رسول رحمتؐ مکہ کی وادیوں میں
17 اگست 2018 2018-08-17

بلاشبہ ’’ رسول رحمت ؐ مکہ کی وادیوں میں ‘‘ ایک ایسی خوبصورت کتاب ہے جس کا مطالعہ کر کے روح خوش ہو جاتی ہے ۔اللہ تعالیٰ آپ کو جزا خیر دے ۔آپ قلمی جہاد اور تبلیغ کا کام ایسے ہی کرتے رہیں۔408صفحات پر مشتمل اس کتا ب کو مڈ وے پرنٹرز نے زیر اہتمام ادارہ معارف اسلامی، شائع کیا ہے ۔دیپاچہ مولانا عبد المالک صاحب نے تحریر فرمایا ہے ۔تقدیم پروفیسر ابراہیم خان اور تقریظ کا فریضہ حافظ ساجد انور نے سر انجام دیا ہے ۔ اسلامی ریسرچ کے طالب علموں کو اس کتاب کامطالعہ ضرور کرنا چاہے ۔دو جلدوں پر مشتمل یہ کتاب انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتی ہے ۔ مصنف کو خدا تعالیٰ نے یہ اعزاز بخشا ہے کہ وہ سیرت نبی ؐ پر متعد د کتب لکھ چکے ہیں۔جن میں گلدستہ سیرت مصطفےٰ ؐ، معجزات سرور عالم شامل ہے ۔ انہوں نے ’’ رسول رحمت تلواروں کے سائے میں ‘‘ جیسی کتاب جو پانچ جلدوں پر مشتمل ہے کی تکمیل کی ۔

کتاب کے حصہ اول کاآغاز تمہیدی مباحث سے ہوتا ہے ۔ کتاب میں ’’دیار عرب‘‘ کے حالات ، واقعات کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے ۔ مکی دور کے سیرت کے واقعات پر مشتمل یہ کتاب ایک منفرد حیثیت رکھتی ہے ۔نسبت عالیہ کا کمال ،عرب کی وجہ تسمیہ ،عرب کی طبعی حالت ،نبی کریم ؐ کے آباواجداد ،انبیاء کا ذکر جن میں ابراہیم علیہ السلام ،اسماعیل ذبیح اللہ ،اسحاق و یعقوب کی بشارت،حضرت اسماعیل کی ازواجی زندگی ،حضرت اسماعیل کا بچپن ،،خانہ کعبہ میں اصنام ،بت پرستی کا تاریخی پس منظر ،اقوام کی انبیا ء السلام سے بغاوت۔ اسی طرح کتاب کے حصہ دوم ’’آمنہ کا لعل‘‘ میں بیان کر دہ موضوعات میں ولادت با سعادت ، رسول رحمت کے اسما ء گرامی ،آنحضور ؐ کا رضاعی گھرانہ ،سیدہ آمنہ کا سانحہ ارتحال ،ابو طالب کے زیر کفالت،حضرت خدیجہ بنت خویلد سے نکاح ،بعثت اسلام سے قبل کے اہم واقعات ،وحی سے قبل اشارات نبوت اور کتاب کا آخری حصہ سوئم پیام ربانی ،غار حرا اور وحی ،جبریل ؑ کی آمد اور پہلی وحی ،خلوت سے جلوت ،دعوت حق کا آغاز ،بد بخت جوڑ ا،ابن ام مکتوم کا قبول اسلام، ابو جہل کی جہالت اور آنحضور ؐ کی عظمت اور کفار مکہ کی عصبیت جاہلیہ جیسے موضوعات پر مشتمل ہے۔

حافظ محمد ادریس نے اپنی اس کتاب’’ رسول رحمت ؐ مکہ کی وادیوں میں ‘‘ بڑی خوبصورتی سے آپ ؐ سے قبل مکہ کے حالات سے پردہ کشائی کرتے ہوئے عرب کے رسم و رواج ،طرز زندگی، طرز معیشت، رہن سہن پر روشنی ڈالی ہے ۔زیر مطالعہ کتاب میں حاٖفظ محمد ادریس نے سیرت رسول ؐ اور انبیاء اکرام کی زندگی کے پوشیدہ پہلووں کو جس انداز میں اجاگر کیا ہے اس کی مثام نہیں ملتی ۔موضوعات کی ترتیب میں ایک ربط پایا جاتاہے ۔حافظ صاحب !آپ ؐ کے معجزات کو بیان کرتے ہوئے ایک جگہ پر لکھتے ہیں کہ ’’(مفہوم)ایک مرتبہ آپ ؐ کو امید بندھی کہ شاید ان کا عزیز راہ ہدایت سے ہم کنار ہو جائے ۔آپ ؐ نے بڑی محبت سے رکانہ کو کہا کہ اے رکانہ۔۔! اگر میں اس سے بھی زیادہ عجیب چیز تجھے دکھاؤں تو پھر میری اطاعت کرو گے ؟اس نے کہا ۔ اس سے عجیب تر کون سی چیز ہے؟آپ ؐ نے ایک درخت کی طر ف اشارہ کیا اور فرمایا کہ وہ درخت دیکھ رہے ہو؟۔اس نے کہا کہ ہاں دیکھ رہا ہوں ۔آپ ؐ نے فرمایا اگر میں اس کو بلاوں اور وہ آ جائے تو تمھا را کیا خیال ہے ؟۔اس نے کہا کہ یہ کمال کر کے دکھاو مان جاؤں گا ۔پھر آپ ؐ نے درخت کو اشارہ کیا تووہ آپ ؐ کے پاس آ کر رک گیا ۔دوبارہ اشارہ کیا تو وہ درخت واپس چلا گیا۔اس قسم کے بہت سارے کرامات کے واقعات کو کتاب میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے ۔

کتاب کی جلد دوئم بھی حصہ اول کی طرح ضخیم ہے ۔464صفحات پر مشتمل اس حصے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی حیات طیبہ کو اجاگر کیا گیا ہے ۔جیسا کہ آپ ؐ نے عالم بالا کا جو سفر مبارک کیا اس کا تذکرہ بھی پڑھنے کے قابل ہے ۔توسیع دعوت کے اغراض و مقاصد ، مکہ ہجرت کا احوال اور مدینہ میں نئے دور کے تقاضے اہم ترین ابواب ہیں ۔پر آشوب حالات میں بھی ہمیں ہر قدم پر اسوہ حسنہ سے صبر و استقامت کا سبق ملتا ہے ۔زندگی گزارنے کے طریقے معلوم ہوتے ہیں۔آپ ؐ کی حیات مبارکہ سے رہنمائی حاصل ہوتی ہے ۔مدنی زندگی کے حالات کا حافظ محمد ادریس کی کتا ب’’ رسول رحمت تلواروں کے سایے میں ‘‘ جو کہ پانچ جلدوں پر مشتمل ہے میں تفصیلا ذکر کیا گیا ہے ۔جبکہ اس دونوں جلدوں میں مصنف نے بڑے خوبصورت انداز میں حضورکریم ؐ کی سیرت کے سبی اہم واقعات کو سمونے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ حافظ محمد ادریس صاحب کی قلمی قوت میں اضافہ فرمائے ۔ اور ہم جو کہ ان کے شاگروں کی ماند ہیں ان کے علم اور اسلامی ریسرچ سے بھر پور استفادہ کرتے رہیں۔(آمین)


ای پیپر