کپتان سے سلطان تک کا سفر
17 اگست 2018 2018-08-17

آخر کار عمران خان کی محنت کا ثمر آج اس کو مل ہی گیا۔ پچھلے بائیس سال سے پاکستان کی سیاست میں تگ و دو کرتے ہوئے خانصاحب وزیراعظم کی سیٹ پر پہنچ گئے۔ سیاست کے میدان میں نشیب و فراز سے گزر کر سونا کندن بن گیا۔عمران خان کی زندگی پر نظر دوڑانے سے پہلے تو میں ان کو وزیراعظم بننے پر اپنی اوراپنی عوام کی جانب سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔خانصاحب سے یہ بھی امید رکھتا ہوں کہ وہ روایتی سیاست کو دفن کرتے ہوئے ایک نئی سیاست کو معرض وجود میں لائیں گے۔ ملک پاکستان کی ترقی کے لیے دن رات ایک کرتے ہوئے اس کا جھنڈا عالمی افق پر سب سے اوپر لہرائیں گے۔
عمران خان 25 نومبر1952 کو لاہور میں پیدا ہوئے۔آپکا تعلق پشتونوں کے مشہور قبیلے نیازی ہے۔ آپ کا آبائی شہر میانوالی ہے۔ آپ کے والد کا نام اکرام اللہ خان نیازی ہے اور ان کے اکلوتے بیٹے ہیں۔ عمران خان نے ابتدائی تعلیم لاہور میں کیتھیڈرل اسکول اور ایچیسن کالج لاہور سے حاصل کی، اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ چلے گئے۔ وہاں رائل گرائمر اسکول میں تعلیم حاصل کی اور پھر اوکسفرڈ یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ وہ 1974ء میں اوکسفرڈ یونیورسٹی کرکٹ ٹیم کے کپتان بھی رہے۔
عمران خان نے کرکٹ کے جہان میں بھی اپنا ایک اعلیٰ مقام بنایا ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس وقت وہ سیاست کی بجائے کرکٹ کے حوالے سے زیادہ متعارف کرائے جاتے ہیں۔ انہیں کی قیادت میں پاکستان نے 1992ء میں عالمی کرکٹ کپ جیتا تھا۔ فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز 1969 ۔ 1970ء میں لاہور کی طرف سے سرگودھا کے خلاف کھیلتے ہوئے کیا۔ 1971ء میں انگلستان کے خلاف پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا۔ عمران خان نے 88ٹیسٹ اور 175ون ڈے میچز کھیلے ہیں۔عمران خان نے139میچوں میں پاکستان کی قیادت کی جن میں 77میچز میں کامیابی حاصل کی۔ان کا پاکستان کے کامیاب ترین کپتانوں میں شمار ہوتا ہے۔
1992کے عالمی کرکٹ کپ کے بعدخانصاحب نے بین الااقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لی۔ اس کے بعد سماجی کاموں میں حصہ لینا شروع کردیا۔ انہوں نے کینسر کے مریضوں کے لیے لاہور میں ایشیا کا سب سے بڑا اسپتال شوکت خانم میموریل اسپتال ایک ٹرسٹ کے ذریعے قائم کیا۔ انہیں حکومت پاکستان کی جانب سے صدراتی ایوارڈ بھی ملا۔ علاوہ ازیں 1992ء میں انسانی حقوق کا ایشیا ایوارڈ اور ہلال امتیاز (1992ء ) میں عطا ہوئے۔ آپ ابھی بریڈفورڈ یونیورسٹی، برطانیہ (University of Bradford) کے چانسلر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
1995ء میں عمران خان نے مرحوم برطانوی ارب پتی تاجر جیمز گولڈ سمتھ کی بیٹی جمائما گولڈ سمتھ سے شادی کی۔ جمائما گولڈ سمتھ نے شادی سے پہلے اسلام قبول کر لیا اور ان کا اسلامی نام جمائما خان رکھا گیا۔ اس شادی کا شہرہ پوری دنیا میں ہوا اور عالمی میڈیا نے اس کو خصوصی اہمیت دی۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی مصروف زندگی کی وجہ سے انہیں وقت نہیں دے پاتے اس لیے 22 جون، 2004ء کو انہوں نے جمائما کو طلاق
