا اہم کام سرانجام دینے والی ان خواتین کو مستقل نہیں کیا گیا ہے۔ چند سال قبل ان ورکرز نے کراچی میں ا بھرپورحتجاج بھی کیا تھا۔ جس پر حکومت وقت نے لاٹھیاں برسائیں اور گرفتاریاں بھی کی۔ اس احتجاج کے بعد حکومت سندھ نے ہیلتھ ورکرز کو مستقل کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ صحت اور تعلیم کو اولین ترجیح قرار دینے والی حکومت تا حال ان ہزاروں خواتین ملازمین کی ملازمت کو مستقل نہیں کر سکی ہے۔ یہ امر ناقابل فہم ہے کہ بچوں کو اپاہج ہونے سے بچانے اور بنیادی صحت کی سہولیات میں مدد دینے والی ان صحت کارکنان کی جانب حکومت کا یہ رویہ کیوں ہے؟ سونے پر سہاگہ یہ کہ ان ورکرز کو ڈیوٹی کے لئے مطلوب سہولیتا بھی نہیں دی جاتی ہیں۔ ان ورکرز نے دہشتگردی کے بڑھتے رجحان جس میں بعض ورکرز شہید یا زخمی ہوئی، اس کے باوجود انہوں نے اپنے فرائض نبھانے میں کوئی عذر نہیں کیا۔ یہ امر دلچسپ ہے کہ حالیہ انتخابات کے دوران بھی لیڈی ہیلتھ ورکرز سے الیکشن ڈیوٹی لگائی گئی۔ خیرپور ناتھن شاہ میں یہ ورکرز گزشتہ 46 روز سے علامتی بھوک ہڑتال پر ہیں لیکن اس کا نہ نگرانوں نے اور نہ ہی عدلیہ نے نوٹس لیا ۔
شکارپور ضلع کے بعض علاقے جہاں پولیس اور دیگر سرکاری اہلکار بکتر بند گاڑی کے بغیر نہیں جا سکتے ایسے علاقوں میں بھی ان صحت کارکنوں نے اپنا کا جاری رکھا ہوا ہے۔
سندھ میں چھوٹی صنعتوں کے قیام میں مدد اور سہولت دینے کے لئے صوبائی محکمہ صنعت کے تحت قائم سندھ سمال انڈسٹریز کارپوریشن کے ملازمین کو چار ماہ سے تنخواہ کی ادائیگی نہیں کی جاسکی ہے۔ کروڑہا روپے کے پلاٹ میں کرپشن اور اضافی ملازمین کی بھرتی کے باعث ادارے کو بند کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ ادارے کو اخراجات کم کرنے اور بقایاجات کی وصولی تیز کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ کارپوریشن میں 880 ملازمین کام کر رہے ہیں روف صدیقی کے وزارت کے دوران بعض اضافی اور غیر ضروری بھرتیاں کی گئی جس کی وجہ سے کارپوریشن بحران کا شکار ہے۔بحران کی وجہ سے پینشن اور تنخواہیں بروقت ادا نہیں کی جارہی ہیں۔ 2002 سے 2010 تک بغیر اشتہار کے غیرقانونی بھرتیاں کی گئیں۔ محکمہ صنعت نے سپریم کورٹ کی ہدایت پر سمری محکمہ خزانہ کو بھیجی تھی، وزارت خزانہ نے یہ سمری مسترد کردی ہے۔
روزنامہ سندھ ایکسپریس سندھ کی نئی حکومت عوام کا حق ادا کرے گی؟ کے عنوان سے لکھتا ہے کہ سندھ میں پیپلزپارٹی تیسری مرتبہ اقتدار میں آئی ہے جبکہ سید مراد علی شاہ دوسری مرتبہ وزیراعلیٰ منتخب ہوئے ہیں۔ دوبارہ منصب ملنے کے بعد اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے گزشتہ دور حکومت کی کارکردگی کے مختصر حوالے دیئے۔ اس کے ساتھ ساتھ نئی حکومت میں عوام کی توقعات پر پورا اترنے کا عزم بھی کیا۔ پیپلزپارٹی کے گزشتہ دو دور حکومت کیسے رہے،؟ سندھ کے مسائل کو کتنا حل کیا گیا؟ یہ سوالات تاحال باقی ہیں۔ تمام تر تنقید اور تحفظات کے باوجود عوام نے پیپلزپارٹی کو تیسری مرتبہ موقع دیا ہے جو کسی غنیمت سے کم نہیں۔ مراد علی شاہ کے گزشتہ بائیس ماہ کے دور حکومت سے یہ بات سامنے آئی کہ ان میں کام
کرنے کی صلاحیت ہے۔ پہلی مرتبہ وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد انہوں نے سر سبز تھر ، خوشحال سندھ کا نعرہ دیا تھا اور صحت اور تعلیم کو الین ترجیح قرار دیا تھا۔ اس ضمن میں کئے گئے حکومتی اقدامات اپنی جگہ پر لیکن یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ سندھ ابھی تک ان دو اہم شعبوں سمیت بنیادی ضروریات کی عدم موجودگی کے حوالے سے تکلیف دہ صورتحال سے گزر رہا ہے۔ گزشتہ دس سال میں پینے کے پانی کا مسئلہ حل نہیں ہو سکا بلکہ اس میں مزید خرابی پیدا ہوئی۔ واٹر کمیشن کی رپورٹ بتاتی ہے کہ سرکاری فائیلوں ایک صورتحال ہے جبکہ زمینی حقائق کچھ اور ہیں۔ گزشتہ ایک سال کے دوران تھر میں غذائی قلت کے باعث 397 بچوں کی اموات واقع ہوئی۔ تعلیمی ایمرجنسی بھی کوئی ٹھوس نتائج نہیں دے سکی۔ زراعت کے لئے پانی کی کم فراہمی کی وجہ سے پیداوار کا اہم شعبہ بہت پیچھے چلا گیا۔ اس صورتحال میں آئندہ پانچ سال سندھ کے عوام کے لئے ہی نہیں بلکہ پیپلزپارٹی کے لئے بھی اہم ہیں۔ اگر پیپلزپارٹی عوام کے دیئے گئے مینڈیٹ پر پورا نہ اتری تو یہ سندھ کے عوام اور خود پیپلزپارٹی کے لئے ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔


ای پیپر