ہمارے دادا کو کیوں مارا؟ ہمارے نانا کو کیوں پیٹا؟

17 اگست 2018

ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب



تصور کریں کہ آپ کہیں جا رہے ہوں اور ساتھ آپ کے چار پانچ سال کے چھوٹے بچے ہوں ؛ کوئی شخص آئے اور بیچ سڑک لوگوں کے سامنے آپ کے منہ پر تھپڑ مار دے، آپ پر کیا گزرے گی؟ اور پھر تصور کریں کہ آپ کے والد صاحب آپ کے چھوٹے بچوں کو لے کر کہیں گھومنے نکلیں اور ان بچوں کے سامنے کوئی شخص آپ کے والد صاحب کے منہ پر تھپڑوں کی برسات کر دے، تو پھر آپ پر کیا گزرے گی اور ان بچوں کا کیا حال ہو گا؟
بے شرمی اور بے حیائی جیسے الفاظ تو کچھ بھی نہیں، یہ فرعونیت کی ابتدا ہے۔ یہ کیسا نظام ہے کہ یہاں جس کسی کے پاس تھوڑی سی بھی طاقت آ جائے ، وہ اپنے آپ کو قانون سے بالا تر سمجھنے لگتا ہے۔ معافی اس نے اس لئے نہیں مانگی کہ اس کا ضمیر جاگ گیا ہو گا ۔ وہ تو کمال ہے انڈرائیڈ فون اور ا س کی اپیلی کیشنز کا کہ اس کے کرتوت چند گھنٹوں میں قوم نے دیکھ لئے اور پھر اسے اپنی سیٹ کے لالے پڑ گئے۔ ورنہ تو اس جیسے ظالم تھپڑ مارنے کے بعد ڈالے میں ڈلوا کر تھانے میں چھترول کروانے کی خواہش رکھتے ہیں اور پھر کئی کئی مہینے غریب خاندان کے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔ اس سسٹم کے یہ گندے عناصر طاقت کے نشے میں انسانیت تک بھول جاتے ہیں۔
یہ اتنا بڑاجرم ہے کہ ہمیں احساس ہی نہیں ۔ آج اس گاڑی میں موجود بچے ضرور اپنے آپ سے یہ سوال پوچھتے ہوں گے کہ ہمارے دادا کو کیوں مارا؟ ہمارے نانا کو کیوں پیٹا؟ اس ڈاکٹر عمران نے ان معصوم بچوں کے جذبات اور احساسات کا قتل کیا ہے۔ کسی ماہرِ نفسیات کو دکھائیں ان بچوں کو کہ وہ بتائے ان پر کیا بیت رہی ہو گی۔ نفر ت کے بیج بوئے ہیں اس نو منتخب ایم پی اے نے سیاستدانوں اور سسٹم کے خلاف جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھے گی۔ اس شخص کی اس حرکت نے ان بے بس بچوں کی زندگی کا مقصد ڈاکٹر ،انجینئر ،استاد بننے کے برعکس طاقت کا حصول بنا دیا ہوگا جسے حاصل کرنے کے بعد وہ ڈاکٹر عمران جیسے لوگوں کا مقابلہ کر سکیں۔ اس چھوٹی عمر میں جب بچے کو کتابوں میں زیبرا کراسنگ کے اصول بتائے جاتے ہیں اور قانون کا احترام سکھا یا جاتا ہے، اس ڈاکٹر عمران نے بطور قانون ساز انہیں عملی سرگرمی سے سمجھایا ہے کہ اس ملک میں قانون جنگل والا ہے۔ یہاں طاقتور اور ظالم سے بچنے کے لئے اس جتنی طاقت کا حاصل کرنا بہت ضروری ہے ،چاہے اس کے لئے کچھ بھی کرنا پڑے۔
