تجدید آزادی دراصل خود احتسابی کا نام
17 اگست 2018 2018-08-17

14 اگست گزر گیا۔ ہم نے بڑی آن و شان کے ساتھ اس دن کو منایا۔ کروڑوں روپے کی جھنڈیاں اور جھنڈے آویزاں کیے۔ سبز اور سفید رنگ کا لباس زیب تن کیا۔ سینے پر بیج نمایاں کیے۔ سر پر قومی پرچم والی ہیٹ پہنیں۔ گولوں پر چاند ستارے والی تصویروں کے علاوہ مینار پاکستان کی تصویریں پینٹ کروائیں۔گرین اور وائیٹ رنگ کی شرٹیں پہنیں۔ جلوس نکالے۔ قائد اعظم سے لیکر پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے۔ بے شمار قومی ترانوں اور ملی نغموں نے سماعتوں کو گد گدایا۔ کیک کاٹے گئے۔ سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں کو دلہنوں کی طرح سجایا گیا۔ منڈیروں کی شان و شوکت اور سطوت کو جھنڈوں سے بڑھایا گیا۔ حتیٰ کہ موٹر بائیکوں کی سلنسر نکالے اور طوفان بدتمیزی برپا کر دیا۔ ہر بچے اور نوجوان نے اپنی بساط کے مطابق جشن آزادی کو سلیبریٹ کیا۔ ٹی وی چینلز نے مبارک بادوں کے انبار لگا دیے۔ میں آگاہی کے بالکل خلاف نہیں ہوں ( جو نسل نو کو دی گئی اور دی جا رہی ہے) مگر مجھے دکھ ہوتا ہے کہ ہمارے بچوں اور نوجوانوں میں آگہی نہیں ہے۔ حتیٰ کہ وہ لوگ جو 1947 ء سے لیکر اب تک پیدا ہوئے ہیں۔ وہ لوگ بھی آزادی اور اس کی غرض و غائیت سے لاعلم اور نا آشناہیں۔ ہم نے یہ ملک کس طرح حاصل کیا۔؟ ہمارے آباء واجداد نے کتنی اور کس قدر قربانیاں دیں۔ ہم اس فلسفے سے لا علم ہیں۔ کتنی جانیں زمین بوس ہوئیں؟ کتنی عصمتیں تار تار ہوئی ہیں۔ ہم اور ہمارے بچے اس تاریخی علم سے محروم ہیں۔ ہمارے لیے یہ دن محض ایک خوشی اور انجوائے منٹ کا دن رہ گیا ہے۔ ہم نے اس آزادی کے پس پردہ محرکات کو جاننے کی کوشش ہی نہیں کی۔

آزادی در اصل سراغ زندگی کو پانے کا نام ہے۔ آزادی در اصل ضمیر کو جھنجوڑنے کا نام ہے۔ آزادی فرض شناسی کا نام ہے۔۔۔ آزادی نظم و ضبط کا نام ہے۔۔۔ آزادی اصول و ضوابط کا نام ہے۔۔۔ آزادی عہدو پیماں کا نام ہے۔۔۔ آزادی عوام و قوم کی سچی خدمت کا نام ہے۔۔۔ آزادی آئین و قوانین پر پابندی کا نام ہے۔۔۔ آزادی انصاف کا نام ہے۔۔۔ آزادی کرپشن اور لا قانونیت کے خلاف جنگ کا نام ہے۔۔۔ آزادی اپنے بزرگوں کے ملک کی مٹی سے بے حد محبت اور پیار کا نام ہے۔۔۔ سب سے بڑی بات آزادی مساوات کا نام ہے۔۔۔ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ہم نے اس ملک کو کیا دیا؟ ہم نے اس ملک کے لیے کیا کیا؟ کبھی ہم نے اپنے آپ کو اس خود احتسابی کے عمل سے گزارا۔۔۔ تجدید آزادی ، تجدید 14 اگست در اصل اپنے آپ کو خود احتسابی کے عمل سے گزارنے کا نام ہے۔قارئین آئیے! میں بتاتا ہوں۔ ملک کیسے آزاد ہوا؟ کتنی قربانیاں دیں کتنے خوف ناک اور بھیانک واقعات پیش آئے۔ اس آگاہی سے آپ کو پتہ چل سکے کہ آزادی کے لیے ہمارے پرکھوں کے ساتھ کیا کچھ نہیں ہوا۔ قارئیں !