دے دی۔اس کے بعد اپنی ازدواجی زندگی کے لیے صحافی ریحام خان کاانتخاب کیا اور8 جنوری2015 کو ریحام خان کے ساتھ رشتہِ ازدواج میں بندھ گئے۔یہ شادی بھی زیادہ دیر نہ چل سکی اور چند ماہ بعدطلاق ہوگئی۔اس کے بعدجنرل الیکشن سے کچھ عرصہ قبل 2017 کے آخر اور 2018کے آغاز میں کئی خبریں آئیں کہ عمران خان نے اپنی روحانی پیشوا بشری وٹو سے شادی کر لی ہے۔ تاہم عمران خان تحریک انصاف کے دیگر افراد اور مانیکا خاندان نے اس افواہ کی نفی کی۔ 18 فروری 2018 کوپی ٹی آئی نے تصدیق کی کہ عمران خان نے بشری وٹو سے شادی کر لی ہے۔
عمران خان نے جب سے کرکٹ کی دنیا میں قدم رکھا ہے وہ ہرطرح کی وکٹ پر کھیلے ہونگے ۔ کبھی سیمنٹیڈ وکٹ ،کبھی ٹرف وکٹ اور کبھی گراسی وکٹ ۔ انہوں نے کرکٹ کی ابتداء تو فاسٹ باولر کے طور شروع کی اور بعد میں تجربہ کے ساتھ ساتھ آ ل روانڈرپلئیر بن گئے۔ انہوں نے اپنی باولنگ کے دور میں کبھی تو مخالفین کے باونسر مارے تو کبھی ان کی وکٹ توڑڈالی مگر کبھی کبھی نہ وکٹ ملی اور نہ ہی باونسرز نے کام کیا بلکہ مار بھی کھانا پڑی۔ جب بیٹنگ کی باری آئی تو وقت کے ساتھ ساتھ ایسی اننگز کھیلی کہ دنیا میں آج بھی ان کی بیٹنگ کی مثال دی جاتی ہیں۔ پھر قسمت کی دیوی نے ان کوپاکستان کی کرکٹ کاکپتانی کرنے کا موقع دیا اور عمران خان نے تو اس میں بھی ایسے جوہر دکھائے کہ دنیا کی تاریخ میں ایسے کپتان بہت کم ملیں گے۔ 1992کا عالمی کپ میں عمران خان نے جو کپتانی کے جوہر دکھائے انکو پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر ملک نے تسلیم کیاتھا ۔
اب 1996سے عمران خان ایک سیاسی وکٹ پر پریکٹس کررہے ہیں۔اب وہ اس وکٹ کے ایک تجربہ کار پلئیربن کے ابھرے ہیں۔ انہوں نے جو باونسر اپنے سیاسی مخالفین پرمارے ہیں ان باونسرز کی شدت نے مخالف پلئیرز کو جھکنے پر مجبور کردیا۔ باونسر بھی اتنے لیمیٹیڈ تھے کہ مخالفین کوکھڑے ہونے کی بجائے جھک کرہی اپنے آپ کو بچانا پڑا۔ عمران خان ایک منجھے ہوئے سیاست دان کی طرح اپنی ٹیم کی قیادت کررہے ہیں۔
1996میں سابق کپتان نے اپنی سیاسی جماعت تشکیل دی تاہم 1997کے عام انتخابات میں ان کی کارکردگی صفر رہی اور وہ کوئی بھی نشست جیتنے میں ناکام رہے۔2002میں تحریکِ انصاف کو قومی اسمبلی کی ایک نشست پر فتح حاصل ہوئی، جس پر عمران خان پہلی بار رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔سیاست میں قدم رکھنے کے باوجود کارکردگی دکھانے میں ناکامی پر متعدد ناقدین کا کہنا تھا کہ کرکٹ کا فاتح میدانِ سیاست کے رموز سے ناواقف ہے اور اْن کا عہد ختم ہوچکا۔اس بات سے قطع نظر کہ ان کے مخالفین کیا کہتے ہیں، بلاشبہ2011سے ان کے سیاسی قد کاٹھ اور مقام میں نہایت نمایاں اضافہ ہوا ہے۔اپنے پورے سیاسی کیریئر کے دوران عمران خان نے مختلف مسائل کے حوالے سے ٹھوس موقف اختیار کیا۔ انہوں نے ڈرون حملوں، فاٹا میں فوجی آپریشن، غیر ملکی امداد اور کرپشن کی سخت مخالفت کی۔ وہ جاگیردارانہ نظام کے خاتمے اور ٹیکس نظام میں اصلاحات کے حامی ہیں۔
اب جب وزیراعظم پاکستان کی کرسی پر خانصاحب بیٹھ ہی چکے ہیں تو پھر خانصاحب اپنے وہ وعدے اور ارادے یاد رکھنا جو آپ نے اپوزیشن میں ہوئے ہوئے عوام سے کیے۔ جو دھرنے میں لوگوں کوتسلیاں دی وہ بھی نقش ذہن میں رکھنا۔ کرپشن کے خلاف جو نعرہ بلند کیا اس پر عمل کرتے ہوئے کسی بھی جماعت کا فرد کرپٹ ہو آپ نے اپنے فعل سے پیچھے نہیں ہٹنا۔ کرپشن کی نشاندہی کرنا ہمارا فرض ہے اور ان کو انجام تک پہچانا آپ کی ذمہ داری ہے۔دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی آپ کو پاکستان کی خدمت کرنے کی توفیق دے اور آپ اپنی قیاد ت میں اس ملک کو ترقی کی انتہا پر پہنچا دیں۔


ای پیپر