کراچی میں داؤد چوہان کو تھپڑ مارنے والا ڈاکٹر عمران علی شاہ ہے جو حال ہی میں تبدیلی کا نعرہ لگا کر ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوا۔ یہ الگ بحث کہ داؤد چوہان کی غلطی تھی یا نہیں اوریہ بھی الگ بحث کے گاڑی کے ٹکرانے کے بعد داؤداور دوسرے شخص میں کیا معاملہ چل رہا تھالیکن ڈاکٹر عمران کو تشدد کی اجازت کوئی نہیں دیتا۔ ہاں اگر ڈاکٹر عمران کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی ہوئی تو اسے قانونی راستہ اختیار کرنا چاہئے تھا۔ بطور ممبر صوبائی اسمبلی اس کا کام تو یہ تھا کہ دونوں میں معاملے کو حل کروا تا، لیکن یہاں موصوف نے ایم پی اے بن کر پولیس، عدالت، جیلر، جلاد ، سب کچھ خود ہی کو سمجھ لیا۔ دوسری جانب اس بے بس انسان کی حالت دیکھیں کہ وہ کھل کر یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ میں نے اسے معاف نہیں کیا یا اسے سزادیں ۔
نئے پاکستان والوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ یہ بہت اہم معاملہ ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو اس نظام کی خرابی کی بنیاد ہے۔ یہ ڈاکٹر عمران جیسے لوگ طاقت کے نشے میں پہلے لوگوں کی عزت پر ڈاکے ڈالتے ہیں اور پھر طاقت میں اضافے کے ساتھ ساتھ ان کا ہاتھ قومی خزانوں تک پہنچتا ہے اور پھریہی طاقت کا خمار ماڈل ٹاؤن جیسے واقعات کو جنم دیتا ہے۔
اس قوم کو عمران خان سے بہت امیدیں ہیں اور بہت بڑی تعداد میں لوگوں نے ڈاکٹر عمران جیسے لوگوں سے جان چھڑانے کے لئے عمران خان کا انتخاب کیا ہے۔ اب یہ نئے پاکستان کا پہلا ٹیسٹ کیس ہے۔ کمیٹیوں نوٹسوں والی ڈرامے بازیاں بند کریں اور عمران خان صاحب خود براہ راست اس پر ایکشن لیں۔اس میں تو کوئی دو رائے ہی نہیں ہونی چاہئے کہ ڈاکٹر عمران کو ڈی سیٹ کر کے قانونی ضابطے پورے کرتے ہوئے اس پر تاحیات پابندی لگانی چاہئے۔ یہ اس کی کم از کم سزا ہے جس کے بغیر اس قوم کے کلیجے میں ٹھنڈ پڑ ہی نہیں سکتی ۔ اس کے بعد اگر داؤد چوہان دل سے اسے معاف کر دے تو الگ بات ورنہ اسے جیل میں ڈالنا چاہئے اور قانون میں کوئی تبدیلی کر کے اس شخص کو کیمروں کے سامنے اتنے ہی تھپڑوں کی سزا دینی چاہئے جو اس نے اپنے باپ کی عمر کے شخص کے منہ پر مارے۔ اس ایک شخص کو صحیح معنوں میں اگر سزا مل جائے تو باقی سب کو میسج پہنچ جائے گا کہ نئے پاکستان میں غنڈا گردی نہیں چلے گی۔ ہاں اگر اس نئے پاکستان کی مثال وہی ہے ’’ ڈبہ نیا، برفی پرانی‘‘ تو پھر ٹھیک ہے ، سب مل کر عمران شاہ کے ساتھ ہو جائیں اور اسے معافی دلا دیں۔ ایک بات یاد رکھیں زور آزمائی یا مصلحت کی وجہ سے متاثرہ شخص تو معاف کر دے گا مگر ان معصوم بچوں کے دل کبھی معاف نہیں کریں گے جنہوں نے اپنے نانے یا دادے کو سر عام مار کھاتے دیکھا ۔

مزیدخبریں