اسرائیل مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آباد کاروں کیلئے 20 ہزار گھر بنائے گا
17 اگست 2018 (14:01) 2018-08-17

مقبوضہ بیت المقدس : اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آباد کاروں کیلئے 20 ہزار رہائشی یونٹ تعمیر کرنے کا پلان تیار کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق بیت المقدس کی نام نہاد اسرائیلی بلدیہ اور اسرائیلی لینڈ اتھارٹی نے ایک مشترکہ تعمیراتی منصوبے پر کام شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ، اس منصوبے کے تحت مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آباد کاروں کے لیے مزید 20 ہزار گھروں کی تعمیر کو آگے بڑھانا ہے، ان میںسے 12600 مکانات بالکل نئے ہوں گے جبکہ 800 رہائشی فلیٹس کو شہری ترقی کے منصوبے کے تحت بنایا جائے گا ،ان میں سے 2500 مکانات وائیٹ ریڈگ نامی پروجیکٹ کے تحت القدس کے ٹیلوں میں اسرائیلی ٹوپو گرافی کو تبدیل کرنے کے لیے تعمیر کیے جائیں گے۔

مکانات کی تعمیر کے ساتھ کاروباری مراکز، ہوٹل اور پارک بھی شامل ہیں جن کے لیے تین ملین مربع میٹر کی جگہ مختص کی گئی ۔اسرائیلی حکام کی طرف سے پبلک مقامات پر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، پرانی اور نئی یہودی کالونیوں کی ترقی کے لیے 1.4 ارب شیکل کے بجٹ کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ اسرائیلی لینڈ اتھارٹی 6 کروڑ شیکل کی سرمایہ کاری کرے گی جبکہ 8 کروڑ ڈالر ٹیکسوں اور ٹیرف کی مد میں جمع کیے جائیں گے۔


ای پیپر