تقریب نکاح جاری تھی۔ نکاح خوان نے دلہا سے اس کا نام پوچھ کر لکھا اور پھر اس کے والد کا نام پوچھا۔ دلہا اس سوال سے گھبرا گیا اور نکاح خوان سے کہا ہم دو ماں بیٹا ہیں میں نے کبھی اپنی والدہ سے اپنے والد کا نام پوچھا ہی نہیں لہٰذا میں اپنی والدہ سے پوچھ کر آتا ہوں ۔ یہ کہا اور گھر چلا گیا۔ محفل میں موجود لوگوں میں سے کسی کو بھی اس کے والد کا نام معلوم نہ تھا۔گھر میں داخل ہو کر اس نے والدہ سے اپنے والد کا نام پوچھا۔ والدہ بھی گھبرا گئی اور گم سم خاموش ۔دلہا نے کئی بار اپنی والدہ سے پوچھا اور آخر کار شدید طیش میں آ گیا اور غصے میں اپنی ماں سے نہ جانے کیا کیا اول فول بکتا رہا۔ گھر میں جمع تمام عورتیں بھی خاموشی سے ماں بیٹے کا مکالمہ سنتی رہیں اور حیران تھیں کہ آج تک یہ سوال کرنے کا خیال ہمیں کیوں نہیں آیا جبکہ ماں بیٹے کی زندگی اسی محلے میں گزری ہے۔ یہ چھوٹا سا تھا جب ہم ان دونوں کو اپنی گلی میں اسی مکان میں دیکھ رہے ہیں۔ اس عورت نے شاید اپنے بچے کو سکول بھی اسی لیے داخل نہیں کروایا کہ اس کے باپ کا نام تو جانتی نہیں۔ اچانک اس نے اپنی ماں سے کہا ’’اگر تو مجھے میرے باپ کا نام نہیں بتا سکتی تو اس شرمندگی کی زندگی سے بہتر ہے میں خود کشی کر لوں‘‘۔ جیسے ہی ماں نے بیٹے کے یہ الفاظ سنے تو تڑپ اٹھی اور بھاگ کر اسے روکا اور کہا میری بات سن لو پھر جو جی میں آئے کر لینا۔

چند عورتیں آگے بڑھیں اور جوان کو اپنے اقدام سے روک لیا کہ پہلے اس کی بات تو سنو۔ پورے گھر میں خاموشی طاری تھی سبھی اس عورت کے لب ہلنے کے منتظر تھے کہ وہ گویا ہوئی۔ پاکستان بننے کے بعد ہمارے والد ،چچا، بھائیوں اور خاندان کے تمام مرد و عورت ہجرت کر کے پاکستان کے لیے عازم سفر ہوئے راستے میں کسی جگہ ہمارے قافلے پر ہندو بلوائیوں نے حملہ کر دیا ہمارے مرد جان توڑ کر لڑے لیکن ان کی تعداد اور اسلحہ کی وجہ سے ہماری حفاظت نہ کر سکے اور سب شہید ہو گئے۔ لڑائی کے دوران میرے والد نے رات کے اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر ہم عورتوں کو نکالنا چاہا لیکن میرے علاوہ کسی کو بھی بچانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ میرے خاندان کی باقی عورتوں کا کیا حال ہو امیں نہیں جانتی مردوں اور عورتوں سے کوئی زندہ بچا بھی یا نہیں مجھے کچھ پتا نہیں۔ وہاں سے بھاگنے کے بعد میں انتہائی خوفزدہ حالت میں دن تو چھپ کر گزار دیتی اور رات کو اللہ کا نام لے کر اس راستے پر چل پڑتی جو روانگی سے پہلے ہمارے مرد حضرات آپس میں تذکرہ کرتے رہتے تھے۔ ایک رات دوران سفر میں نے کسی جگہ پہ ایک بچے کے رونے کی آواز سنی آگے جا کر دیکھا تو کئی لاشوں کے درمیان ایک شیر خوار بچہ پڑا ہوا تھا۔ میں نے اسے اٹھا لیا سینے سے لگائے سفر کرتی آخر کار پاکستان پہنچ گئی۔ مہاجر کیمپوں میں کسی جگہ بھی مجھے اپنے خاندان کا کوئی فرد نظر نہ آیا اور یوں میری دنیا صرف میرے اور اس بچے تک محدود رہ گئی۔ میری عمر کم تھی اور ابھی میری شادی بھی نہ ہوئی تھی۔ اپنی باقی زندگی میں نے اس بچے کی خاطر تنہا گزار دی اور آج وہ بچہ میرے سامنے کھڑا ہے۔ اب بتاؤ رات کے اندھیرے میں لاشوں کے درمیان سے اٹھائے گئے بچے کا نام مجھے کون بتاتا؟ ماں کی بات مکمل ہونے تک ہر آنکھ اشکبار تھی اور وہ بیٹا جو کچھ دیر پہلے ماں کو جلی کٹی سنا رہا تھا حیرت اور ممنونیت کا پہاڑ بنا کھڑا تھا۔ پھر شرمندگی کے ساتھ آگے بڑھا اور اس عورت کے احسانات کا بوجھ اٹھائے اس کے قدموں میں گر گیا۔ جس بھائی نے مجھے یہ واقعہ سنایا تھا ان کا دعویٰ تھا کہ وہ اس تقریب میں موجود تھے اور اس کے عینی شاہد ہیں۔

آج جب میں نوجوان نسل کو آزادی کی حیرت انگیز خوشیاں مناتے ہوئے دیکھتا ہوں تو مجھے وہ ماں اور اس جیسی قربان ہونے والی لاکھوں جانیں یاد آ جاتی ہیں جو اپنی محنت کی کمائی دیکھے بغیر اس دنیا سے چلی گئیں ۔ اللہ کریم ہمیں تحریک پاکستان میں قربان ہونے والی ان لاکھوں قربانیوں اور ان کے ثمر ’’پاکستان‘‘ کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


ای پیپر